۲۵۱ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۰۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّهَا وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ بِالْبَيْدَاءِ فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُهِلَّ ‏"‏ ‏.‏
اسما بنت عمیس سے روایت ہے کہ انہوں نے جنا محمد بن ابی بکر کو مقام بیدا میں تو ذکر کیا ابوبکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غسل کر کے احرام باندھ لے ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۰۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ، وَلَدَتْ، مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأَمَرَهَا أَبُو بَكْرٍ أَنْ تَغْتَسِلَ، ثُمَّ تُهِلَّ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ اسماء بنت عمیس نے جنا محمد بن ابی بکر کو ذوالحلیفہ میں تو حکم کیا ان کو ابوبکر نے غسل کر کے احرام باندھنے کا ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۰۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَغْتَسِلُ لإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِدُخُولِهِ مَكَّةَ وَلِوُقُوفِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر غسل کرتے تھے احرام کے واسطے احرام باندھنے سے پہلے اور غسل کر تے تھے مکہ میں داخل ہونے کے واسطے اور غسل کر تے تھے نویں تاریخ کو عرفات میں ٹھہرنے کے واسطے۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۰۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ ‏.‏ وَقَالَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ لاَ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ ‏.‏ قَالَ فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يُسْتَرُ بِثَوْبٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ اصْبُبْ ‏.‏ فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ ‏.‏
عبداللہ بن حنین سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ نے اختلاف کیا ابوا میں تو کہا عبداللہ بن عباس نے محرم اپنا سر دھو سکتا ہے مسور بن مخرمہ نے کہا نہیں دھو سکتا ہے کہ عبداللہ بن حنین کو بھیجا عبداللہ بن عباس نے ابوایوب انصاری کے پاس تو پایا میں نے ان کو غسل کرتے ہوئے دو لکڑیوں کے بیچ میں جو کنوئیں پر لگی ہوتی ہیں اور وہ پردہ کئے ہوئے تھے ایک کپڑے کو تو سلام کیا میں نے ان کو، پوچھا انہوں نے کون ہے یہ میں نے کہا عبداللہ بن حنین ہوں مجھ کو بھیجا ہے عبداللہ بن عباس نے تاکہ تم سے پوچھوں کس طرح غسل کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وہ محرم ہوتے تھے تو ابوایوب نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھ کر سر سے کپڑا ہٹایا یہاں تک کہ ان کا سر مجھ کو دکھائی دینے لگا پھر کہا انہوں نے ایک آدمی سے جو پانی ڈالتا تھا ان پر کہ پانی ڈال تو پانی ڈالا اس نے ان کے سر پر اور انہوں نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے ملا کر آگے لائے پھر پیچھے لے گئے اور کہا کہ ایسا ہی دیکھا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۰۹
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لِيَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ وَهُوَ يَصُبُّ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مَاءً وَهُوَ يَغْتَسِلُ اصْبُبْ عَلَى رَأْسِي ‏.‏ فَقَالَ يَعْلَى أَتُرِيدُ أَنْ تَجْعَلَهَا بِي إِنْ أَمَرْتَنِي صَبَبْتُ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اصْبُبْ فَلَنْ يَزِيدَهُ الْمَاءُ إِلاَّ شَعَثًا ‏.‏
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے کہا یعلی بن منبہ کے اور وہ پانی ڈالا کرتے جب حضرت عمر غسل کرتے تھے کہ پانی ڈال میرے سر پر یعلی نے کہا تم چاہتے ہو کہ گناہ مجھ پر ہو اگر تم حکم کرو تو میں ڈالوں حضرت عمر نے کہا ڈال کیونکہ پانی ڈالنے سے اور کچھ نہ ہوگا مگر بال اور زیادہ پریشان ہوں گے ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۱۰
