صحیح مسلم — حدیث #۹۶۴۲

حدیث #۹۶۴۲
وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ وَفِيهِ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ إِلاَّ تَفَرَّجَتْ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَدِينَةَ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ وَسَالَ وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا ‏.‏ وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلاَّ أَخْبَرَ بِجَوْدٍ ‏.‏
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کوخشک سالی نے آلیا ۔ اسی اثنا میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن منبر پر لوگوں کے سامنے خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ایک بدوی کھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول : مال مویشی ہلاک ہوگئے ، بال بچے بھوکے مرنے لگے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔ اور اس میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ا ے اللہ!ہمارے ارد گرد ( برسا ) ہمارے اوپر نہیں ۔ " کہا : اور آپ اپنے ہاتھ سے جس طرف بھی اشارہ کرتے تھے اسی طرف سے بادل چھٹ جاتے تھےحتیٰ کہ میں نے مدینہ منورہ کو ( زمین کے ) خالی ٹکڑے کے مانند دیکھا اور وادی قناۃ ایک ماہ تک بہتی رہی اور کسی طرف سے بھی کوئی شخص نہیں آیا مگر اس نے موسلادھار بارش کی خبر دی ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۹/۲۰۷۹
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۹: دو عید کی نماز
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother #Death

متعلقہ احادیث