جمعہ
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۵/۲۲۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الأُولَى فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص غسل کرے جمعہ کے دن مانند غسل جنابت کے پھر جائے مسجد کو پہلی ساعت میں تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک اونٹ اور جو جائے دوسری ساعت میں تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک بیل یا گائے اور جو جائے تیسری ساعت تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک مینڈھا سینگ دار اور چوتھی ساعت میں جائے تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک مرغ اور جو پانچویں ساعت میں جائے تو صدقہ دیا اس نے ایک انڈا پھر جس وقت امام نکلتا ہے خطبہ کو فرشتے آتے ہیں خطبہ سننے کو ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۵/۲۲۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ كَغُسْلِ الْجَنَابَةِ .
ابوہریرہ کہتے تھے جمعہ کے روز غسل کرنا واجب ہے ہر بالغ پر مثل غسل جنابت کے ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۵/۲۲۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ فَقَالَ عُمَرُ أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْقَلَبْتُ مِنَ السُّوقِ فَسَمِعْتُ النِّدَاءَ فَمَا زِدْتُ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ . فَقَالَ عُمَرُ وَالْوُضُوءَ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ .
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ایک شخص آئے اصحاب میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں جمعہ کے دن اور حضرت عمر خطبہ پڑھ رہے تھے تو بولے حضرت عمر کیا وقت ہے یہ آنے کا جواب دیا اس شخص نے کہ میں لوٹا بازار سے تو سنا میں نے اذان کو پس وضو کیا اور چلا آیا تو کہا حضرت عمر نے یہ دوسرا قصور ہے تم نے صرف وضو کیا حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم کرتے تھے غسل کا ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۵/۲۲۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ " .
ابو سعیدخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غسل جمعہ کا واجب ہے ہر شخص بالغ پر ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۵/۲۲۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص آئے جمعہ کو تو غسل کر کے آئے یا جو شخص نماز جمعہ کا ارادہ کرے تو غسل کر لے ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۵/۲۳۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت امام خطبہ پڑھتا ہے اگر تو اپنے پاس والے سے کہے چپ رہ تو تو نے بھی ایک لغو حرکت کی ۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۵/۲۳۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ، كَانُوا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُصَلُّونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَخْرُجَ عُمَرُ فَإِذَا خَرَجَ عُمَرُ وَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُونَ - قَالَ ثَعْلَبَةُ - جَلَسْنَا نَتَحَدَّثُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُونَ وَقَامَ عُمَرُ يَخْطُبُ أَنْصَتْنَا فَلَمْ يَتَكَلَّمْ مِنَّا أَحَدٌ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَخُرُوجُ الإِمَامِ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ وَكَلاَمُهُ يَقْطَعُ الْكَلاَمَ .
ثعلبہ بن ابی مالک قرظی سے روایت ہے کہ لوگ نماز پڑھا کرتے تھے جمعہ کے دن یہاں تک کہ نکلیں عمر بن خطاب پھر جب نکلتے عمر اور بیٹھے ہوئے باتیں کیا کرتے جب مؤذن چپ ہو رہتے اور عمر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تو کوئی بات نہ کرتا کہا ابن شہاب نے جب امام نکلے خطبے کے لئے تو نماز موقوف کرنا چاہئے اور جب خطبہ شروع کرے تو بات موقوف کرنا چاہئے۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۵/۲۳۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ قَلَّمَا يَدَعُ ذَلِكَ إِذَا خَطَبَ إِذَا قَامَ الإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَاسْتَمِعُوا وَأَنْصِتُوا فَإِنَّ لِلْمُنْصِتِ الَّذِي لاَ يَسْمَعُ مِنَ الْحَظِّ مِثْلَ مَا لِلْمُنْصِتِ السَّامِعِ فَإِذَا قَامَتِ الصَّلاَةُ فَاعْدِلُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بِالْمَنَاكِبِ فَإِنَّ اعْتِدَالَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلاَةِ . ثُمَّ لاَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَهُ رِجَالٌ قَدْ وَكَّلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ فَيُخْبِرُونَهُ أَنْ قَدِ اسْتَوَتْ فَيُكَبِّرُ .
