قرآن کی فضیلت
ابواب پر واپس
۵۲ حدیث
۰۱
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۷۵
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَلَى أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أُبَىُّ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ يُصَلِّي فَالْتَفَتَ أُبَىٌّ وَلَمْ يُجِبْهُ وَصَلَّى أُبَىٌّ فَخَفَّفَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ مَا مَنَعَكَ يَا أُبَىُّ أَنْ تُجِيبَنِي إِذْ دَعَوْتُكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ فِي الصَّلاَةِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَلَمْ تَجِدْ فِيمَا أَوْحَى اللَّهُ إِلَىَّ أَنِ ‏(‏استَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى وَلاَ أَعُودُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَكَ سُورَةً لَمْ يَنْزِلْ فِي التَّوْرَاةِ وَلاَ فِي الإِنْجِيلِ وَلاَ فِي الزَّبُورِ وَلاَ فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلاَ فِي الإِنْجِيلِ وَلاَ فِي الزَّبُورِ وَلاَ فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا وَإِنَّهَا سَبْعٌ مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَفِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب رضی الله عنہ کے پاس سے گزرے وہ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”اے ابی ( سنو ) وہ ( آواز سن کر ) متوجہ ہوئے لیکن جواب نہ دیا، نماز جلدی جلدی پوری کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: السلام علیک یا رسول اللہ! ( اللہ کے رسول آپ پر سلامتی نازل ہو ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: وعلیک السلام ( تم پر بھی سلامتی ہو ) ابی! جب میں نے تمہیں بلایا تو تم میرے پاس کیوں نہ حاضر ہوئے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ” ( اب تک ) جو وحی مجھ پر نازل ہوئی ہے اس میں تجھے کیا یہ آیت نہیں ملی «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم» ”اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ، جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں“ ( انفال ۲۴ ) ، انہوں نے کہا: جی ہاں، اور آئندہ إن شاء اللہ ایسی بات نہ ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں پسند ہے کہ میں تمہیں ایسی سورت سکھاؤں جیسی سورت نہ تو رات میں نازل ہوئی نہ انجیل میں اور نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ( ضرور سکھائیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں تم ( قرآن ) کیسے پڑھتے ہو؟“ تو انہوں نے ام القرآن ( سورۃ فاتحہ ) پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تورات میں، انجیل میں، زبور میں ( حتیٰ کہ ) قرآن اس جیسی سورت نازل نہیں ہوئی ہے۔ یہی سبع مثانی ۲؎ ( سات آیتیں ) ہیں اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس بن مالک اور ابوسعید بن معلی رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
۰۲
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۷۶
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْثًا وَهُمْ ذُو عَدَدٍ فَاسْتَقْرَأَهُمْ فَاسْتَقْرَأَ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَا مَعَهُ مِنَ الْقُرْآنِ فَأَتَى عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا فَقَالَ ‏"‏ مَا مَعَكَ يَا فُلاَنُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَعِي كَذَا وَكَذَا وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَعَكَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ إِلاَّ خَشْيَةَ أَلاَّ أَقُومَ بِهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَاقْرَءُوهُ وَأَقْرِئُوهُ فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ بِرِيحِهِ كُلُّ مَكَانٍ وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَيَرْقُدُ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ وُكِئَ عَلَى مِسْكٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏

وَقَدْ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنِ اللَّيْثِ فَذَكَرَهُ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گنتی کے کچھ لشکری بھیجے ( بھیجتے وقت ) ان سے ( قرآن ) پڑھوایا، تو ان میں سے ہر ایک نے جسے جتنا قرآن یاد تھا پڑھ کر سنایا۔ جب ایک نوعمر نوجوان کا نمبر آیا تو آپ نے اس سے کہا: اے فلاں! تمہارے ساتھ کیا ہے یعنی تمہیں کون کون سی سورتیں یاد ہیں؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں اور سورۃ البقرہ یاد ہے۔ آپ نے کہا: کیا تمہیں سورۃ البقرہ یاد ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”جاؤ تم ان سب کے امیر ہو“۔ ان کے شرفاء میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے سورۃ البقرہ صرف اسی ڈر سے یاد نہ کی کہ میں اسے ( نماز تہجد میں ) برابر پڑھ نہ سکوں گا۔ آپ نے فرمایا: ”قرآن سیکھو، اسے پڑھو اور پڑھاؤ۔ کیونکہ قرآن کی مثال اس شخص کے لیے جس نے اسے سیکھا اور پڑھا، اور اس پر عمل کیا اس تھیلی کی ہے جس میں مشک بھری ہوئی ہو اور چاروں طرف اس کی خوشبو پھیل رہی ہو، اور اس شخص کی مثال جس نے اسے سیکھا اور سو گیا اس کا علم اس کے سینے میں بند رہا۔ اس تھیلی کی سی ہے جو مشک بھر کر سیل بند کر دی گئی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو لیث بن سعد نے سعید مقبری سے، اور سعید نے ابواحمد کے آزاد کردہ غلام عطا سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس روایت میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا۔
۰۳
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۷۷
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ لاَ تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ الْبَقَرَةُ لاَ يَدْخُلُهُ الشَّيْطَانُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ وہ گھر جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۰۴
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۷۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامٌ وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَفِيهَا آيَةٌ هِيَ سَيِّدَةُ آىِ الْقُرْآنِ هِيَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ‏.‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ وَضَعَّفَهُ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے ۱؎ اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرہ ہے، اس سورۃ میں ایک آیت ہے یہ قرآن کی ساری آیتوں کی سردار ہے اور یہ آیت آیۃ الکرسی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حکیم بن جبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- حکیم بن جبیر کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے اور انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔
۰۵
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۷۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ أَبُو سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيِّ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ قَرَأَ حم الْمُؤْمِنَ إِلَى ‏:‏ ‏(‏إِلَيْهِ الْمَصِيرُ ‏)‏ وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ حِينَ يُصْبِحُ حُفِظَ بِهِمَا حَتَّى يُمْسِيَ وَمَنْ قَرَأَهُمَا حِينَ يُمْسِيَ حُفِظَ بِهِمَا حَتَّى يُصْبِحَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْمُلَيْكِيِّ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏ وَزُرَارَةُ بْنُ مُصْعَبٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَهُوَ جَدُّ أَبِي مُصْعَبٍ الْمَدَنِيِّ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورۃ مومن کی ( ابتدائی تین آیات ) «حم» سے «إليه المصير» تک اور آیت الکرسی صبح ہی صبح ( بیدار ہونے کے بعد ہی ) پڑھی تو ان دونوں کے ذریعہ شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی، اور جس نے ان دونوں کو شام ہوتے ہی پڑھا تو ان کے ذریعہ اس کی صبح ہونے تک حفاظت کی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ کے حافظے کے سلسلے میں کلام کیا ہے، ۳- زرارہ بن مصعب کا پورا نام زرارہ بن مصعب بن عبدالرحمٰن بن عوف ہے، اور وہ ابومصعب مدنی کے دادا ہیں۔
