نکاح
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۰۹۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ پیغام بھیجے نکاح کا کوئی تم میں سے اپنے بھائی مسلمان کے پیغام پر ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۰۹۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ پیغام بھیجے نکاح کا کوئی تم میں سے اپنے بھائی مسلمان کے پیغام پر ۔ کہا مالک نے اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص کی نسبت کسی عور رت سے ٹھہر جائے اور عورت کا دل کسی مرد کی طرف مائل ہو جائے اور مہر ٹھہر جائے اب پھر اس عورت کو دوسرا شخص پیام نہ دے اور غرض نہیں کہ کسی شخص نے ایک عورت کو پیام دیا ہو اور اس کا پیام ٹھہرا نہ ہو تو دوسرے کو پیام درست نہیں ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۰۹۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَكِنْ لاَ تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلاَّ أَنْ تَقُولُوا قَوْلاً مَعْرُوفًا} أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلْمَرْأَةِ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا إِنَّكِ عَلَىَّ لَكَرِيمَةٌ وَإِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ وَإِنَّ اللَّهَ لَسَائِقٌ إِلَيْكِ خَيْرًا وَرِزْقًا وَنَحْوَ هَذَا مِنَ الْقَوْلِ .
قاسم بن محمد کہتے تھے اس آیت کی تفسیر میں (وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِ يْمَا عَرَّضْتُمْ بِه مِنْ خِطْبَةِ النِّسَا ءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِيْ اَنْفُسِكُمْ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَلٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْھُنَّ سِرًّا اِلَّا اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ڛ وَلَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰي يَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَه وَاعْلَمُوْ ا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِىْ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ وَاعْلَمُوْ ا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ ) 2۔ البقرۃ : 235) یعنی گناہ نہیں ہے تم پر تعریض کرنا کسی عورت سے جب وہ عدت میں ہو۔ تعریض اس کو کہتے ہیں کہ مرد عورت سے کہلا بھیجے تو مجھے پسند ہے یا میں تجھ سے رغبت کرتا ہوں یا اللہ تجھ کو بہتری اور روزی پہنچانے والا ہے یا ایسی کوئی بات کہے ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۰۹۴
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " .
۰۵
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۰۹۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ إِلاَّ بِإِذْنِ وَلِيِّهَا أَوْ ذِي الرَّأْىِ مِنْ أَهْلِهَا أَوِ السُّلْطَانِ .
۰۶
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۰۹۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، كَانَا يُنْكِحَانِ بَنَاتِهِمَا الأَبْكَارَ وَلاَ يَسْتَأْمِرَانِهِنَّ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي نِكَاحِ الأَبْكَارِ . قَالَ مَالِكٌ وَلَيْسَ لِلْبِكْرِ جَوَازٌ فِي مَالِهَا حَتَّى تَدْخُلَ بَيْتَهَا وَيُعْرَفَ مِنْ حَالِهَا .
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثیبہ زیادہ حقدار ہے اپنے نفس پر ولی سے اور باکرہ سے اذن لیا جائے گا اور اذن اس کا سکوت ہے ۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا عورت کا نکاح نہ کیا جائے مگر اس کے ولی کے اذن سے یا اس کے کنبے میں یا جو شخص عقلمند ہو اس کے اذن سے یا بادشاہ کے اذن سے ۔ قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اپنی بیٹیوں کا نکاح کرتے تھے اور ان سے نہیں پوچھتے تھے ۔ قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اور سلیمان بن یسار کہتے تھے اگر باکرہ عورت کا نکاح اس کے اذن کے بغیر کر دے تو نکاح اس کا لازم ہو جاتا ہے ۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۰۹۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، كَانُوا يَقُولُونَ فِي الْبِكْرِ يُزَوِّجُهَا أَبُوهَا بِغَيْرِ إِذْنِهَا إِنَّ ذَلِكَ لاَزِمٌ لَهَا .
۰۸
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۰۹۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلاً فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ " . فَقَالَ مَا عِنْدِي إِلاَّ إِزَارِي هَذَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لاَ إِزَارَ لَكَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا " . فَقَالَ مَا أَجِدُ شَيْئًا . قَالَ " الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " . فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَىْءٌ " . فَقَالَ نَعَمْ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا . لِسُوَرٍ سَمَّاهَا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ ایک عورت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس نے کہا کہ تحقیق میں نے اپنی جان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے بخشی اور کھڑی رہی دیر تک پھر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے میرا نکاح کر دو اگر اس سے نکاح کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ حاجت نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے پاس کوئی چیز ہے کہ مہر میں دے اس کو وہ شخص بولا سوائے اس تہبند کے میرے پاس کچھ نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو اپنا تہبند اس کو دے دے گا تو بغیر تہنبد کے بیٹھے گا کوئی چیز ڈھونڈ لے اس نے کہا مجھے کچھ نہیں ملتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ڈھونڈو اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہو اس نے ڈھونڈا مگر کچھ نہ ملا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تجھے قرآن یاد ہے بولا ہاں فلانی فلانی سورت یاد ہے کئی سورتوں کا نام لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اس قرآن کے عوض میں اس عورت کا نکاح تیرے ساتھ کر دیا جو تجھ کو یاد ہے ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۰۹۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَبِهَا جُنُونٌ أَوْ جُذَامٌ أَوْ بَرَصٌ فَمَسَّهَا فَلَهَا صَدَاقُهَا كَامِلاً وَذَلِكَ لِزَوْجِهَا غُرْمٌ عَلَى وَلِيِّهَا . قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ غُرْمًا عَلَى وَلِيِّهَا لِزَوْجِهَا إِذَا كَانَ وَلِيُّهَا الَّذِي أَنْكَحَهَا هُوَ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ مَنْ يُرَى أَنَّهُ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهَا فَأَمَّا إِذَا كَانَ وَلِيُّهَا الَّذِي أَنْكَحَهَا ابْنَ عَمٍّ أَوْ مَوْلًى أَوْ مِنَ الْعَشِيرَةِ مِمَّنْ يُرَى أَنَّهُ لاَ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهَا فَلَيْسَ عَلَيْهِ غُرْمٌ وَتَرُدُّ تِلْكَ الْمَرْأَةُ مَا أَخَذَتْهُ مِنْ صَدَاقِهَا وَيَتْرُكُ لَهَا قَدْرَ مَا تُسْتَحَلُّ بِهِ .
سعید بن مسیب نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا کہ جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کو جنوں یا جذام یا برص ہو اور خاوند نہ جان کر اس سے جماع کرے اس عورت کو خاوند پورا مہرے دے اور اس کے ولی سے پھیر لے ۔ کہا مالک نے ولی کو مہر اس صورت میں واپس دینا ہوگا جب وہ عورت کا باپ یا بھائی یا ایسا قریب ہو کہ عورت کا حال جانتا ہو اور جو ولی محرم نہ ہو جیسے چچا کا بیٹا یا مولیٰ یا اور کوئی کنبے والا ہو جس کو عورت کا حال معلوم نہ ہو تو اس پر مہر پھیرنا لازم نہ ہوگا بلکہ اس عورت سے مہر پھیر لیا جائے گا صرف اس قدر چھوڑ دیا جائے گا جس سے اس کی فرج حلال ہو ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۰۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَةَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، - وَأُمُّهَا بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ - كَانَتْ تَحْتَ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَمَاتَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا فَابْتَغَتْ أُمُّهَا صَدَاقَهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَيْسَ لَهَا صَدَاقٌ وَلَوْ كَانَ لَهَا صَدَاقٌ لَمْ نُمْسِكْهُ وَلَمْ نَظْلِمْهَا . فَأَبَتْ أُمُّهَا أَنْ تَقْبَلَ ذَلِكَ فَجَعَلُوا بَيْنَهُمْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَضَى أَنْ لاَ صَدَاقَ لَهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ .
۱۱
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۰۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَتَبَ فِي خِلاَفَتِهِ إِلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ أَنَّ كُلَّ مَا اشْتَرَطَ الْمُنْكِحُ - مَنْ كَانَ أَبًا أَوْ غَيْرَهُ - مِنْ حِبَاءٍ أَوْ كَرَامَةٍ فَهُوَ لِلْمَرْأَةِ إِنِ ابْتَغَتْهُ . قَالَ مَالِكٌ فِي الْمَرْأَةِ يُنْكِحُهَا أَبُوهَا وَيَشْتَرِطُ فِي صَدَاقِهَا الْحِبَاءَ يُحْبَى بِهِ إِنَّ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ يَقَعُ بِهِ النِّكَاحُ فَهُوَ لاِبْنَتِهِ إِنِ ابْتَغَتْهُ وَإِنْ فَارَقَهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَلِزَوْجِهَا شَطْرُ الْحِبَاءِ الَّذِي وَقَعَ بِهِ النِّكَاحُ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يُزَوِّجُ ابْنَهُ صَغِيرًا لاَ مَالَ لَهُ إِنَّ الصَّدَاقَ عَلَى أَبِيهِ إِذَا كَانَ الْغُلاَمُ يَوْمَ تَزَوَّجَ لاَ مَالَ لَهُ وَإِنْ كَانَ لِلْغُلاَمِ مَالٌ فَالصَّدَاقُ فِي مَالِ الْغُلاَمِ إِلاَّ أَنْ يُسَمِّيَ الأَبُ أَنَّ الصَّدَاقَ عَلَيْهِ وَذَلِكَ النِّكَاحُ ثَابِتٌ عَلَى الاِبْنِ إِذَا كَانَ صَغِيرًا وَكَانَ فِي وِلاَيَةِ أَبِيهِ . قَالَ مَالِكٌ فِي طَلاَقِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا وَهِيَ بِكْرٌ فَيَعْفُوَ أَبُوهَا عَنْ نِصْفِ الصَّدَاقِ إِنَّ ذَلِكَ جَائِزٌ لِزَوْجِهَا مِنْ أَبِيهَا فِيمَا وَضَعَ عَنْهُ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ {إِلاَّ أَنْ يَعْفُونَ} فَهُنَّ النِّسَاءُ اللاَّتِي قَدْ دُخِلَ بِهِنَّ {أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ} فَهُوَ الأَبُ فِي ابْنَتِهِ الْبِكْرِ وَالسَّيِّدُ فِي أَمَتِهِ . قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا الَّذِي سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ وَالَّذِي عَلَيْهِ الأَمْرُ عِنْدَنَا . قَالَ مَالِكٌ فِي الْيَهُودِيَّةِ أَوِ النَّصْرَانِيَّةِ تَحْتَ الْيَهُودِيِّ أَوِ النَّصْرَانِيِّ فَتُسْلِمُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَنَّهُ لاَ صَدَاقَ لَهَا . قَالَ مَالِكٌ لاَ أَرَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ بِأَقَلَّ مِنْ رُبْعِ دِينَارٍ وَذَلِكَ أَدْنَى مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ .
نافع سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن عمر کی بیٹی جن کی ماں زید بن خطاب کی بیٹی تھیں عبداللہ بن عمر کے بیٹے کے نکاح میں آئی وہ مر گئے مگر انہوں نے اس سے صحبت نہیں کی نہ ان کا مہر مقرر ہوا تھا تو ان کی ماں نے مہر مانگا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ مہر کا ان کو استحقاق نہیں اگر ہوتا تو ہم رکھ نہ لیتے نہ ظلم کرتے ان کی ماں نے نہ مانا زید بن ثابت کے کہنے پر رکھا زید نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کو مہر نہیں ملے گا البتہ ترکہ ملے گا ۔ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عامل کو لکھا کہ نکاح کر دینے والا باپ ہو یا کوئی اور اگر خاوند سے کچھ تحفہ یا ہدیہ لینے کی شرط کرے تو وہ عورت کو ملے گا اگر طلب کرے ۔ کہا مالک نے جس عورت کا نکاح باپ کر دے اور اس کے مہر میں کچھ حبا کی شرط کرے اگر وہ شرط ایسی ہو جس کے عوض میں نکاح ہوا ہے تو وہ حبا اس کی بیٹی کو ملے گا اگر چاہے ۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی نا بالغ لڑکی کا نکاح کرے اور اس لڑکے کا کوئی ذاتی مال نہ ہو تو مہراس کے باپ پر واجب ہوگا اور اگر اس لڑکے کا ذاتی مال ہو تو اس کے مال میں سے دلایا جائے گا مگر جس صورت میں باپ مہر کو اپنے ذمے کر لے اور یہ نکاح لڑکی پر لازم ہوگا جب وہ نابالغ ہو اور اپنے باپ کی ولایت میں ہو ۔ کہا مالک نے میرے نزدیک ربع دینار سے کم مہر نہیں ہو سکتا اور نہ ربع دینار کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۰۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَضَى فِي الْمَرْأَةِ إِذَا تَزَوَّجَهَا الرَّجُلُ أَنَّهُ إِذَا أُرْخِيَتِ السُّتُورُ فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے حکم کیا کہ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور خلوت صحیحہ ہو جائے تو مہر واجب ہو گیا ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۰۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، كَانَ يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بِامْرَأَتِهِ فَأُرْخِيَتْ عَلَيْهِمَا السُّتُورُ فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ .
۱۴
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۰۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، كَانَ يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بِالْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا صُدِّقَ الرَّجُلُ عَلَيْهَا وَإِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ فِي بَيْتِهِ صُدِّقَتْ عَلَيْهِ . قَالَ مَالِكٌ أَرَى ذَلِكَ فِي الْمَسِيسِ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا فِي بَيْتِهَا فَقَالَتْ قَدْ مَسَّنِي وَقَالَ لَمْ أَمَسَّهَا صُدِّقَ عَلَيْهَا فَإِنْ دَخَلَتْ عَلَيْهِ فِي بَيْتِهِ فَقَالَ لَمْ أَمَسَّهَا وَقَالَتْ قَدْ مَسَّنِي صُدِّقَتْ عَلَيْهِ .
سعید بن مسیب کہتے تھے کہ جب مرد عورت کے گھر میں جائے تو مرد کی تصدیق ہوگی اور جو عورت مرد کے گھر میں جائے تو عورت کی تصدیق ہوگی ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۰۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ لَهَا " لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ " . فَقَالَتْ ثَلِّثْ .
۱۶
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۰۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لِلْبِكْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلاَثٌ .
انس بن مالک کہتے تھے کہ باکرہ عورت کے سات دن ہیں اور ثیبہ کے تین دن ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۰۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ، تَشْتَرِطُ عَلَى زَوْجِهَا أَنَّهُ لاَ يَخْرُجُ بِهَا مِنْ بَلَدِهَا فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ يَخْرُجُ بِهَا إِنْ شَاءَ . قَالَ مَالِكٌ فَالأَمْرُ عِنْدَنَا ذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا شَرَطَ الرَّجُلُ لِلْمَرْأَةِ وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ عِنْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ أَنْ لاَ أَنْكِحَ عَلَيْكِ وَلاَ أَتَسَرَّرَ إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِشَىْءٍ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ فِي ذَلِكَ يَمِينٌ بِطَلاَقٍ أَوْ عِتَاقَةٍ فَيَجِبُ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَيَلْزَمُهُ .
سعید بن مسیب سے سوال ہوا کہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے شرط کرے کہ میرے شہر سے مجھ کو نہ نکالنا سعید بن مسیب نے جواب دیا کہ اس کے باوجود نکال سکتا ہے ۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۰۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزَّبِيرِ، أَنَّ رِفَاعَةَ بْنَ سِمْوَالٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَمِيمَةَ بِنْتَ وَهْبٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثًا فَنَكَحَتْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ فَاعْتَرَضَ عَنْهَا فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا فَفَارَقَهَا فَأَرَادَ رِفَاعَةُ أَنْ يَنْكِحَهَا - وَهُوَ زَوْجُهَا الأَوَّلُ الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا - فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَهَاهُ عَنْ تَزْوِيجِهَا وَقَالَ " لاَ تَحِلُّ لَكَ حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ " .
زبیر بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رفاعہ بن سموال قرظی نے اپنی بی بی تمیمہ بنت وہب کو رسول اللہ کے زمانے میں تین طلاقیں دیں تو انہوں نے نکاح کیا عبدالرحمن بن زبیر سے مگر عبدالرحمن اس پر قادر نہ ہوئے اور جماع نہ کر سکے اس واسطے عبدالرحمن نے اس کو چھوڑ دیا تب رفاعہ جو شوہر اول تھے انہوں نے پھر نکاح کرنا چاہا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا اور رفاعہ سے فرمایا کہ وہ عورت تجھ کو حلال نہیں جب تک دوسرے شخص سے جماع نہ کرائے ۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۰۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ رَجُلٌ آخَرُ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا هَلْ يَصْلُحُ لِزَوْجِهَا الأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا .
حضرت عائشہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص اپنی عورت کو جماع کرنے سے پہلے تین طلاقیں دیدے اب پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے جواب دیا کہ نہیں کر سکتا جب تک دوسرا شوہر اس سے جماع نہ کرے ۔ قاسم بن محمد سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دیں پھر اس سے دوسرے شخص نے نکاح کیا اور وہ جماع کرنے سے پہلے مر گیا کیا پہلے شوہر کو اس سے نکاح کر لینا درست ہے جواب دیا نہیں ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۱۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ رَجُلٌ آخَرُ فَمَاتَ عَنْهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا هَلْ يَحِلُّ لِزَوْجِهَا الأَوَّلِ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ لاَ يَحِلُّ لِزَوْجِهَا الأَوَّلِ أَنْ يُرَاجِعَهَا . قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُحَلِّلِ إِنَّهُ لاَ يُقِيمُ عَلَى نِكَاحِهِ ذَلِكَ حَتَّى يَسْتَقْبِلَ نِكَاحًا جَدِيدًا فَإِنْ أَصَابَهَا فِي ذَلِكَ فَلَهَا مَهْرُهَا .
۲۱
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۱۱
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَلاَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھوپھی اور بھتیجی اور خالہ اور بھانجی کو جمع نہ کرے ۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۱۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ يُنْهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا وَأَنْ يَطَأَ الرَّجُلُ وَلِيدَةً وَفِي بَطْنِهَا جَنِينٌ لِغَيْرِهِ .
سعید بن مسیب کہتے تھے بھتیجی سے پھوپھی کے اوپر اور بھانجی سے خالہ کے اوپر نکاح کرنا منع ہے اور جماع کرنا اس لونڈی سے جو حاملہ ہو کسی اور شخص سے منع ہے ۔
۲۳
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۱۳
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ رَجُلٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً ثُمَّ فَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا هَلْ تَحِلُّ لَهُ أُمُّهَا فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ لاَ الأُمُّ مُبْهَمَةٌ لَيْسَ فِيهَا شَرْطٌ وَإِنَّمَا الشَّرْطُ فِي الرَّبَائِبِ .
۲۴
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۱۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ غَيْرِ، وَاحِدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، اسْتُفْتِيَ وَهُوَ بِالْكُوفَةِ عَنْ نِكَاحِ الأُمِّ، بَعْدَ الاِبْنَةِ إِذَا لَمْ تَكُنْ الاِبْنَةُ مُسَّتْ فَأَرْخَصَ فِي ذَلِكَ ثُمَّ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ كَمَا قَالَ وَإِنَّمَا الشَّرْطُ فِي الرَّبَائِبِ فَرَجَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِلَى الْكُوفَةِ فَلَمْ يَصِلْ إِلَى مَنْزِلِهِ حَتَّى أَتَى الرَّجُلَ الَّذِي أَفْتَاهُ بِذَلِكَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُفَارِقَ امْرَأَتَهُ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ تَكُونُ تَحْتَهُ الْمَرْأَةُ ثُمَّ يَنْكِحُ أُمَّهَا فَيُصِيبُهَا إِنَّهَا تَحْرُمُ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ وَيُفَارِقُهُمَا جَمِيعًا وَيَحْرُمَانِ عَلَيْهِ أَبَدًا إِذَا كَانَ قَدْ أَصَابَ الأُمَّ فَإِنْ لَمْ يُصِبِ الأُمَّ لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ وَفَارَقَ الأُمَّ . وَقَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ ثُمَّ يَنْكِحُ أُمَّهَا فَيُصِيبُهَا إِنَّهُ لاَ تَحِلُّ لَهُ أُمُّهَا أَبَدًا وَلاَ تَحِلُّ لأَبِيهِ وَلاَ لاِبْنِهِ وَلاَ تَحِلُّ لَهُ ابْنَتُهَا وَتَحْرُمُ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ . قَالَ مَالِكٌ فَأَمَّا الزِّنَا فَإِنَّهُ لاَ يُحَرِّمُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ لأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ {وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ} فَإِنَّمَا حَرَّمَ مَا كَانَ تَزْوِيجًا وَلَمْ يَذْكُرْ تَحْرِيمَ الزِّنَا فَكُلُّ تَزْوِيجٍ كَانَ عَلَى وَجْهِ الْحَلاَلِ يُصِيبُ صَاحِبُهُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ التَّزْوِيجِ الْحَلاَلِ فَهَذَا الَّذِي سَمِعْتُ وَالَّذِي عَلَيْهِ أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا .
۲۵
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۱۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الشِّغَارِ وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع کیا ہے۔ شغار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کا نکاح ایک شخص سے کر دے اس شرط پر کہ دوسرا شخص اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کر دے سوائے اس کے کچھ مہر نہ ہو ( ہر ایک کی بیٹی دوسرے کی بیٹی کے لئے مہر ہوگی) ۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۱۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ، ابْنَىْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِدَامٍ الأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ أَبَاهَا، زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ نِكَاحَهُ .
خنساء بنت خدام کا اس کے باپ نے نکاح کر دیا اور وہ ثیبہ تھیں اور اس نکاح سے ناراض تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح فسخ کر دیا ۔
۲۷
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۱۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أُتِيَ بِنِكَاحٍ لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ إِلاَّ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ فَقَالَ هَذَا نِكَاحُ السِّرِّ وَلاَ أُجِيزُهُ وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهِ لَرَجَمْتُ .
ابو زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عمر خطاب کے سامنے ایک نکاح کا ذکر آیا جس کا کوئی گواہ نہ تھا سوائے ایک مرد اور ایک عورت کے آپ نے فرمایا یہ چوری چھپے کا نکاح میں جائز نہیں رکھتا اگر میں پہلے اس کو بیان کر چکا ہوتا تو اب میں رجم کرتا
۲۸
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۱۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ طُلَيْحَةَ الأَسَدِيَّةَ، كَانَتْ تَحْتَ رُشَيْدٍ الثَّقَفِيِّ فَطَلَّقَهَا فَنَكَحَتْ فِي عِدَّتِهَا فَضَرَبَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَضَرَبَ زَوْجَهَا بِالْمِخْفَقَةِ ضَرَبَاتٍ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ فِي عِدَّتِهَا فَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا الَّذِي تَزَوَّجَهَا لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنْ زَوْجِهَا الأَوَّلِ ثُمَّ كَانَ الآخَرُ خَاطِبًا مِنَ الْخُطَّابِ وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنَ الأَوَّلِ ثُمَّ اعْتَدَّتْ مِنَ الآخَرِ ثُمَّ لاَ يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا . قَالَ
سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ طلحہ الاسدیہ رشید ثقفی کے نکاح میں تھیں انہوں نے طلاق دی تو طلحہ الاسدیہ نے عدت کے اندر دوسرے شخص سے نکاح کر لیا حضرت عمر نے دونوں کو کوڑے مارے اور نکاح چھڑوا دیا پھر فرمایا کہ عورت عدت میں نکاح کرے کسی اور شخص سے تو اگر جماع نہ کیا ہو تو نکاح چھوڑ کر پہلے خاوند کی جس قدر عدت باقی ہو پوری کرے اب جس سے جی چاہے نکاح کرے دوسرے خاوند سے زندگی بھر نکاح نہیں ہو سکتا سعید بن مسیب نے کہا کہ وہ عورت دوسرے خاوند سے اپنا مہر لے سکتی ہے ۔
۲۹
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۱۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرُ، سُئِلاَ عَنْ رَجُلٍ، كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ فَأَرَادَ أَنْ يَنْكِحَ عَلَيْهَا أَمَةً فَكَرِهَا أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَهُمَا .
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا کہ ایک شخص کے نکاح میں آزاد عورت موجود ہو پھر وہ لونڈی سے نکاح کرنا چاہے جواب دیا ان دونوں کو جمع کرنا مکروہ ہے ۔
۳۰
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۲۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لاَ تُنْكَحُ الأَمَةُ عَلَى الْحُرَّةِ إِلاَّ أَنْ تَشَاءَ الْحُرَّةُ فَإِنْ طَاعَتِ الْحُرَّةُ فَلَهَا الثُّلُثَانِ مِنَ الْقَسْمِ . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ يَنْبَغِي لِحُرٍّ أَنْ يَتَزَوَّجَ أَمَةً وَهُوَ يَجِدُ طَوْلاً لِحُرَّةٍ وَلاَ يَتَزَوَّجَ أَمَةً إِذَا لَمْ يَجِدْ طَوْلاً لِحُرَّةٍ إِلاَّ أَنْ يَخْشَى الْعَنَتَ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ {وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلاً أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ} وَقَالَ {ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ} قَالَ مَالِكٌ وَالْعَنَتُ هُوَ الزِّنَا .
سعید بن مسیب کہتے تھے کہ آزاد عورت کے ہوتے ہوئے لونڈی سے نکاح نہ کیا جائے گا مگر جب آزاد عورت راضی ہو جائے دو دن خاوند اس کے پاس رہے گا اور ایک دن لونڈی کے پاس ۔ کہا مالک نے آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت ہو تو لونڈی سے نکاح نہ کرے اور اگر آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو تو بھی لونڈی سے نکاح نہ کرے مگر اس حال میں کہ زنا کا خوف ہو کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا کہ جو شخص تم میں سے قدرت نہ رکھے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی تو مسلمان لونڈیوں سے نکاح کر لے اور یہ اس شخص کے واسطے ہے جو تم میں سے زنا کا خوف کرے ۔
۳۱
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۲۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ الأَمَةَ ثَلاَثًا ثُمَّ يَشْتَرِيهَا إِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ .
۳۲
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۲۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، سُئِلاَ عَنْ رَجُلٍ، زَوَّجَ عَبْدًا لَهُ جَارِيَةً فَطَلَّقَهَا الْعَبْدُ الْبَتَّةَ ثُمَّ وَهَبَهَا سَيِّدُهَا لَهُ هَلْ تَحِلُّ لَهُ بِمِلْكِ الْيَمِينِ فَقَالاَ لاَ تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ .
زید بن ثابت کہتے تھے جو شخص لونڈی کو تین طلاقیں دے کر خرید لے تو صحبت کرنا درست نہیں جب تک دوسرا نکاح نہ کرلے ۔ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے اپنے غلام کا اپنی لونڈی سے نکاح کر دیا غلام نے لونڈی کو دو طلاقیں دیں اس کے بعد مولیٰ نے وہ لونڈی غلام کو ہبہ کر دی اب وہ لونڈی غلام کو درست ہے یا نہیں ان دونوں نے جواب دیا درست نہیں یہاں تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے ۔
۳۳
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۲۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ رَجُلٍ، كَانَتْ تَحْتَهُ أَمَةٌ مَمْلُوكَةٌ فَاشْتَرَاهَا وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً فَقَالَ تَحِلُّ لَهُ بِمِلْكِ يَمِينِهِ مَا لَمْ يَبُتَّ طَلاَقَهَا فَإِنْ بَتَّ طَلاَقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ بِمِلْكِ يَمِينِهِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَنْكِحُ الأَمَةَ فَتَلِدُ مِنْهُ ثُمَّ يَبْتَاعُهَا إِنَّهَا لاَ تَكُونُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ بِذَلِكَ الْوَلَدِ الَّذِي وَلَدَتْ مِنْهُ وَهِيَ لِغَيْرِهِ حَتَّى تَلِدَ مِنْهُ وَهِيَ فِي مِلْكِهِ بَعْدَ ابْتِيَاعِهِ إِيَّاهَا . قَالَ مَالِكٌ وَإِنِ اشْتَرَاهَا وَهِيَ حَامِلٌ مِنْهُ ثُمَّ وَضَعَتْ عِنْدَهُ كَانَتْ أُمَّ وَلَدِهِ بِذَلِكَ الْحَمْلِ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
مسنگ کہا مالک نے ایک شخص نکاح کرے ایک لونڈی سے پھر اس سے بچہ پیدا ہو اس کے بعد لونڈی کو خرید کرلے تو وہ لونڈی پہلے بچے کی وجہ سے اس کی ام ولد نہ ہوگی البتہ اگر خریدنے کے بعد دوسرا بچہ مالک سے پیدا ہوا تو ام ولد ہو جائے گی اور جس نے اس لونڈی کو خریدا حمل کی حالت میں وہ حمل خریدنے والے کا تھا اس کے پاس آ کر جنے تو ام ولد ہو جائے گی۔
۳۴
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۲۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ، وَابْنَتِهَا، مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ تُوطَأُ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الأُخْرَى فَقَالَ عُمَرُ مَا أُحِبُّ أَنْ أَخْبُرَهُمَا جَمِيعًا . وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ .
حضرت عمر بن خطاب سے سوال ہوا کہ ماں بیٹی دونوں سے جماع کرنا آگے پیچھے ملک یمین کی وجہ سے درست ہے بولے میرے نزدیک اچھا نہیں اور اس کو منع کیا ۔
۳۵
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۲۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَنِ الأُخْتَيْنِ، مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ هَلْ يُجْمَعُ بَيْنَهُمَا فَقَالَ عُثْمَانُ أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ فَأَمَّا أَنَا فَلاَ أُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ ذَلِكَ . قَالَ فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَوْ كَانَ لِي مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ ثُمَّ وَجَدْتُ أَحَدًا فَعَلَ ذَلِكَ لَجَعَلْتُهُ نَكَالاً . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أُرَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ .
قبیصہ بن ذویب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عثمان بن عفان سے پوچھا کہ دو بہنوں کو ملک یمین سے رکھنا درست ہے یا نہیں حضرت عثماں نے فرمایا کہ ایک آیت کی رو سے درست ہے اور دوسری آیت کی رو سے درست نہیں ہے مگر میں اس کو پسند نہیں کرتا پھر وہ شخص چلا گیا اور ایک اور صحابی سے ملا ان سے بھی یہی مسئلہ پوچھا انہوں نے کہا اگر میں حاکم ہوتا اور کسی کو ایسا کرتے دیکھتا تو سخت سزا دیتا ابن شہاب نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ صحابی حضرت علی تھے ۔ زبیر بن عوام سے بھی ایسی ہی روایت ہے ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص کے پاس ایک لونڈی ہو اور وہ اس سے جماع کرے پھر اس کی بہن سے جماع کرنا چاہے تو یہ درست نہیں ہے جب تک پہلی بہن کی فرج اپنے اوپر حرام نہ کرے مثلا اس کا نکاح کر دے یا اپنے غلام سے بیاہ کر دے۔
۳۶
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۲۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، مِثْلُ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ فِي الأَمَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَيُصِيبُهَا ثُمَّ يُرِيدُ أَنْ يُصِيبَ أُخْتَهَا إِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لَهُ حَتَّى يُحَرِّمَ عَلَيْهِ فَرْجَ أُخْتِهَا بِنِكَاحٍ أَوْ عِتَاقَةٍ أَوْ كِتَابَةٍ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ يُزَوِّجُهَا عَبْدَهُ أَوْ غَيْرَ عَبْدِهِ .
۳۷
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۲۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَهَبَ لاِبْنِهِ جَارِيَةً فَقَالَ لاَ تَمَسَّهَا فَإِنِّي قَدْ كَشَفْتُهَا .
حضرت عمر بن خطاب نے اپنے لڑکے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہا اس سے صحبت نہ کرنا کیونکہ میں نے ایک بار اس کا بدن کھولا تھا ۔
۳۸
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۲۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبَّرِ، أَنَّهُ قَالَ وَهَبَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لاِبْنِهِ جَارِيَةً قَالَ لاَ تَقْرَبْهَا فَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُهَا فَلَمْ أَنْشَطْ إِلَيْهَا .
عبدالرحمن بن مجبر نے کہا کہ سالم بن عبداللہ نے اپنے بیٹے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہا کہ اس سے جماع نہ کرنا کیونکہ میں نے ارادہ کیا تھا اس سے جماع کا میں رک گیا ۔
۳۹
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۲۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا نَهْشَلِ بْنَ الأَسْوَدِ، قَالَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِنِّي رَأَيْتُ جَارِيَةً لِي مُنْكَشِفًا عَنْهَا وَهِيَ فِي الْقَمَرِ فَجَلَسْتُ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ فَقُمْتُ فَلَمْ أَقْرَبْهَا بَعْدُ أَفَأَهَبُهَا لاِبْنِي يَطَؤُهَا فَنَهَاهُ الْقَاسِمُ عَنْ ذَلِكَ .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ابونہشل بن اسود نے قاسم بن محمد سے کہا کہ میں نے اپنی لونڈی کو ننگا دیکھا چاندنی میں تو میں اس کے پاؤں اٹھا کر جماع کو مستعد ہو گیا وہ بولی حائضہ ہوں تو میں اٹھ کھڑا ہوا اب میں اس لونڈی کو ہبہ کر دوں اپنے بیٹے کو تاکہ وہ اس سے جماع کرے قاسم بن محمد نے منع کیا ۔
۴۰
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۳۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، أَنَّهُ وَهَبَ لِصَاحِبٍ لَهُ جَارِيَةً ثُمَّ سَأَلَهُ عَنْهَا فَقَالَ قَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَهَبَهَا لاِبْنِي فَيَفْعَلَ بِهَا كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ لَمَرْوَانُ كَانَ أَوْرَعَ مِنْكَ وَهَبَ لاِبْنِهِ جَارِيَةً ثُمَّ قَالَ لاَ تَقْرَبْهَا فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ سَاقَهَا مُنْكَشِفَةً .
عبدالملک بن مروان نے اپنے دوست کو ایک لونڈی ہبہ کی پھر اس سے اس لونڈی کا حال پوچھا اس نے کہا میرا ارادہ ہے کہ میں اس لونڈی کو ہبہ کر دوں اپنے بیٹے کو تاکہ وہ اس سے جماع کرے عبدالملک نے کہا کہ مروان تجھ سے زیادہ پرہیز گار تھا اس نے اپنے بیٹے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہہ دیا اس سے صحبت نہ کرنا کیونکہ میں نے اس کی پنڈلیاں کھلی ہوئی دیکھی تھیں ۔ کہا مالک نے یہودی لونڈی اور نصرانی لونڈی سے نکاح کرنا درست نہیں اور اللہ جل جلالہ نے اپنی کتاب میں جو اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح درست کیا ہے اس سے آزاد عورتیں مراد ہیں اور اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو شخص تم میں سے مسلمان آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھے تو وہ مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرے اللہ نے مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرنا حلال کیا ہے نہ کہ اہل کتاب کی لونڈیوں سے البتہ یہودی یا نصرانی لونڈی سے اس کے مالک کو جماع کرنا درست ہے مگر مشرکہ لونڈی سے درست نہیں ۔
۴۱
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۳۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ الْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ هُنَّ أُولاَتُ الأَزْوَاجِ وَيَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَى أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الزِّنَا .
سعید بن مسیب نے کہا کہ محصنات سے دو عورتیں مراد ہیں جو خاوند والیاں ہیں مطلب اس کا یہ ہے کہ اللہ نے زنا کو حرم کیا ۔
۴۲
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۳۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَبَلَغَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولاَنِ إِذَا نَكَحَ الْحُرُّ الأَمَةَ فَمَسَّهَا فَقَدْ أَحْصَنَتْهُ . قَالَ مَالِكٌ وَكُلُّ مَنْ أَدْرَكْتُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ تُحْصِنُ الأَمَةُ الْحُرَّ إِذَا نَكَحَهَا فَمَسَّهَا فَقَدْ أَحْصَنَتْهُ . قَالَ مَالِكٌ يُحْصِنُ الْعَبْدُ الْحُرَّةَ إِذَا مَسَّهَا بِنِكَاحٍ وَلاَ تُحْصِنُ الْحُرَّةُ الْعَبْدَ إِلاَّ أَنْ يَعْتِقَ وَهُوَ زَوْجُهَا فَيَمَسَّهَا بَعْدَ عِتْقِهِ فَإِنْ فَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَعْتِقَ فَلَيْسَ بِمُحْصَنٍ حَتَّى يَتَزَوَّجَ بَعْدَ عِتْقِهِ وَيَمَسَّ امْرَأَتَهُ . قَالَ مَالِكٌ وَالأَمَةُ إِذَا كَانَتْ تَحْتَ الْحُرِّ ثُمَّ فَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ تَعْتِقَ فَإِنَّهُ لاَ يُحْصِنُهَا نِكَاحُهُ إِيَّاهَا وَهِيَ أَمَةٌ حَتَّى تُنْكَحَ بَعْدَ عِتْقِهَا وَيُصِيبَهَا زَوْجُهَا فَذَلِكَ إِحْصَانُهَا وَالأَمَةُ إِذَا كَانَتْ تَحْتَ الْحُرِّ فَتَعْتِقُ وَهِيَ تَحْتَهُ قَبْلَ أَنْ يُفَارِقَهَا فَإِنَّهُ يُحْصِنُهَا إِذَا عَتَقَتْ وَهِيَ عِنْدَهُ إِذَا هُوَ أَصَابَهَا بَعْدَ أَنْ تَعْتِقَ . وَقَالَ مَالِكٌ وَالْحُرَّةُ النَّصْرَانِيَّةُ وَالْيَهُودِيَّةُ وَالأَمَةُ الْمُسْلِمَةُ يُحْصِنَّ الْحُرَّ الْمُسْلِمَ إِذَا نَكَحَ إِحْدَاهُنَّ فَأَصَابَهَا .
ابن شہاب اور قاسم بن محمد کہتے ہیں اگر آزاد شخص نے لونڈی سے نکاح کیا اور اس سے جماع کیا تو وہ محصن ہو گیا ۔
۴۳
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۳۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ .
حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا جنگ خبیر کے روز متعے سے اور گدھوں کے گوشت کھانے سے ۔
۴۴
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۳۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ، دَخَلَتْ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَتْ إِنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ اسْتَمْتَعَ بِامْرَأَةٍ فَحَمَلَتْ مِنْهُ . فَخَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَزِعًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ فَقَالَ هَذِهِ الْمُتْعَةُ وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهَا لَرَجَمْتُ .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ خولہ بنت حکیم حضرت عمر کے پاس گئیں اور کہا کہ ربیعہ بن امیہ نے ایک عورت مولدہ سے متعہ کیا تھا وہ ربیعہ سے حاملہ ہے پس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھبرا کر چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور کہا یہ متعہ ہے اگر میں پہلے اس کی ممانعت کر چکا ہوتا تو رجم کرتا
۴۵
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۳۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ يَنْكِحُ الْعَبْدُ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ . قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَالْعَبْدُ مُخَالِفٌ لِلْمُحَلِّلِ إِنْ أَذِنَ لَهُ سَيِّدُهُ ثَبَتَ نِكَاحُهُ وَإِنْ لَمْ يَأْذَنْ لَهُ سَيِّدُهُ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَالْمُحَلِّلُ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا عَلَى كُلِّ حَالٍ إِذَا أُرِيدَ بِالنِّكَاحِ التَّحْلِيلُ . قَالَ مَالِكٌ فِي الْعَبْدِ إِذَا مَلَكَتْهُ امْرَأَتُهُ أَوِ الزَّوْجُ يَمْلِكُ امْرَأَتَهُ إِنَّ مِلْكَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ يَكُونُ فَسْخًا بِغَيْرِ طَلاَقٍ وَإِنْ تَرَاجَعَا بِنِكَاحٍ بَعْدُ لَمْ تَكُنْ تِلْكَ الْفُرْقَةُ طَلاَقًا . قَالَ مَالِكٌ وَالْعَبْدُ إِذَا أَعْتَقَتْهُ امْرَأَتُهُ إِذَا مَلَكَتْهُ وَهِيَ فِي عِدَّةٍ مِنْهُ لَمْ يَتَرَاجَعَا إِلاَّ بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ .
ربیعہ بن ابوعبدالرحمن کہتے تھے غلام چار عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے ۔ کہا مالک نے یہ قول بہت اچھا ہے میرے نزدیک ۔ کہا مالک نے غلام کا نکاح مالی کی اجازت پر موقوف ہے اگر مالی اجازت دے گا تو صحیح ہوگا ورنہ تفریق کی جائے اور حلالہ کا نکاح ہر طرح سے چھوڑا جائے گا ۔ کہا مالک نے اگر زوج زوجہ کا مالک ہو جائے یا زوجہ زوج کی مالک ہو جائے تو نکاح خوبخود بغیر طلاق کے فسخ ہو جائے گا اب اگر پھر نکاح کریں گے تو خاوند کو تین طلاق کا اختیار رہے گا ۔ کہا مالک نے اگر زوجہ اپنے خاوند کو خرید کر آزاد کر دے اور وہ عدت میں ہو تو وہ دونوں نئے نکاح کے بغیر نہیں مل سکتے ۔
۴۶
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۳۶
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ نِسَاءً، كُنَّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسْلِمْنَ بِأَرْضِهِنَّ وَهُنَّ غَيْرُ مُهَاجِرَاتٍ وَأَزْوَاجُهُنَّ حِينَ أَسْلَمْنَ كُفَّارٌ مِنْهُنَّ بِنْتُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ . وَكَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهَرَبَ زَوْجُهَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ مِنَ الإِسْلاَمِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ بِرِدَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَانًا لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الإِسْلاَمِ وَأَنْ يَقْدَمَ عَلَيْهِ فَإِنْ رَضِيَ أَمْرًا قَبِلَهُ وَإِلاَّ سَيَّرَهُ شَهْرَيْنِ فَلَمَّا قَدِمَ صَفْوَانُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرِدَائِهِ نَادَاهُ عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ هَذَا وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ جَاءَنِي بِرِدَائِكَ وَزَعَمَ أَنَّكَ دَعَوْتَنِي إِلَى الْقُدُومِ عَلَيْكَ فَإِنْ رَضِيتُ أَمْرًا قَبِلْتُهُ وَإِلاَّ سَيَّرْتَنِي شَهْرَيْنِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْزِلْ أَبَا وَهْبٍ " . فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ لاَ أَنْزِلُ حَتَّى تُبَيِّنَ لِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَلْ لَكَ تَسِيرُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ " . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ هَوَازِنَ بِحُنَيْنٍ . فَأَرْسَلَ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ يَسْتَعِيرُهُ أَدَاةً وَسِلاَحًا عِنْدَهُ فَقَالَ صَفْوَانُ أَطَوْعًا أَمْ كَرْهًا فَقَالَ " بَلْ طَوْعًا " . فَأَعَارَهُ الأَدَاةَ وَالسِّلاَحَ الَّتِي عِنْدَهُ ثُمَّ خَرَجَ صَفْوَانُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ كَافِرٌ فَشَهِدَ حُنَيْنًا وَالطَّائِفَ وَهُوَ كَافِرٌ وَامْرَأَتُهُ مُسْلِمَةٌ وَلَمْ يُفَرِّقْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ حَتَّى أَسْلَمَ صَفْوَانُ وَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ امْرَأَتُهُ بِذَلِكَ النِّكَاحِ .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ چند عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان ہو جاتی تھیں اپنے ملک میں ہجرت نہیں کرتی تھیں اور خاوند ان کے کافر ہوتے تھے انہی عورتوں میں سے ایک عاتکہ تھی جو ولید بن مغیرہ کی بیٹی تھیں جو صفوان بن امیہ کے نکاح میں تھیں وہ فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئیں اور ان کے خاوند صفوان بھاگ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چچا زاد بھائی وہب بن عمیر کو اپنی چادر نشانی کے واسطے دے کو صفوان کے پاس بھیجا اور ان کو امان دی اور اسلام کی طرف بلایا اور یہ کہا کہ میرے پاس آئے اگر تمہای خوشی ہو تو مسلمان ہونا نہ تو تم کو دو مہینے کی مہلت ملے گی جب صفوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی چادر لے کر آ آئے تو لوگوں کے سامنے پکار اٹھے اے محمد وہب بن عمیر میرے پاس تمہاری چادر لے کر آئے اور مجھ سے کہا کہ تم نے مجھ کو بلایا ہے اس شرط پر کہ اگر میں چاہوں تو مسلمان ہو جاؤں نہیں تو مجھ کو دو مہینے کی مہلت ملے گی ۔ آپ نے فرمایا اترو اے ابووہب صفوان نے کہا قسم اللہ کی میں کبھی نہ اتروں گا جب تک تم مجھ سے بیان نہ کرو گے کہ وہب بن عمیر کا پیام صحیح ہے آپ نے فرمایا وہ تو کیا میں تمہیں چار مہینے کی مہلت دیتا ہوں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ ہوازن کی طرف حنین میں گئے اور آپ نے صفوان سے کچھ ہتھیار اور سامان عاریتاً مانگا صفوان نے کہا آپ خوشی سے مانگتے ہیں یا زبردستی سے آپ نے فرمایا خوشی سے صفوان نے ہتھیار اور سامان دئیے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور صفوان کفر ہی کی حالت میں آپ کے ساتھ رہے مگر آپ نے ان کی عورت کو ان سے نہ چھڑایا یہاں تک کہ صفوان بھی مسلمان ہوگئے اور ان کی عورت بدستور ان کے پاس رہیں۔ ابن شہاب نے کہا کہ صفوان کی بی بی خاوند سے ایک مہینہ پہلے اسلام لائی تھیں اور جو عورت دارالکفر سے مسلمان ہو کر دارالا سلام میں ہجرت کر کے آئے تو وہ اپنے خاوند سے جدا ہو جائے گی اور عدت کر کے دوسرا نکاح کر لے گی مگر جب اس کا خاوند اس کی عدت کے اندر مسلمان ہو کر دارالاسلام میں آ جائے۔
۴۷
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۳۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ بَيْنَ إِسْلاَمِ صَفْوَانَ وَبَيْنَ إِسْلاَمِ امْرَأَتِهِ نَحْوٌ مِنْ شَهْرٍ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ امْرَأَةً هَاجَرَتْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَزَوْجُهَا كَافِرٌ مُقِيمٌ بِدَارِ الْكُفْرِ إِلاَّ فَرَّقَتْ هِجْرَتُهَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا إِلاَّ أَنْ يَقْدَمَ زَوْجُهَا مُهَاجِرًا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا .
۴۸
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۳۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أُمَّ حَكِيمٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَكَانَتْ، تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهَرَبَ زَوْجُهَا عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مِنَ الإِسْلاَمِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ فَارْتَحَلَتْ أُمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَيْهِ بِالْيَمَنِ فَدَعَتْهُ إِلَى الإِسْلاَمِ فَأَسْلَمَ وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَثَبَ إِلَيْهِ فَرِحًا وَمَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ حَتَّى بَايَعَهُ فَثَبَتَا عَلَى نِكَاحِهِمَا ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَإِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ قَبْلَ امْرَأَتِهِ وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ بَيْنَهُمَا إِذَا عُرِضَ عَلَيْهَا الإِسْلاَمُ فَلَمْ تُسْلِمْ لأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ {وَلاَ تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ}.
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ام حکیم عکرمہ بن ابوجہل کی بی بی فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئی اور ان کے خاوند عکرمہ یمن بھاگ گئے ام حکیم بھی وہاں چلی گئیں اور ان کو دین اسلام کی طرف بلایا وہ مسلمان ہوگئے اور اسی سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو خوشی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان سے بیعت لی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم شریف پر چادر نہ تھی پھر دونوں میاں بی بی اپنے نکاح پر قائم رہے ۔ کہا مالک نے جب مرد اپنی بی بی سے پہلے مسلمان ہو جائے اور بی بی سے مسلمان ہونے کو کہا جائے اور وہ مسلمان نہ ہو تو نکاح فسخ ہو جائے گا کیونکہ اللہ جل جلالہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے مت علاقہ رکھو کافر عورتوں سے
۴۹
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۳۹
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا " . فَقَالَ زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
انس بن مالک سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان پر زردی کا نشان تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا مہر دیا ہے انہوں نے کہا ایک گٹھلی برابر سونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری کا ہو۔
۵۰
مؤطا امام مالک # ۲۸/۱۱۴۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُولِمُ بِالْوَلِيمَةِ مَا فِيهَا خُبْزٌ وَلاَ لَحْمٌ .
یحی بن سعید نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولیہ کرتے تھے اس میں روٹی ہوتی تھی نہ گوشت ۔