صحیح مسلم — حدیث #۱۲۶۸۵
حدیث #۱۲۶۸۵
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارٍ اللَّيْثِيُّ، قَالَ كُنَّا فِي الْحَمَّامِ قُبَيْلَ الأَضْحَى فَاطَّلَى فِيهِ نَاسٌ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَمَّامِ إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَكْرَهُ هَذَا أَوْ يَنْهَى عَنْهُ فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي هَذَا حَدِيثٌ قَدْ نُسِيَ وَتُرِكَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو .
ابواسامہ نے کہا : مجھے محمد بن عمرو نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عمرو بن مسلم بن عمارہ لیثی نے حدیث بیان کی ، کہا : عیدالاضحیٰ سے کچھ پہلے حمام میں تھے ، بعض لوگوں نے چونے سے اپنے بال صاف کیے ، اہل حمام میں سے کسی شخص نے کہا : سعید بن مسیب اس فعل ( عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھنے اور قربانی کرنے سے پہلے جسم پر سے بال وغیرہ کاٹنے یا مونڈنے ) کو مکروہ قرار دیتے ہیں یا اس سے منع کرتے ہیں ۔ میری سعید بن مسیب سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا ۔ انھوں نے کہا : بھتیجے!یہ حدیث بھلا دی گئی اور ترک کردی گئی ہے ۔ ، ( یہ پابندی ملحوظ نہیں رکھی جاتی ویسے ) مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ آگے محمد بن عمر و سے معاذ کی حدیث کےہم معنی حدیث بیان کی ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۲۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۵: شکار اور ذبیحہ