صحیح مسلم — حدیث #۱۳۸۲۸
حدیث #۱۳۸۲۸
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُمَرَ، - يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ - عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ - يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ - فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لَهَا . وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لأَحَبَّ النَّاسِ إِلَىَّ . وَايْمُ اللَّهِ إِنَّ هَذَا لَهَا لَخَلِيقٌ - يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ - وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لأَحَبَّهُمْ إِلَىَّ مِنْ بَعْدِهِ فَأُوصِيكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيكُمْ " .
سالم نے اپنے والد ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ( اس وقت ) آپ منبر پر تھے : " اگر تم اسکی امارت پر اعتراض کررہے ہو آپ کی مراد حضرت اُسامہ بن زید سے تھی ۔ تو اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر ( بھی ) اعتراض کرچکے ہو ۔ اللہ کی قسم!اس کے بعد یہ بھی مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے ۔ میں تمھیں اس کے ساتھ ہر طرح کی اچھائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمھارے نیک ترین لوگوں میں سے ہے ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۴۴/۶۲۶۵
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۴۴: فضائل
موضوعات:
#Mother