صحیح مسلم — حدیث #۱۲۶۸۹
حدیث #۱۲۶۸۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ سُئِلَ عَلِيٌّ أَخَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ فَقَالَ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً إِلاَّ مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا - قَالَ - فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الأَرْضِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا " .
شعبہ نے کہا : میں نے قاسم بن ابی بزہ کو ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ سوال کیا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر کو ئی چیز آپ کو عطا فرمائی ؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کو ئی چیز خاص ہمارے لیے نہیں بتا ئی جو آپ نے تمام لوگوں میں عام نہ کی ہو ۔ البتہ میری اس تلوار کی نیام میں کچھ احکا م ہیں ۔ پھر آپ نے ایک صحیفہ نکا لا جس میں لکھا ہوا تھا : " جو شخص غیر اللہ کے لیے ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص زمین کی ( حد بندی کی ) نشانی چرا ئے اللہ اس پر لعنت کرے اور جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اللہ اس پر لعنت کرے ، اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اللہ اس پر لعنت کرے ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۲۶
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۵: شکار اور ذبیحہ
موضوعات:
#Mother