۰۶
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۸۰
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ، عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ سَهْوَةٌ فِيهَا تَمْرٌ فَكَانَتْ تَجِيءُ الْغُولُ فَتَأْخُذُ مِنْهُ قَالَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَاذْهَبْ فَإِذَا رَأَيْتَهَا فَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَخَذَهَا فَحَلَفَتْ أَنْ لاَ تَعُودَ فَأَرْسَلَهَا فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حَلَفَتْ أَنْ لاَ تَعُودَ فَقَالَ ‏"‏ كَذَبَتْ وَهِيَ مُعَاوِدَةٌ لِلْكَذِبِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَخَذَهَا مَرَّةً أُخْرَى فَحَلَفَتْ أَنْ لاَ تَعُودَ فَأَرْسَلَهَا فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حَلَفَتْ أَنْ لاَ تَعُودَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كَذَبَتْ وَهِيَ مُعَاوِدَةٌ لِلْكَذِبِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَخَذَهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِتَارِكِكِ حَتَّى أَذْهَبَ بِكِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَتْ إِنِّي ذَاكِرَةٌ لَكَ شَيْئًا آيَةَ الْكُرْسِيِّ اقْرَأْهَا فِي بَيْتِكَ فَلاَ يَقْرَبُكَ شَيْطَانٌ وَلاَ غَيْرُهُ ‏.‏ قَالَ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَتْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَدَقَتْ وَهِيَ كَذُوبٌ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ ‏.‏
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کا اپنا ایک احاطہٰ تھا اس میں کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ جن آتا تھا اور اس میں سے اٹھا لے جاتا تھا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ جب دیکھو کہ وہ آیا ہوا ہے تو کہو: بسم اللہ ( اللہ کے نام سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان“، ابوذر رضی الله عنہ نے اسے پکڑ لیا تو وہ قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ مجھے چھوڑ دو، دوبارہ وہ ایسی حرکت نہیں کرے گا، چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا، ”تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ !“ انہوں نے کہا: اس نے قسمیں کھائیں کہ اب وہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ کہا: وہ جھوٹ بولنے کا عادی ہے“، راوی کہتے ہیں: انہوں نے اسے دوبارہ پکڑا، اس نے پھر قسمیں کھائیں کہ اسے چھوڑ دو، وہ دوبارہ نہ آئے گا تو انہوں نے اسے ( دوبارہ ) چھوڑ دیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے پوچھا: ”تمہارے قیدی نے کیا کیا؟“ انہوں نے کہا: اس نے قسم کھائی کہ وہ پھر لوٹ کر نہ آئے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ کہا، وہ تو جھوٹ بولنے کا عادی ہے“۔ ( پھر جب وہ آیا ) تو انہوں نے اسے پکڑ لیا، اور کہا: اب تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں ایک چیز یعنی آیت الکرسی بتا رہا ہوں۔ تم اسے اپنے گھر میں پڑھ لیا کرو۔ تمہارے قریب شیطان نہ آئے گا اور نہ ہی کوئی اور آئے گا“، پھر ابوذر رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: ”تمہارے قیدی نے کیا کیا؟“ تو انہوں نے آپ کو وہ سب کچھ بتایا جو اس نے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے بات تو صحیح کہی ہے، لیکن وہ ہے پکا جھوٹا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
۰۷
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۸۱
ابو مسعود الانصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ قَرَأَ الآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رات میں سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اس کے لیے کافی ہو گئیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۰۸
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۸۲
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيِّ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الْجَرْمِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بِأَلْفَىْ عَامٍ أَنْزَلَ مِنْهُ آيَتَيْنِ خَتَمَ بِهِمَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَلاَ يُقْرَآنِ فِي دَارٍ ثَلاَثَ لَيَالٍ فَيَقْرَبُهَا شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی، اس کتاب کی دو آیتیں نازل کیں اور انہیں دونوں آیتوں پر سورۃ البقرہ کو ختم کیا، جس گھر میں یہ دونوں آیتیں ( مسلسل ) تین راتیں پڑھی جائیں گی ممکن نہیں ہے کہ شیطان اس گھر کے قریب آ سکے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
۰۹
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۸۳
النواس بن سمعان رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَطَّارِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَأْتِي الْقُرْآنُ وَأَهْلُهُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِهِ فِي الدُّنْيَا تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَوَّاسٌ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ قَالَ ‏"‏ تَأْتِيَانِ كَأَنَّهُمَا غَيَابَتَانِ وَبَيْنَهُمَا شَرْقٌ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ سَوْدَاوَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا ظُلَّةٌ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُجَادِلاَنِ عَنْ صَاحِبِهِمَا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ قِرَاءَتِهِ كَذَا فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ وَمَا يُشْبِهُ هَذَا مِنَ الأَحَادِيثِ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ النَّوَّاسِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا يَدُلُّ عَلَى مَا فَسَّرُوا إِذْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَأَهْلُهُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِهِ فِي الدُّنْيَا ‏"‏ ‏.‏ فَفِي هَذَا دَلاَلَةٌ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ الْعَمَلِ ‏.‏
نواس بن سمعان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن اور قرآن والا جو دنیا میں قرآن پر عمل کرتا ہے دونوں آئیں گے ان کی پیشوائی سورۃ البقرہ اور آل عمران کریں گی“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تین مثالیں دیں، اس کے بعد پھر میں ان سورتوں کو نہ بھولا۔ آپ نے فرمایا: ”گویا کہ وہ دونوں چھتریاں ہیں، جن کے بیچ میں شگاف اور پھٹن ہیں، یا گویا کہ وہ دونوں کالی بدلیاں ہیں، یا گویا کہ وہ صف بستہ چڑیوں کا سائبان ہیں، یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کا لڑ جھگڑ کر دفاع و بچاؤ کر رہی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں بریدہ اور ابوامامہ سے بھی روایت ہے، ۳- اس حدیث کا بعض اہل علم کے نزدیک معنی و مفہوم یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا۔ اس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث کی بعض اہل علم نے یہی تفسیر کی ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا، نواس رضی الله عنہ کی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، مفسرین کی اس تفسیر کی دلیل اور اس کا ثبوت ملتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول «وأهله الذين يعملون به في الدنيا» میں اشارہ ہے کہ قرآن کے آنے سے مراد ان کے اعمال کا ثواب ہے۔
۱۰
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۸۴
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، فِي تَفْسِيرِ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ سَمَاءٍ وَلاَ أَرْضٍ أَعْظَمَ مِنْ آيَةِ الْكُرْسِيِّ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ لأَنَّ آيَةَ الْكُرْسِيِّ هُوَ كَلاَمُ اللَّهِ وَكَلاَمُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ‏.‏
سفیان بن عیینہ سے روایت ہے، وہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی اس حدیث «ما خلق الله من سماء ولا أرض أعظم من آية الكرسي» کی تفسیر میں کہتے ہیں: آیت الکرسی کی فضیلت اس وجہ سے ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ کا کلام اللہ کی مخلوق یعنی آسمان و زمین سے بڑھ کر ہے۔
۱۱
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۸۵
ابو اسحاق رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ إِذْ رَأَى دَابَّتَهُ تَرْكُضُ فَنَظَرَ فَإِذَا مِثْلُ الْغَمَامَةِ أَوِ السَّحَابَةِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ تِلْكَ السَّكِينَةُ نَزَلَتْ مَعَ الْقُرْآنِ أَوْ نَزَلَتْ عَلَى الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سورۃ الکہف پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران اس نے اپنے چوپائے ( سواری ) کو دیکھا کہ وہ ( اپنے کھونٹے پر ) ناچنے اور اچھل کود کرنے لگا۔ اس نے نظر ( ادھر ادھر ) دوڑائی تو اسے ایک بدلی سی نظر آئی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس ( واقعہ ) کا آپ سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سکینت ( طمانینت ) تھی جو قرآن کی وجہ سے یا قرآن پڑھنے پر نازل ہوئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں اسید بن حضیر سے بھی روایت ہے۔
۱۲
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۸۶
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ مَنْ قَرَأَ ثَلاَثَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ‏"‏ ‏.‏

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی تین آیات پڑھیں وہ دجال کے فتنہ سے بچا لیا گیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۱۳
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۸۷
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هَارُونَ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَبِالْبَصْرَةِ لاَ يَعْرِفُونَ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَهَارُونُ أَبُو مُحَمَّدٍ شَيْخٌ مَجْهُولٌ ‏.‏

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بِهَذَا ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَلاَ يَصِحُّ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ ‏.‏ وَ فِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل سورۃ یاسین ہے۔ اور جس نے سورۃ یاسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے پڑھنے کے صلے میں دس مرتبہ قرآن شریف پڑھنے کا ثواب لکھے گا“۔ اس سند سے بھی یہ سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حمید بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور اہل بصرہ قتادہ کی روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہیں۔ ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے، اور یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ ۴- اس کی سند ضعیف ہے اور اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔
۱۴
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۸۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ قَرَأَ حم الدُّخَانَ فِي لَيْلَةٍ أَصْبَحَ يَسْتَغْفِرُ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَعُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ يُضَعَّفُ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
۱۵
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۸۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ هِشَامٍ أَبِي الْمِقْدَامِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ قَرَأَ حم الدُّخَانَ فِي لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ غُفِرَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَهِشَامٌ أَبُو الْمِقْدَامِ يُضَعَّفُ وَلَمْ يَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جمعہ کی رات میں «حم الدخان» پڑھے گا اسے بخش دیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ہشام ابوالمقدام ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، ۳- حسن بصری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید نے ایسا ہی کہا ہے۔
۱۶
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۹۰
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ضَرَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خِبَاءَهُ عَلَى قَبْرٍ وَهُوَ لاَ يَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ضَرَبْتُ خِبَائِي عَلَى قَبْرٍ وَأَنَا لاَ أَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ هِيَ الْمَانِعَةُ هِيَ الْمُنْجِيَةُ تُنْجِيهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے، ( انہوں نے آواز سنی ) اس قبر میں کوئی انسان سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورۃ «تبارك الملك» پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ آپ نے فرمایا: «هي المانعة» ”یہ سورۃ مانعہ ہے، یہ نجات دینے والی ہے، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
۱۷
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۹۱
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ إِنَّ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ ثَلاَثُونَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ وَهِيَ سُورَةُ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کی تیس آیتوں کی ایک سورۃ نے ایک آدمی کی شفاعت ( سفارش ) کی تو اسے بخش دیا گیا، یہ سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
۱۸
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۹۲
جابر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ مِسْعَرٍ، - تِرْمِذِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ ‏:‏ ‏(‏الم * تَنْزِيلُ ‏)‏ وَ ‏(‏ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ ‏)‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ مِثْلَ هَذَا ‏.‏ وَرَوَاهُ مُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا ‏.‏ وَرَوَى زُهَيْرٌ قَالَ قُلْتُ لأَبِي الزُّبَيْرِ سَمِعْتَ مِنْ جَابِرٍ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ صَفْوَانُ أَوِ ابْنُ صَفْوَانَ وَكَأَنَّ زُهَيْرًا أَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏

حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ بن مِسْعَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ تَفْضُلاَنِ عَلَى كُلِّ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ بِسَبْعِينَ حَسَنَةً ‏.‏
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «الم تنزيل» اور «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو کئی ایک رواۃ نے لیث بن ابی سلیم سے اسی طرح روایت کیا ہے، ۲- مغیرہ بن مسلم نے ابوزبیر سے، اور ابوزبیر نے جابر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- زہیر روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں نے ابوزبیر سے کہا: آپ نے جابر سے سنا ہے، تو انہوں نے یہی حدیث بیان کی؟ ابوالزبیر نے کہا: مجھے صفوان یا ابن صفوان نے اس کی خبر دی ہے۔ تو ان زہیر نے ابوالزبیر سے جابر کے واسطہ سے اس حدیث کی روایت کا انکار کیا ہے۔
۱۹
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۹۳
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَلْمِ بْنِ صَالِحٍ الْعِجْلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ قَرَأَ إِذَا زُلْزِلَتِ عُدِلَتْ لَهُ بِنِصْفِ الْقُرْآنِ وَمَنْ قَرَأَْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ‏)‏ عُدِلَتْ لَهُ بِرُبْعِ الْقُرْآنِ وَمَنْ قَرَأَْ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏)‏ عُدِلَتْ لَهُ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ هَذَا الشَّيْخِ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورۃ «إذا زلزلت الأرض» سورۃ پڑھی تو اسے آدھا قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے سورۃ «قل يا أيها الكافرون» پڑھی تو اسے چوتھائی قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے سورۃ «قل هو الله أحد» پڑھی تو اسے ایک تہائی قرآن پڑھنے کا ثواب ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے کسی اور سے نہیں صرف انہیں حسن بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
