عمومی موضوعات
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۶۳
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَأْذِنُ عَلَى أُمِّي فَقَالَ " نَعَمْ " . قَالَ الرَّجُلُ إِنِّي مَعَهَا فِي الْبَيْتِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا " . فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي خَادِمُهَا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا أَتُحِبُّ أَنْ تَرَاهَا عُرْيَانَةً " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَاسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا " .
عطا بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا ایک شخص نے کیا اجازت مانگوں میں اپنی ماں سے گھر جاتے وقت؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ بولا میں تو اس کے ساتھ ایک گھر میں رہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اجازت لے کر جا وہ بولا میں تو اس کی خدمت کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اجازت لے کر جا کیا تو چاہتا ہے کہ اس کو ننگا دیکھے وہ بولا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پس اجازت لے کر جا ۔ ابوموسی اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اجازت تین بار لینا چاہیے اگر اجازت ہو تو جاؤ نہیں تو لوٹ آؤ ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۶۴
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ الثِّقَةِ، عِنْدَهُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الاِسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ فَادْخُلْ وَإِلاَّ فَارْجِعْ " .
۰۳
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۶۵
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَيْرِ، وَاحِدٍ، مِنْ عُلَمَائِهِمْ أَنَّ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ، جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَاسْتَأْذَنَ ثَلاَثًا ثُمَّ رَجَعَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي أَثَرِهِ فَقَالَ مَا لَكَ لَمْ تَدْخُلْ فَقَالَ أَبُو مُوسَى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الاِسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ فَادْخُلْ وَإِلاَّ فَارْجِعْ " . فَقَالَ عُمَرُ وَمَنْ يَعْلَمُ هَذَا لَئِنْ لَمْ تَأْتِنِي بِمَنْ يَعْلَمُ ذَلِكَ لأَفْعَلَنَّ بِكَ كَذَا وَكَذَا . فَخَرَجَ أَبُو مُوسَى حَتَّى جَاءَ مَجْلِسًا فِي الْمَسْجِدِ يُقَالُ لَهُ مَجْلِسُ الأَنْصَارِ فَقَالَ إِنِّي أَخْبَرْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الاِسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ فَادْخُلْ وَإِلاَّ فَارْجِعْ " . فَقَالَ لَئِنْ لَمْ تَأْتِنِي بِمَنْ يَعْلَمُ هَذَا لأَفْعَلَنَّ بِكَ كَذَا وَكَذَا . فَإِنْ كَانَ سَمِعَ ذَلِكَ أَحَدٌ مِنْكُمْ فَلْيَقُمْ مَعِي . فَقَالُوا لأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قُمْ مَعَهُ . وَكَانَ أَبُو سَعِيدٍ أَصْغَرَهُمْ فَقَامَ مَعَهُ فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأَبِي مُوسَى أَمَا إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ وَلَكِنْ خَشِيتُ أَنْ يَتَقَوَّلَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
ربیعہ بن سبی عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ انہوں نے بہت سے علماء سے سنا کہ ابوموسیٰ اشعری نے اجازت چاہی اندر آنے کی حضرت عمر کے مکان پر تین بار جب تینوں بار جواب نہ ملا تو وہ لوٹ گئے حضرت عمر نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا جب وہ آئے تو ان سے کہا تم اندر کیوں نہ آئے ابوموسیٰ اشعری نے کہا کہ میں نے رسول اللہ سے سنا کہ آپ فرماتے تھے کہ اذن تین بار لینا چاہیے اگر اجازت ہو تو جاؤ نہیں تو لوٹ آؤ حضرت عمر نے کہا تمہارے سوا اور کسی نے یہ حدیث سنی ہے اس کو لے کر آؤ اگر نہ لاؤ گے تو میں تم کو سزا دوں گا ابوموسیٰ نکلے اور مسجد میں بہت سے آدمیوں کو بیٹھے دیکھا ایک مجلس میں جس کو مجلس انصار کہتے تھے اور کہا میں نے رسول اللہ سے سنا کہ آپ فرماتے کہ اذن تین بار لینا چاہیے اگر اجازت ہو تو جاؤ نہیں تو لوٹ آؤ میں نے یہ حدیث حضرت عمر سے بیان کی انہوں نے کہا کہ اگر کسی اور نے یہ حدیث سنی ہو تو ان کو لے کر آؤ نہیں تو میں تم کو سزا دوں گا اگر تم میں سے کسی نے یہ حدیث سنی ہو تو میرے ساتھ چلے لوگ ابوسعید ابوموسیٰ کے ساتھ آئے اور حدیث حضرت عمر سے بیان کی حضرت عمر نے ابوموسیٰ سے کہا میں نے تم کو جھوٹا نہیں سمجھا لیکن میں ڈرا ایسا نہ ہو کہ لوگ آنحضرت پر باتیں جوڑ لیا کریں
