نماز کے اوقات
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۱/۱
قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى اللَّيْثِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " بِهَذَا أُمِرْتُ " . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ بِهِ يَا عُرْوَةُ أَوَ إِنَّ جِبْرِيلَ هُوَ الَّذِي أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقْتَ الصَّلاَةِ قَالَ عُرْوَةُ كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ .
محمد بن مسلم بن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز خلیفہ وقت نے ایک روز دیر کی عصر کی نماز میں تو گئے ان کے پاس عروہ بن زبیر اور خبر دی ان کو کہ مغیرہ بن شعبہ نے ایک روز دیر کی تھی عصر کی نماز میں جب وہ حاکم تھے کوفہ کے پس گئے ان کے پاس ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری اور کہا کہ کیا ہے یہ دیر نماز میں اے مغیرہ کیا تم کو نہیں معلوم کہ جبرائیل اترے آسمان سے اور نماز پڑھی انہوں نے (ظہر کی) تو نماز پڑھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ ان کے پھر نماز پڑھی جبرائیل نے (عصر کی) تو نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ ہی ان کے پھر نماز پڑھی جبرائیل نے (مغرب کی) تو نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ ہی ان کے پھر نماز پڑھی جبرائیل نے (عشاء کی) تو نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ ہی ان کے پھر نماز پڑھی جبرائیل نے (فجر کی) تو نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ ہی ان کے پھر کہا جبرائیل نے پیغمبر اللہ سے ایسا ہی تم کو حکم ہوا ہے۔ تب کہا عمر بن عبدالعزیز نے عروہ سے کہ سمجھو تم جو روایت کرتے ہو کیا جبرائیل نے قائم کئے نماز کے وقت حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے عروہ نے کہا کہ ابومسعود بن عقبہ بن عمرو انصاری کے بیٹے بشیر ایسا ہی روایت کرتے تھے اپنے باپ سے اور مجھ سے روایت کیا حضرت عائشہ نے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے عصر کی اور دھوپ حجرے کے اندر ہوتی تھی دیواروں پر چڑھنے سے پہلے ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۱/۲
قَالَ عُرْوَةُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ .
۰۳
مؤطا امام مالک # ۱/۳
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ صَلاَةِ الصُّبْحِ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ مِنَ الْغَدِ بَعْدَ أَنْ أَسْفَرَ ثُمَّ قَالَ " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ " . قَالَ هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ " .
روایت ہے عطا بن یسار سے ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز صبح کا وقت تو چپ ہو رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسرا روز ہوا نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندھیرے منہ صبح صادق نکلتے ہی پھر تیسرے روز نماز پڑھی فجر کی روشنی میں اور فرمایا کہ کہاں ہے وہ شخص جس نے نماز فجر کا وقت دریافت کیا تھا اور وہ شخص بول اٹھا میں ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کا وقت ان دونوں کے بیچ ہے ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۱/۴
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ .
ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے فجر کی نماز پھر عورتیں نماز سے فارغ ہو کر پلٹتی تھیں چادریں لپیٹی ہوئیں اور پہچانی نہ جاتی تھیں اندھیرے سے ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۱/۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنِ الأَعْرَجِ، كُلُّهُمْ يُحَدِّثُونَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص نے پا لی ایک رکعت نماز صبح کی آفتاب نکلنے سے پہلے تو پا چکا وہ صبح کو اور جس شخص نے پا لی ایک رکعت نماز عصر کی آفتاب ڈوبنے سے پہلے تو پا چکا وہ نماز عصر کو ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۱/۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ إِنَّ أَهَمَّ أَمْرِكُمْ عِنْدِي الصَّلاَةُ فَمَنْ حَفِظَهَا وَحَافَظَ عَلَيْهَا حَفِظَ دِينَهُ وَمَنْ ضَيَّعَهَا فَهُوَ لِمَا سِوَاهَا أَضْيَعُ . ثُمَّ كَتَبَ أَنْ صَلُّوا الظُّهْرَ إِذَا كَانَ الْفَىْءُ ذِرَاعًا إِلَى أَنْ يَكُونَ ظِلُّ أَحَدِكُمْ مِثْلَهُ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ قَدْرَ مَا يَسِيرُ الرَّاكِبُ فَرْسَخَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَيْنُهُ فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَيْنُهُ فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَيْنُهُ وَالصَّبْحَ وَالنُّجُومُ بَادِيَةٌ مُشْتَبِكَةٌ .
نافع عبداللہ بن عمر کے مولیٰ (غلام آزاد) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب نے اپنے عالموں کو لکھا کہ تمہاری سب خدمتوں میں نماز بہت ضروری اور اہم ہے میرے نزدیک جس نے نماز کے مسائل اور احکام یاد کئے اور وقت پر پڑھی تو اس نے اپنا دین محفوظ رکھا جس نے نماز کو تلف کیا تو اور خدمتیں زیادہ تلف کرے گا پھر لکھا نماز پڑھو ظہر کی جب آفتاب ڈھل جائے اور سایہ آدمی کے ایک ہاتھ برابر ہو یہاں تک کہ سایہ آدمی کا اس کے برابر ہو جائے اور نماز پڑھو عصر کی جب تک کہ آفتاب بلند اور سفید رہے ایسا کہ بعد نماز عصر کے اونٹ کی سواری پر چھ میل یا نو میل قبل غروب کے آدمی پہنچ سکے اور نماز پڑھو مغرب کی جب سورج ڈوب جائے اور عشاء کی نماز جب شفق غائب ہو جائے تہائی رات تک جو شخص سو جائے عشا کی نماز سے پہلے تو اللہ کرے نہ لگے آنکھ اس کی نہ لگے آنکھ اس کی نہ لگے آنکھ اس کی اور نماز پڑھو صبح کی اور تارے صاف گھنے ہوئے ہوں ۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۱/۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى أَنْ صَلِّ الظُّهْرَ، إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهَا صُفْرَةٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَأَخِّرِ الْعِشَاءَ مَا لَمْ تَنَمْ وَصَلِّ الصُّبْحَ وَالنُّجُومُ بَادِيَةٌ مُشْتَبِكَةٌ وَاقْرَأْ فِيهَا بِسُورَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ مِنَ الْمُفَصَّلِ .
مالک بن ابی عامر اصبحی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ نماز پڑھ ظہر کی جب سورج ڈھل جائے اور نماز پڑھ عصر کی اور آفتاب سفید صاف ہو زرد نہ ہونے پائے اور نماز پڑھ مغرب کی جب سورج ڈوبے اور دیر کر عشاء کی نماز میں جہاں تک تو جاگ سکے اور نماز پڑھ صبح کی اور تارے صاف گھنے ہوں اور نماز پڑھ فجر کی نماز دو سورتیں لمبی مفصل سے۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۱/۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ أَنْ صَلِّ الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ، بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ قَدْرَ مَا يَسِيرُ الرَّاكِبُ ثَلاَثَةَ فَرَاسِخَ وَأَنْ صَلِّ الْعِشَاءَ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ ثُلُثِ اللَّيْلِ فَإِنْ أَخَّرْتَ فَإِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ وَلاَ تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ نماز پڑھ عصر کی اور آفتاب سفید ہو اتنا دن ہو کہ اونٹ کا سوار بعد نماز عصر کے نو میل جا سکے اور پڑھ عشاء کی نماز تہائی رات تک آخر درجہ آدھی رات تک اور غافل مت ہو۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۱/۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا أُخْبِرُكَ صَلِّ الظُّهْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَكَ وَالْعَصْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَيْكَ وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ ثُلُثِ اللَّيْلِ وَصَلِّ الصُّبْحَ بِغَبَشٍ . يَعْنِي الْغَلَسَ .
عبداللہ بن رافع جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بی بی ام سلمہ کے مولیٰ ہیں انہوں نے پوچھا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز کا وقت، کہا ابوہریرہ نے میں بتاؤں تجھ کو نماز پڑھ ظہر کی جب سایہ تیرا تیرے برابر ہو جائے اور عصر کی جب سایہ تیرا تجھ سے دوگنا ہو اور مغرب کی جب آفتاب ڈوب جائے اور عشاء کی تہائی رات کی اور صبح کی اندھیرے منہ ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۱/۱۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَخْرُجُ الإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ .
انس بن مالک کہتے ہیں کہ ہم نماز عصر کی پڑھتے تھے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں پھر ہم میں سے کوئی جاتا بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں تو پاتا ان کو عصر کی نماز میں۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۱/۱۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ .
انس بن مالک کہتے ہیں کہ ہم نماز عصر کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے پھر ہم میں سے کوئی جانے والا قبا کو جاتا تھا پھر وہاں کے لوگوں کو ملتا تھا اور آفتاب بلند رہتا تھا۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۱/۱۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ مَا أَدْرَكْتُ النَّاسَ إِلاَّ وَهُمْ يُصَلُّونَ الظُّهْرَ بِعَشِيٍّ .
قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق کہتے ہیں کہ میں نے تو صحابہ کو ظہر ٹھنڈے وقت پڑھتے دیکھا۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۱/۱۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ أَرَى طِنْفِسَةً لِعَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تُطْرَحُ إِلَى جِدَارِ الْمَسْجِدِ الْغَرْبِيِّ فَإِذَا غَشِيَ الطِّنْفِسَةَ كُلَّهَا ظِلُّ الْجِدَارِ خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَصَلَّى الْجُمُعَةَ - قَالَ مَالِكٌ وَالِدُ أَبِي سُهَيْلٍ - ثُمَّ نَرْجِعُ بَعْدَ صَلاَةِ الْجُمُعَةِ فَنَقِيلُ قَائِلَةَ الضَّحَاءِ .
مالک بن ابی عامر اصبحی سے روایت ہے کہا انہوں نے میں دیکھتا تھا ایک بوریا عقیل بن ابی طالب کا ڈالا جاتا تھا جمعہ کے دن مسجد نبوی کے پچھم کی طرف کی دیوار کے تلے تو جب سارے بوریے پر دیوار کا سایہ آجاتا عمر بن خطاب نکلتے اور نماز پڑھتے جمعہ کی مالک نے کہا کہ ہم بعد نماز کے آ کر چاشت کے عوض سو رہا کرتے۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۱/۱۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَلِيطٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، صَلَّى الْجُمُعَةَ بِالْمَدِينَةِ وَصَلَّى الْعَصْرَ بِمَلَلٍ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ لِلتَّهْجِيرِ وَسُرْعَةِ السَّيْرِ .
عبداللہ بن اسید بن عمرو بن قیس سے روایت ہے کہ عثمان نے نماز پڑھی جمعہ کی مدینہ میں اور عصر کی ملل میں
۱۵
مؤطا امام مالک # ۱/۱۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاَةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَةَ " .
۱۶
مؤطا امام مالک # ۱/۱۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، كَانَ يَقُولُ إِذَا فَاتَتْكَ الرَّكْعَةُ فَقَدْ فَاتَتْكَ السَّجْدَةُ .
ابوہریرہ نے روایت کیا ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے ایک رکعت نماز میں سے پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۱/۱۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، كَانَا يَقُولاَنِ مَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ السَّجْدَةَ .
۱۸
مؤطا امام مالک # ۱/۱۸
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يَقُولُ مَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ السَّجْدَةَ وَمَنْ فَاتَهُ قِرَاءَةُ أُمِّ الْقُرْآنِ فَقَدْ فَاتَهُ خَيْرٌ كَثِيرٌ .
عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ جب قضا ہو جائے رکوع تیرا تو قضا ہو گیا سجدہ تیرا ۔ امام مالک کہتے ہیں کہ مجھے پہنچا عبداللہ بن عمر اور زید بن ثابت سے کہ وہ دونوں فرماتے تھے جس نے رکوع پایا تو اس نے سجدہ پا لیا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے وہ فرماتے تھے کہ جس شخص نے رکوع پالیا تو اس نے سجدہ پا لیا یعنی رکعت پائی اور جس کو سورت فاتحہ پڑھنا نہ ملا تو اس کی بہت خیر جاتی رہی۔
۱۹
مؤطا امام مالک # ۱/۱۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ دُلُوكُ الشَّمْسِ مَيْلُهَا .
روایت ہے نافع سے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے دلوک الشمس سے آفتاب کا ڈھلنا مراد ہے ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۱/۲۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ دُلُوكُ الشَّمْسِ إِذَا فَاءَ الْفَىْءُ وَغَسَقُ اللَّيْلِ اجْتِمَاعُ اللَّيْلِ وَظُلْمَتُهُ .
عبداللہ بن عباس کہتے تھے کہ دلوک الشمس جب ہوتا ہے کہ سایہ پلٹے پچھم سے پورب کو اور غسق اللیل رات کا گزرنا اور اندھیر اس کا ۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۱/۲۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص کی قضاء ہو جائے عصر کی نماز تو گویا لٹ گیا گھر بار اس کا ۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۱/۲۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ فَلَقِيَ رَجُلاً لَمْ يَشْهَدِ الْعَصْرَ فَقَالَ عُمَرُ مَا حَبَسَكَ عَنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ فَذَكَرَ لَهُ الرَّجُلُ عُذْرًا فَقَالَ عُمَرُ طَفَّفْتَ . قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَيُقَالُ لِكُلِّ شَىْءٍ وَفَاءٌ وَتَطْفِيفٌ .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب عصر کی نماز پڑھ کر لوٹے ایک شخص سے ملاقات ہوئی جو عصر کی نماز میں نہ تھا پوچھا آپ نے، کس وجہ سے تم رک گئے جماعت میں آنے سے؟ اس نے کچھ عذر بیان کیا تب فرمایا آپ نے طففت کہا امام مالک طففت تطفیف سے ہے عرب لوگ کہا کرتے ہیں لکل شییء وفاء وتطفیف
۲۳
مؤطا امام مالک # ۱/۲۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِنَّ الْمُصَلِّيَ لَيُصَلِّي الصَّلاَةَ وَمَا فَاتَهُ وَقْتُهَا وَلَمَا فَاتَهُ مِنْ وَقْتِهَا أَعْظَمُ - أَوْ أَفْضَلُ - مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ . قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ مَنْ أَدْرَكَ الْوَقْتَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَأَخَّرَ الصَّلاَةَ سَاهِيًا أَوْ نَاسِيًا حَتَّى قَدِمَ عَلَى أَهْلِهِ أَنَّهُ إِنْ كَانَ قَدِمَ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ فِي الْوَقْتِ فَلْيُصَلِّ صَلاَةَ الْمُقِيمِ وَإِنْ كَانَ قَدْ قَدِمَ وَقَدْ ذَهَبَ الْوَقْتُ فَلْيُصَلِّ صَلاَةَ الْمُسَافِرِ لأَنَّهُ إِنَّمَا يَقْضِي مِثْلَ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ . قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا الأَمْرُ هُوَ الَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ النَّاسَ وَأَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا . وَقَالَ مَالِكٌ الشَّفَقُ الْحُمْرَةُ الَّتِي فِي الْمَغْرِبِ فَإِذَا ذَهَبَتِ الْحُمْرَةُ فَقَدْ وَجَبَتْ صَلاَةُ الْعِشَاءِ وَخَرَجْتَ مِنْ وَقْتِ الْمَغْرِبِ .
یحیی بن سعید کہتے تھے کہ نمازی کبھی نماز پڑھتا ہے اور وقت جاتا نہیں رہتا لیکن جس قدر وقت گزر گیا وہ اچھا اور بہتر تھا اس کے گھر بار سے۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۱/۲۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَذَهَبَ عَقْلُهُ فَلَمْ يَقْضِ الصَّلاَةَ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ فِيمَا نَرَى - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - أَنَّ الْوَقْتَ قَدْ ذَهَبَ فَأَمَّا مَنْ أَفَاقَ فِي الْوَقْتِ فَإِنَّهُ يُصَلِّي .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر بے ہوش ہو گئے ان کی عقل جاتی رہی پھر انہوں نے نماز کی قضا نہ پڑھی
۲۵
مؤطا امام مالک # ۱/۲۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَفَلَ مِنْ خَيْبَرَ أَسْرَى حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسَ وَقَالَ لِبِلاَلٍ " اكْلأْلَنَا الصُّبْحَ " . وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ وَكَلأَ بِلاَلٌ مَا قُدِّرَ لَهُ ثُمَّ اسْتَنَدَ إِلَى رَاحِلَتِهِ وَهُوَ مُقَابِلُ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ بِلاَلٌ وَلاَ أَحَدٌ مِنَ الرَّكْبِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بِلاَلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْتَادُوا " . فَبَعَثُوا رَوَاحِلَهُمْ وَاقْتَادُوا شَيْئًا ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَةَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ ثُمَّ قَالَ حِينَ قَضَى الصَّلاَةَ " مَنْ نَسِيَ الصَّلاَةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ {أَقِمِ الصَّلاَةَ لِذِكْرِي } " .
سعید بن المسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب لوٹے جنگ خیبر سے رات کو چلے جب اخیر رات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتر پڑے اور بلال سے فرمایا صبح کی نماز کا تم خیال رکھو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے اور جب تک اللہ کو منظور تھا بلال جاگتے رہے پھر بلال نے تکیہ لگایا اپنے اونٹ پر اور منہ اپنا صبح کی طرف کئے رہے اور لگ گئی آنکھ بلال کی تو نہ جاگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور نہ بلال اور نہ کوئی شتر سوار یہاں تک کہ پڑنے لگی ان پر تیزی دھوپ کی تب چونک اٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور فرمایا کیا ہے یہ اے بلال کہا بلال نے زور کیا مجھ پر اس چیز نے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر زور کیا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کرو تو لادے لوگوں نے کجاوے اپنے۔ تھوڑٰی دور چلے تھے کہ حکم کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو تکبیر کہنے کا تو تکبیر کہی بلال نے نماز کی پھر نماز پڑھی رسول اللہ نے فجر کی۔ بعد اس کے فرمایا جب نماز پڑھ چکے جو شخص بھول جائے نماز کو تو چاہیے کہ پڑھ لے اس کو جب یاد آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قائم کر نماز کو جس وقت یاد کرے مجھ کو ۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۱/۲۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّهُ قَالَ عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً بِطَرِيقِ مَكَّةَ وَوَكَّلَ بِلاَلاً أَنْ يُوقِظَهُمْ لِلصَّلاَةِ فَرَقَدَ بِلاَلٌ وَرَقَدُوا حَتَّى اسْتَيْقَظُوا وَقَدْ طَلَعَتْ عَلَيْهِمُ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ الْقَوْمُ وَقَدْ فَزِعُوا فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَرْكَبُوا حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْ ذَلِكَ الْوَادِي وَقَالَ " إِنَّ هَذَا وَادٍ بِهِ شَيْطَانٌ " . فَرَكِبُوا حَتَّى خَرَجُوا مِنْ ذَلِكَ الْوَادِي ثُمَّ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْزِلُوا وَأَنْ يَتَوَضَّئُوا وَأَمَرَ بِلاَلاً أَنْ يُنَادِيَ بِالصَّلاَةِ أَوْ يُقِيمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاسِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ وَقَدْ رَأَى مِنْ فَزَعِهِمْ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَنَا وَلَوْ شَاءَ لَرَدَّهَا إِلَيْنَا فِي حِينٍ غَيْرِ هَذَا فَإِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عَنِ الصَّلاَةِ أَوْ نَسِيَهَا ثُمَّ فَزِعَ إِلَيْهَا فَلْيُصَلِّهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا " . ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ " إِنَّ الشَّيْطَانَ أَتَى بِلاَلاً وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَأَضْجَعَهُ فَلَمْ يَزَلْ يُهَدِّئُهُ كَمَا يُهَدَّأُ الصَّبِيُّ حَتَّى نَامَ " . ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلاَلاً فَأَخْبَرَ بِلاَلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ الَّذِي أَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ .
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رات کو اترے راہ میں مکہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مقرر کیا بلال کو اس پر کہ جگا دیں ان کو واسطے نماز کے تو سو گئے بلال اور سو گئے لوگ پھر جاگے اور سورج نکل آیا تھا اور گھبرائے لوگ تو حکم کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہونے کا تاکہ نکل جائیں اس وادی سے اور فرمایا کہ اس وادی میں شیطان ہے پس سوار ہوئے اور نکل گئے اس وادی سے تب حکم کیا ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اترنے کا اور وضو کرنے کا اور حکم کیا بلال کو اذان کا یا تکبیر کا پھر متوجہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف اور دیکھا ان کی گھبراہٹ کو تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو۔ بے شک روک رکھا تھا اللہ تعالیٰ نے ہماری جانوں کو اور اگر چاہتا تو وہ پھیر دیتا ہماری جانوں کو سوا اس وقت کے اور کسی وقت تو جب سو جائے کوئی تم میں سے نماز سے یا بھول جائے اس کی پھر گھبرا کے اٹھے نماز کے لئے تو چاہئے کہ پڑھ لے اس کو جیسے پڑھتا ہے اس کو وقت پر پھر شیطان آیا بلال کے پاس اور وہ کھڑے ہوئے نماز پڑھتے تھے تو لٹا دیا ان کو پھر لگا تھپکنے ان کو جیسے تھپکتے ہیں بچے کو یہاں تک کہ سو رہے وہ پھر ہلایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو پس بیان کیا بلال نے اسی طرح جیسے فرمایا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حال ان کو پس بیان کیا بلال نے اسی طرح جیسے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حال ان کا ابوبکر سے تو کہا ابوبکر نے میں گواہی دیتا ہوں اس امر کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔
۲۷
مؤطا امام مالک # ۱/۲۷
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ " . وَقَالَ " اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا . فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ فِي كُلِّ عَامٍ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ " .
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیزی گرمی کی جہنم کے جوش سے ہے تو جب تیز ہو گرمی تاخیر کرو نماز میں ٹھنڈک تک اور فرمایا آپ نے شکوہ کیا آگ نے اپنے پروردگار سے اور کہا اے پروردگار میں اپنے آپ کو کھانے لگی تو اذن دیا اس کو پروردگار نے دو سانس کا ہر سانس لینے کا جاڑے میں اور سانس نکالنے کا گرمی میں ۔
۲۸
مؤطا امام مالک # ۱/۲۸
وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " . وَذَكَرَ " أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تیز گرمی ہو تو تاخیر کرو نماز کی ٹھنڈک تک اس لئے کہ تیزی گرمی کی جہنم کے جوش سے ہے اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آگ نے گلہ کیا پروردگار سے تو اذن دیا پروردگار نے اس کو دو سانسوں کا ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں۔
۲۹
مؤطا امام مالک # ۱/۲۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تیز گرمی ہو تو تاخیر کرو نماز کی ٹھنڈک تک کیونکہ تیزی گرمی کی جہنم کے جوش سے ہے ۔
۳۰
مؤطا امام مالک # ۱/۳۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلاَ يَقْرُبْ مَسَاجِدَنَا يُؤْذِينَا بِرِيحِ الثُّومِ " .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص نے کھایا اس درخت میں سے (یعنی لہسن میں سے) تو نزدیک نہ ہو ہماری مسجدوں کے تاکہ ہم کو تکلیف دے اس کی بو سے ۔
۳۱
مؤطا امام مالک # ۱/۳۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبَّرِ، أَنَّهُ كَانَ يَرَى سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ إِذَا رَأَى الإِنْسَانَ يُغَطِّي فَاهُ وَهُوَ يُصَلِّي جَبَذَ الثَّوْبَ عَنْ فِيهِ جَبْذًا شَدِيدًا حَتَّى يَنْزِعَهُ عَنْ فِيهِ .
عبدالرحمن بن مجبر سے روایت ہے کہ سالم بن عبداللہ بن عمر جب کسی کو دیکھتے تھے کہ منہ اپنا ڈھانپے ہے نماز میں کھینچ لیتے تھے کپڑا زور سے یہاں تک کہ کھل جاتا اس کا منہ ۔