اسلامی مضامین، رہنمائی اور روحانی بصیرت
ہمیں سفیان نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور شک کے بغیر " سلام عام کرنے اور سونے کی انگوٹھی " کہا ۔
اوزاعی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (
ہم سے ہناد نے بیان کیا، ہم سے ابوزبید نے بیان کیا اور وہ ابتر بن قاسم ہیں، اشعث کی سند سے، حسن کی سن
البراء بن عازب کی سند سے، خدا ان دونوں سے راضی ہو؛ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ کی بیٹی کے
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «لن تنالوا الر حتى تنفقوا مما تحبون» ”تم «بِر» ( بھلائی ) کو حاص
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: می
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہے، انہوں نے کہا: میرے وال
ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اسماعیل نے ایوب سے بیان کیا اور ان سے عطاء بن ابی رباح
خالد کہتے ہیں مقدام بن معدی کرب، عمرو بن اسود اور بنی اسد کے قنسرین کے رہنے والے ایک شخص معاویہ بن ا
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کو دعا کے سوا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ اس سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں عمرو بن س