صحیح مسلم — حدیث #۱۳۱۷۹

حدیث #۱۳۱۷۹
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا قَالاَ خَرَجَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ هَاجَرَتْ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَقَدِمَتْ قُبَاءً فَنُفِسَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بِقُبَاءٍ ثُمَّ خَرَجَتْ حِينَ نُفِسَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُحَنِّكَهُ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَكَثْنَا سَاعَةً نَلْتَمِسُهَا قَبْلَ أَنْ نَجِدَهَا فَمَضَغَهَا ثُمَّ بَصَقَهَا فِي فِيهِ فَإِنَّ أَوَّلَ شَىْءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ لَرِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَتْ أَسْمَاءُ ثُمَّ مَسَحَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ثُمَّ جَاءَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانٍ لِيُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَهُ بِذَلِكَ الزُّبَيْرُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ رَآهُ مُقْبِلاً إِلَيْهِ ثُمَّ بَايَعَهُ ‏.‏
شعیب بن اسحاق نے کہا؛مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر اور فاطمہ بنت منذر بن زبیر نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ( مکہ سے ) ہجرت کی نیت سے جس وقت نکلیں ، ان کے پیٹ میں عبداللہ بن زبیر تھے ( یعنی حاملہ تھیں ) جب وہ قباء میں آ کر اتریں تو وہاں سیدنا عبداللہ بن زبیر پیدا ہوئے ۔ پھر ولادت کے بعد انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو گھٹی لگائیں ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے لے لیا اور اپنی گود میں بٹھایا ، پھر ایک کھجور منگوائی ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم ایک گھڑی تک کھجور ڈھونڈتے رہے ، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو چبایا ، پھر ( اس کا جوس ) ان کے منہ میں ڈال دیا ۔ یہی پہلی چیز جو عبداللہ کے پیٹ میں پہنچی ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک تھا ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لئے دعا کی اور ان کا نام عبداللہ رکھا ۔ پھر جب وہ سات یا آٹھ برس کے ہوئے تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے اشارے پر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے لئے آئے ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آتے دیکھا تو تبسم فرمایا ۔ پھر ان سے ( برکت کے لئے ) بیعت کی ( کیونکہ وہ کمسن تھے ) ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۳۸/۵۶۱۶
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۸: لباس اور زیور
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث