صحیح مسلم — حدیث #۹۹۹۱
حدیث #۹۹۹۱
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ سَلْمَانَ، بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَسْمًا فَقُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَغَيْرُ هَؤُلاَءِ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ . قَالَ " إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي أَنْ يَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ أَوْ يُبَخِّلُونِي فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ " .
حضرت عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ کی قسم !ان کے علاوہ ( جنھیں آپ نے عطا فر ما یا ) دوسرے لو گ اس کے زیادہ حقدار تھے ۔ آپ نے فر ما یا : " انھوں نے مجھے ایک چیز اختیار کرنے پر مجبور کر دیا کہ یا تو یہ مذموم طریقے ( بے جا اصرار ) سے سوال کریں یا مجھے بخیل بنا دیں تو میں بخیل بننے والا نہیں ہوں ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۱۲/۲۴۲۸
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۲: جنازہ