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا دَنَا مِنْ مَكَّةَ بَاتَ بِذِي طُوًى بَيْنَ الثَّنِيَّتَيْنِ حَتَّى يُصْبِحَ ثُمَّ يُصَلِّي الصُّبْحَ ثُمَّ يَدْخُلُ مِنَ الثَّنِيَّةِ الَّتِي بِأَعْلَى مَكَّةَ وَلاَ يَدْخُلُ إِذَا خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا حَتَّى يَغْتَسِلَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ إِذَا دَنَا مِنْ مَكَّةَ بِذِي طُوًى وَيَأْمُرُ مَنْ مَعَهُ فَيَغْتَسِلُونَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلُوا ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب نزدیک ہوتے مکہ کے ٹھہر جاتے ذی طوی میں دو گھاٹیوں کے بیچ میں یہاں تک کہ صبح ہو جاتی تو نماز پڑھتے صبح کی پھر داخل ہوتے مکہ میں اس گھاٹی کی طرف سے جو مکہ کے اوپر کی جانب میں ہے اور جب حج یا عمرہ کے ارادے سے آتے تو مکہ میں داخل نہ ہوتے جب تک غسل نہ کر لیتے ذی طوی میں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہوتے ان کو بھی غسل کا حکم کرتے قبل مکہ میں داخل ہونے کے ۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۱۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ إِلاَّ مِنَ الاِحْتِلاَمِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ سَمِعْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ يَقُولُونَ لاَ بَأْسَ أَنْ يَغْسِلَ الرَّجُلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ بِالْغَسُولِ بَعْدَ أَنْ يَرْمِيَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَقَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَدْ حَلَّ لَهُ قَتْلُ الْقَمْلِ وَحَلْقُ الشَّعْرِ وَإِلْقَاءُ التَّفَثِ وَلُبْسُ الثِّيَابِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نہیں دھوتے تھے اپنے سر کو احرام کی حالت میں مگر جب احتلام ہوتا ۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۱۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلاَ الْعَمَائِمَ وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ وَلاَ الْبَرَانِسَ وَلاَ الْخِفَافَ إِلاَّ أَحَدٌ لاَ يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلاَ تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلاَ الْوَرْسُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محرم کون سے کپڑے پہنے تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ پہنو قمیص اور نہ باندھو عمامہ اور نہ پہنو پائجامہ اور نہ ٹوپی اور نہ موزہ مگر جس کو چپل نہ ملے تو وہ اپنے موزوں کو پہن لے اور ان کو کاٹ ڈالے اس طرح کہ ٹخنے کھلے رہیں اور نہ پہنو ان کپڑوں کو جن میں زعفران لگی ہو اور ورس ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۱۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ وَقَالَ ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے کہ محرم رنگا ہوا کپڑا زعفران میں ورس میں پہنے اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کو نعلین نہ ملیں وہ موزے پہن لے مگر اس کو ٹخنوں سے نیچا کر کے کاٹ لے۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۱۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَأَى عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ثَوْبًا مَصْبُوغًا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ عُمَرُ مَا هَذَا الثَّوْبُ الْمَصْبُوغُ يَا طَلْحَةُ فَقَالَ طَلْحَةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّمَا هُوَ مَدَرٌ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الرَّهْطُ أَئِمَّةٌ يَقْتَدِي بِكُمُ النَّاسُ فَلَوْ أَنَّ رَجُلاً جَاهِلاً رَأَى هَذَا الثَّوْبَ لَقَالَ إِنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ كَانَ يَلْبَسُ الثِّيَابَ الْمُصَبَّغَةَ فِي الإِحْرَامِ فَلاَ تَلْبَسُوا أَيُّهَا الرَّهْطُ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الثِّيَابِ الْمُصَبَّغَةِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا اسلم سے جو مولیٰ تھے عمر بن خطاب کے حدیث بیان کرتے تھے عبداللہ بن عمر سے کہ عمر بن خطاب نے دیکھا طلحہ بن عبیداللہ کو رنگین کپڑے پہنے ہوئے احرام میں تو پوچھا حضرت عمر نے کیا یہ کپڑا رنگا ہوا ہے طلحہ، طلحہ نے کہا اے امیر المومنین یہ مٹی کا رنگ ہے حضرت عمر نے کہا تم لوگ پیشوا ہو لوگ تمہاری پیروی کرتے ہیں اگر کوئی جاہل جو اس رنگ سے واقف نہ ہو اس کپڑے کو دیکھے تو یہی کہے گا کہ طلحہ بن عبیداللہ رنگین کپڑے پہنتے تھے احرام میں، تو نہ پہنو تم لوگ ان رنگین کپڑوں میں سے کچھ ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۱۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تَلْبَسُ الثِّيَابَ الْمُعَصْفَرَاتِ الْمُشَبَّعَاتِ وَهِيَ مُحْرِمَةٌ لَيْسَ فِيهَا زَعْفَرَانٌ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ ثَوْبٍ مَسَّهُ طِيبٌ ثُمَّ ذَهَبَ مِنْهُ رِيحُ الطِّيبِ هَلْ يُحْرِمُ فِيهِ فَقَالَ نَعَمْ مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ صِبَاغٌ زَعْفَرَانٌ أَوْ وَرْسٌ ‏.‏
اسما بنت ابوبکر خوب گہرے کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہنتی تھیں احرام میں لیکن زعفران اس میں نہ ہوتی تھیں ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۱۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَكْرَهُ لُبْسَ الْمِنْطَقَةِ لِلْمُحْرِمِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر مکروہ جانتے تھے پیٹی کا باندھنا واسطے محرم کے ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۱۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ فِي الْمِنْطَقَةِ يَلْبَسُهَا الْمُحْرِمُ تَحْتَ ثِيَابِهِ أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا جَعَلَ طَرَفَيْهَا جَمِيعًا سُيُورًا يَعْقِدُ بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ سعد بن مسیب کہتے تھے کہ اگر محرم اپنے کپڑوں کے نیچے پیٹی باندھے تو کچھ قباحت نہیں ہے جب اس کے دونوں کناروں میں تسمے ہوں وہ ایک دوسرے سے باندھ دیئے جاتے ہوں ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۱۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْفُرَافِصَةُ بْنُ عُمَيْرٍ الْحَنَفِيُّ، أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ بِالْعَرْجِ يُغَطِّي وَجْهَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏
فرافصہ بن عمیر حنفی سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا عثمان بن عفان کو عرج (ایک گاؤں کا نام ہے مدینہ سے تین منزل پر) میں ڈھانپتے تھے منہ اپنا احرام میں
۱۵
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۱۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ مَا فَوْقَ الذَّقَنِ مِنَ الرَّأْسِ فَلاَ يُخَمِّرْهُ الْمُحْرِمُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے ٹھوڑی کے اوپر ( والا حصہ) سر میں داخل ہے محرم اس کو نہ چھپائے ۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۲۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَفَّنَ ابْنَهُ وَاقِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَمَاتَ بِالْجُحْفَةِ مُحْرِمًا وَخَمَّرَ رَأْسَهُ وَوَجْهَهُ وَقَالَ لَوْلاَ أَنَّا حُرُمٌ لَطَيَّبْنَاهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا يَعْمَلُ الرَّجُلُ مَا دَامَ حَيًّا فَإِذَا مَاتَ فَقَدِ انْقَضَى الْعَمَلُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کفن دیا اپنے بیٹے واقد بن عبداللہ کو اور وہ مر گئے تھے جحفہ میں احرام کی حالت میں اور کہا کہ اگر ہم احرام نہ باندھے ہوتے تو ہم اس کو خوشبو لگاتے، پھر ڈھانپ دیا سر اور منہ ان کا ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۲۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ لاَ تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلاَ تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو عورت احرام باندھے ہو وہ نقاب نہ ڈالے منہ پر اور دستانے نہ پہنے ۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۲۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، أَنَّهَا قَالَتْ كُنَّا نُخَمِّرُ وُجُوهَنَا وَنَحْنُ مُحْرِمَاتٌ وَنَحْنُ مَعَ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ‏.‏
فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے کہ ہم اپنے منہ ڈھانپتی تھیں احرام میں اور ہم ساتھ ہوتے اسما بنت ابی ابکر صدیق کے سو انہوں نے منع نہ کیا ہم کو۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۲۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں خوشبو لگاتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کو احرام باندھنے سے پہلے اور احرام کھولنے کے وقت طواف زیارت سے پہلے ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۲۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِحُنَيْنٍ وَعَلَى الأَعْرَابِيِّ قَمِيصٌ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ انْزِعْ قَمِيصَكَ وَاغْسِلْ هَذِهِ الصُّفْرَةَ عَنْكَ وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَفْعَلُ فِي حَجِّكَ ‏"‏ ‏.‏
عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حنین میں تھے اور وہ اعرابی ایک کرتہ پہنے ہوئے تھا جس میں زرد رنگ کا نشان تھا تو کہا اس نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے نیت کی ہے عمرہ کی پس میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا کرتہ اتار اور زردی دھو ڈال اپنے بدن سے اور جو حج میں کرتا ہے وہی عمرہ میں کر ۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۲۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ وَهُوَ بِالشَّجَرَةِ فَقَالَ مِمَّنْ رِيحُ هَذَا الطِّيبِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ‏.‏ فَقَالَ مِنْكَ لَعَمْرُ اللَّهِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ طَيَّبَتْنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَتَرْجِعَنَّ فَلْتَغْسِلَنَّهُ ‏.‏
اسلم جو مولیٰ ہیں عمر بن خطاب کے ان سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب کو خوشبو آئی اور وہ شجرہ میں تھے سو کہا کہ یہ خوشبو کس شخص سے آتی ہے معاویہ بن ابی سفیان بولے مجھ سے اے امیر المومنین، حضرت عمر نے کہا ہاں تمہیں قسم ہے خداوند کریم کے بقا کی، معاویہ بولے کہ حبیبہ نے خوشبو لگا دی میرے اے امیر المومنین۔ حضرت عمر نے کہا میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم دھو ڈالو اس کو جا کر ۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۲۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ زُيَيْدٍ، عَنْ غَيْرِ، وَاحِدٍ، مِنْ أَهْلِهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ وَهُوَ بِالشَّجَرَةِ وَإِلَى جَنْبِهِ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ فَقَالَ عُمَرُ مِمَّنْ رِيحُ هَذَا الطِّيبِ فَقَالَ كَثِيرٌ مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَبَّدْتُ رَأْسِي وَأَرَدْتُ أَنْ لاَ أَحْلِقَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ فَاذْهَبْ إِلَى شَرَبَةٍ فَادْلُكْ رَأْسَكَ حَتَّى تُنَقِّيَهُ ‏.‏ فَفَعَلَ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الشَّرَبَةُ حَفِيرٌ تَكُونُ عِنْدَ أَصْلِ النَّخْلَةِ ‏.‏
صلت بن زبید سے روایت ہے کہ انہوں نے کئی اپنے عزیزوں سے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب کو خوشبو آئی اور وہ شجرہ میں تھے اور آپ کے پہلو میں کثیر بن صلت تھے تو کہا عمر نے کس میں سے یہ خوشبو آتی ہے کثیر نے کہا مجھ میں سے میں نے اپنے بال جمائے تھے کیونکہ میرا ارادہ سر منڈانے کا نہ تھا بعد احرام کھولنے کے، حضرت عمر نے کہا شربہ (وہ گڑھا جو کھجور کے درخت کے پاس ہوتا ہے جس میں پانی بھرا رہتا ہے) کے پاس جا اور سر کو مل کر دھو ڈال تب ایسا کیا کثیر بن صلت نے ۔
۲۳
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۲۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ، سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَخَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بَعْدَ أَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ، وَحَلَقَ، رَأْسَهُ وَقَبْلَ أَنْ يُفِيضَ عَنِ الطِّيبِ فَنَهَاهُ سَالِمٌ وَأَرْخَصَ لَهُ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ بَأْسَ أَنْ يَدَّهِنَ الرَّجُلُ بِدُهْنٍ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَقَبْلَ أَنْ يُفِيضَ مِنْ مِنًى بَعْدَ رَمْىِ الْجَمْرَةِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ طَعَامٍ فِيهِ زَعْفَرَانٌ هَلْ يَأْكُلُهُ الْمُحْرِمُ فَقَالَ أَمَّا مَا تَمَسُّهُ النَّارُ مِنْ ذَلِكَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ أَنْ يَأْكُلَهُ الْمُحْرِمُ وَأَمَّا مَا لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ مِنْ ذَلِكَ فَلاَ يَأْكُلُهُ الْمُحْرِمُ ‏.‏
یحیی بن سعید اور عبداللہ بن ابی بکر اور ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ولید بن عبدالملک نے پوچھا سالم بن عبداللہ اور خارجہ بن زید سے کہ بعد کنکریاں مارنے کے اور سر منڈانے کے قبل طواف الافاضہ کے خوشبو لانگا کیسا ہے تو منع کیا سالم نے اور جائز رکھا خارجہ بن زید بن ثابت نے ۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۲۸
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ احرام باندھیں اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے اور اہل شام جحفہ سے اور اہل نجد قرن سے کہا عبداللہ بن عمر نے پہنچا مجھ کو کہ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھیں اہل یمن یلملم سے ۔
۲۵
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۲۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَنْ يُهِلُّوا مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَهْلَ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَأَهْلَ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا هَؤُلاَءِ الثَّلاَثُ فَسَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حکم کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کو ذوالحلیفہ سے احرام باندھنے کا اور اہل شام کو جحفہ سے اور اہل نجد کو قرن سے عبداللہ بن عمر نے کہا ان تینوں کو تو سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور مجھے خبر پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا احرام باندھیں اہل یمن یلملم سے ۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۳۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَهَلَّ مِنَ الْفُرْعِ ‏.‏
۲۷
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۳۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الثِّقَةِ، عِنْدَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَهَلَّ مِنْ إِيلْيَاءَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے احرام باندھا فرع سے ۔ مالک نے ایک معتبر شخص سے سنا کہ عبداللہ بن عمر نے احرام باندھا بیت المقدس سے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا عمرہ کا جعرانہ سے ۔
۲۸
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۳۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ بِعُمْرَةٍ ‏.‏
۲۹
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۳۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ تَلْبِيَةَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لبیک یہ تھی لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنمعة لک والملک لا شریک لک اور عبداللہ بن عمر اس میں زیادہ کرتے لیبک لبیک لبیک وسعدیک والخیر بیدیک لبیک الرغباء الیک والعمل ۔
۳۰
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۳۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَهَلَّ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے ذوالحلیفہ میں مسجد میں دو رکعتیں پھر جب اونٹ پر سوار ہو جاتے لبیک پکار کر کہتے ۔
۳۱
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۳۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ ‏.‏
سالم بن عبداللہ نے سنا اپنے باپ عبداللہ بن عمر سے کہتے تھے کہ یہ میدان ہے جس میں تم جھوٹ باندھتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا وہاں سے حالانکہ نہیں لبیک کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مگر ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس سے ۔
۳۲
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۳۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا ‏.‏ قَالَ وَمَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا الأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمَسُّ إِلاَّ الْيَمَانِيَّيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الإِهْلاَلُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ ‏.‏
عبیداللہ بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر سے پوچھا اے ابوعبدالرحمن میں نے تم کو چار باتیں ایسی کرتے ہوئے دیکھیں جو تمہارے ساتھیوں میں سے کسی کو نہیں کرتے دیکھا، عبداللہ بن عمر نے کہا کون سے باتیں بتاؤ اے ابن جریج، انہوں نے کہا میں نے دیکھا تم کو نہیں چھوتے ہو تم طواف میں مگر رکن یمانی اور حجر اسود کو اور میں نے دیکھا تم کو کہ پہنتے ہو تم جوتیاں ایسے چمڑے کی جس میں بال نہیں رہتے اور میں نے دیکھا خضاب کرتے ہو تم زرد اور میں نے دیکھا تم کو جب تم مکہ میں ہوتے ہو تو لوگ چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لینے ہیں اور تم نہیں باندھتے مگر آٹھویں تاریخ کو، عبداللہ بن عمر نے جواب دیا ارکان کا حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی رکن کو چھوتے نہیں دیکھا سوائے حجر اسود اور رکن یمانی کے اور جوتیوں کا حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے چمڑے کی جوتیاں پہنتے دیکھا جس میں بال نہیں رہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر کے بھی ان کو پہن لیتے تو میں بھی ان کو پہننا پسند کرتا ہوں اور زرد رنگ کا حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد خضاب کئے ہوئے دیکھا تو میں بھی اس کو پسند کرتا ہوں اور احرام کا حال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لبیک نہیں پکارتے تھے یہاں تک کہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدھا کھڑا ہو جاتا چلنے کے واسطے ۔
۳۳
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۳۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ
۳۴
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۳۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، أَهَلَّ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ وَأَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ أَشَارَ عَلَيْهِ بِذَلِكَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نماز پڑھتے ذوالحلیفہ کی مسجد میں پھر نکل کر سوار ہوتے اس وقت احرام باندھتے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبدالملک بن مروان نے لبیک پکارا ذوالحلیفہ کی مسجد سے جب اونٹ ان کا سیدھا ہوا چلنے کو، اور ابان بن عثمان نے یہ حکم کیا تھا ان کو۔
۳۵
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۳۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلاَّدِ بْنِ السَّائِبِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَوْ مَنْ مَعِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ أَوْ بِالإِهْلاَلِ ‏"‏ ‏.‏ يُرِيدُ أَحَدَهُمَا ‏.‏
سائب بن خلاد انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آئے میرے پاس جبرائیل اور کہا کہ حکم کروں میں اپنے اصحاب کو بلند آواز سے لبیک پکارنے کا ۔ کہا مالک نے میں نے سنا اہل علم سے کہتے تھے یہ حکم عورتوں کو نہیں ہے بلکہ عورتیں آہستہ سے لبیک کہیں اس طرح کہ آپ ہی سنیں ۔
۳۶
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۴۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يُحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجة الوداع کے سال تو ہم میں سے بعض لوگوں نے احرام باندھا عمرہ کا اور بعضوں نے حج اور عمرہ دونوں کا اور بعضوں نے صرف حج کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا سو جس نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اس نے عمرہ کر کے احرام کھول ڈالا اور جس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا یا صرف حج کا اس نے احرام نہ کھولا دسویں تاریخ تک۔
۳۷
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۴۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفْرَدَ الْحَجَّ ‏.‏
۳۸
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۴۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حَجْرِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفْرَدَ الْحَجَّ ‏.‏
۳۹
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۴۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ، دَخَلَ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِالسُّقْيَا وَهُوَ يَنْجَعُ بَكَرَاتٍ لَهُ دَقِيقًا وَخَبَطًا فَقَالَ هَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَنْهَى عَنْ أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ‏.‏ فَخَرَجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعَلَى يَدَيْهِ أَثَرُ الدَّقِيقِ وَالْخَبَطِ - فَمَا أَنْسَى أَثَرَ الدَّقِيقِ وَالْخَبَطِ عَلَى ذِرَاعَيْهِ - حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَالَ أَنْتَ تَنْهَى عَنْ أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَقَالَ عُثْمَانُ ذَلِكَ رَأْيِي ‏.‏ فَخَرَجَ عَلِيٌّ مُغْضَبًا وَهُوَ يَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لَمْ يَأْخُذْ مِنْ شَعَرِهِ شَيْئًا وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَتَّى يَنْحَرَ هَدْيًا إِنْ كَانَ مَعَهُ وَيَحِلُّ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ ‏.‏
امام محمد باقر سے روایت ہے کہ مقداد بن الاسود آئے حضرت علی کے پاس اور وہ پلا رہے تھے اپنے اونٹ کے بچوں کو گھلا ہو آٹا اور چارہ پانی میں، تو کہا مقداد نے یہاں عثمان بن عفان منع کرتے ہیں قران سے درمیان حج اور عمرہ کے پس نکلے علی اور ان کے ہاتھوں میں آٹے کے نشان تھے سو میں اب تک اس آٹے کے نشانوں کو جو ان کے ہاتھ پر تھے نہیں بھولا اور گئے حضرت عثماں بن عفان کے پاس اور کہا کیا تم منع کرتے ہو قران سے درمیان حج اور عمرہ کے انہوں نے کہا ہاں میرے رائے یہی ہے تو حضرت علی غصے سے باہر نکلے کہتے تھے لبیک اللہم البیک بحجة وعمرۃ ۔
۴۰
