سورج گرہن
ابواب پر واپس
۱۳۵ حدیث
۰۱
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۲۳
وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ بِشْرٍ، - قَالَ أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، - حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ عُمَارَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں عمارہ بن غزیہ نے یحییٰ بن عمارہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنے مرنے والے لوگوں کو لاالٰہ الا اللہ کی تلقین کرو ۔
۰۲
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۲۴
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، جَمِيعًا بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
عبدالعزیز دراوردی اور سلیمان بن بلال نے اسی ( مذکورہ بالا ) سند سے ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
۰۳
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۲۵
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ح وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اپنے مرنے والے لوگوں کو لاالٰہ الا اللہ کی تلقین کرو ۔
۰۴
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۲۶
وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ زَجَرَ النَّبِيُّ صلى
الله عليه وسلم أَنْ تَصِلَ الْمَرْأَةُ بِرَأْسِهَا شَيْئًا ‏.‏
اسماعیل بن جعفر نےکہا : مجھے سعد بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے خبر دی ، انھوں نے ( عمر ) ابن سفینہ سے اور انھوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" کوئی مسلمان نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ ( وہی کچھ ) کہے جس کا اللہ نے اسے حکم دیا ہے : "" یقینا ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ، اے اللہ!مجھے میری مصیبت پر اجر دے اور مجھے ( اس کا ) اس سے بہتر بدل عطا فرما "" مگر اللہ تعالیٰ اسے اس ( ضائع شدہ چیز ) کا بہتر بدل عطا فرمادیتا ہے ۔ "" ( ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جب ( میرے خاوند ) ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے تو میں نے ( دل میں ) کہا : کون سا مسلمان ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر ( ہوسکتا ) ہے!وہ پہلا گھرانہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی ۔ پھر میں نے وہ ( کلمات ) کہےتو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں اس کا بدل عطا فرمادیا ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے نکاح کا پیغام دیتے ہوئے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو میرے پا س بھیجا تو میں نے کہا : میری ایک بیٹی ہے اور میں بہت غیرت کرنے والی ہوں ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کی بیٹی کے بارے میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس کو اس ( ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے بے نیاز کردے اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ( بے جا ) غیرت کو ( اس سے ) ہٹا دے ۔
۰۵
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۲۷
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ سَفِينَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ كَمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي خَيْرًا مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ابو اسامہ نے سعد بن سعید سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عمر بن کثیر بن افلح نے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے ابن سفینہ سے سنا ، وہ بیان کررہے تھے کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ کو یہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" کوئی بندہ نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ کہے : بےشک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ اے اللہ!مجھے میری مصیبت کا اجردے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما ، مگر اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتاہے اور اسے اس کا بہتر بدل عطا فرماتاہے ۔ "" ( حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : تو جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے ، میں نے اس طرح کہا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں ان سے بہتر بدل عطا فرمادیا ۔
۰۶
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۲۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ
كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلاَتٌ مَائِلاَتٌ رُءُوسُهُنَّ
كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لاَ يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلاَ يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ
كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں سعد بن سعید نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے عمر بن کثیر نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابن سفینہ سے خبر دی اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ابو اسامہ کی حدیث کے مانند ( حدیث بیان کی ) اور یہ اضافہ کیا : حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نےکہا : جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے تو میں نے ( دل میں ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر کون ہوسکتاہے؟پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ارادے کو پختہ کردیا تو میں نےوہی ( کلمات ) کہے ۔ اس کے بعد میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی ہوگئی ۔
۰۷
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۲۹
