صحیح مسلم — حدیث #۱۱۷۴۹

حدیث #۱۱۷۴۹
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ نَحَلَنِي أَبِي نُحْلاً ثُمَّ أَتَى بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُشْهِدَهُ فَقَالَ ‏"‏ أَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَهُ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ تُرِيدُ مِنْهُمُ الْبِرَّ مِثْلَ مَا تُرِيدُ مِنْ ذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنِّي لاَ أَشْهَدُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُحَمَّدًا فَقَالَ إِنَّمَا تَحَدَّثْنَا أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ قَارِبُوا بَيْنَ أَوْلاَدِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
ابن عون نے ہمیں شعبی سے ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے ایک تحفہ دیا ، پھر مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کو گواہ بنائیں ۔ آپ نے پوچھا : "" کیا تم نے اپنے سب بچوں کو یہ ( اسی طرح کا ) تحفہ دیا ہے؟ "" انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے پوچھا : "" کیا تم ان سب سے اسی طرح کا نیک سلوک نہیں چاہتے جس طرح اس ( بیٹے ) سے چاہتے ہو؟ "" انہوں نے جواب دیا : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تو میں ( ظلم پر ) گواہ نہیں بنتا ۔ "" ( کیونکہ اس عمل کی بنا پر پہلے تمہاری طرف سے اور پھر جوابا ان کی طرف سے ظلم کا ارتکاب ہو گا ۔ "" ابن عون نے کہا : میں نے یہ حدیث محمد ( بن سیرین ) کو سنائی تو انہوں نے کہا : مجھے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا : اپنے بیٹوں کے درمیان یکسانیت روا رکھو ( لفظی معنی ہیں : تقریبا ایک جیسا سلوک "" یعنی ان کو اس بات کا عادی بناؤ)
ماخذ
صحیح مسلم # ۲۴/۴۱۸۶
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۴: وراثت
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Charity #Mother

متعلقہ احادیث