صحیح مسلم — حدیث #۱۵۰۰۲
حدیث #۱۵۰۰۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ فَقَالَ " هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ " . قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ قَالَ يَقُولُ بَلَى . قَالَ فَيَقُولُ فَإِنِّي لاَ أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلاَّ شَاهِدًا مِنِّي قَالَ فَيَقُولُ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا - قَالَ - فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ فَيُقَالُ لأَرْكَانِهِ انْطِقِي . قَالَ فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ - قَالَ - ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلاَمِ - قَالَ - فَيَقُولُ بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا . فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( بیٹھے ہوئے ) تھے کہ آپ ہنس پڑے پھر آپ نے پوچھا : " کیا تمھیں یہ معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہو ں ؟ " ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " مجھے بندے کی اپنے رب کے ساتھ کی کئی بات پر ہنسی آتی ہے وہ کہے گا ۔ اے میرے رب!کیا تونے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : وہ فرمائے گا ۔ کیوں نہیں !فرمایا بندہ کہے گا میں اپنے خلاف اپنی طرف کے گواہ کے سوا اور کسی ( کی گواہی ) کو جائز قرار نہیں دیتا ۔ تو وہ فرمائے گا آج تم اپنے خلاف بطور گواہ خود کافی ہواور کراماً کا تبین بھی گواہ ہیں چنانچہ اس کے منہ پر مہرلگادی جائے گی ۔ اور اس کے ( اپنے ) اعضاء سے کہا جائے گا ۔ بولو ، فرمایا : تو وہ اس کے اعمال کے بارے میں بتائیں گے پھر اسے اور ( اس کے اعمال کے بارے میں بتائیں گے پھر اسے اور ( اس کے اعضاء کے ) بولنے کو اکیلا چھوڑ دیا جا ئے گا ۔ فرمایا : تو ( ان کی گواہی سن کر ) وہ کہے گا دورہوجاؤ ، میں تمھاری طرف سے ( دوسروں کے ساتھ ) لڑا کرتا تھا ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۵۵/۷۴۳۹
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵۵: زہد اور نرم دلی
موضوعات:
#Mother