۱۱۴ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۲/۳۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ نَعَمْ ‏.‏ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ‏.‏
عمرو بن یحیی المازنی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو دادا ہیں عمرو بن یحیی کے اور اصحاب میں سے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیا تم مجھ کو دکھا سکتے ہو کس طرح وضو کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا انہوں نے ہاں تو منگایا انہوں نے پانی وضو کا پھر ڈالا اس کو اپنے ہاتھ پر اور دھویا دونوں ہاتھوں کو دو دو بار پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تین بار پھر دونوں ہاتھ دھوئے کہینوں تک دو دو بار پھر مسح کیا سر کا دونوں ہاتھوں سے آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لائے یعنی دونوں ہاتھوں سے مسح شروع کیا پیشانی سے گدی تک پھر لائے گدی سے پیشانی تک پھر دونوں پیر دھوئے ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۲/۳۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَنْثِرْ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وضو کرے تم میں سے کوئی تو پانی ڈال کر چھینکے اور ڈھیلے لے واسطے استنجاء کے تو طاق لے ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۲/۳۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ‏"‏ ‏.‏
۰۴
مؤطا امام مالک # ۲/۳۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، قَدْ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ مَاتَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص وضو کرے تو ناک چھنکے اور جو ڈھیلے لے تو طاق لے ۔ کہا یحیی نے سنا میں نے مالک سے کہتے تھے اگر کوئی شخص ایک ہی چلو لے کر کلی کرے اور ناک میں بھی پانی ڈالے تو کچھ حرج نہیں ہے ۔ امام مالک روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو پہنچا کہ عبدالرحمن بن ابی ابکر صدیق گئے ام المومنین کے پاس جس دن مرے سعد بن ابی وقاص تو منگایا عبدالرحمن نے پانی وضو کا پس کہا عائشہ نے پورا کرو وضو کو کیونکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے خرابی ہے ایڑیوں کو آگ سے ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۲/۳۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلاَءَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَتَوَضَّأُ بِالْمَاءِ لِمَا تَحْتَ إِزَارِهِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ فَنَسِيَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ قَبْلَ أَنْ يَتَمَضْمَضَ أَوْ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَ وَجْهَهُ فَقَالَ أَمَّا الَّذِي غَسَلَ وَجْهَهُ قَبْلَ أَنْ يَتَمَضْمَضَ فَلْيُمَضْمِضْ وَلاَ يُعِدْ غَسْلَ وَجْهِهِ وَأَمَّا الَّذِي غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ قَبْلَ وَجْهِهِ فَلْيَغْسِلْ وَجْهَهُ ثُمَّ لِيُعِدْ غَسْلَ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى يَكُونَ غَسْلُهُمَا بَعْدَ وَجْهِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فِي مَكَانِهِ أَوْ بِحَضْرَةِ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ نَسِيَ أَنْ يَتَمَضْمَضَ وَيَسْتَنْثِرَ حَتَّى صَلَّى قَالَ لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُعِيدَ صَلاَتَهُ وَلْيُمَضْمِضْ وَيَسْتَنْثِرْ مَا يَسْتَقْبِلُ إِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ ‏.‏
عبدالرحمن بن عثمان سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب کہتے تھے کہ پانی سے دھوئے اپنے ستر کو ۔ کہا یحی نے پوچھا گیا امام مالک سے اس شخص کے بارے میں جس نے وضو کیا تو بھول کر قبل کلی کرنے کے منہ دھو لیا یا پہلے ہاتھ دھو لئے اور منہ نہ دھویا کہا امام مالک نے جس شخص نے منہ دھو لیا کلی کرنے سے پیشتر تو وہ کلی کر لے اور دوبارہ منہ نہ دھوئے لیکن جس نے ہاتھ دھولئے منہ دھونے سے پیشتر تو اس کو چاہئے کہ منہ دھو کر ہاتھوں کو دوبارہ دھوئے تاکہ دھونا ہاتھ کا بعد دھونے منہ کے ہو جائے جب تک وضو کرنے والا اپنی جگہ میں ہے یا قریب اس کے ۔ کہا یحیی نے پوچھے گئے امام مالک اس شخص سے جو وضو میں کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا بھول گیا اور نماز پڑھ لی کہا مالک نے ہو گئ نماز اس کی دوبارہ پھر نماز پڑھنا لازم نہیں لیکن آئندہ کی نماز کے واسطے کلی کر لے یا ناک میں پانی ڈال لے ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۲/۳۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوئِهِ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لاَ يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سو کر اٹھے کوئی تم میں سے تو پہلے اپنے ہاتھ دھو کر پانی میں ہاتھ ڈالے اس لئے کہ معلوم نہیں کہا رہی ہتھیلی اس کی ۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۲/۳۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ مُضْطَجِعًا فَلْيَتَوَضَّأْ ‏.‏
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ کہا عمر بن خطاب نے جو شخص تم میں سے سو جائے لیٹ کر تو وضو کرے ۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۲/۳۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ تَفْسِيرَ، هَذِهِ الآيَةِ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ‏}‏ أَنَّ ذَلِكَ إِذَا قُمْتُمْ مِنَ الْمَضَاجِعِ ‏.‏ يَعْنِي النَّوْمَ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لاَ يَتَوَضَّأُ مِنْ رُعَافٍ وَلاَ مِنْ دَمٍ وَلاَ مِنْ قَيْحٍ يَسِيلُ مِنَ الْجَسَدِ وَلاَ يَتَوَضَّأُ إِلاَّ مِنْ حَدَثٍ يَخْرُجُ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ دُبُرٍ أَوْ نَوْمٍ ‏.‏
زید بن اسلم نے کہا یہ جو فرمایا اللہ جل جلالہ نے جب اٹھو تم نماز کے لئے تو دھؤو منہ اپنا اور ہاتھ اپنے کہنیوں تک اور مسح کرو سروں پر اور دھؤو پاؤں اپنے ٹخنوں تک اس سے یہ غرض ہے کہ جب اٹھو نماز کے لئے سو کر ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۲/۴۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَنَامُ جَالِسًا ثُمَّ يُصَلِّي وَلاَ يَتَوَضَّأُ ‏.‏
ابن عمر سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سو جاتے تھے پھر نماز پڑھتے تھے اور وضو نہیں کرتے تھے ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۲/۴۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، - مِنْ آلِ بَنِي الأَزْرَقِ - عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، - وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تو کہا اس نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سوار ہوتے ہیں سمندر میں اور اپنے ساتھ پانی تھوڑا رکھتے ہیں اگر اسی سے وضو کریں تو پیاسے رہیں کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کریں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاک ہے پانی اس کا حلال ہے مردہ اس کا ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۲/۴۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ فَرْوَةَ، عَنْ خَالَتِهَا، كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ - أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ لِتَشْرَبَ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي قَالَتْ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ ‏"‏ ‏.‏
کبشہ بنت کعب سے روایت ہے کہ ابوقتادہ انصاری گئے ان کے پاس تو رکھا کبشہ نے ایک برتن میں پانی ان کے وضو کے لئے پس آئی بلی اس میں سے پینے کو تو جھکا دیا برتن کو ابوقتادہ نے یہاں تک کہ پی لیا بلی نے پانی۔ کہا کبشہ نے دیکھ لیا ابوقتادہ نے کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھتی ہوں تو پوچھا ابوقتادہ نے کیا تعجب کرتی ہو؟ اے بھتیجی میری میں نے کہا ہاں۔ تو کہا ابوقتادہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی ناپاک نہیں ہے وہ رات دن پھرنے والوں میں سے ہے تم پر ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۲/۴۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، خَرَجَ فِي رَكْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حَتَّى وَرَدُوا حَوْضًا فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِصَاحِبِ الْحَوْضِ يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ هَلْ تَرِدُ حَوْضَكَ السِّبَاعُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ لاَ تُخْبِرْنَا فَإِنَّا نَرِدُ عَلَى السِّبَاعِ وَتَرِدُ عَلَيْنَا ‏.‏
یحیی بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عمر بن خطاب نکلے چند سواروں میں ان میں عمر وبن عاص بھی تھے راہ میں ایک حوض ملا تو عمرو بن عاص نے حوض والے سے پوچھا کہ تیرے حوض پر درندے جانور پانی پینے کو آتے ہیں تو کہا عمر بن خطاب نے اے حوض والے مت بتا ہم کو کس لئے کہ درندے کبھی ہم سے آگے آتے ہیں اور کبھی ہم درندوں سے آگے آتے ہیں ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۲/۴۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ إِنْ كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَتَوَضَّئُونَ جَمِيعًا ‏.‏
عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ مرد اور عورتیں وضو کرتی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اکٹھا۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۲/۴۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ، لإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابراہیم بن عبدالرحمن کی ام ولد نے پوچھا ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہ میرا دامن نیچا اور لمبا رہتا ہے اور ناپاک جگہ میں چلنے کا اتفاق ہوتا ہے تو کہا ام سلمہ نے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاک کرتا ہے اس کو جو بعد اس کے ہے
۱۵
مؤطا امام مالک # ۲/۴۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ رَأَى رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقْلِسُ مِرَارًا وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَلاَ يَنْصَرِفُ وَلاَ يَتَوَضَّأُ حَتَّى يُصَلِّيَ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ قَلَسَ طَعَامًا هَلْ عَلَيْهِ وُضُوءٌ فَقَالَ لَيْسَ عَلَيْهِ وُضُوءٌ وَلْيَتَمَضْمَضْ مِنْ ذَلِكَ وَلْيَغْسِلْ فَاهُ ‏.‏
امام مالک کہتے ہیں کہ میں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن کو دیکھا کئی مرتبہ انہوں نے قے کی پانی کی اور وہ مسجد میں تھے پھر وضو نہیں کیا اور نماز پڑھ لی۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۲/۴۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، حَنَّطَ ابْنًا لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَحَمَلَهُ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَسُئِلَ مَالِكٌ هَلْ فِي الْقَىْءِ وُضُوءٌ قَالَ لاَ وَلَكِنْ لِيَتَمَضْمَضْ مِنْ ذَلِكَ وَلْيَغْسِلْ فَاهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ وُضُوءٌ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے خوشبو لگائی سعید بن زید کے بچے کو جو میت تھا اور اٹھایا اس کو پھر مسجد میں آئے اور نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۲/۴۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ کھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دست کا گوشت بکری کا پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۔
۱۸
مؤطا امام مالک # ۲/۴۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ - وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ - نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلاَّ بِالسَّوِيقِ فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَكَلْنَا ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏
سوید بن النعمان سے روایت ہے کہ وہ ساتھ نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جس سال جنگ خبیر ہوئی یہاں تک کہ جب پہنچے صہبا میں پیچھے کی جانب خبیر سے مدینہ کی طرف اترے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ پھر عصر کی نماز پڑھی اور مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توشہ تو نہ آیا مگر ستو پس حکم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھولنے کا سو کھولا گیا پھر کھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ہم لوگوں نے پھر کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب کے لئے کلی کی اور ہم نے بھی کلیاں کر لیں پھر نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور وضو نہ کیا ۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۲/۵۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ، أَنَّهُ تَعَشَّى مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏
ربیعہ بن عبداللہ نے حضرت عمر کے ساتھ شام کا کھانا کھایا پھر حضرت عمر نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۲/۵۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ مَضْمَضَ وَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏
ابان بن عثمان سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان نے روٹی اور گوشت کھا کر کلی کی اور ہاتھ دھو کر منہ پونچھا پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۔ امام مالک کو پہنچا حضرت علی اور عبداللہ بن عباس سے کہ وہ دونوں وضو نہ کرتے تھے اس کھانے سے جو آگ سے پکا ہو ۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۲/۵۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَا لاَ يَتَوَضَّآنِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ‏.‏
۲۲
مؤطا امام مالک # ۲/۵۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنِ الرَّجُلِ، يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ يُصِيبُ طَعَامًا قَدْ مَسَّتْهُ النَّارُ أَيَتَوَضَأُ قَالَ رَأَيْتُ أَبِي يَفْعَلُ ذَلِكَ وَلاَ يَتَوَضَّأُ ‏.‏
یحیی بن سعید نے پوچھا عبداللہ بن عامر سے کہ ایک شخص وضو کرے نماز کے لئے پھر کھائے وہ کھانا جو پکا ہوا ہو آگ سے کیا وضو کرے۔ دوبارہ کہا عبداللہ نے کہ دیکھا میں نے اپنے باپ عامر بن ربیعہ بن کعب بن مالک کو کہ وہ آگ کا پکا ہوا کھانا کھاتے پھر وضو نہیں کرتے تھے ۔
۲۳
مؤطا امام مالک # ۲/۵۴
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ أَكَلَ لَحْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏
ابو نعیم وہب بن کیسان نے سنا جابر بن عبداللہ سے کہ انہوں نے دیکھا ابوبکر صدیق کو گوشت کھایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۲/۵۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دُعِيَ لِطَعَامٍ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ أُتِيَ بِفَضْلِ ذَلِكَ الطَّعَامِ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏
محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ہوئی کھانے کی تو سامنے کیا گیا ان کے روٹی گوشت پس کھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے اور وضو کر کے نماز پڑھی پھر اس کھانے کا بچا ہوا آیا اس کو کھا کر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ،۔
۲۵
مؤطا امام مالک # ۲/۵۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَدِمَ مِنَ الْعِرَاقِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَرَّبَ لَهُمَا طَعَامًا قَدْ مَسَّتْهُ النَّارُ فَأَكَلُوا مِنْهُ فَقَامَ أَنَسٌ فَتَوَضَّأَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ مَا هَذَا يَا أَنَسُ أَعِرَاقِيَّةٌ فَقَالَ أَنَسٌ لَيْتَنِي لَمْ أَفْعَلْ ‏.‏ وَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ فَصَلَّيَا وَلَمْ يَتَوَضَّآ ‏.‏
عبدالرحمن بن زید انصاری سے روایت ہے کہ انس بن مالک جب آئے عراق تو گئے ان کی ملاقات کو ابوطلحہ اور ابی بن کعب تو سامنے کیا انس نے ان دونوں کے کھانا جو پکا ہوا تھا آگ سے پھر کھایا سب نے تو اٹھے انس اور وضو کیا پس کہا ابوطلحہ اور ابی بن کعب نے کہ کھانا کھا کر وضو کرنا کیا تم نے عراق سے سیکھا ہے پس کہا انس نے کاش میں وضو نہ کرتا اور کھڑے ہوئے ابوطلحہ اور ابی بن کعب تو نماز پڑھی دونوں نے اور وضو نہ کیا ۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۲/۵۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ الاِسْتِطَابَةِ فَقَالَ ‏ "‏ أَوَلاَ يَجِدُ أَحَدُكُمْ ثَلاَثَةَ أَحْجَارٍ ‏"‏ ‏.‏
عروہ بن زیبر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا گیا استنجاء کے بارے میں تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا نہیں پاتا کوئی تم میں سے تین پتھروں کو ۔
۲۷
مؤطا امام مالک # ۲/۵۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ فَقَالَ ‏"‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا بِإِخْوَانِكَ قَالَ ‏"‏ بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ قَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلاَ يَعْرِفُ خَيْلَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ فَلاَ يُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ أَلاَ هَلُمَّ أَلاَ هَلُمَّ أَلاَ هَلُمَّ فَيُقَالُ إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ فَسُحْقًا فَسُحْقًا فَسُحْقًا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گئے مقبرہ کو سو کہا سلام ہے تمہارے پر اے قوم مومنوں کی اور ہم اگر اللہ چاہے تو تم سے ملنے والے ہیں تمنا کی میں نے کہ میں دیکھ لوں اپنے بھائیوں کو تو کہا صحابہ نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نہیں ہیں ہم بھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ تم بھائیوں سے بڑھ کر اصحاب ہو میرے اور بھائی میرے وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے دنیا میں اور میں قیامت کے روز ان کا پیش خیمہ ہوں گا حوض کوثر پر تب کہا صحابہ نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر پہچانیں گے ان لوگوں کو قیامت کے روز جو دنیا میں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہوں گے امت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجھ کو بتلاؤ کہ کسی شخص کے سفید منہ اور سفید پاؤں کے گھوڑے خالص مشکی گھوڑوں میں مل جائیں کیا وہ اپنے گھوڑے نہ پہچانے گا کہا صحابہ نے پہچانے گا پس فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت کے روز بھائی میرے آئیں گے چمکتے ہوں گے منہ اور پاؤں ان کے وضو سے اور میں ان کا پیش خیمہ ہوں گا حوض کوثر پر تو ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص نکالا جائے میرے حوض سے جیسے نکالا جاتا ہے وہ اونٹ جو اپنے مالک سے چھٹ گیا ہو تو پکاروں گا میں ان کو ادھر آؤ ادھر آؤ کہا جائے گا مجھ سے کہ ان لوگوں نے بدل دیا سنت تیری کو بعد تیرے تب میں کہنے لگوں گا دور ہو دور ہو ۔
۲۸
مؤطا امام مالک # ۲/۵۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، جَلَسَ عَلَى الْمَقَاعِدِ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ فَآذَنَهُ بِصَلاَةِ الْعَصْرِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لَوْلاَ أَنَّهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا مِنِ امْرِئٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلاَةَ إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاَةِ الأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا ‏"‏ ‏.‏
روایت ہے حمران سے جو غلام ہیں عثمان بن عفان کے کہ عثمان بن عفان بیٹھے تھے چبوترہ پر اتنے میں مؤذن آیا اور نماز عصر کی خبر دی حضرت عثمان نے پانی منگوایا اور وضو کیا پھر کہا کہ اللہ کی قسم میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں اگر وہ حدیث اللہ کی کتاب میں نہ ہوتی تو میں بیان نہ کرتا سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے کہ کوئی آدمی نہیں ہے کہ وضو کرے اچھی طرح پھر نماز پڑھے مگر جتنے گناہ اس کے اس کی نماز سے لے کر دوسری نماز تک ہوں گے معاف کر دئیے جائیں گے یہاں تک کہ دوسری نماز پڑھے ۔
۲۹
مؤطا امام مالک # ۲/۶۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فَتَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ وَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ يَدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ - قَالَ - ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلاَتُهُ نَافِلَةً لَهُ ‏"‏ ‏.‏
روایت ہے عبداللہ صنابحی سے کہا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت وضو شروع کرتا ہے بندہ مومن پھر کلی کرتا ہے نکل جاتے ہیں گناہ اس کے منہ سے پھر جس وقت ناک صاف کرتا ہے نکل جاتے ہیں گناہ اس کی ناک سے پھر جس وقت منہ دھوتا ہے نکل جاتے ہیں اس کے منہ سے یہاں تک کہ نکل جاتے ہیں پلکوں کے اگنے کی جگہ یعنی پپوٹوں سے پھر جس وقت مسح کرتا ہے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں اس کے دونوں کانوں سے پھر جس وقت پاؤں دھوتا ہے نکل جاتے ہیں گناہ اس کے دونوں پاؤں کے ناخنوں سے پھر چلنا اس کا مسجد کی طرف اور نماز الگ ہے یعنی اس کا ثواب جدا گانہ ہے۔
۳۰
مؤطا امام مالک # ۲/۶۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ - أَوِ الْمُؤْمِنُ - فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ - فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلاَهُ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ - حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ ‏"‏ ‏.‏
روایت ہے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت وضو شروع کرتا ہے بندہ مسلمان یا مومن پھر دھوتا ہے منہ اپنا نکل جاتا ہے اس کے منہ سے وہ گناہ جو دیکھا تھا اس نے اپنی آنکھوں سے ساتھ پانی کے یا سات اخیر قطرہ کے پانی سے پھر جب ہاتھ دھوتا ہے نکل جاتا ہے اس کے ہاتھوں سے جو گناہ کہ پکڑا تھا اس کے ہاتھوں نے ساتھ پانی کے یا ساتھ اخیر قطرے پانی کے پھر جب دھوتا ہے وہ پاؤں اپنے نکل جاتا ہے جو گناہ کہ چلے تھے اس کے لئے پاؤں اس کے ساتھ پانی یا ساتھ آخر قطرے پانی کے یہاں تک کہ نکل آتا ہے پاک صاف گناہوں سے ۔
۳۱
مؤطا امام مالک # ۲/۶۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَانَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ وَضُوءًا فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَضُوءٍ فِي إِنَاءٍ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ الإِنَاءِ يَدَهُ ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ يَتَوَضَّئُونَ مِنْهُ - قَالَ أَنَسٌ - فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ ‏.‏
انس بن مالک سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب قریب آگیا عصر کا وقت پس ڈھونڈا لوگوں نے پانی وضو کے لئے مگر نہ پایا اور ایک برتن میں پانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اس برتن میں رکھ دیا اور لوگوں کو حکم دیا وضو کرنے کا انس کہتے ہیں کہ میں دیکھتا تھا پانی کا فوارہ نکلتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پھر وضو کر لیا لوگوں نے یہاں تک کہ جو سب سے اخیر میں تھا اس نے بھی وضو کر لیا ۔
۳۲
مؤطا امام مالک # ۲/۶۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيِّ الْمُجْمِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الصَّلاَةِ فَإِنَّهُ فِي صَلاَةٍ مَادَامَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلاَةِ وَإِنَّهُ يُكْتَبُ لَهُ بِإِحْدَى خُطْوَتَيْهِ حَسَنَةٌ وَيُمْحَى عَنْهُ بِالأُخْرَى سَيِّئَةٌ فَإِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ الإِقَامَةَ فَلاَ يَسْعَ فَإِنَّ أَعْظَمَكُمْ أَجْرًا أَبْعَدُكُمْ دَارًا ‏.‏ قَالُوا لِمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ مِنْ أَجْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا ‏.‏
نعیم بن عبداللہ نے سنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے جس نے وضو کیا اچھی طرح پھر نکلا نماز کی نیت سے تو وہ گویا نماز میں ہے جب تک نماز کا قصد رکھتا ہے ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹائی جاتی ہے تو جب کوئی تم میں سے تکبیر نماز کی سنے تو نہ دوڑے کیونکہ زیادہ ثواب اسی کو ہے جس کا مکان زیادہ دور ہو کہا انہوں نے کیوں اے ابوہریرہ کہا اس وجہ سے کہ اس کے قدم زیادہ ہوں گے
۳۳
مؤطا امام مالک # ۲/۶۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يُسْأَلُ عَنِ الْوُضُوءِ، مِنَ الْغَائِطِ بِالْمَاءِ فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّمَا ذَلِكَ وُضُوءُ النِّسَاءِ ‏.‏
سعید بن مسیب سوال کئے گئے بعد پاخانے کے پانی لینے سے تو کہا کہ یہ طہارت عورتوں کی ہے ۔
۳۴
مؤطا امام مالک # ۲/۶۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏
۳۵
مؤطا امام مالک # ۲/۶۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْمَلُوا وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمُ الصَّلاَةُ وَلاَ يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلاَّ مُؤْمِنٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پی جائے کتا تمہارے کسی برتن میں تو دھوئے اس کو سات بار۔ مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدھی راہ پر رہو اور نہ شمار کر سکو گے اس کے ثواب کا یا نہ طاقت رکھو گے تم استقامت کی اور سب کاموں میں تمہارے بہتر نماز ہے اور نہیں محافظت کرے گا وضو پر مگر مومن ۔
۳۶
مؤطا امام مالک # ۲/۶۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَأْخُذُ الْمَاءَ بِأَصْبُعَيْهِ لأُذُنَيْهِ ‏.‏
۳۷
مؤطا امام مالک # ۲/۶۸
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، سُئِلَ عَنِ الْمَسْحِ، عَلَى الْعِمَامَةِ فَقَالَ لاَ حَتَّى يُمْسَحَ الشَّعْرُ بِالْمَاءِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر اپنے کانوں کے مسح کے واسطے دو انگلیوں سے پانی لیتے تھے ۔ مالک کو پہنچا کہ جابر بن عبداللہ انصاری پوچھے گئے عمامہ پر مسح کرنے سے تو کہا کہ نہ کرے یہاں تک کہ مسح کرے بال کا پانی سے ۔
۳۸
مؤطا امام مالک # ۲/۶۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يَنْزِعُ الْعِمَامَةَ وَيَمْسَحُ رَأْسَهُ بِالْمَاءِ ‏.‏
عروہ بن زبیر عمامہ سر سے اتار کر سر پر مسح کرتے تھے ۔
۳۹
مؤطا امام مالک # ۲/۷۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ رَأَى صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ امْرَأَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ تَنْزِعُ خِمَارَهَا وَتَمْسَحُ عَلَى رَأْسِهَا بِالْمَاءِ وَنَافِعٌ يَوْمَئِذٍ صَغِيرٌ ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ وَالْخِمَارِ فَقَالَ لاَ يَنْبَغِي أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ وَلاَ الْمَرْأَةُ عَلَى عِمَامَةٍ وَلاَ خِمَارٍ وَلْيَمْسَحَا عَلَى رُءُوسِهِمَا ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ فَنَسِيَ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى جَفَّ وَضُوءُهُ قَالَ أَرَى أَنْ يَمْسَحَ بِرَأْسِهِ وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى أَنْ يُعِيدَ الصَّلاَةَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا صفیہ کو جو بیوی تھیں عبداللہ بن عمر کی اتارتی تھیں اس کپڑے کو جس سے سر ڈھانپتے ہیں اور مسح کرتی تھیں اپنے سر پر پانی سے اور نافع اس وقت نابالغ تھے ۔
۴۰
مؤطا امام مالک # ۲/۷۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، مِنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ - قَالَ الْمُغِيرَةُ - فَذَهَبْتُ مَعَهُ بِمَاءٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَكَبْتُ عَلَيْهِ الْمَاءَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّىْ جُبَّتِهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ مِنْ ضِيقِ كُمَّىِ الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ عَلَيْهِمْ فَفَزِعَ النَّاسُ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَحْسَنْتُمْ ‏"‏ ‏.‏
مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گئے حاجت ضروری کو جنگ تبوک میں تو میں نے پانی ساتھ لے کر گیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈالا تو دھویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ اپنا پھر نکالنے لگے ہاتھ اپنے جبہ کی آستینوں سے مگر وہ اس قدر تنگ تھیں کہ ہاتھ نہ نکل سکے آخر نکالا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کو جبہ کے نیچے سے اور ہاتھ دھوئے اور مسح کیا سر پر اور موزوں پر پھر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو عبدالرحمن بن عوف امامت کر رہے تھے اور ایک رکعت ہو چکی تھی پس پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت جو باقی تھی عبدالرحمن بن عوف کے پیچھے اور لوگ گھبرائے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا کہ اچھا کیا تم نے ۔
۴۱
مؤطا امام مالک # ۲/۷۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَدِمَ الْكُوفَةَ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَهُوَ أَمِيرُهَا فَرَآهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ سَلْ أَبَاكَ إِذَا قَدِمْتَ عَلَيْهِ فَقَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ فَنَسِيَ أَنْ يَسْأَلَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ سَعْدٌ فَقَالَ أَسَأَلْتَ أَبَاكَ فَقَالَ لاَ ‏.‏ فَسَأَلَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ إِذَا أَدْخَلْتَ رِجْلَيْكَ فِي الْخُفَّيْنِ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ فَامْسَحْ عَلَيْهِمَا ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَإِنْ جَاءَ أَحَدُنَا مِنَ الْغَائِطِ فَقَالَ عُمَرُ نَعَمْ وَإِنْ جَاءَ أَحَدُكُمْ مِنَ الْغَائِطِ ‏.‏
نافع اور عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر آئے کوفے میں سعد بن ابی وقاص پر اور وہ حاکم تھے کوفہ کے تو دیکھا ان کو عبداللہ نے کہ مسح کرتے ہیں موزوں پر پس انکار کیا اس فعل کا عبداللہ نے۔ کہا سعد نے تم اپنے باپ سے پوچھنا جب جانا تو جب آئے عبداللہ بھول گئے پوچھنا اپنے باپ سے یہاں تک کہ سعد آئے اور انہوں نے کہا ذکر کیا تم نے اپنے باپ سے پوچھا تھا عبداللہ نے کہا نہیں پھر پوچھا عبداللہ نے تو فرمایا حضرت عمر نے جب ڈالے تو پاؤں اپنے موزوں کے اندر اور پاؤں پاک ہوں تو مسح کر موزوں پر کہا عبداللہ نے اگرچہ ہم پائخانہ سے ہو کر آئیں کہا ہاں اگرچہ کوئی تم میں سے پائخانہ سے ہو کر آئے ۔
۴۲
مؤطا امام مالک # ۲/۷۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، بَالَ فِي السُّوقِ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ دُعِيَ لِجَنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا حِينَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے پیشاب کیا بازار میں پھر وضو کیا اور دھویا منہ اور ہاتھوں کو اپنے اور مسح کیا سر پر پھر بلائے گئے جنازہ کی نماز کے لئے جب جا چکے مسجد میں تو مسح کیا موزوں پر پھر نماز پڑھی جنازہ پر ۔
۴۳
مؤطا امام مالک # ۲/۷۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رُقَيْشٍ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَتَى قُبَا فَبَالَ ثُمَّ أُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثُمَّ جَاءَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ وُضُوءَ الصَّلاَةِ ثُمَّ لَبِسَ خُفَّيْهِ ثُمَّ بَالَ ثُمَّ نَزَعَهُمَا ثُمَّ رَدَّهُمَا فِي رِجْلَيْهِ أَيَسْتَأْنِفُ الْوُضُوءَ فَقَالَ لِيَنْزِعْ خُفَّيْهِ وَلْيَغْسِلْ رِجْلَيْهِ وَإِنَّمَا يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ مَنْ أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ فِي الْخُفَّيْنِ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ بِطُهْرِ الْوُضُوءِ وَأَمَّا مَنْ أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ فِي الْخُفَّيْنِ وَهُمَا غَيْرُ طَاهِرَتَيْنِ بِطُهْرِ الْوُضُوءِ فَلاَ يَمْسَحْ عَلَى الْخُفَّيْنِ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ وَعَلَيْهِ خُفَّاهُ فَسَهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ حَتَّى جَفَّ وَضُوءُهُ وَصَلَّى قَالَ لِيَمْسَحْ عَلَى خُفَّيْهِ وَلْيُعِدِ الصَّلاَةَ وَلاَ يُعِيدُ الْوُضُوءَ ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ غَسَلَ قَدَمَيْهِ ثُمَّ لَبِسَ خُفَّيْهِ ثُمَّ اسْتَأْنَفَ الْوُضُوءَ فَقَالَ لِيَنْزِعْ خُفَّيْهِ ثُمَّ لْيَتَوَضَّأْ وَلْيَغْسِلْ رِجْلَيْهِ ‏.‏
سعید بن عبدالرحمن نے دیکھا انس بن مالک کو آئے وہ قبا کو تو پیشاب کیا پھر لایا گیا پانی وضو کا تو وضو کیا دھویا منہ کو اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک اور مسح کیا سر پر اور مسح کیا موزوں پر پھر مسجد میں آ کر نماز پڑھی۔
۴۴
مؤطا امام مالک # ۲/۷۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّهُ رَأَى أَبَاهُ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ وَكَانَ لاَ يَزِيدُ إِذَا مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ عَلَى أَنْ يَمْسَحَ ظُهُورَهُمَا وَلاَ يَمْسَحُ بُطُونَهُمَا ‏.‏
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے باپ کو دیکھا جب مسح کرتے موزوں پر تو مسح کرتے موزوں کی پشت پر نہ کہ اندر کی جانب۔
۴۵
مؤطا امام مالک # ۲/۷۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الْمَسْحِ، عَلَى الْخُفَّيْنِ كَيْفَ هُوَ فَأَدْخَلَ ابْنُ شِهَابٍ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ الْخُفِّ وَالأُخْرَى فَوْقَهُ ثُمَّ أَمَرَّهُمَا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَقَوْلُ ابْنِ شِهَابٍ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ ‏.‏
۴۶
مؤطا امام مالک # ۲/۷۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا رَعَفَ انْصَرَفَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَجَعَ فَبَنَى وَلَمْ يَتَكَلَّمْ ‏.‏
۴۷
مؤطا امام مالک # ۲/۷۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَرْعُفُ فَيَخْرُجُ فَيَغْسِلُ الدَّمَ عَنْهُ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَبْنِي عَلَى مَا قَدْ صَلَّى ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب نکسیر پھوٹتی ان کی نماز میں پھر آتے اور وضو کر کے لوٹ جاتے پھر بنا کرتے اور بات نہ کرتے۔ امام مالک کو پہنچا عبداللہ بن عباس کے نکسیر پھوٹتی تو باہر جا کر خون دھوتے پھر لوٹ کر بنا کر لیتے جس قدر کہ پڑھ چکے تھے ۔
۴۸
مؤطا امام مالک # ۲/۷۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ رَأَى سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ رَعَفَ وَهُوَ يُصَلِّي فَأَتَى حُجْرَةَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَجَعَ فَبَنَى عَلَى مَا قَدْ صَلَّى ‏.‏
یزید بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب کے نکسیر پھوٹی نماز میں تو آئے حجرہ میں ام سلمہ کے جو بی بی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پھر لایا گیا پانی وضو کا تو وضو کیا پھر لوٹ گئے اور بنا کرلی نماز اپنی سابق پر ۔
۴۹
مؤطا امام مالک # ۲/۸۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ سَعِيدَ
۵۰
مؤطا امام مالک # ۲/۸۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبَّرِ، أَنَّهُ رَأَى سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَخْرُجُ مِنْ أَنْفِهِ الدَّمُ حَتَّى تَخْتَضِبَ أَصَابِعُهُ ثُمَّ يَفْتِلُهُ ثُمَّ يُصَلِّي وَلاَ يَتَوَضَّأُ ‏.‏