صحیح مسلم — حدیث #۱۰۶۳۲

حدیث #۱۰۶۳۲
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَالْمُقَدَّمِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ رَأَيْتُ الأَصْلَعَ - يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَأَنَّكَ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ الْمُقَدَّمِيِّ وَأَبِي كَامِلٍ رَأَيْتُ الأُصَيْلِعَ ‏.‏
ہمیں خلف بن ہشام ، مقدمی ، ابوکامل ، اورقتیبہ بن سعید سب نے حماد سے حدیث بیان کی ، خلف نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے عاصم احول سے حدیث بیان کی ، انھوں نےعبداللہ بن سرجس سے روایت کی ، کہا : میں نے سرکےاگلے حصے سے اڑے ہوئے بالوں والے ، یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودیکھا ، وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے : اللہ کی قسم!میں تجھے بوسہ دےرہاہوں ، اور بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، تو نقصان پہنچاسکتا ہے نہ نفع ، اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیے دیکھاتھا ، تومیں تجھے بوسہ نہ دیتا ۔ مقدمی اور ابو کامل کی روایت میں ( اڑے ہوئے بالوں والے کی بجائے ) "" آگے سے چھوٹی سی گنج والے "" کودیکھا کے الفاظ ہیں ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۱۵/۳۰۶۹
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۵: اعتکاف
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث