اچھا اخلاق
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۳۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قَالَ آخِرُ مَا أَوْصَانِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ وَضَعْتُ رِجْلِي فِي الْغَرْزِ أَنْ قَالَ " أَحْسِنْ خُلُقَكَ لِلنَّاسِ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ " .
معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ آخری وصیت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو کی جب میں رکاب میں پاؤں رکھنے لگا یہ تھی کہ اے معاذ خوش خلقی کر لوگوں سے۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۳۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلاَّ أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ إِلاَّ أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ بِهَا .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب دنیا کے دو کاموں میں اختیار ہوا تو آپ نے آسان امر کو اختیار کیا بشرطیکہ اس میں گناہ نہ ہو اگر گناہ ہوتا تو سب سے زیادہ آپ اس سے پرہیز کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات کے واسطے کسی سے بدلہ نہیں لیتے تھے مگر جب اللہ کی حرمت میں خلل پڑے تو اس وقت بدلہ لیتے تھے اللہ کے واسطے۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۳۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لاَ يَعْنِيهِ " .
۰۴
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۳۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتِ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ عَائِشَةُ وَأَنَا مَعَهُ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ " . ثُمَّ أَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ سَمِعْتُ ضَحِكَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُ فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ فِيهِ مَا قُلْتَ ثُمَّ لَمْ تَنْشَبْ أَنْ ضَحِكْتَ مَعَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنِ اتَّقَاهُ النَّاسُ لِشَرِّهِ " .
علی بن حسین بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی بہتریوں میں سے یہ ہے کہ آدمی بے کار اور فضول چیزوں کو چھوڑ دے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اذن چاہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے کا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھی گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا برا آدمی ہے یہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو آنے کی اجازت دی حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں نے اس کے ساتھ ہنستے ہوئے سنا جب وہ چلا گیا تو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو برا کہا تھا ابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ہنسنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سب آدمیوں میں برا وہ آدمی ہے جس سے لوگ بچیں یا ڈریں اس کے شر کے سبب سے ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۳۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كَعْبِ الأَحْبَارِ، أَنَّهُ قَالَ إِذَا أَحْبَبْتُمْ أَنْ تَعْلَمُوا مَا لِلْعَبْدِ عِنْدَ رَبِّهِ فَانْظُرُوا مَاذَا يَتْبَعُهُ مِنْ حُسْنِ الثَّنَاءِ .
کعب احبار نے کہا کہ جب تم کسی بندہ کا حال جاننا چاہو اس کے پروردگار کے پاس تو دیکھو لوگ اس کو کیسا کہتے ہیں ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۳۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ الْمَرْءَ، لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الْقَائِمِ بِاللَّيْلِ الظَّامِي بِالْهَوَاجِرِ .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ مجھ کو یہ پہنچا کہ آدمی حسن خلق کی وجہ سے رات بھر عبادت کرنے والے اور دن بھر پیاسے رہنے والے کا درجہ حاصل کرتا ہے۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۳۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرٍ، مِنْ كَثِيرٍ مِنَ الصَّلاَةِ وَالصَّدَقَةِ قَالُوا بَلَى . قَالَ إِصْلاَحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَإِيَّاكُمْ وَالْبِغْضَةَ فَإِنَّهَا هِيَ الْحَالِقَةُ .
سعید بن مسیب نے کہا کیا میں بہ بتاؤں تم کو وہ چیز جو بہت سی نمازوں اور صدقہ سے بہتر ہے لوگوں نے کہا بتاؤ سعید نے کہا ایک دوسرے کے بیچ صلح کرادیں اور بچو تم بغض اور عدوات سے یہ خصلت مونڈنے والی ہے نیکیوں کو ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اس واسطے بھیجا گیا کہ اخلاق کی خوبیوں کو پورا کردوں
۰۸
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۴۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَدْ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بُعِثْتُ لأُتَمِّمَ حُسْنَ الأَخْلاَقِ " .
۰۹
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۴۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ الزُّرَقِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ رُكَانَةَ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِكُلِّ دِينٍ خُلُقٌ وَخُلُقُ الإِسْلاَمِ الْحَيَاءُ " .
زید بن طلحہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیاء ہے ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۴۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا ایک شخص کو نصیحت کر رہا تھا اپنے بھائی کو حیاء کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جانے دے کیونکہ حیاء ایمان میں سے ہے ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۴۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَعِيشُ بِهِنَّ وَلاَ تُكْثِرْ عَلَىَّ فَأَنْسَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَغْضَبْ " .
حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اور بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے چند باتیں بتاد یجئے جن سے میں نفع اٹھاؤں اور بہت باتیں نہ بتانا میں بھول جاؤں گا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو غصہ مت کیا کر۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۴۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ وہ آدمی وزر آور نہیں ہے جو کشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے وزر آور ہے جو اپنے نفس پر قادر ہو غصے کے وقت۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۴۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُهَاجِرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ " .
ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو درست نہیں کہ اپنے بھائی مسلمان کی ملاقات ترک کرے یعنی اس کو چھوڑ دے تین دن سے زیادہ یا یہ ملے تو وہ نہ دیکھے یا وہ ملے تو نہ دیکھے بہتر ان دونوں میں وہ ہے جو پہلے سلام علیک کرے ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۴۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبَاغَضُوا وَلاَ تَحَاسَدُوا وَلاَ تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلاَ يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُهَاجِرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ " .
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مت بغض کرو مر حسد کرو مت پیٹھ پھیرو ایک دوسرے سے بلکہ ہو جاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی نہیں درست ہے کسی مسلمان کو کہ اپنے بھائی کو چھوڑ دے تین راتوں سے زیادہ ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۴۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلاَ تَجَسَّسُوا وَلاَ تَحَسَّسُوا وَلاَ تَنَافَسُوا وَلاَ تَحَاسَدُوا وَلاَ تَبَاغَضُوا وَلاَ تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ بچو تم بد گمانی سے کیونکہ بد گمانی بڑا جھوٹ ہے اور مت کھوج لگاؤ اور مت تفتیش کرو اور مت حرص کرو دنیا کی اور مت حسد کرو نہ بغض کرو نہ ایک دوسرے سے پیٹھ موڑو بلکہ ہو جاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی ۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۴۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَصَافَحُوا يَذْهَبِ الْغِلُّ وَتَهَادَوْا تَحَابُّوا وَتَذْهَبِ الشَّحْنَاءُ " .
عطا بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خراسانی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا مصافحہ کرو ایک دوسرے سے دل کا کینہ جاتا رہے گا ہدیہ بھیجو ایک دوسرے کی دوست ہو جاؤ گے اور دشمنی جاتی رہے گی ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۴۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلاَّ رَجُلاً كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا " .
ابوہریرة رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جنت کے دروازے کھل جائے ہیں پیر اور جمعرات کے روز تو ہر بندہ مسلمان جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا وہ بخش دیا جاتا ہے مگر وہ شخص جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ ان دونوں آدمیوں کے متعلق کہ دیکھتے رہو جب تک وہ مل جائیں ان دونوں آدمیوں کو دیکھتے رہو جب تک وہ مل جائیں ۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۴۷/۱۶۵۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ كُلَّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلاَّ عَبْدًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا . أَوِ ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے روز بندوں کے اعمال دیکھے جاتے ہیں پھر ہر مومن بندہ بخش دیا جاتا ہے مگر وہ بندہ جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو تو حکم ہوتا ہے کہ ابھی ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ مل جائیں