۰۴
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۶۶
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَقُلْ إِنَّكَ مَضْنُوكٌ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ لاَ أَدْرِي أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ
محمد بن عمر بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص چھینکے تو اس کا جواب دو پھر اگر چھینکے تو جواب دو پھر چھینکے تو جھٹ کہہ دو تجھ زکام ہو گیا؟ عبداللہ بن ابی بکر نے کہا معلوم نہیں کہ تیسری کے بعد آپ نے یہ کہا یا چوتھی کے بعد ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۶۷
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا عَطَسَ فَقِيلَ لَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ . قَالَ يَرْحَمُنَا اللَّهُ وَإِيَّاكُمْ وَيَغْفِرُ لَنَا وَلَكُمْ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کو جب چھینک آتی اور کوئی یرحمک اللہ کہتا تو وہ یرحمنا اللہ وایاکم و یغفرلنا و لکم کہتے یعنی اللہ ہم پر رحم کرے اور تم پر بھی اور ہم کو بخشے اور تم کو بھی ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۶۸
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ إِسْحَاقَ، مَوْلَى الشِّفَاءِ أَخْبَرَهُ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ نَعُودُهُ فَقَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ تَصَاوِيرُ " . شَكَّ إِسْحَاقُ لاَ يَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ .
رافع بن اسحاق سے جو مولیٰ ہیں شفا کے روایت ہے کہ میں اور عبداللہ بن ابی طلحہ مل کر ابوسعید خدری کے پاس گئے ان کے دیکنے کو وہ بیمار تھے ابوسعید نے کہا مجھ سے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جس میں تصویریں یا مورتیاں ہوں اسحاق کو شک ہے کہ ابوسعید نے ان دونوں میں سے کیا کہا ،۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۶۹
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ قَالَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا فَنَزَعَ نَمَطًا مِنْ تَحْتِهِ فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ لِمَ تَنْزِعُهُ قَالَ لأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ وَقَدْ قَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا قَدْ عَلِمْتَ . فَقَالَ سَهْلٌ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِلاَّ مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ " . قَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي .
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ ابوطلحة انصاری کی عیادت کو گئے وہاں سہل بن حنیف کو بھی دیکھا ابوطلحہ نے ایک آدمی کو بلایا اور کہا میرے نیچے سے شطرنجی نکال لے سہل نے کہا کیوں ابوطلحہ نے کہا اس میں تصویروں کے بارے میں جو ارشاد فرمایا وہ ہے اگر نقشی ہو کپڑے وغیرہ پر تو کچھ قباحت نہیں ابوطلحہ نے کہا ہاں یہ سچ ہے مگر میری خوشی یہی ہے کہ ہر قسم کی تصویر سے پرہیز کرو۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۷۰
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ وَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَمَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ " . قَالَتِ اشْتَرَيْتُهَا لَكَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ الْمَلاَئِكَةُ " .
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک تکیہ خریدا اس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرے کے دروازے پر کھڑے ہو رہے اور اندر نہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناراضگی کے آثار معلوم ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا میں توبہ کرتی ہوں اللہ اور اس کے رسول سے میرا کیا گناہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ تکیہ کیسا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا میں نے اس تکیے کو اس لئے خریدا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھیں اس پر تکیہ لگائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تصویر بنانے والے عذاب دیئے جائیں گے قیامت کے روز ان سے کہا جائے گا تم جان ڈالو ان صورتوں کو جن کو تم نے دنیا میں بنایا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس گھر میں تصویرں ہوتی ہیں اس میں فرشتے نہیں آتے ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۷۱
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَإِذَا ضِبَابٌ فِيهَا بَيْضٌ وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا " . فَقَالَتْ أَهْدَتْهُ لِي أُخْتِي هُزَيْلَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ . فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ " كُلاَ " . فَقَالاَ أَوَلاَ تَأْكُلُ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ " إِنِّي تَحْضُرُنِي مِنَ اللَّهِ حَاضِرَةٌ " . قَالَتْ مَيْمُونَةُ أَنَسْقِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ لَبَنٍ عِنْدَنَا فَقَالَ " نَعَمْ " . فَلَمَّا شَرِبَ قَالَ " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا " . فَقَالَتْ أَهْدَتْهُ لِي أُخْتِي هُزَيْلَةُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرَأَيْتِكِ جَارِيَتَكِ الَّتِي كُنْتِ اسْتَأْمَرْتِينِي فِي عِتْقِهَا أَعْطِيهَا أُخْتَكِ وَصِلِي بِهَا رَحِمَكِ تَرْعَى عَلَيْهَا فَإِنَّهُ خَيْرٌ لَكِ " .
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میمونہ بنت حارث کے مکان میں گئے وہاں گوہ دیکھا سفید اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عبداللہ بن عباس اور خالد بن ولید تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا یہ گوشت کہاں سے آیا میمونہ نے کہا میری بہن ہزیلہ بنت حارث نے بھیجا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن عباس اور خالد بن ولید سے کہا کھاؤ انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں کھاتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس اللہ جل جلالہ کی طرف سے کوئی نہ کوئی آیا کرتے ہیں میمونہ نے کہا ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلادیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دودھ پی چکے تو پوچھا یہ کہاں سے آیا میمونہ نے کہا میری بہن ہزیلہ نے تحفہ بھیجا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم اپنی لونڈی کو جس کے آزاد کرنے کے واسطے تم نے مجھ سے مشورہ کیا تھا اپنی بہن کو دے دو اور قرابت کی رعایت کرو وہ اس کی بکریاں چرایا کرے تو مناسب ہے اور بہتر ہے تیرے واسطے ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۷۲
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ . فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ . فَقِيلَ هُوَ ضَبٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَرَفَعَ يَدَهُ فَقُلْتُ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ " لاَ وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ " . قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ .
خالد بن ولید بن مغیرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ میمونہ کے گھر میں گئے وہاں ایک گوہ بھنا ہوا آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ اٹھایا کھانے کو عورتوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتا دو جس کا یہ گوشت ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کھینچ لیا، میں نے کہا کیا حرام ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں لیکن یہ میرے ملک میں نہیں ہوتا اس واسطے مجھے اس کے کھانے سے کراہت آتی ہے خالد نے کہا میں نے اس کو اپنی طرف کھیینچ کر کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھ رہے تھے ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۷۳
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى فِي الضَّبِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلاَ بِمُحَرِّمِهِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پکار کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ گوہ کے گوشت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہ میں اس کو کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۷۴
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُحَدِّثُ نَاسًا مَعَهُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لاَ يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلاَ ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " . قَالَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِي وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ .
سفیان بن زہیر سے روایت ہے کہ وہ لوگوں سے حدیث بیان کر رہے تھے مسجد نبوی کے دروازے پر انہوں نے کہا میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے جو شخص کتا پالے نہ کھیت کی حفاظت کے واسطے نہ بکریوں کی حفاظت کے واسطے تو ہر روز اس کے اعمال میں ایک قیراط کے برابر کمی ونقصان ہوا کرے گا، سائب نے سفیان سے کہا تم نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں قسم ہے اس مسجد کے پروردگار کی ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۷۵
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبًا ضَارِيًا أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو کتا پالے سوائے شکاری کتے کے یا کھیت کے کتے کے تو ہر روز اس کے عمل میں سے دو قیراط کے برابر کمی ونقصان ہوگا ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۷۶
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم کیا کتوں کے قتل کا ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۷۷
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَأْسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بڑا کفر مشرق کی طرف ہے اور فخر اور تکبر گھوڑوں اور اونٹ والوں میں ہے جو بلند آواز رکھتے ہیں جنگل میں رہتے ہیں اور عاجزی اور تواضع بکری والوں میں ہے ۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۷۸
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمًا يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ " .
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ قریب ہے کہ بہترین مال مسلمان کا چند بکریاں ہوں گی جن کو لے کر کسی پہاڑ کی چوٹی پر چلا جائے گا یا کسی وادی کے اندر بھاگے گا فتنوں سے اپنا دین بچانے کو ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۷۹
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحْتَلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ وَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَاتِهِمْ فَلاَ يَحْتَلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِهِ " .
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہ دوہے کوئی کسی کے جانور کو بلا اس کی اجازت کے بھلا کوئی تم میں یہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کے خزانہ کی کوٹھڑی میں آ کے اس کو توڑ کے اس کے کھانے کا غلہ نکال لے جائے سو ان کے جانور کے تھن تو ان کے کھانے کی دودھ کو حفاظت میں رکھتے ہیں یعنی تھن کوٹھڑی کی طرح حفاظت کے واسطے ہیں سو ہرگز نہ دوہے کوئی کسی کے جانور کو بدون اس کی اجازت کے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے بھی؟ فرمایا کہ میں نے بھی ۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۸۰
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ نَبِيِّ إِلاَّ قَدْ رَعَى غَنَمًا " . قِيلَ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " وَأَنَا " .
۱۹
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۸۱
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُقَرَّبُ إِلَيْهِ عَشَاؤُهُ فَيَسْمَعُ قِرَاءَةَ الإِمَامِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَلاَ يَعْجَلُ عَنْ طَعَامِهِ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے شام کا کھانا پیش کیا جاتا تو وہ امام کی قرأت سنا کرتے اپنے گھر میں اور کھانے میں جلدی نہ کرتے جب تک اچھے طور سے نہ کھا لیتے ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۸۲
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ فَقَالَ " انْزِعُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ " .
حضرت ام المومنین میمونہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال ہوا کہ اگر چوہا گھی میں گر پڑے تو کیا کرنا چاہئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو نکال ڈالو اور اس کے آس پاس کا گھی پھینک دو ۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۸۳
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنْ كَانَ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالْمَسْكَنِ " . يَعْنِي الشُّؤْمَ .
سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی ایک گھوڑے میں دوسرے عورت میں تیسرے گھر میں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے ایک گھر دوسرے عورت تیسرے گھوڑے میں۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۸۴
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نحوست گھر، عورت، اور گھوڑے میں ہوتی ہے
۲۳
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۸۵
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَارٌ سَكَنَّاهَا وَالْعَدَدُ كَثِيرٌ وَالْمَالُ وَافِرٌ فَقَلَّ الْعَدَدُ وَذَهَبَ الْمَالُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعُوهَا ذَمِيمَةً " .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک عورت آئی رسول اللہ کے پاس، بولی یا رسول اللہ ایک گھر تھا جس میں ہم رہتے ہیں ہماری گنتی بھی زیادہ تھی اور مال بھی تھا، پھر گنتی بھی کم ہوگئی یعنی لوگ مر گئے اور مال میں بھی نقصان ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چھوڑ دے تو اس گھر کو جبکہ تو اس کو برا جانتی ہے ۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۸۶
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِلَقْحَةٍ تُحْلَبُ " مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا اسْمُكَ " . فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ مُرَّةُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اجْلِسْ " . ثُمَّ قَالَ " مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا اسْمُكَ " . فَقَالَ حَرْبٌ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اجْلِسْ " . ثُمَّ قَالَ " مَنْ يَحْلُبُ هَذِهِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا اسْمُكَ " . فَقَالَ يَعِيشُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " احْلُبْ " .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ اس اونٹی کا دودھ کون دوہے گا؟ ایک شخص کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تیرا کیا نام ہے؟ وہ بولا مرہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جا آپ نے اس کا نام اچھا نہ سمجھا، مرہ تلخ کو بھی کہتے ہیں پھر آپ نے فرمایا کون دوہے گا؟ اس اونٹنی کو ایک شخص اور کھڑا ہوا آپ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ بولا حرب ۔ آپ نے فرمایا بیٹھ جا، پھر آپ نے فرمایا کون دوہے گا؟ اس اونٹنی کو ایک شخص اور کھڑا ہوا آپ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ بولا یعیش آپ نے فرمایا جا دوھ ۔ یعیش نام آپ نے پسند کیا کیونکہ وہ عیش سے ہے آپ فال نیک بہت لیا کر تے تھے
۲۵
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۸۷
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لِرَجُلٍ مَا اسْمُكَ فَقَالَ جَمْرَةُ . فَقَالَ ابْنُ مَنْ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ . قَالَ مِمَّنْ قَالَ مِنَ الْحُرَقَةِ . قَالَ أَيْنَ مَسْكَنُكَ قَالَ بِحَرَّةِ النَّارِ . قَالَ بِأَيِّهَا قَالَ بِذَاتِ لَظًى . قَالَ عُمَرُ أَدْرِكْ أَهْلَكَ فَقَدِ احْتَرَقُوا . قَالَ فَكَانَ كَمَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ عمر نے ایک شخص سے پوچھا تیرا نام کیا ہے؟ وہ بولا جمرہ (انگارہ) انہوں نے پوچھا باپ کا نام؟ کہا ابن شہاب (شعلہ) ، پوچھا کس قبیلے سے؟ کہا حرقہ سے جس کے معنے جنے کے ہیں، پوچھا کہاں رہتا ہے؟ کہا حرۃ النار میں، پوچھا کون سی جگہ میں؟ کہا ذات لظی میں، ان کے معنے بھی شعلے اور دہکتی آگ کے ہیں، حضرت عمر نے کہا جا اپنے لوگوں کی خبر لے وہ سب جل گئے راوی نے کہا جب وہ شخص گیا تو دیکھا یہی حال تھا جو حضرت عمر نے کہا تھا یعنی سب جل گئے تھے۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۸۸
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ .
انس بن مالک نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچھنے لگوائے ابوطیبہ کے ہاتھ سے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدوری میں ایک صاع کھجور کا دیا اور اس کے مالکوں کو حکم دیا کہ اس کے خراج میں کمی کر دیں ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اگر کوئی دوا ایسی ہوتی جو بیماری تک پہنچ جاتی تو وہ پچھنے ہوتے
۲۷
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۸۹
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنْ كَانَ دَوَاءٌ يَبْلُغُ الدَّاءَ فَإِنَّ الْحِجَامَةَ تَبْلُغُهُ " .
۲۸
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۹۰
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهَا فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ حَتَّى قَالَ " اعْلِفْهُ نُضَّاحَكَ " . يَعْنِي رَقِيقَكَ .
ابن محیصہ انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا حجام کی اجرت کو اپنے خرچ میں لا نا کیسا ہے؟ (کیونکہ ان کے غلام ابوطبیہ حجام تھے وہ چاہتے تھے اس کی کمائی کھائیں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا مگر یہ ممانعت تنزیہا ہے اکثر علماء کے نزدیک وہ ہمیشہ پوچھا کر تے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کی کمائی اپنے اونٹوں اور غلاموں کی خوراک میں صرف کر ۔
۲۹
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۹۱
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ وَيَقُولُ " هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
۳۰
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۹۲
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَى الْعِرَاقِ فَقَالَ لَهُ كَعْبُ الأَحْبَارِ لاَ تَخْرُجْ إِلَيْهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّ بِهَا تِسْعَةَ أَعْشَارِ السِّحْرِ وَبِهَا فَسَقَةُ الْجِنِّ وَبِهَا الدَّاءُ الْعُضَالُ .