۲۰
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۹۴
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِذَا زُلْزِلَتِ تَعْدِلُ نِصْفَ الْقُرْآنِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ وَ قُلْْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ تَعْدِلُ رُبُعَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يَمَانِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إذا زلزلت» ( ثواب میں ) آدھے قرآن کے برابر ہے، اور «قل هو الله أحد» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قل يا أيها الكافرون» چوتھائی قرآن کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یمان بن مغیرہ کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
۲۱
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۹۵
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ‏"‏ هَلْ تَزَوَّجْتَ يَا فُلاَنُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ مَعَكَ ‏(‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ثُلُثُ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ مَعَكَ ‏(‏ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ رُبُعُ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى قَالَ ‏"‏ رُبُعُ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ مَعَكَ ‏(‏إِذَا زُلْزِلَتِ الأَرْضُ ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ رُبُعُ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے شادی کر لی؟“ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! اللہ کے رسول! نہیں کی ہے، اور نہ ہی میرے پاس ایسا کچھ ہے جس کے ذریعہ میں شادی کر سکوں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «قل هو الله أحد» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا: ”سورۃ «قل هو الله أحد» ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا جاء نصر الله والفتح» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ( ہے ) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک چوتھائی قرآن ہے“، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «قل يا أيها الكافرون» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ ( ہے ) آپ نے فرمایا: ” ( یہ ) چوتھائی قرآن ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا زلزلت الأرض» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ( ہے ) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک چوتھائی قرآن ہے“، آپ نے فرمایا: ”تم شادی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
۲۲
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۹۶
ابو ایوب الانصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ امْرَأَةٍ، وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ مَنْ قَرَأَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ فَقَدْ قَرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي سَعِيدٍ وَقَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي مَسْعُودٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلاَ نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَحْسَنَ مِنْ رِوَايَةِ زَائِدَةَ وَتَابَعَهُ عَلَى رِوَايَتِهِ إِسْرَائِيلُ وَالْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الثِّقَاتِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَنْصُورٍ وَاضْطَرَبُوا فِيهِ ‏.‏
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات سے بھی عاجز ہے کہ رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ ڈالے؟ ( آپ نے فرمایا ) جس نے «الله الواحد الصمد» پڑھا ( یعنی سورۃ الاخلاص پڑھی ) اس نے تہائی قرآن پڑھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے زائدہ کی روایت سے بہتر اسے روایت کیا ہو، اور ان کی روایت پر ان کی متابعت اسرائیل، فضیل بن عیاض نے کی ہے۔ شعبہ اور ان کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں نے یہ حدیث منصور سے روایت کی ہے اور ان سبھوں نے اس میں اضطراب کا سے کام لیا، ۳- اس باب میں ابوالدرداء، ابو سعید خدری، قتادہ بن نعمان، ابوہریرہ، انس، ابن عمر اور ابومسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
۲۳
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۹۷
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ حُنَيْنٍ، مَوْلًى لآلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعَ رَجُلاً يَقْرَأُْ ‏(‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ * اللَّهُ الصَّمَدُ ‏)‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَجَبَتْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمَا وَجَبَتْ قَالَ ‏"‏ الْجَنَّةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَابْنُ حُنَيْنٍ هُوَ عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، آپ نے وہاں ایک آدمی کو «قل هو الله أحد الله الصمد» پڑھتے ہوئے سنا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“۔ میں نے کہا: کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ نے فرمایا: ”جنت ( واجب ہو گئی ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف مالک بن انس کی روایت سے جانتے ہیں۔
۲۴
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۹۸
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو سَهْلٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ قَرَأَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَتَىْ مَرَّةٍ ‏(‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏)‏ مُحِيَ عَنْهُ ذُنُوبُ خَمْسِينَ سَنَةً إِلاَّ أَنْ يَكُونَ عَلَيْهِ دَيْنٌ ‏"‏ ‏.‏

وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ عَلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ عَلَى يَمِينِهِ ثُمَّ قَرَأَْ ‏(‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏)‏ مِئَةَ مَرَّةٍ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَقُولُ لَهُ الرَّبُّ يَا عَبْدِي ادْخُلْ عَلَى يَمِينِكَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا عَنْ ثَابِتٍ ‏.‏
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہر دن دو سو مرتبہ «قل هو الله أحد» پڑھے گا تو قرض کے سوا اس کے پچاس سال تک کے گناہ مٹا دیئے جائیں گے“۔
۲۵
جامع ترمذی # ۴۵/۲۸۹۹
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏(‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏)‏ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو الله أحد» ایک تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۲۶
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۰۰
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ احْشِدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَْ ‏(‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏)‏ ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ إِنِّي لأُرَى هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي قُلْتُ سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ أَلاَ وَإِنَّهَا تَعْدِلُ بثُلُثَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَأَبُو حَازِمٍ الأَشْجَعِيُّ اسْمُهُ سَلْمَانُ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب اکٹھے ہو جاؤ کیونکہ میں تم سب کو تہائی قرآن پڑھ کر سنانے والا ہوں“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پکار پر جو بھی پہنچ سکا جمع ہو گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، سورۃ «قل هو الله أحد» پڑھی اور ( حجرہ شریفہ میں ) واپس چلے گئے۔ تو بعض صحابہ نے چہ میگوئیاں کرتے ہوئے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: میں عنقریب تمہیں تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا، میرا خیال یہ ہے کہ ایسا اس وجہ سے ہوا ہے کہ آسمان سے کوئی خبر ( کوئی اطلاع ) آ گئی ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کمرے سے باہر نکلے اور فرمایا: ”میں نے کہا تھا میں تمہیں تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا تو سن لو یہ سورۃ «قل هو الله أحد» تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
