صحیح مسلم — حدیث #۱۴۸۰۷
حدیث #۱۴۸۰۷
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، الْحُدَّانِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ عَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَنَامِهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَنَعْتَ شَيْئًا فِي مَنَامِكَ لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ . فَقَالَ " الْعَجَبُ إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ بِالْبَيْتِ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ لَجَأَ بِالْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ " . فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الطَّرِيقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاسَ . قَالَ " نَعَمْ فِيهِمُ الْمُسْتَبْصِرُ وَالْمَجْبُورُ وَابْنُ السَّبِيلِ يَهْلِكُونَ مَهْلَكًا وَاحِدًا وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ " .
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند کے دوران ( اضطراب کے عالم ) میں اپنے ہاتھ کو حرکت دی تو ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے نیند میں کچھ ایسا کیا جو پہلےآپ نہیں کیا کر تے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ عجیب بات ہے کہ ( آخری زمانےمیں ) میری امت میں سے کچ لوگ بیت اللہ کی پناہ لینے والے قریش کے ایک آدمی کے خلاف ( کاروائی کرنے کے لیے ) بیت اللہ کا رخ کریں گے یہاں تک کہ جب وہ چٹیل میدان حصے میں ہوں گے تو انھیں ( زمین میں ) دھنسا دیا جائے گا ۔ " ہم نے عرض کی ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! راستہ تو ہرطرح کے لوگوں کے لیے ہوتا ہے ۔ آپ نے فرمایا : " ہاں ، ان میں سے کوئی اپنی مہم سے آگاہ ہوگا ، کوئی مجبور اور کوئی مسافر ہوگا ۔ وہ سب اکھٹے ہلاک ہوں گے اور ( قیامت کے روز ) واپسی کے مختلف راستوں پر نکلیں گے اللہ انھیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۵۴/۷۲۴۴
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵۴: فتنے اور قیامت کی نشانیاں