صحیح مسلم — حدیث #۱۰۲۱۶
حدیث #۱۰۲۱۶
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، خَطِيبًا بِالْمَدِينَةِ - يَعْنِي فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا - خَطَبَهُمْ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يَكْتُبِ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ وَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ " .
۔ حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب ، یونس ، ابن شہاب ، حضرت حمید بن عبدالرحمان ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان کا مدینہ میں خطبہ سنا یعنی جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا اے مدینہ والو! کہاں ہیں تمہارے علماء؟میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن کے لئے فرماتے ہوئے سنا کہ یہ عاشورہ کا دن ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا اور میں روزے سے ہوں تو جو تم میں سے پسند کر تا ہو کہ وہ روزہ رکھے تو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھ لے اور جو تم میں سے پسند کرتا ہو کہ وہ افطارکرلے تو اسے چاہیے کہ وہ افطار کرلے ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۱۳/۲۶۵۳
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۳: زکوٰۃ