صحیح مسلم — حدیث #۱۰۰۴۵

حدیث #۱۰۰۴۵
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيِّ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَالْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالاَ لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَقَالَ فِيهِ فَأَلْقَى عَلِيٌّ رِدَاءَهُ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهِ وَقَالَ أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ وَاللَّهِ لاَ أَرِيمُ مَكَانِي حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْكُمَا ابْنَاكُمَا بِحَوْرِ مَا بَعَثْتُمَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ لَنَا ‏"‏ إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلاَ لآلِ مُحَمَّدٍ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ أَيْضًا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ادْعُوَا لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جَزْءٍ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الأَخْمَاسِ ‏.‏
یو نس بن یزید نے ابن شہاب سے اور انھوں نے عبد اللہ بن حارث بن نو فل ہا شمی سے روایت کی کہ حضرت عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب نے انھیں بتا یا کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب اور عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبد المطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا تم دو نوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س جاؤ ۔ ۔ ۔ اور امام مالک ؒ کی ( مذکورہ بالا ) حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی چا در بچھا ئی اور اس پر لیٹ گئے اور کہا میں بات پر ڈٹ جا نے والا ابو حسن ہوں اللہ کی قسم !میں اپنی جگہ نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ تم دونوں کے بیٹے جس مقصدکے لیے انھیں بھیج رہے ہو اس کا جواب لے کر تمھا رے پاس واپس ( نہ آجا ئیں ۔ اور اس حدیث میں کہا : پھر آپ نے ہمیں فر ما یا : "" یہ صدقات لوگوں کا میل کچل ہیں اور یقیناً یہ محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلا ل نہیں اور یہ بھی کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا میرے پاس محمية بن جزکو بلاؤ ۔ وہ بنو اسد کا ایک فرد تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال خمس کے انتظامات کے لیے مقرر کیا تھا ۔)
ماخذ
صحیح مسلم # ۱۲/۲۴۸۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۲: جنازہ
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Charity #Mother

متعلقہ احادیث