۲۷
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۰۱
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ فَكَانَ كُلَّمَا افْتَتَحَ سُورَةً يَقْرَأُ لَهُمْ فِي الصَّلاَةِ يَقْرَأَ بِهَا افْتَتَحَ بِـ ‏(‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏)‏ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا ثُمَّ يَقْرَأُ بِسُورَةٍ مَعَهَا وَكَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَكَلَّمَهُ أَصْحَابُهُ فَقَالُوا إِنَّكَ تَقْرَأُ بِهَذِهِ السُّورَةِ ثُمَّ لاَ تَرَى أَنَّهَا تُجْزِيكَ حَتَّى تَقْرَأَ بِسُورَةٍ أُخْرَى فَإِمَّا أَنْ تَقْرَأَ بِهَا وَإِمَّا أَنْ تَدَعَهَا وَتَقْرَأَ بِسُورَةٍ أُخْرَى ‏.‏ قَالَ مَا أَنَا بِتَارِكِهَا إِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ أَؤُمَّكُمْ بِهَا فَعَلْتُ وَإِنْ كَرِهْتُمْ تَرَكْتُكُمْ ‏.‏ وَكَانُوا يَرَوْنَهُ أَفْضَلَهُمْ وَكَرِهُوا أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ فَلَمَّا أَتَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ فَقَالَ ‏"‏ يَا فُلاَنُ مَا يَمْنَعُكَ مِمَّا يَأْمُرُ بِهِ أَصْحَابُكَ وَمَا يَحْمِلُكَ أَنْ تَقْرَأَ هَذِهِ السُّورَةَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ حُبَّهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ ثَابِتٍ ‏البُنَانِيُّ

وَ قد رَوَى مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَْ ‏(‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏)‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ حُبَّكَ إِيَّاهَا يُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الأَشْعَثِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ بِهَذَا ‏.‏
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مسجد قباء میں ایک انصاری شخص ان کی امامت کرتا تھا، اور اس کی عادت یہ تھی کہ جب بھی وہ ارادہ کرتا کہ کوئی سورت نماز میں پڑھے تو اسے پڑھتا لیکن اس سورت سے پہلے «قل هو الله أحد» پوری پڑھتا، پھر اس کے ساتھ دوسری سورت پڑھتا، اور وہ یہ عمل ہر رکعت میں کرتا تھا۔ تو اس کے ساتھیوں ( نمازیوں ) نے اس سے ( اس موضوع پر ) بات کی، انہوں نے کہا: آپ یہ سورت پڑھتے ہیں پھر آپ خیال کرتے ہیں کہ یہ تو آپ کے لیے کافی نہیں ہے یہاں تک کہ دوسری سورت ( بھی ) پڑھتے ہیں، تو آپ یا تو صرف اسے پڑھیں، یا اسے چھوڑ دیں اور کوئی دوسری سورت پڑھیں، تو انہوں نے کہا: میں اسے چھوڑنے والا نہیں، اگر آپ لوگ پسند کریں کہ میں اسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ امامت کروں تو امامت کروں گا اور اگر آپ لوگ اس کے ساتھ امامت کرنا پسند نہیں کرتے تو میں آپ لوگوں ( کی امامت ) کو چھوڑ دوں گا۔ اور لوگوں کا حال یہ تھا کہ انہیں اپنوں میں سب سے افضل سمجھتے تھے اور ناپسند کرتے تھے کہ ان کے سوا کوئی دوسرا ان کی امامت کرے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو ساری بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: ”اے فلاں! تمہارے ساتھی جو بات کہہ رہے ہیں، اس پر عمل کرنے سے تمہیں کیا چیز روک رہی ہے اور تمہیں کیا چیز مجبور کر رہی ہے کہ ہر رکعت میں تم اس سورت کو پڑھو؟“، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اسے پسند کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی محبت تمہیں جنت میں لے جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے اور یہ عبیداللہ بن عمر کی روایت سے ہے جسے وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں۔
۲۸
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۰۲
عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَىَّ آيَاتٍ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ ‏(‏قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ‏)‏ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ وَ ‏(‏قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ‏)‏ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسی آیات نازل کی ہیں جیسی ( کبھی ) نہیں دیکھی گئی ہیں، وہ یہ ہیں: «قل أعوذ برب الناس» آخر سورۃ تک اور «قل أعوذ برب الفلق» آخر سورۃ تک“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۲۹
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۰۳
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عُلَىِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ ہر نماز کے بعد معوذتین پڑھا کروں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
۳۰
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۰۴
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ قَالَ هِشَامٌ وَهُوَ شَدِيدٌ عَلَيْهِ قَالَ شُعْبَةُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ فَلَهُ أَجْرَانِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور قرآن پڑھنے میں مہارت رکھتا ہے وہ بزرگ پاکباز فرشتوں کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور بڑی مشکل سے پڑھ پاتا ہے، پڑھنا اسے بہت شاق گزرتا ہے تو اسے دہرا اجر ملے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۳۱
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۰۵
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَاسْتَظْهَرَهُ فَأَحَلَّ حَلاَلَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادٌ صَحِيحٍ ‏.‏ وَحَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو عُمَرَ بَزَّازٌ كُوفِيٌّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن پڑھا اور اسے پوری طرح حفظ کر لیا، جس چیز کو قرآن نے حلال ٹھہرایا اسے حلال جانا اور جس چیز کو قرآن نے حرام ٹھہرایا اسے حرام سمجھا تو اللہ اسے اس قرآن کے ذریعہ جنت میں داخل فرمائے گا۔ اور اس کے خاندان کے دس ایسے لوگوں کے بارے میں اس ( قرآن ) کی سفارش قبول کرے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند صحیح نہیں ہے، ۳- حفص بن سلیمان حدیث میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
۳۲
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۰۶
الحارث الاوار رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ حَمْزَةَ الزَّيَّاتَ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ الطَّائِيِّ، عَنِ ابْنِ أَخِي الْحَارِثِ الأَعْوَرِ، عَنِ الْحَارِثِ، قَالَ مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَخُوضُونَ فِي الأَحَادِيثِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلاَ تَرَى أَنَّ النَّاسَ قَدْ خَاضُوا فِي الأَحَادِيثِ ‏.‏ قَالَ أَوَقَدْ فَعَلُوهَا قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ أَمَا إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ أَلاَ إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ هُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ وَمَنِ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ وَهُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ وَهُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ هُوَ الَّذِي لاَ تَزِيغُ بِهِ الأَهْوَاءُ وَلاَ تَلْتَبِسُ بِهِ الأَلْسِنَةُ وَلاَ يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ وَلاَ يَخْلَقُ عَلَى كَثْرَةِ الرَّدِّ وَلاَ تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا ‏(‏إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا * يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ‏)‏ مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ‏"‏ ‏.‏ خُذْهَا إِلَيْكَ يَا أَعْوَرُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حَمْزَةَ الزًّيَّاتِ وَإِسْنَادُهُ مَجْهُولٌ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ الْحَارِثِ مَقَالٌ ‏.‏