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ
أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُولُ إِنَّ زَوْجِي أَعْطَانِي مَا لَمْ يُعْطِنِي
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلاَبِسِ ثَوْبَىْ زُورٍ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم مریض یا مرنے والے کے پاس جاؤ تو بھلائی کی بات کہو کیونکہ جو تم کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔ " کہا : جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ابو سلمہ وفات پاگئے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " تم ( یہ کلمات ) کہو : اےاللہ! مجھے اور اس کو معاف فرما اور اس کے بعد مجھے اس کا بہترین بدل عطا فرما ۔ " کہا : میں نے ( یہ کلمات ) کہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کےبعد وہ دے دیے جو میرے لئے ان سے بہتر ہیں ، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔
۰۸
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۳۰
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ ‏"‏ ‏.‏ فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلاَّ بِخَيْرٍ فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ ‏.‏ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
ابو اسحاق فزاری نے خالد حذا سے ، انھوں نے ابو قلابہ سے ، انھوں نے قبیصہ بن ذویب سے اور انھوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تشریف لائے ، اس وقت ان کی آنکھیں کھلی ہوئیں تھیں تو آپ نے انھیں بند کردیا ، پھر فرمایا : " جب روح قبض کی جاتی ہے تو نظر اس کا پیچھاکرتی ہے ۔ " اس پر انکے گھر کے کچھ لوگ چلا کر ر ونے لگے تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تم اپنے لئے بھلائی کے علاوہ اور کوئی دعا نہ کرو کیونکہ تم جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ!ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مغفرت فرما ، ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کے درجات بلند فرما اور اس کے پیچھے رہ جانے والوں میں تو اس کا جانشین بن اور اے جہانوں کے پالنے والے!ہمیں اور اس کو بخش دے ، اس کے لئے اس کی قبر میں کشادگی عطا فرما اور اس کے لئے اس ( قبر ) میں روشنی کردے ۔
۰۹
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۳۱
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا وَقَالَ،
ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا وَاللَّفْظُ، لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ - عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ
أَنَسٍ، قَالَ نَادَى رَجُلٌ رَجُلاً بِالْبَقِيعِ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ‏.‏ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلاَنًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم ‏
"‏ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ‏"‏ ‏.‏
عبیداللہ بن حسن نے کہا : ہمیں خالد حذاء نے اسی ( مذکورہ بالا ) سند کے ساتھ اس ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی ، اس کے سوا کہ انھوں نے ( واخلفه في عقبه کے بجائے ) واخلفه في تركته ( جو کچھ اس نے چھوڑا ہے ، یعنی اہل ومال ، اس میں اس کا جانشین بن ) کہا ، اور انھوں نےاللهم!اوسع له في قبره ( اے اللہ!اس کے لئے اس کی قبر میں وسعت پیدا فرما ) کہا اورافسح له ( اوراس کے لئے کشادگی پیدا فرما ) نہیں کہا اور ( عبیداللہ نے ) یہ زائد بیان کیا کہ خالد حذاء نے کہا : ایک اور ساتویں دعا کی جسے میں بھول گیا ۔
۱۰
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۳۲
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ، - وَهُوَ الْمُلَقَّبُ بِسَبَلاَنَ - أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ
عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ، سَمِعَهُ مِنْهُمَا، سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةٍ يُحَدِّثَانِ عَنْ
نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى
اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ‏"‏ ‏.‏
ابن جریج نے علاء بن یعقوب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے میرے والد نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیاتم انسان کو دیکھتے نہیں کہ جب وہ فوت ہوجاتاہے تو اس کی نظر اٹھ جاتی ہے؟ " لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی نظر اس کی روح کا پیچھا کرتی ہے ۔
۱۱
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۳۳
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنِ الْعَلاَءِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
عبدالعزیز دراوردی نے ( بھی ) علاء سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) روایت بیان کی ۔
۱۲
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۳۴
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالُوا
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ
أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمَ يَقُلْ سَمِعْتُ ‏.‏
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے ، میں نے ( دل میں ) کہا : پردیسی ، پردیس میں ( فوت ہوگیا ) میں اس پر ایسا روؤں گی کہ اس کا خوب چرچا ہوگا ، چنانچہ میں نے اس پر رونے کی تیاری کرلی کہ اچانک بالائی علاقے سے ایک عورت آئی ، وہ ( رونے میں ) میرا ساتھ دینا چاہتی تھی کہ اسے سامنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئےتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " کیا تم شیطان کو اس گھر میں ( دوبارہ ) داخل کرنا چاہتی ہو ۔ جہاں سے اللہ نے اس کو نکال دیا ہے؟ " دوبار ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات کہے ) تو میں ر ونے سے رک گئی اور نہ روئی ۔
۱۳
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۳۵
المغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ
وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ
سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ لَمَّا قَدِمْتُ نَجْرَانَ سَأَلُونِي
فَقَالُوا إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ يَا أُخْتَ هَارُونَ وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى
رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏
"‏ إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِأَنْبِيَائِهِمْ
وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
حماد بن زید نے عاصم احول سے ، انھوں نے ابو عثمان نہدی سے اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ کی بیٹیوں میں سے ایک نے آپ کو بلاتے ہوئے اور اطلاع دیتے ہوئے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ اس کابچہ ۔ ۔ ۔ یااس کا بیٹا ۔ ۔ ۔ موت ( کے عالم ) میں ہے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیام لانے والےسے فرمایا : " ان کے پاس واپس جا کر ان کو بتاؤ کہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اوراسی کا ہے ۔ جو اس نے دیا تھا اور اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے ، اور ان کو بتادو کہ وہ صبر کریں اور اجر وثواب کی طلب گار ہوں ۔ " پیام رساں دوبارہ آیا اور کہا : انھوں نے ( آپ کو ) قسم دی ہے کہ آپ ان کے پاس ضرور تشریف لائیں ۔ کہا : اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا ، آپ کے سامنے بچے کو پیش کیا گیا جبکہ اس کا سانس اکھڑا ہواتھا ، ( جسم اس طرح مضطرب تھا ) جیسے اس کی جان پرانے مشکیزے میں ہوتو آپ کی آنکھیں بہہ پڑیں ، اس پر حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ کیا ہے؟آپ نے فرمایا؛ " یہ رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں ہی پر رحم فرماتا ہے ۔
۱۴
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۳۶
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، جَمِيعًا عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ حَمَّادٍ أَتَمُّ وَأَطْوَلُ ‏.‏
ابن فضیل اور ابو معاویہ ہر ایک نے عاصم احول سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کی مانند ) حدیث بیان کی ، البتہ حماد کی حدیث زیادہ مکمل اور زیادہ لمبی ہے ۔
۱۵
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۳۷
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَجَدَهُ فِي غَشِيَّةٍ فَقَالَ ‏"‏ أَقَدْ قَضَى ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَكَوْا فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لاَ يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلاَ بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا - وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ - أَوْ يَرْحَمُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیماری میں مبتلا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےساتھ ان کی عیادت کے لئے ان کے پاس تشریف لے گئے ۔ جب آپ ان کے ہاں داخل ہوئے تو انھیں غشی کی حالت میں پایا ، آپ نے پوچھا : " کیا انھوں نے اپنی مدت پوری کرلی ( وفات پاگئے ہیں ) ؟ " لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روپڑے ، جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھاتو انہوں نے بھی روناشروع کردیا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم سنو گے نہیں کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو اور دل کے غم پر سزا نہیں دیتا بلکہ اس ۔ ۔ ۔ آپ نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کیا ۔ ۔ ۔ کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم کرتا ہے ۔
۱۶
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۳۸
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو
الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْهَى عَنْ
أَنْ يُسَمَّى بِيَعْلَى وَبِبَرَكَةَ وَبِأَفْلَحَ وَبِيَسَارٍ وَبِنَافِعٍ وَبِنَحْوِ ذَلِكَ ثُمَّ رَأَيْتُهُ سَكَتَ بَعْدُ عَنْهَا
فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ أَرَادَ عُمَرُ
أَنْ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ تَرَكَهُ ‏.‏
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی آیا ، اس نے آپ کو سلام کہا اور پھر وہ انصاری پشت پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے انصار کے بھائی ( انصاری ) !میرے بھائی سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کیا حال ہے ؟ " اس نے عرض کی : وہ اچھا ہے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کون اسکی عیادت کرے گا؟ " پھر آپ اٹھے اور آپ کےساتھ ہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے ، ہم دس سے زائد لوگ تھے ، ہمارے پاس جوتے نہ تھے نہ موزے ، نہ ٹوپیاں اور نہ قمیص ہی ۔ ہم اس شوریلی زمین پر چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئے ، ان کی قوم کے لوگ ان کے ارد گرد سے پیچھے ہٹ گئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جو آپ کےساتھ تھے ، ( ان کے ) قریب ہوگئے ۔
۱۷
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۳۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى ‏"‏ ‏.‏
محمد یعنی جعفر ( الصادق ) کے فرزند نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے ثابت سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صبر پہلے صدمے کے وقت ہے ( اس کے بعد تو انسان غم کو آہستہ آہستہ برداشت کرنے لگتاہے ۔)
۱۸
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۴۰
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ
مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا
بَرَّةَ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ
مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ عَنْ كُرَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‏.‏
عثمان بن عمر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ثابت بنانی کے حوالےسے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس آئے جو اپنے بچے ( کی موت ) پر رورہی تھی تو آپ نے ان سے فرمایا : " اللہ کاتقویٰ اختیار کرواورصبر کرو " اس نے کہا : آپ کو میری مصیبت کی کیاپروا؟جب آپ چلے گئے تو اس کو بتایا گیا کہ وہ ( تمھیں صبر کی تلقین کرنے والے ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ تو اس عورت پر موت جیسی کیفیت طاری ہوگئی ، وہ آپ کے دروازے پر آئی تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر دربان نہ پائے ۔ اس نےکہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے ( اس وقت ) آپ کو نہیں پہچانا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ( حقیقی ) صبر پہلے صدمے یا صدمے کے آغاز ہی میں ہوتا ہے ۔
۱۹
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۴۱
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي،
هُرَيْرَةَ ح
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ،
عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ، كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ فَقِيلَ تُزَكِّي نَفْسَهَا ‏.‏ فَسَمَّاهَا
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ ‏.‏ وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِهَؤُلاَءِ دُونَ ابْنِ بَشَّارٍ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ
أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ‏.‏
خالد بن حارث ، عبدالملک بن عمرو ، اور عبدالصمد سب نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ عثمان بن عمر کے سنائے گئے واقعے کے مطابق اس کی حدیث کی طرح حدیث سنائی ۔ اورعبدالصمد کی حدیث میں ( یہ جملہ ) ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرکے پاس ( بیٹھی ہوئی ) ایک عورت کے پاس سے گزرے ۔
۲۰
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۴۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ بِشْرٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ حَفْصَةَ، بَكَتْ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ مَهْلاً يَا بُنَيَّةُ أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
نافع نے حضرت عبد اللہ ( بن عمر ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سید نا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کی حالت ) پر رونے لگیں تو انھوں نے کہا : اے میری بیٹی !رک جا ؤ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا : " میت کو اس پر اس کے گھروالوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جا تا ہے
۲۱
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۴۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ کو سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطے سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روا یت کی ، آپ نے فر ما یا : " میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے جا نے والے نو حے سے عذاب دیا جا تاہے ۔
۲۲
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۴۴
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
سعید ( بن ابی عروبہ ) نے قتادہ سے انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فر ما یا : " میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے جا نے والے نو حے سے عذاب دیا جا تا ہے ۔
۲۳
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۴۵
ابو موسی اشعری (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا
أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى
الله عليه وسلم فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ ‏.‏
ابو صالح نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی کیا گیاوہ بے ہو ش ہو گئے تب ان پر بلند آواز سے چیخ و پکار کی گئی جب ان کو افاقہ ہوا تو انھوں نے کہا : کیا تم لوگ جانتے نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " میت کو زندہ کے رونے سے عذاب دیا جا تا ہے ؟
۲۴
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۴۶
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ جَعَلَ صُهَيْبٌ يَقُولُ وَاأَخَاهْ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ ‏"‏ ‏.‏
۔ ( ابو اسحاق ) شیبانی نے ابو بردہ سے اور انھوں نے اپنے والد ( حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب حضڑت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی کیا گیا تو حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہنا شروع کر دیا : ہائے میرا بھا ئی ! تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : صہیب !کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " زندہ کے رونے سے میت کو عذاب دیا جا تا ہے :
۲۵
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۴۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، - يَعْنِي ابْنَ
عُرْوَةَ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ
فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّكُهُمْ ‏.‏
عبد الملک بن عمیر نے ابو بردہ بن ابی موسیٰ سے اور انھوں نے ( اپنے والد ) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی ہو ئے تو صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر سے آئے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پا س اندر داخل ہو ئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : کیوں رو رہے ہو؟ کیا مجھ پر رو رہے ہو ؟ کہا : اللہ کی قسم !ہاں ، امیر المومنین!آپ ہی پر رو رہا ہوں ۔ تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم !تمھیں خوب علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا جس پر آہ و بکا کی جا ئے اسے عذاب دیا جا تا ہے ۔ ( عبد الملک بن عمیر نے ) کہا : میں نے یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ کے سامنے بیان کی تو انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہا کرتی تھیں ( یہ ) یہودیوں کا معاملہ تھا ۔ ( دیکھیے حدیث نمبر2153 ) ۔
۲۶
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۴۸
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ
عَائِشَةَ، قَالَتْ جِئْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُحَنِّكُهُ فَطَلَبْنَا تَمْرَةً
فَعَزَّ عَلَيْنَا طَلَبُهَا ‏.‏
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان پر واویلا کیا انھوں نے کہا : اے حفصہ !کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے نہیں سنا کہ جس پر واویلا کیاجا تا ہے اسے عذاب دیا جا تا ہے اور ( اسی طرح ) صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی واویلا کیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : صہیب !کیا تمھیں علم نہیں : " جس پر واویلا کیا جا ئے اس کو عذاب دیا جا تا ہے ؟
۲۷
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۵۱
انس بی ملک رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ،
مَالِكٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ يَا بُنَىَّ ‏"‏ ‏.‏
عمرو ( بن دینا ر ) نے ابن ابی ملیکہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : ہم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی اُم ابان کے جنا زے میں ( حاضر ) تھے ۔ ۔ ۔ اور مذکورہ حدیث بیان کی ، انھوں ( عمرو ) نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( آگے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روا یت مرفوع ہو نے کی صراحت نہیں کی جس طرح ایوب اور ابن جریج نے اس کی صراحت کی ہے اور ان دو نوں کی حدیث سے زیادہ مکمل ہے ۔
۲۸
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۵۲
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّحَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ ‏"‏ ‏.‏
سالم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میت کو زندہ کے رونے سے عذاب دیا جا تا ہے ۔
۲۹
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۵۳
وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ‏.‏ فَقَالَتْ رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ شَيْئًا فَلَمْ يَحْفَظْهُ إِنَّمَا مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏ "‏ أَنْتُمْ تَبْكُونَ وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ ‏"‏ ‏.‏
حماد بن زید نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد سے روا یت کی انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روایت کردہ قول بیان کیا گیا : میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جا تا ہے تو انھوں نے کہا : اللہ عبد الرحمٰن پر رحم فر ما ئے انھوں نے ایک چیز کو سنا لیکن ( پوری طرح ) محفوظ نہ رکھا ( امرواقع یہ ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک یہودی کا جنا زہ گزرا اور وہ لو گ اس پر رو رہے تھے تو آپ نے فر ما یا : " تم رو رہے ہو اور اسے عذاب دیا جا رہا ہے ۔
۳۰
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۵۴
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، يَرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ وَهَلَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ أَوْ بِذَنْبِهِ وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الآنَ ‏"‏ ‏.‏ وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ وَفِيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لَهُمْ مَا قَالَ ‏"‏ إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ وَهَلَ إِنَّمَا قَالَ ‏"‏ إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَرَأَتْ ‏{‏ إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى‏}‏ ‏{‏ وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ‏}‏ يَقُولُ حِينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ ‏.‏
ابو اسامہ نے ہشام سے اور انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے روایت کی انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس اس بات کا ذکر کیا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً یہ بیان کرتے ہیں میت کو اس کی قبر میں اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جا تا ہے ۔ " انھوں نے کہا : وہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بھول گئے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فر ما یا تھا : " اس ( مرنےوالے ) کو اس کی غلطی یا گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اب اسی وقت اس پر رورہے ہیں اور یہ ( بھول ) ان ( اعبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی اس روا یت کے مانند ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دب اس کنویں ( کے کنارے ) پر کھڑے ہو ئے جس بدر میں قتل ہو نے والے مشرکوں کی لا شیں تھیں تو آپ نے ان سے جو کہنا تھا کہا ( اور فرمایا : " اب ) جو میں کہہ رہا ہوں وہ اس کو بخوبی سن رہے ہیں ۔ حالا نکہ ( اس بات میں بھی ) وہ بھول گئے آپ نے تو فر ما یا تھا : " یہ لو گ بخوبی جانتے ہیں کہ میں ان سے ( دنیامیں ) جو کہاکرتا تھا وہ حق تھا ۔ " پھر انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے ( یہ آیتیں پڑھیں ) " اور بے شک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا ۔ " اور تو ہر گز انھیں سنانے والا نہیں جو قبروں میں ہیں ( گویا ) آپ یہ کہہ رہے ہیں : جبکہ وہ آگ میں اپنے ٹھکانے بنا چکے ہیں ( اور وہ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ جو ان سے کہا گیا تھا وہی سچ ہے یعنی ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دو روایتوں کا اصل بیان محفوظ نہیں رکھ سکے ۔)
۳۱
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۵۵
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَحَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ أَتَمُّ ‏.‏
وکیع نے بیان کیا کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے اسی سند سے ابو اسامہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنا ئی اور ابو اسامہ کی ( مذکورہ بالا ) حدیث زیادہ مکمل ہے ۔
۳۲
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۵۶
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتْ عَائِشَةَ، وَذُكِرَ، لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا ‏"‏ ‏.‏
عمرہ بنت عبد الرحمٰن نے خبردی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ( اس موقع پر ) ان کے سامنے بیان کیا گیا تھا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ ابو عبد الرحمٰن کو معاف فر ما ئے !یقیناً انھوں نے جھوٹ نہیں بو لا لیکن وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہو گئی ہے ( امرواقع یہ ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت ( کے جنازے ) کے پاس سے گزرے جس پر آہ و بکارکی جا رہی تھی تو آپ نے فر ما یا : " یہ لو گ اس پر رو رہے ہیں اور اس کو اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہاہے ۔
۳۳
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۵۷
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ
لِيَحْيَى وَأَبِي كَامِلٍ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ،
اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه
وسلم فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ أَوْ مَشَاقِصَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ ‏.‏
وکیع نے سعید بن عبید طائی اور محمد بن قیس سے اور انھوں نے علی بن ربیعہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کو فہ میں سب سے پہلے جس پر نو حہ کیا گیا وہ قرظہ بن کعب تھا اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا ہے ۔ " جس پر نوھہ کیا گیا اسے قیامت کے دن اس پر کیے جا نے والے نو حے ( کی وجہ ) سے عذاب دیا جا ئے گا ۔
۳۴
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۵۸
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، الأَسْدِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الأَسْدِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏
ہمیں علی بن مسہر نے حدیث بیان کی ، ( کہا ) ہمیں محمد بن قیس نے علی بن ربیعہ سے خبر دی انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
۳۵
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۵۹
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، الطَّائِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏
مروان بن معاویہ فزاری نے کہا : ہمیں سعید بن عبید طا ئی نے علی بن ربیعہ سے حدیث سنا ئی انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
۳۶
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۶۰
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ،
مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ
أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ
عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میری امت میں جا ہلیت کے کا موں میں سے چار باتیں ( موجود ) ہیں وہ ان کو ترک نہیں کریں گے اَحساب ( باپ داداکے اصلی یا مزعومہ کا ر ناموں ) پر فخر کرنا ( دوسروں کے ) نسب پر طعن کرنا ستاروں کے ذریعے سے بارش مانگنا اور نوحہ کرنا ۔ اور فر ما یا " نوحہ کرنے والی جب اپنی مو ت سے پہلے تو بہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس کو اس حالت میں اٹھا یا جا ئے گا کہ اس ( کے بدن ) پر تار کول کا لباس اور خارش کی قمیص ہو گی ۔
۳۷
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۶۱
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا
عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ كُنَّا
قُعُودًا بِالأَفْنِيَةِ نَتَحَدَّثُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكُمْ
وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْنَا إِنَّمَا قَعَدْنَا لِغَيْرِ مَا بَاسٍ قَعَدْنَا
نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِمَّا لاَ فَأَدُّوا حَقَّهَا غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ السَّلاَمِ وَحُسْنُ الْكَلاَمِ ‏"‏
‏.‏
‏عبد الوہاب نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے عمرہ نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ فر ما رہی تھیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زید بن حارثہ جعفر بن ابی طالب اور عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل ( شہید ) ہو نے کی خبر پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ) مسجد میں ) بیٹھے کہ آپ ( کے چہرہ انور ) پر غم کا پتہ چل رہا تھا کہا : میں دروازے کی جھری ۔ ۔ ۔ دروازے کی درز ۔ ۔ ۔ ے دیکھ رہی تھی کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !جعفر ( کے خاندان ) کی عورتیں اور اس نے ان کے رونے کا تذکرہ کیا آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ جا کر انھیں روکے وہ چلا گیا وہ ( دوبارہ ) آپ کے پاس آیا اور بتا یا کہ انھوں نے اس کی بات نہیں مانی آپ نے اسے دوبارہ حکم دیا کہ وہ جا کر انھیں روکے وہ گیا اور پھر ( تیسری بار ) آپ کے پاس آکر کہنے لگا : اللہ کی قسم !اللہ کے رسول !وہ ہم پر غالب آگئی ہیں کہا : : ان ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جاؤ اور ان کے منہ میں مٹی ڈال دو ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : اللہ تیری ناک خاک آلود کرے !اللہ کی قسم !نہ تم وہ کا م کرتے ہو جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھیں حکم دیا ہے اور نہ ہی تم نے ( باربار بتا کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ( دینا ) ترک کیا ہے ۔
۳۸
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۶۲
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَهُ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْعِيِّ ‏.‏
عبد اللہ بن نمیر ، معاویہ بن صالح اور عبد العزیز بن مسلم نے یحییٰ بن سعید سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی اور عبد العزیز کی حدیث میں ہے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت میں ڈالنے سے باز نہیں آئے ۔
۳۹
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۶۳
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ الْبَيْعَةِ أَلاَّ نَنُوحَ فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلاَّ خَمْسٌ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ الْعَلاَءِ وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ أَوِ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ .‏
محمد ( بن سیرین ) نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے ساتھ ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم نو حہ نہیں کریں گی تو ہم میں سے ان پانچ عورتوں : ام سلیم ، امعلاء ابو سیر ہ کی بیٹی ، معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی یا ابو سیرہ کی بیٹی اور معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کے سواکسی نے ( کماحقہ ) اس کی پاسداری نہیں کی ۔
۴۰
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۶۴
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَسْبَاطٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْبَيْعَةِ أَلاَّ تَنُحْنَ فَمَا وَفَتْ مِنَّا غَيْرُ خَمْسٍ مِنْهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ ‏.‏
ہشام نے حفصہ سے اور انھوں نے حضرت عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں ہم سے یہ عہد لیا کہ تم نو حہ نہیں کرو گی ہم میں سے پانچ کے سوا کسی نے اس کی ( کماحقہ ) پاسداری نہیں کی ، ان ( پانچ ) میں سے ایک ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں ۔
۴۱
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۶۵
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ، عَطِيَّةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لاَ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا‏}‏ ‏{‏ وَلاَ يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ‏}‏ قَالَتْ كَانَ مِنْهُ النِّيَاحَةُ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ آلَ فُلاَنٍ فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلاَ بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِلاَّ آلَ فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏
عاصم نے حفصہ سے اور انھوں نے حضرت اُم عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب یہ آیت نازل ہو ئی : " عورتیں آپ سے بیعت کریں کہ وہ اللہ تعا لیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی ۔ ۔ ۔ اور کسی نیک کا م میں آپ کی مخالفت نہیں کریں گی ۔ " کہا : اس ( عہد ) میں سے ایک نو حہ گری ( کی شق ) بھی تھی تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !فلا ں خاندان کے سوا کیونکہ انھوں نے جا ہلیت کے دور میں ( نوھہ کرنے پر ) میرے ساتھ تعاون کیا تھا تو اب میرے لیے بھی لا زمی ہے کہ میں ( ایک بار ) ان کے ساتھ تعاون کروں ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " فلاں کے خاندان کے سوا ۔
۴۲
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۶۶
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ،
قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ
يَهُودَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏
وَعَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ ‏"‏ بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ
عَلَيْهِمْ وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلاَ يُجَابُونَ عَلَيْنَا ‏"‏ ‏.‏
محمد بن سیرین نے کہا : حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا ہمیں جنازوں کے ساتھ جا نے سے روکا جا تا تھا لیکن ہمیں سختی کے ساتھ حکم نہیں دیا گیا ۔
۴۳
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۶۷
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا ‏.‏
حفصہ نے حجرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں جنازوں کے ساتھ جا نے سے رو کا گیا لیکن ہمیں سختی کے ساتھ حکم نہیں دیا گیا ۔
۴۴
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۶۸
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ ‏"‏ اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ ‏"‏ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏
یزید بن زریع نے ایوب سے انھوں نے محمد بن سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لا ئے آپ نے فر ما یا : " اس کو تین پانچ یا اگر تمھا ری را ئے ہو تو اس سے زائد مرتبہ پانی اور بیری ( کے پتوں ) سے غسل دو اور آخری بار میں کا فوریا کا فورمیں سے کچھ ڈال دینا اور جب تم فارغ ہو جا ؤ تو مجھے اطلا ع کر دینا ۔ جب ہم فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپ کو اطلا ع دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فر ما یا : " اس کو اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو
۴۵
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۶۹
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ مَشَطْنَاهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ ‏.‏
حفصہ بنت سیرین نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نے ان ( کے بالوں ) کی کنگھی کر کے تین گندھی ہو ئی لٹیں بنا دیں
۴۶
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۷۰
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ، بْنُ سَعِيدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، كُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ‏.‏
مالک بن انس ، حماد اور ابن علیہ نے ایوب سے انھوں نے محمد سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک وفات پاگئیں ۔ ابن علیہ کی حدیث میں ( یوں ) ہے ( ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لا ئے اور ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں اور مالک کی حدیث میں ہے کہا : جب آپ کی بیٹی وفات پا گئیں تو آپ ہمارے پاس تشریف لا ئے ۔ ۔ ۔ ( اس سے آگے ) ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے محمد ، ان سے ایوب اور ان سے یزید کی حدیث کے مانند ہے
۴۷
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۷۱
جابر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا
هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ،
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ أَلاَ لاَ يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ
إِلاَّ أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا أَوْ ذَا مَحْرَمٍ ‏"‏ ‏.‏
۔ حماد نے ایوب سے ، انھوں نے حفصہ سے اور انھوں نے حجرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس ( سابقہ حدیث ) کی طرح روایت بیان کی ، اس کے سوا کہ آپ نے فر ما یا : " تین ، پانچ سات یا اگر تمھاری رائے ہو تو اس سے زائد بار ( غسل دینا ۔ ) حفصہ نے ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : ہم نے ان کے سر ( کے بالوں ) کی تین گندھی ہو ئی لٹیں بنا دیں ۔
۴۸
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۷۲
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَأَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، قَالَ وَقَالَتْ حَفْصَةُ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتِ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا قَالَ وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ مَشَطْنَاهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ ‏.‏
(اسماعیل ) ابن علیہ نے کہا : ہمیں ایوب نے خبر دی ، انھوں نے کہا : حفصہ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ( بیان کرتے ہو ئے ) کہا : ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فر ما یا : اس کو طاق تعداد میں تین ، پانچ یا سات مرتبہ غسل دو ۔ کہا اور ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہم نے ان ( کے بالوں ) کی کنگھی کر کے تین مینڈھیاں بنا دیں ۔
۴۹
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۷۳
عبداللہ بی۔ عمرو ب العاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، ح وَحَدَّثَنِي
أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ
عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ
دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ فَرَآهُمْ فَكَرِهَ
ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ لَمْ أَرَ إِلاَّ خَيْرًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلاَّ وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ
اثْنَانِ ‏"‏ ‏.‏
عاصم احول نے حفصہ بنت سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( بڑی ) بیٹی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا وفات پا گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فر ما یا : " اسے طاق تعداد میں تین یا پنچ مرتبہ غسل دو اور پانچویں بار ( پانی میں ) کا فور ۔ ۔ ۔ یا کچھ کا فور ۔ ۔ ۔ ڈال دینا اور جب تم غسل سے فارغ ہو جا ؤتو مجھے بتا نا ۔ " ہم نے آپ کو بتا یا تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فر ما یا : " اس ( تہبند ) کو اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو ۔
۵۰
صحیح مسلم # ۱۱/۲۱۷۴
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ،
عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ مَعَ إِحْدَى نِسَائِهِ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَدَعَاهُ فَجَاءَ
فَقَالَ ‏"‏ يَا فُلاَنُ هَذِهِ زَوْجَتِي فُلاَنَةُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَلَمْ أَكُنْ
أَظُنُّ بِكَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى
الدَّمِ ‏"‏ ‏.‏
ہشا م بن حسان نے حفصہ بنت سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشر یف لا ئے اور ہم آپ کی بیٹیوں میں سے ایک کو غسل دے رہی تھیں تو آپ نے فر ما یا : " اسے طاق تعداد میں پانچ یا اس سے زائد بار غسل دینا ۔ ( آگے ) ایوب اور عاصم کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ) اس حدیث میں انھوں نے کہا : ( ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : ہم نے ان کے بالوں کو تین تہائیوں میں گو ندھ دیا ان کے سر کے دو نوں طرف اور انکی پیشانی کے بال ۔