عبداللہ بن عمر نے کہا کہ دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اشارہ کر تے تھے مشرق کی طرف اور فرماتے تھے فتنہ اسی طرف سے ہے فتنہ اسی طرف سے ہے جہاں سے شیطان کی چوٹی نکلتی ہے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب نے عر اق کو جا نا چاہا تو کعت احبار نے کہا آپ وہاں نہ جائیے اے امیر المو میین کیونکہ اس ملک میں جادو کے دس حصوں میں سے نو حصے ہیں اور جتنے شریر اور خبیث جن میں وہاں موجود ہیں اور وہاں ایک بیماری ہے جو لا علاج ہے ۔
۳۱
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۹۳
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ .
ابو لبابہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا ان سانپوں کے مارنے سے جو گھر میں ہیں
۳۲
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۹۴
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَائِبَةَ، مَوْلاَةٍ لِعَائِشَةَ . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ إِلاَّ ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ وَيَطْرَحَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ .
سائبہ مولا سائبہ جو مولا تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کہ رسول اللہ نے منع کیا ان سانپوں کے مارنے سے جو گھر میں ہوتے ہیں مگر ذی الطفیتین اور ابتر کو کہ وہ آنکھ کو اندھا کر دیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں ۔
۳۳
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۹۵
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ صَيْفِيٍّ، مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى قَضَى صَلاَتَهُ فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا تَحْتَ سَرِيرٍ فِي بَيْتِهِ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ لأَقْتُلَهَا فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ أَنِ اجْلِسْ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ فَقَالَ أَتَرَى هَذَا الْبَيْتَ فَقُلْتُ نَعَمْ . قَالَ إِنَّهُ قَدْ كَانَ فِيهِ فَتًى حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْخَنْدَقِ فَبَيْنَا هُوَ بِهِ إِذْ أَتَاهُ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أُحْدِثُ بِأَهْلِي عَهْدًا فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " خُذْ عَلَيْكَ سِلاَحَكَ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ بَنِي قُرَيْظَةَ " فَانْطَلَقَ الْفَتَى إِلَى أَهْلِهِ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً بَيْنَ الْبَابَيْنِ فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ لِيَطْعُنَهَا وَأَدْرَكَتْهُ غَيْرَةٌ فَقَالَتْ لاَ تَعْجَلْ حَتَّى تَدْخُلَ وَتَنْظُرَ مَا فِي بَيْتِكَ . فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى فِرَاشِهِ فَرَكَزَ فِيهَا رُمْحَهُ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فَنَصَبَهُ فِي الدَّارِ فَاضْطَرَبَتِ الْحَيَّةُ فِي رَأْسِ الرُّمْحِ وَخَرَّ الْفَتَى مَيِّتًا فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْفَتَى أَمِ الْحَيَّةُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
ابو سائب سے مولیٰ ہشام بن زہرہ کے روایت ہے (کہتے ہیں) کہ میں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا وہ نماز پڑھ رہے تھے میں بیٹھ گیا نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا اتنے میں، میں نے ان کے تخت کے تلے سرسراہٹ سنی، دیکھا تو سانپ ہے میں اس کے مارنے کو اٹھا ابوسعید نے اشارہ کیا بیٹھ جا اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں اشارہ کرنا درست ہے جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا اس کوٹھڑی کو دیکھتے ہو؟ میں نے کہا ہاں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس کوٹھڑی میں ایک نوجوان رہتا تھا جس نے نئی شادی کی تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ خندق میں گیا پھر وہ یکایک آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اجازت دیجیے میں نے شادی کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دے دی اور فرمایا ہتھیار لے کر جا کیونکہ مجھے بنی قریضہ کا خوف ہے وہ نوجوان ہتھیار لے کر گیا جب گھر پہنچا تو بیوی کو دیکھا دروازہ پر کھڑی ہے اس نوجوان نے غیرت سے برچھا اس کے مارنے کو اٹھایا وہ بولی جلدی مت کر اپنے گھر میں جا کر دیکھ کہ اس میں کیا ہے وہ گھر میں گیا دیکھا تو ایک سانپ کنڈلی مارے ہوئے اس کے بچھونے پر بیٹھا ہوا ہے وہ نوجوان سانپ کو برچھی سے چھید کر نکلا اور برچھی کو گھر میں کھڑا کر دیا وہ سانپ اس برچھی کی نوک میں پیچ کھاتا رہا اور نوجوان اسی وقت مر گیا معلوم نہیں سانپ پہلے مرا یا وہ نوجوان پہلے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قصہ بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا مدینہ میں جن مسلمان ہوگئے ہیں۔ تو جب تم کسی سانپ کو دیکھو تو تین روز تک اسے آگاہ کیا کرو اگر بعد اس کے بھی نکلے تو اس کو مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔
۳۴
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۹۶
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَهُوَ يُرِيدُ السَّفَرَ يَقُولُ " بِاسْمِ اللَّهِ . اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ اللَّهُمَّ ازْوِ لَنَا الأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَمِنْ كَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَمِنْ سُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْمَالِ وَالأَهْلِ " .
امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے سفر کے قصہ سے تو فرماتے کہ اللہ کے نام سے سفر کرتا ہوں اے پروردگار تو رفیق ہے سفر میں اور خلیفہ ہے میرے اہل و عیال میں اے پروردگار نزدیک کر دے ہم کو زمین جہاں ہم جاتے ہیں اور آسان کر ہم پر سفر اے پروردگار پناہ مانگتا ہوں میں تجھ سے سفر کی تکلیف سے اور برے لو ٹنے اور برے حال اور مال کے خولہ بنت حکیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی منزل میں اترے اور کہے کہ پناہ مانگتے ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے ہر مخلوق کے شر سے تو اس کو کسی چیز سے نقصان نہ ہوگا کوچ کے وقت تک
۳۵
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۹۷
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ الثِّقَةِ، عِنْدَهُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلاً فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ . فَإِنَّهُ لَنْ يَضُرَّهُ شَىْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ " .
۳۶
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۹۸
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلاَثَةُ رَكْبٌ " .
عبداللہ بن عمر بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اکیلا سفر کرنے والا شیطان ہے اور دو مل کر سفر کرنے والے دو شیطان ہیں اور تین جماعت ہے۔
۳۷
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۷۹۹
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشَّيْطَانُ يَهُمُّ بِالْوَاحِدِ وَالاِثْنَيْنِ فَإِذَا كَانُوا ثَلاَثَةً لَمْ يَهُمَّ بِهِمْ " .
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان قصد کرتا ہے ایک دو پر جب آدمی ہوں تو ان پر قصد نہیں کرتا
۳۸
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۸۰۰
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخَرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلاَّ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اس کو درست نہیں سفر کرنا ایک دن رات کا مگر اپنے محرم کے ساتھ
۳۹
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۸۰۱
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، يَرْفَعُهُ " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيَرْضَى بِهِ وَيُعِينُ عَلَيْهِ مَا لاَ يُعِينُ عَلَى الْعُنْفِ فَإِذَا رَكِبْتُمْ هَذِهِ الدَّوَابَّ الْعُجْمَ فَأَنْزِلُوهَا مَنَازِلَهَا فَإِنْ كَانَتِ الأَرْضُ جَدْبَةً فَانْجُوا عَلَيْهَا بِنِقْيِهَا وَعَلَيْكُمْ بِسَيْرِ اللَّيْلِ فَإِنَّ الأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ مَا لاَ تُطْوَى بِالنَّهَارِ وَإِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَى الطَّرِيقِ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَى الْحَيَّاتِ " .
خالد بن معدان سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جل جلالہ نرمی کرتا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے نرمی کرنے پر اور مدد کرتا ہے نرمی پر وہ جو نہیں کرتا سختی پر جب تم چڑھو ان بے زبان جانوروں پر تو اتارو ان کو ان کی منزلوں پر اگر زمین صاف ہو جہاں گھاس نہ ہو تو جلدی سے نکال لے جاؤ تاکہ اس میں گودار ہے اور لازم کر لو رات کا چلنا کیونکہ رات کے چلنے میں جیسے راہ کٹتی ہے ویسی دن کو نہیں کٹتی تو رات کو جب اترو تو راستے میں نہ اترو کیونکہ وہاں جانور آتے جاتے ہیں اور سانپ بھی رہا کرتے ہیں۔
۴۰
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۸۰۲
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سفر بھی ایک قسم کا عذاب ہے ۔ روک دیتا ہے آدمی کو کھانے اور پینے اور سونے سے تو جب تم میں سے کوئی اپنے کام کیلئے سفر کرے اور وہ کام پورا ہوجائے تو جلدی اپنے گھر لوٹ آئے۔
۴۱
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۸۰۳
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَلاَ يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلاَّ مَا يُطِيقُ " .
۴۲
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۸۰۴
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَذْهَبُ إِلَى الْعَوَالِي كُلَّ يَوْمِ سَبْتٍ فَإِذَا وَجَدَ عَبْدًا فِي عَمَلٍ لاَ يُطِيقُهُ وَضَعَ عَنْهُ مِنْهُ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مملوک( غلام لونڈی) کو کپڑا اور کھانا ملے گا موافق دستور کے اور کام اس سے نہ لیا جائے طاقت سے زیادہ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن الخطاب ہر ہفتے کے روز مدینے کے آس پاس گاؤں میں جایا کر تے تھے جب کسی غلام کو ایسے کام میں مشغول پاتے جو اس کی طاقت سے زیادہ ہوتا تو کم کر دیتے تھے۔
۴۳
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۸۰۵
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَهُوَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ لاَ تُكَلِّفُوا الأَمَةَ غَيْرَ ذَاتِ الصَّنْعَةِ الْكَسْبَ فَإِنَّكُمْ مَتَى كَلَّفْتُمُوهَا ذَلِكَ كَسَبَتْ بِفَرْجِهَا وَلاَ تُكَلِّفُوا الصَّغِيرَ الْكَسْبَ فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يَجِدْ سَرَقَ وَعِفُّوا إِذْ أَعَفَّكُمُ اللَّهُ وَعَلَيْكُمْ مِنَ الْمَطَاعِمِ بِمَا طَابَ مِنْهَا .
مالک بن ابی عامر اصبحی نے حضرت عثمان بن عفان سے سنا وہ خطبے میں فرماتے تھے کہ جو لونڈی کوئی ہنر نہ جانتی ہو اس کو مجبور مت کرو کمائی پر کیونکہ جب تم اس کو مجبور کرو گے کمائی پر تو وہ غلط کام (حرام کاری) سے کمائی گی، اور نابالغ غلام کو کمائی پر مجبور مت کرو کیونکہ وہ جب مجبور ہوگا تو چوری کرے گا اور جب اللہ تمہیں اچھی طرح روزی دیتا ہے تو تم بھی ان کو محنت معاف کردو جیسے اللہ نے تمہیں معاف کیا ہے اور لازم کرو وہ کمائی جو حلال ہے
۴۴
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۸۰۶
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعَبْدُ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ غلام جب اپنے مولیٰ کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت بھی کرے تو اس کو دوہرا ثواب ہوگا ۔
۴۵
مؤطا امام مالک # ۵۴/۱۸۰۷
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَمَةً، كَانَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَقَدْ تَهَيَّأَتْ بِهَيْئَةِ الْحَرَائِرِ فَدَخَلَ عَلَى ابْنَتِهِ حَفْصَةَ فَقَالَ أَلَمْ أَرَ جَارِيَةَ أَخِيكِ تَجُوسُ النَّاسَ وَقَدْ تَهَيَّأَتْ بِهَيْئَةِ الْحَرَائِرِ وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ .
امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر کی ایک لونڈی تھی اس نے آزاد عورتوں کی وضع بنائی تھی حضرت عمر نے اس کو دیکھا اور اپنی صاحبزادی حضرت ام المومنین حفصہ کے پاس گئے اور کہا میں نے تیرے بھائی کی لونڈی کو دیکھا جو آزاد عورتوں کی وضع بنا کو لوگوں میں پھرتی ہے اور حضرت عمر نے اس کو برا جانا