حارث اعور کہتے ہیں کہ مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گپ شپ اور قصہ کہانیوں میں مشغول ہیں، میں علی رضی الله عنہ کے پاس پہنچا۔ میں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ لوگ لایعنی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں؟ ۔ انہوں نے کہا: کیا واقعی وہ ایسا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: مگر میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب کوئی فتنہ برپا ہو گا“، میں نے کہا: اس فتنہ سے بچنے کی صورت کیا ہو گی؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے کے لوگوں اور قوموں کی خبریں ہیں اور بعد کے لوگوں کی بھی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان کے امور و معاملات کا حکم و فیصلہ بھی اس میں موجود ہے، اور وہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا ہے، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے۔ جس نے اسے سرکشی سے چھوڑ دیا اللہ اسے توڑ دے گا اور جو اسے چھوڑ کر کہیں اور ہدایت تلاش کرے گا اللہ اسے گمراہ کر دے گا۔ وہ ( قرآن ) اللہ کی مضبوط رسی ہے یہ وہ حکمت بھرا ذکر ہے، وہ سیدھا راستہ ہے، وہ ہے جس کی وجہ سے خواہشیں ادھر ادھر نہیں بھٹک پاتی ہیں، جس کی وجہ سے زبانیں نہیں لڑکھڑاتیں، اور علماء کو ( خواہ کتنا ہی اسے پڑھیں ) آسودگی نہیں ہوتی، اس کے باربار پڑھنے اور تکرار سے بھی وہ پرانا ( اور بے مزہ ) نہیں ہوتا۔ اور اس کی انوکھی ( و قیمتی ) باتیں ختم نہیں ہوتیں، اور وہ قرآن وہ ہے جسے سن کر جن خاموش نہ رہ سکے بلکہ پکار اٹھے: ہم نے ایک عجیب ( انوکھا ) قرآن سنا ہے جو بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے، تو ہم اس پر ایمان لے آئے، جو اس کے مطابق بولے گا اس کے مطابق عمل کرے گا اسے اجر و ثواب دیا جائے گا۔ اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے اس نے سیدھے راستے کی ہدایت دی۔ اعور! ان اچھی باتوں کا خیال رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند مجہول ہے، ۳- حارث کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
۳۳
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۰۷
ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَاكَ الَّذِي أَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا ‏.‏ وَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ حَتَّى بَلَغَ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے“، ابوعبدالرحمٰن سلمی ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: یہی وہ چیز ہے جس نے مجھے اپنی اس نشست گاہ ( مسند ) پر بٹھا رکھا ہے، عثمان کے زمانہ میں قرآن کی تعلیم دینی شروع کی ( اور دیتے رہے ) یہاں تک حجاج بن یوسف کے زمانہ میں یہ سلسلہ چلتا رہا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۳۴
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۰۸
عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ خَيْرُكُمْ - أَوْ أَفْضَلُكُمْ - مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُثْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسُفْيَانُ لاَ يَذْكُرُ فِيهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ‏.‏

وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَهَكَذَا ذَكَرَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، غَيْرَ مَرَّةٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَصْحَابُ سُفْيَانَ لاَ يَذْكُرُونَ فِيهِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَهُوَ أَصَحُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ زَادَ شُعْبَةُ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ وَكَأَنَّ حَدِيثَ سُفْيَانَ أَشْبَهُ ‏.‏ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مَا أَحَدٌ يَعْدِلُ عِنْدِي شُعْبَةَ وَإِذَا خَالَفَهُ سُفْيَانُ أَخَذْتُ بِقَوْلِ سُفْيَانَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى سَمِعْتُ أَبَا عَمَّارٍ يَذْكُرُ عَنْ وَكِيعٍ قَالَ قَالَ شُعْبَةُ سُفْيَانُ أَحْفَظُ مِنِّي وَمَا حَدَّثَنِي سُفْيَانُ عَنْ أَحَدٍ بِشَيْءٍ فَسَأَلْتُهُ إِلاَّ وَجَدْتُهُ كَمَا حَدَّثَنِي ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَسَعْدٍ ‏.‏
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر یا تم میں سب سے افضل وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی اور کئی دوسروں نے اسی طرح بسند «سفيان الثوري عن علقمة بن مرثد عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۳- سفیان اس کی سند میں سعد بن عبیدہ کا ذکر نہیں کرتے ہیں، ۴- یحییٰ بن سعید قطان نے یہ حدیث بسند «سفيان وشعبة عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی۔ ہم سے بیان کیا اسے محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا یحییٰ بن سعید نے سفیان اور شعبہ کے واسطہ سے۔
۳۵
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۰۹
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ‏.‏
علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم علی بن ابی طالب کی روایت سے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔
۳۶
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۱۰
محمد بن کعب القرازی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا لاَ أَقُولُ الم حَرْفٌ وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلاَمٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ ‏"‏ ‏.‏ وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَرَوَاهُ أَبُو الأَحْوَصِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَفَعَهُ بَعْضُهُمْ وَوَقَفَهُ بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ سَمِعْتُ قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ بَلَغَنِي أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ وُلِدَ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ يُكْنَى أَبَا حَمْزَةَ ‏.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی، میں نہیں کہتا «الم» ایک حرف ہے، بلکہ «الف» ایک حرف ہے، «لام» ایک حرف ہے اور «میم» ایک حرف ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابن مسعود سے روایت کی گئی ہے، ۲- اس حدیث کو ابوالاحوص نے ابن مسعود سے روایت کیا ہے۔ بعض نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے اور بعض نے اسے ابن مسعود سے موقوفاً روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
۳۷
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۱۱
زید بن ارطہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ عَلَى رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلاَتِهِ وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي الْقُرْآنَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَبَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَتَرَكَهُ فِي آخِرِ أَمْرِهِ ‏. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلٌ ‏
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بندے کی کوئی بات اتنی زیادہ توجہ اور ہمہ تن گوش ہو کر نہیں سنتا جتنی دو رکعتیں پڑھنے والے بندے کی سنتا ہے، اور بندہ جب تک نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے، اور بندے اللہ عزوجل سے ( کسی چیز سے ) اتنا قریب نہیں ہوتے جتنا اس چیز سے جو اس کی ذات سے نکلی ہے“، ابونضر کہتے ہیں: آپ اس قول سے قرآن مراد لیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- بکر بن خنیس کے بارے میں ابن مبارک نے کلام کیا ہے اور آخر امر یعنی بعد میں ( ان کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ) ان سے روایت کرنی چھوڑ دی تھی، ۳- یہ حدیث زید بن ارطاۃ کے واسطہ سے جبیر بن نفیر سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے۔