مالک بن ابی عامر سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان جب خطبہ کو کھڑے ہوئے تو اکثر کہا کرتے بہت کم چھوڑ دیتے یہ بات اے لوگو! جب امام کھڑا ہو خطبہ کے لئے تو سنو خطبہ کو اور چپ رہو کیونکہ جو شخص چپ رہے گا اور خطبہ اس کو نہ سنائی دے گا اس کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جو چپ رہے اور خطبہ اس کو سنائی دے اور جب تکبیر ہو نماز کی تو برابر کرو صفوں کو اور برابر کرو مونڈھوں کو کیونکہ صفیں برابر کرنا نماز کا تتمہ ہے پھر تکبیر تحریمہ نہ کہتے تھے عثمان یہاں تک کہ خبر دیتے آکر ان کو وہ لوگ جن کو مقرر کیا تھا صفیں برابر کرنے پر اس بات کی صفیں برابر ہو گئیں اس وقت تکبیر تحریمہ کہتے تھے ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۵/۲۳۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، رَأَى رَجُلَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَحَصَبَهُمَا أَنِ اصْمُتَا .
۱۰
مؤطا امام مالک # ۵/۲۳۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، عَطَسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَشَمَّتَهُ إِنْسَانٌ إِلَى جَنْبِهِ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ لاَ تَعُدْ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے دیکھا دو مردوں کو خطبہ کے وقت باتیں کر رہے ہیں تو کنکر پھینکے ان پر اس لئے کہ چپ رہیں ۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص چھینکا دن جمعہ کے اور امام خطبہ پڑھتا تھا تو جواب دیا اس کو ایک آدمی نے پھر پوچھا سعید بن مسیب سے تو منع کیا انہوں نے اس سے اور کہا کہ پھر ایسا نہ کرنا۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۵/۲۳۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الْكَلاَمِ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا نَزَلَ الإِمَامُ عَنِ الْمِنْبَرِ، قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ، . فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ .
امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا ابن شہاب زہری سے کہا جب امام منبر سے اترے خطبہ پڑھ کر تو قبل تکبیر کے بات کہنا کیسا ہے کہ ابن شہاب نے کچھ قباحت نہیں ہے ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۵/۲۳۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلاَةِ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَهِيَ السُّنَّةُ . قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ أَدْرَكْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلاَةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَةَ " . قَالَ مَالِكٌ فِي الَّذِي يُصِيبُهُ زِحَامٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيَرْكَعُ وَلاَ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَسْجُدَ حَتَّى يَقُومَ الإِمَامُ أَوْ يَفْرُغَ الإِمَامُ مِنْ صَلاَتِهِ إِنَّهُ إِنْ قَدَرَ عَلَى أَنْ يَسْجُدَ إِنْ كَانَ قَدْ رَكَعَ فَلْيَسْجُدْ إِذَا قَامَ النَّاسُ وَإِنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى أَنْ يَسْجُدَ حَتَّى يَفْرُغَ الإِمَامُ مِنْ صَلاَتِهِ فَإِنَّهُ أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يَبْتَدِئَ صَلاَتَهُ ظُهْرًا أَرْبَعًا .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے جو شخص جمعہ کی نماز کی ایک رکعت پائے تو وہ ایک رکعت ادا کرے یہی سنت ہے ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۵/۲۳۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ} فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقْرَؤُهَا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَامْضُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ . قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا السَّعْىُ فِي كِتَابِ اللَّهِ الْعَمَلُ وَالْفِعْلُ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الأَرْضِ} وَقَالَ تَعَالَى {وَأَمَّا مَنْ جَاءَكَ يَسْعَى وَهُوَ يَخْشَى} وَقَالَ {ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَى} وَقَالَ {إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى} قَالَ مَالِكٌ فَلَيْسَ السَّعْىُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ بِالسَّعْىِ عَلَى الأَقْدَامِ وَلاَ الاِشْتِدَادَ وَإِنَّمَا عَنَى الْعَمَلَ وَالْفِعْلَ .
امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ اس آیت کی تفسیر کیا ہے اذانودی للصلوة من یوم الجمعہ فاسعو الی ذکر اللہ تو ابن شہاب نے جواب دیا کہ حضرت عمر بن خطاب اس آیت کو یوں پڑھتے تھے اذانودی للصلوة من یوم الجمعة فامضوا (فاسعوا) 62۔ الجمعہ : 9) الی ذکر اللہ ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۵/۲۳۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ " فِيهِ سَاعَةٌ لاَ يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " . وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا جمعہ کا پھر کہا کہ اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ نہیں پاتا اس کا بندہ مسلمان اور وہ نماز میں کھڑا ہوتا ہے اور مانگتا ہے اللہ سے کچھ مگر دیتا ہے اللہ اس چیز کو اس کو اور اشارہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کہ وہ ساعت تھوڑی ہے ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۵/۲۳۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ فَلَقِيتُ كَعْبَ الأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهُ أَنْ قُلْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ مِنَ الْجَنَّةِ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلاَّ وَهِيَ مُصِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلاَّ الْجِنَّ وَالإِنْسَ وَفِيهِ سَاعَةٌ لاَ يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " . قَالَ كَعْبٌ ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ . فَقُلْتُ بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ . فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ فَقُلْتُ مِنَ الطُّورِ . فَقَالَ لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ مَا خَرَجْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِلَى مَسْجِدِي هَذَا وَإِلَى مَسْجِدِ إِيلْيَاءَ أَوْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ " . يَشُكُّ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبِ الأَحْبَارِ وَمَا حَدَّثْتُهُ بِهِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ قَالَ كَعْبٌ ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ . قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ كَذَبَ كَعْبٌ . فَقُلْتُ ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ صَدَقَ كَعْبٌ . ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي بِهَا وَلاَ تَضِنَّ عَلَىَّ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي " . وَتِلْكَ السَّاعَةُ سَاعَةٌ لاَ يُصَلَّى فِيهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ فَهُوَ فِي صَلاَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ بَلَى . قَالَ فَهُوَ ذَلِكَ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں گیا کوہ طور پر تو ملا میں کعب بن الاحبار سے اور بیٹھا میں ان کے پاس پس بیان کیں کعب الاحبار نے مجھ سے باتیں تورات کی اور میں نے بیان کیں باتیں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو جو باتیں میں نے ان سے کہیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتر سب دنوں میں جن میں سورج نکلا ہے جمعہ کا دن ہے اسی دن پیدا ہوئے آدم اور اسی دن اتارے گئے جنت سے اور اسی دن معاف ہوا گناہ ان کا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی اور کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جو کان نہ لگائے جمعہ کے دن آفتاب نکلنے تک قیامت کے خوف سے مگر جنات اور آدمی غافل رہتے ہیں اور جمعہ میں ایک ساعت ایسی ہے کہ نہیں پاتا اس کا مسلمان بندہ نماز میں اور وہ مانگے اللہ سے کچھ مگر دے اللہ جل جلالہ اس کو کعب الاحبار نے کہا یہ تو ہر سال میں ایک دن ہوتا ہے میں نے کہا نہیں بلکہ ہر جمعہ کو تو کعب نے تورات کو پڑھا پھر کہا سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ابوہریرہ نے پھر ملا میں بصرہ بن ابی بصرہ غفاری سے تو کہا انہوں نے کہاں سے آتے ہو میں نے کہا کہ کوہ طور سے کہا انہوں نے اگر قبل طور جانے کے تم مجھ سے ملتے تو تم نہ جاتے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے نہ تیار کئے جائیں اونٹ مگر تین مسجدوں کے لئے ایک مسجد الحرام دوسری میری مسجد یہ تیسری مسجد ایلیا یا بیت المقدس شک ہے راوی کو کہا ابوہریرہ نے پھر ملا میں عبداللہ بن سلام سے اور بیان کیا میں نے ان سے جو گفتگو کی تھی میں نے کعب الاحبار سے جمعہ کے باب میں اور میں نے یہ کہا کہ کعب الاحبار نے کہا یہ دن ہر سال میں ایک بار ہوتا ہے تو عبداللہ بن سلام نے کہا کہ جھوٹ بولا کعب نے پھر میں نے کہا کہ کعب نے تورات کو پڑھ کر یہ کہا کہ بے شک یہ ساعت ہر جمعہ کو ہوتی ہے تب عبداللہ بن سلام نے کہا کہ سچ کہا کعب نے پھر کہا عبداللہ بن سلام نے میں جانتا ہوں اس ساعت کو وہ کونسی ہے ابوہریرہ نے کہا کہ بتاؤ مجھ کو اور بخل نہ کرو عبداللہ بن سلام نے کہا کہ وہ آخر ساعت ہے جمعہ کی ابوہریرہ نے کہا کیونکہ آخر ساعت ہوگی حالانکہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا نہیں پاتا اس کو مسلمان بندہ نما میں مگر جو مانگتا ہے اللہ سے دیتا ہے اس کو یہ ساعت تو ایسی ہے کہ اس میں نماز نہیں ہو سکتی ہے تو جواب دیا عبداللہ بن سلام نے کیا نہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص بیٹھے نماز کے انتظار میں تو وہ نماز میں ہے یہاں تک کہ نماز پڑھے ابوہریرہ نے کہا ہاں عبداللہ بن سلام نے کہا پس یہی مطلب ہے ۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۵/۲۴۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " مَا عَلَى أَحَدِكُمْ لَوِ اتَّخَذَ ثَوْبَيْنِ لِجُمُعَتِهِ سِوَى ثَوْبَىْ مَهْنَتِهِ " .
یحیی بن سعید انصاری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا نقصان ہے کسی کا تم میں سے اگر بنا رکھے کپڑے جمعہ کی نماز کے واسطے سوائے روز مرہ کے کپڑوں کے ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۵/۲۴۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَرُوحُ إِلَى الْجُمُعَةِ إِلاَّ ادَّهَنَ وَتَطَيَّبَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ حَرَامًا .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نہ جاتے جمعہ کو یہاں تک کہ تیل لگاتے اور خوشبو مگر جب احرام باندھے ہوتے ۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۵/۲۴۲
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لأَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمْ بِظَهْرِ الْحَرَّةِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَقْعُدَ حَتَّى إِذَا قَامَ الإِمَامُ يَخْطُبُ جَاءَ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ . قَالَ مَالِكٌ السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنْ يَسْتَقْبِلَ النَّاسُ الإِمَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْطُبَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ يَلِي الْقِبْلَةَ وَغَيْرَهَا .
ابوہریرہ نے کہا کہ اگر کوئی تم میں سے نماز پڑھے ظہر جرہ میں بہتر ہے اس سے کہ بیٹھا رہے اپنے گھر میں پھر جب امام خطبہ پڑھنے کو کھڑا ہو آئے پھاندتا ہوا گردنوں کو لوگوں کی دن جمعہ کے ۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۵/۲۴۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ، سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ مَاذَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى إِثْرِ سُورَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ كَانَ يَقْرَأُ {هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ}
ضحاک بن قیس نے پوچھا نعمان بن بشیر سے کہ کون سی سورت پڑھتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز بعد سورت جمعہ کے کہا کہ پڑھتے تھے ھل اتک حدیث الغاشیہ
۲۰
مؤطا امام مالک # ۵/۲۴۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، - قَالَ مَالِكٌ لاَ أَدْرِي أَعَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَمْ لاَ - أَنَّهُ قَالَ " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ وَلاَ عِلَّةٍ طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ " .
صفوان بن سلیم سے روایت ہے لیکن مالک کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا یا نہیں۔ کہا جو شخص چھوڑ دے گا جمعہ کو تین مرتبہ بغیر عذر اور بیماری کے مہر کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کے دل پر ۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۵/۲۴۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ خُطْبَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَجَلَسَ بَيْنَهُمَا .
امام محمد باقر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خطبے پڑھے جمعہ کو اور بیٹھے درمیان میں ان کے ۔