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۴۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ خَرَجَ إِلَى الْحَجِّ فَمِنْ أَصْحَابِهِ مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَمِنْهُمْ مَنْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحْلِلْ وَأَمَّا مَنْ كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلُّوا ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ مَعَهَا فَذَلِكَ لَهُ مَا لَمْ يَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَدْ صَنَعَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ حِينَ قَالَ إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَقَدْ أَهَلَّ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے حجةالوادع کے سال حج کرنے کے لئے تو ان کے بعض اصحاب نے احرام باندھا حج کا اور بعض نے حج اور عمرہ دونوں کا اور بعض نے صرف عمرہ کا سو جس شخص نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ دونوں کا اس نے احرام نہ کھولا اور جس نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا اس نے عمرہ کر کے احرام کھول ڈالا۔
۴۱
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۴۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ - وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ - كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ فَلاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ ‏.‏
محمد بن ابی بکر نے پوچھا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب وہ دونوں صبح کو جا رہے تھے منی سے عرفہ کو، تم کیا کرتے تھے آج کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بولے بعض لوگ ہم میں سے آج کے روز لبیک کہتے تھے پکار کر تو کوئی منع نہ کرتا بعض لوگ تکبیر کہتے تو کوئی منع نہ کرتا ۔
۴۲
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۴۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، كَانَ يُلَبِّي فِي الْحَجِّ حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ الأَمْرُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا ‏.‏
محمد باقر سے روایت ہے کہ حضرت علی لبیک کہتے تھے حج میں مگر جب زوال ہوتا آفتاب کا عرفہ کے روز تو موقوف کرتے لبیک کو ۔
۴۳
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۴۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا كَانَتْ تَتْرُكُ التَّلْبِيَةَ إِذَا رَجَعَتْ إِلَى الْمَوْقِفِ ‏.‏
ام المومنین عائشہ موقوف کرتی تھیں لبیک جب جاتی تھیں عرفات کو ۔
۴۴
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۴۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ فِي الْحَجِّ إِذَا انْتَهَى إِلَى الْحَرَمِ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى يَغْدُوَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ فَإِذَا غَدَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ وَكَانَ يَتْرُكُ التَّلْبِيَةَ فِي الْعُمْرَةِ إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر موقوف کرتے تھے لبیک کہنے کو حج میں حرم میں طواف کرنے بیت اللہ کا اور سعی کرنے تک پھر لبیک کہنے لگتے یہاں تک کہ صبح کو منی سے چلتے عرفہ کو سو جب عرفات کو چلتے لبیک موقوف کرتے اور عمرہ میں موقوف کرتے لبیک کو جب داخل ہوتے حرم میں۔
۴۵
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۴۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لاَ يُلَبِّي وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ‏.‏
ابن شہاب کہتے تھے کہ عبداللہ بن عمر طواف میں لبیک نہ کہتے تھے ۔
۴۶
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۵۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَنْزِلُ مِنْ عَرَفَةَ بِنَمِرَةَ ثُمَّ تَحَوَّلَتْ إِلَى الأَرَاكِ ‏.‏ قَالَتْ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُهِلُّ مَا كَانَتْ فِي مَنْزِلِهَا وَمَنْ كَانَ مَعَهَا فَإِذَا رَكِبَتْ فَتَوَجَّهَتْ إِلَى الْمَوْقِفِ تَرَكَتِ الإِهْلاَلَ ‏.‏ قَالَتْ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَعْتَمِرُ بَعْدَ الْحَجِّ مِنْ مَكَّةَ فِي ذِي الْحِجَّةِ ثُمَّ تَرَكَتْ ذَلِكَ فَكَانَتْ تَخْرُجُ قَبْلَ هِلاَلِ الْمُحَرَّمِ حَتَّى تَأْتِيَ الْجُحْفَةَ فَتُقِيمَ بِهَا حَتَّى تَرَى الْهِلاَلَ فَإِذَا رَأَتِ الْهِلاَلَ أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ جب عرفات میں آتیں تو نمرہ میں اترتیں پھر اراک میں اترنے لگیں اور عائشہ اپنے مکان میں جب تک ہوتیں توبھی، ان کے ساتھی لبیک کہا کرتے جب سوار ہوتیں تو لبیک کہنا موقوف کریں اور عائشہ بعد حج کے عمرہ ادا کرتیں مکہ سے احرام باندھ کر ذلحجہ میں پھر یہ چھوڑ دیا اور محرم کے چاند سے پہلے جحفہ میں آکر ٹھہرتیں جب چاند ہوتا تو عمرہ کا احرام باندھتیں ۔
۴۷