۳۸
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۱۲
جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِنَّكُمْ لَنْ تَرْجِعُوا إِلَى اللَّهِ بِأَفْضَلَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْقُرْآنَ ‏.‏
جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے قرآن سے بڑھ کر کوئی اور ذریعہ نہیں پا سکتے“۔
۳۹
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۱۳
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسِ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ یاد نہ ہو وہ ویران گھر کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۴۰
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۱۴
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ يُقَالُ يَعْنِي لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَأُ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( قیامت کے دن ) صاحب قرآن سے کہا جائے گا: ( قرآن ) پڑھتا جا اور ( بلندی کی طرف ) چڑھتا جا۔ اور ویسے ہی ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا۔ پس تیری منزل وہ ہو گی جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہو گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۴۱
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۱۵
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ حَلِّهِ فَيُلْبَسَ تَاجَ الْكَرَامَةِ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ زِدْهُ فَيُلْبَسَ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ ارْضَ عَنْهُ فَيَرْضَى عَنْهُ فَيُقَالُ لَهُ اقْرَأْ وَارْقَ وَيُزَادُ بِكُلِّ آيَةٍ حَسَنَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدَنَا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ عَنْ شُعْبَةَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن قیامت کے دن پیش ہو گا پس کہے گا: اے میرے رب! اسے ( یعنی صاحب قرآن کو ) جوڑا پہنا، تو اسے کرامت ( عزت و شرافت ) کا تاج پہنایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا: اے میرے رب! اسے اور دے، تو اسے کرامت کا جوڑا پہنایا جائے گا۔ وہ پھر کہے گا: اے میرے رب اس سے راضی و خوش ہو جا، تو وہ اس سے راضی و خوش ہو جائے گا۔ اس سے کہا جائے گا پڑھتا جا اور چڑھتا جا، تیرے لیے ہر آیت کے ساتھ ایک نیکی کا اضافہ کیا جاتا رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۴۲
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۱۶
المطلب بن عبداللہ بن حنطب رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ عُرِضَتْ عَلَىَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّى الْقَذَاةِ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَعُرِضَتْ عَلَىَّ ذُنُوبُ أَمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ قَالَ وَذَاكَرْتُ بِهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ فَلَمْ يَعْرِفْهُ وَاسْتَغْرَبَهُ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَلاَ أَعْرِفُ لِلْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ قَوْلَهُ حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ لاَ نَعْرِفُ لِلْمُطَّلِبِ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَنْكَرَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ أَنْ يَكُونَ الْمُطَّلِبُ سَمِعَ مِنْ أَنَسٍ ‏.‏
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے نیک اعمال کے اجر و ثواب میرے سامنے پیش کیے گئے یہاں تک کہ اس تنکے کا ثواب بھی پیش کیا گیا جسے آدمی مسجد سے نکال کر پھینک دیتا ہے۔ اور مجھ پر میری امت کے گناہ ( بھی ) پیش کیے گئے تو میں نے کوئی گناہ اس سے بڑھ کر نہیں دیکھا کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورۃ یا کوئی آیت یاد ہو اور اس نے اسے بھلا دیا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- میں نے اس حدیث کا تذکرہ محمد بن اسماعیل بخاری سے کیا تو اس کو وہ پہچان نہ سکے اور انہوں نے اس حدیث کو غریب قرار دیا، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری نے یہ بھی کہا کہ میں نہیں جانتا کہ مطلب بن عبداللہ کی کسی صحابی رسول سے سماع ثابت ہے، سوائے مطلب کے اس قول کے کہ مجھ سے اس شخص نے روایت کی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضرین میں موجود تھا، ۵- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن ( دارمی ) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہم مطلب کا سماع کسی صحابی رسول سے نہیں جانتے، ۶- عبداللہ ( دارمی یہ بھی ) کہتے ہیں: علی بن مدینی اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ مطلب نے انس سے سنا ہے۔
۴۳
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۱۷
الحسن رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَارِىءٍ يَقْرَأُ ثُمَّ سَأَلَ فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَسْأَلِ اللَّهَ بِهِ فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ بِهِ النَّاسَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ مَحْمُودٌ هَذَا خَيْثَمَةُ الْبَصْرِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَلَيْسَ هُوَ خَيْثَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَخَيْثَمَةُ هَذَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ يُكْنَى أَبَا نَصْرٍ قَدْ رَوَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَحَادِيثَ وَقَدْ رَوَى جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ عَنْ خَيْثَمَةَ هَذَا أَيْضًا أَحَادِيثَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ ‏.‏
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک قصہ گو کے پاس سے گزرے جو قرآن پڑھ رہا تھا ( پڑھ کر ) وہ مانگنے لگا۔ تو انہوں نے «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے جو قرآن پڑھے تو اسے اللہ ہی سے مانگنا چاہیئے۔ کیونکہ عنقریب کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو قرآن پڑھ پڑھ کر لوگوں سے مانگیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، اس کی سند ویسی قوی نہیں ہے، ۲- محمود بن غیلان کہتے ہیں: یہ خیثمہ بصریٰ ہیں جن سے جابر جعفی نے روایت کی ہے۔ یہ خیثمہ بن عبدالرحمٰن نہیں ہیں۔ اور خیثمہ شیخ بصریٰ ہیں ان کی کنیت ابونصر ہے اور انہوں نے انس بن مالک سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ اور جابر جعفی نے بھی خیثمہ سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
۴۴
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۱۸
صہیب رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ، يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ أَبِي الْمُبَارَكِ، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَقَدْ خُولِفَ وَكِيعٌ فِي رِوَايَتِهِ ‏.‏ وَقَالَ مُحَمَّدٌ أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ لَيْسَ بِحَدِيثِهِ بَأْسٌ إِلاَّ رِوَايَةَ ابْنِهِ مُحَمَّدٍ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَرْوِي عَنْهُ مَنَاكِيرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَبِيهِ هَذَا الْحَدِيثَ فَزَادَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ صُهَيْبٍ وَلاَ يُتَابَعُ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَلَى رِوَايَتِهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَأَبُو الْمُبَارَكِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ ‏.‏
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال جانا وہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، وکیع کی روایت میں وکیع سے اختلاف کیا گیا ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابوفروہ کہتے ہیں: یزید بن سنان رہاوی کی روایت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سوائے اس روایت کے جسے ان کے بیٹے محمد ان سے روایت کرتے ہیں، اس لیے کہ وہ ان سے مناکیر روایت کرتے ہیں، ۳- محمد بن یزید بن سنان نے اپنے باپ سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے اور اس کی سند میں اتنا اضافہ کیا ہے: «عن مجاهد عن سعيد بن المسيب عن صهيب» محمد بن یزید کی روایت کی کسی نے متابعت نہیں کی، وہ ضعیف ہیں، اور ابوالمبارک ایک مجہول شخص ہیں۔
۴۵
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۱۹
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الَّذِي يُسِرُّ بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ أَفْضَلُ مِنَ الَّذِي يَجْهَرُ بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ لأَنَّ صَدَقَةَ السِّرِّ أَفْضَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ صَدَقَةِ الْعَلاَنِيَةِ وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لِكَىْ يَأْمَنَ الرَّجُلُ مِنَ الْعُجُبِ لأَنَّ الَّذِي يُسِرُّ الْعَمَلَ لاَ يُخَافُ عَلَيْهِ الْعُجْبُ مَا يُخَافُ عَلَيْهِ مِنْ عَلاَنِيَتِهِ ‏.‏
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسا کھلے عام صدقہ دینے والا، اور آہستگی و خاموشی سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسے چھپا کر صدقہ دینے والا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کا معنی و مطلب یہ ہے کہ جو شخص آہستگی سے قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص سے افضل ہے جو بلند آواز سے قرآن پڑھتا ہے، اس لیے کہ اہل علم کے نزدیک چھپا کر صدقہ دینا برسر عام صدقہ دینے سے افضل ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ اہل علم کے نزدیک اس سے آدمی عجب ( خود نمائی ) سے محفوظ رہتا ہے۔ کیونکہ جو شخص چھپا کر عمل کرتا ہے اس کے عجب میں پڑنے کا اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا اس کے کھلے عام عمل کرنے میں ہے۔
۴۶
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۲۰
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَ يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَأَبُو لُبَابَةَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ قَدْ رَوَى عَنْهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ غَيْرَ حَدِيثٍ وَيُقَالُ اسْمُهُ مَرْوَانُ ‏.‏ أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فِي كِتَابِ التَّارِيخِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ الزمر پڑھ نہ لیتے بستر پر سوتے نہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابولبابہ ایک بصریٰ شیخ ہیں، حماد بن زید نے ان سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کا نام مروان ہے، یہ بات مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے کتاب التاریخ میں بتائی ہے۔
۴۷
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۲۱
العربد بن ساریہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بِلاَلٍ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ وَيَقُولُ ‏
"‏ إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے مسبحات پڑھتے تھے ۱؎ آپ فرماتے تھے: ”ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
۴۸
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۲۲
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلاَءِ الْخَفَّافُ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَقَرَأَ ثَلاَثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَاتَ شَهِيدًا وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي كَانَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم» تین بار پڑھے، اور تین بار سورۃ الحشر کی آخری تین آیتیں پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مغفرت مانگنے کے لیے ستر ہزار فرشتے لگا دیتا ہے جو شام تک یہی کام کرتے ہیں۔ اگر وہ ایسے دن میں مر جاتا ہے تو شہید ہو کر مرتا ہے، اور جو شخص ان کلمات کو شام کے وقت کہے گا وہ بھی اسی درجہ میں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
۴۹
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۲۳
یعلی بن مملاک رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَصَلاَتِهِ فَقَالَتْ مَا لَكُمْ وَصَلاَتَهُ كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ ‏.‏ وَحَدِيثُ لَيْثِ أَصَحُّ ‏.‏
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے، انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور آپ کی قرأت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تمہارا اور آپ کی نماز کا کیا جوڑ؟ آپ نماز پڑھتے تھے پھر اتنی دیر سوتے تھے جتنی دیر نماز پڑھے ہوتے، پھر نماز پڑھتے تھے اسی قدر جتنی دیر سوئے ہوئے ہوتے، پھر اتنی دیر سوتے تھے جتنی دیر نماز پڑھے ہوتے۔ یہاں تک کہ آپ صبح کرتے، پھر انہوں نے آپ کے قرأت کی کیفیت بیان کی اور انہوں نے اس کیفیت کو واضح طور پر ایک ایک حرف حرف کر کے بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے یعلیٰ بن مملک کے واسطہ سے ام سلمہ سے روایت کی، ۳- ابن جریج نے یہ حدیث ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا ہر حرف جدا جدا ہوتا تھا، ۴- لیث کی حدیث ( ابن جریج کی حدیث سے ) زیادہ صحیح ہے۔
۵۰
جامع ترمذی # ۴۵/۲۹۲۴
عبداللہ بن ابی قیس رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، هُوَ رَجُلٌ بَصْرِيٌّ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ كَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ مِنْ آخِرِهِ فَقَالَتْ كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَصْنَعُ رُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ ‏.‏ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً فَقُلْتُ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَتُهُ أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَجْهَرُ قَالَتْ كُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ قَدْ كَانَ رُبَّمَا أَسَرَّ وَرُبَّمَا جَهَرَ قَالَ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً قَالَ قُلْتُ فَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَابَةِ أَكَانَ يَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ أَمْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَتْ كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ فَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
عبداللہ بن ابی قیس بصریٰ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں پوچھا کہ آپ وتر رات کے شروع حصے میں پڑھتے تھے یا آخری حصے میں؟ انہوں نے کہا: آپ دونوں ہی طرح سے کرتے تھے۔ کبھی تو آپ شروع رات میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخر رات میں وتر پڑھتے تھے۔ میں نے کہا: الحمدللہ! تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہیں جس نے دین کے معاملے میں وسعت و کشادگی رکھی، پھر میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ کیا آپ دھیرے پڑھتے تھے یا بلند آواز سے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب کرتے تھے۔ کبھی تو دھیرے پڑھتے تھے اور کبھی آپ زور سے میں نے کہا: الحمدللہ، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے دین میں وسعت و کشادگی رکھی۔ پھر میں نے کہا: آپ جب جنبی ہو جاتے تھے تو کیا کرتے تھے؟ کیا سونے سے پہلے غسل کر لیتے تھے یا غسل کیے بغیر سو جاتے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تمام ہی کرتے تھے، کبھی تو آپ غسل کر لیتے تھے پھر سوتے، اور کبھی وضو کر کے سو جاتے، میں نے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے دینی کام میں وسعت و کشادگی رکھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