صحیح مسلم — حدیث #۱۱۶۴۹
حدیث #۱۱۶۴۹
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي، نَضْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ أَيَدًا بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ . فَأَخْبَرْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَقُلْتُ إِنِّي سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ أَيَدًا بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ . قَالَ أَوَقَالَ ذَلِكَ إِنَّا سَنَكْتُبُ إِلَيْهِ فَلاَ يُفْتِيكُمُوهُ قَالَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَ بَعْضُ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرٍ فَأَنْكَرَهُ فَقَالَ " كَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ تَمْرِ أَرْضِنَا " . قَالَ كَانَ فِي تَمْرِ أَرْضِنَا - أَوْ فِي تَمْرِنَا - الْعَامَ بَعْضُ الشَّىْءِ فَأَخَذْتُ هَذَا وَزِدْتُ بَعْضَ الزِّيَادَةِ . فَقَالَ " أَضْعَفْتَ أَرْبَيْتَ لاَ تَقْرَبَنَّ هَذَا إِذَا رَابَكَ مِنْ تَمْرِكَ شَىْءٌ فَبِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ الَّذِي تُرِيدُ مِنَ التَّمْرِ " .
سعید جریری نے ابونضرہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دینار و درہم یا سونے چاندی کے تبادلے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : کہا یہ دست بدست ہے؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، انہوں نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ۔ میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو خبر دی ، میں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دینار و درہم یا سونے چاندی کے تبادلے کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے کہا تھا : کیا دست بدست ہے؟ میں نے جواب دیا تھا : ہاں ، تو انہوں نے کہا تھا : اس میں کوئی حرج نہیں ( انہوں نے ایک ہی جنس کی صورت میں مساوات کی شرط لگائے بغیر اسے علی الاطلاق جائز قرار دیا ۔ ) انہوں ( ابوسعید ) نے کہا : کیا انہوں نے یہ بات کہی ہے؟ ہم ان کی طرف لکھیں گے تو وہ تمہیں ( غیر مشروط جواز کا ) یہ فتویٰ نہیں دیں گے ۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام سے کوئی کھجوریں لے کر آیا تو آپ نے انہیں نہ پہچانا اور فرمایا : " ایسا لگتا ہے کہ یہ ہماری سرزمین کی کھجوروں میں سے نہیں ہیں ۔ " اس نے کہا : اس سال ہماری زمین کی کھجوروں میں ۔ ۔ یا ہماری کھجوروں میں ۔ ۔ کوئی چیز ( خرابی ) تھی ، میں نے یہ ( عمدہ کھجوریں ) لے لیں اور بدلے میں کچھ زیادہ دے دیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے دوگنا دیں ، تم نے سود کا لین دین کیا ، اس کے قریب ( بھی ) مت جاؤ ، جب تمہیں اپنی کھجور کے بارے میں کسی چیز ( نقص وغیرہ ) کا شک ہو تو اسے فروخت کرو ، پھر کھجور میں سے تم جو چاہتے ہو ( نقدی کے عوج ) خرید لو ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۲۲/۴۰۸۶
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۲: خرید و فروخت