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۵۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، غَدَا يَوْمَ عَرَفَةَ مِنْ مِنًى فَسَمِعَ التَّكْبِيرَ عَالِيًا فَبَعَثَ الْحَرَسَ يَصِيحُونَ فِي النَّاسِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا التَّلْبِيَةُ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز صبح کو چلے نویں تاریخ کو منی سے عرفہ کو تو بلند آواز سے تکبیر سنی، انہوں نے اپنے آدمیوں کو بھیج کر کہلوایا کہ اے لوگو یہ وقت لبیک کہنے کا ہے ۔
۴۸
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۵۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ يَا أَهْلَ مَكَّةَ مَا شَأْنُ النَّاسِ يَأْتُونَ شُعْثًا وَأَنْتُمْ مُدَّهِنُونَ أَهِلُّوا إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ ‏.‏
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے کہا اے مکہ والو لوگ تو بال بکھرے ہوئے پریشان یہاں تک آتے ہیں اور تم تیل لگائے ہوتے ہو جب چاند دیکھو ذی الحجہ کا تو تم بھی احرام باندھ لیا کرو۔
۴۹
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۵۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَقَامَ بِمَكَّةَ تِسْعَ سِنِينَ يُهِلُّ بِالْحَجِّ لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ مَعَهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا يُهِلُّ أَهْلُ مَكَّةَ وَغَيْرُهُمْ بِالْحَجِّ إِذَا كَانُوا بِهَا وَمَنْ كَانَ مُقِيمًا بِمَكَّةَ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهَا مِنْ جَوْفِ مَكَّةَ لاَ يَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ أَهَلَّ مِنْ مَكَّةَ بِالْحَجِّ فَلْيُؤَخِّرِ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَالسَّعْىَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ مِنًى وَكَذَلِكَ صَنَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَمَّنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ غَيْرِهِمْ مِنْ مَكَّةَ لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ كَيْفَ يَصْنَعُ بِالطَّوَافِ قَالَ أَمَّا الطَّوَافُ الْوَاجِبُ فَلْيُؤَخِّرْهُ وَهُوَ الَّذِي يَصِلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّعْىِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيَطُفْ مَا بَدَا لَهُ وَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ كُلَّمَا طَافَ سُبْعًا وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ فَأَخَّرُوا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَالسَّعْىَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى رَجَعُوا مِنْ مِنًى وَفَعَلَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَكَانَ يُهِلُّ لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ بِالْحَجِّ مِنْ مَكَّةَ وَيُؤَخِّرُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَالسَّعْىَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ مِنًى ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَلْ يُهِلُّ مِنْ جَوْفِ مَكَّةَ بِعُمْرَةٍ قَالَ بَلْ يَخْرُجُ إِلَى الْحِلِّ فَيُحْرِمُ مِنْهُ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر نو برس مکے میں رہے جب چاند دیکھتے ذی الحجہ کا تو احرام باندھ لیتے اور عروہ بن زبیر بھی ایسا ہی کرتے۔
۵۰
مؤطا امام مالک # ۲۰/۷۵۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النِّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ الْهَدْىُ وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْىٍ فَاكْتُبِي إِلَىَّ بِأَمْرِكِ أَوْ مُرِي صَاحِبَ الْهَدْىِ ‏.‏ قَالَتْ عَمْرَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا فَتَلْتُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَبِي فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَىْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْىُ ‏.‏
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ زیاد بن ابی سفیان نے لکھا ام المومنین عائشہ کو کہ عبداللہ بن عباس کہتے ہیں جو شخص ہدی روانہ کرے تو اس پر حرام ہو گئیں وہ چیزیں جو حرام ہیں محرم پر یہاں تک کہ ذبح کی جائے ہدی سو میں نے ایک ہدی تمہارے پاس روانہ کی ہے تم مجھے لکھ بھیجو اپنا فتوی یا جو شخص ہدی لے کر آتا ہے اس کے ہاتھ کہلا بھیجو، عمرہ نے کہا عائشہ بولیں ابن عباس جو کہتے ہیں ویسا نہیں ہے میں نے خود اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار بٹے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے لٹکائی اور اس کو روانہ کیا میرے باپ کے ساتھ سو آپ پر کوئی چیز حرام نہ ہوئی ان چیزوں میں سے جن کو حلال کیا تھا اللہ نے ان کے لئے یہاں تک کہ ذبح ہوگئی ہدی۔