غلام آزاد کرنا
ابواب پر واپس
۱۵۸ حدیث
۰۱
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۰۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ، حَبَّانَ عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ ‏.‏
محمد بن یحییٰ بن حبان نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملامسہ اور منابذہ کی بیعوں سے منع فرمایا
۰۲
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۰۲
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏
ابوزناد نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
۰۳
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۰۳
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
حفص بن عاصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
۰۴
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۰۴
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلِ، بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
۰۵
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۰۵
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو، بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ نُهِيَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ، الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ ‏.‏ أَمَّا الْمُلاَمَسَةُ فَأَنْ يَلْمِسَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَ صَاحِبِهِ بِغَيْرِ تَأَمُّلٍ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَهُ إِلَى الآخَرِ وَلَمْ يَنْظُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا إِلَى ثَوْبِ صَاحِبِهِ‏.‏
عمرو بن دینار نے عطاء بن میناء سے روایت کی کہ انہوں نے ان ( عطاء ) کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : دو قسم کی بیعوں ( یعنی ) ملامسہ اور منابذہ سے منع کیا گیا ہے ۔ ملامسہ یہ ہے کہ دونوں ( بیچنے والے اور خریدنے والے ) میں سے ہر ایک بغیر سوچے ( اور غور کیے ) اپنے ساتھی کے کپڑے کو چھوئے ، اور منابذہ یہ ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکے اور کسی نے بھی اپنے ساتھی کے کپڑے کو ( جس کے ساتھ اس کے کپڑے کا تبادلہ ہو رہا ہے ) نہ دیکھا ہو ۔ ( اور اسی سے بیع کی تکمیل ہو جائے)
۰۶
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۰۶
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ، وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، الْخُدْرِيَّ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَلِبْسَتَيْنِ نَهَى عَنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ فِي الْبَيْعِ ‏.‏ وَالْمُلاَمَسَةُ لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ أَوْ بِالنَّهَارِ وَلاَ يَقْلِبُهُ إِلاَّ بِذَلِكَ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ بِثَوْبِهِ وَيَنْبِذَ الآخَرُ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ وَيَكُونُ ذَلِكَ بَيْعَهُمَا مِنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلاَ تَرَاضٍ ‏.‏
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے بتایا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو قسم کی بیعوں اور دو قسم کے پہناووں سے منع فرمایا : بیع میں آپ نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ۔ ملامسہ یہ ہے کہ کوئی آدمی دوسرے کے کپڑے کو دن میں یا رات میں اپنے ہاتھ سے چھوئے اور اس کے علاوہ اسے الٹ کر بھی نہ دیکھے ۔ اور منابذہ یہ ہے کہ کوئی آدمی دوسرے آدمی کی طرف اپنا کپڑا پھینکے اور دوسرا اس کی طرف اپنا کپڑا پھینکے اور بغیر دیکھے اور ( بغیر حقیقی ) رضامندی کے یہی ان کی بیع ہو
۰۷
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۰۷
وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی
۰۸
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۰۸
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر پھینک کر بیع کرنے اور دھوکے والی بیع سے منع فرمایا ہے
۰۹
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۰۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ، سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ ‏.‏
لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے حبل الحبلہ کی بیع سے منع فرمایا ہے
۱۰
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۱۰
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَايَعُونَ لَحْمَ الْجَزُورِ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ ‏.‏ وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ ثُمَّ تَحْمِلَ الَّتِي نُتِجَتْ فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ ‏.‏
عبیداللہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : اہل جاہلیت اونٹ کے گوشت کی حبل الحبلہ تک بیع کرتے تھے ۔ اور حبل الحبلہ یہ ہے کہ اونٹنی ( مادہ ) بچہ جنے ، پھر وہ بچہ جو پیدا ہوا ہے ، حاملہ ہو ( اس کی یا اس کے گوشت کی بیع ) تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا
۱۱
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۱۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ‏"‏ ‏.‏
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے
۱۲
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۱۲
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلاَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
عبیداللہ نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " کوئی آدمی اپنے ( مسلمان ) بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے ( مسلمان ) بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجے ، الا یہ کہ وہ اسے اجازت دے
۱۳
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۱۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَسُمِ الْمُسْلِمُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ‏"‏ ‏.‏
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں علاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عبدالرحمٰن ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی مسلمان کسی مسلمان کے سودے پر سودا بازی نہ کرے
۱۴
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۱۴
وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلاَءِ، وَسُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح. وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي، صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح. وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ الدَّوْرَقِيِّ عَلَى سِيمَةِ أَخِيهِ ‏.‏
احمد بن ابراہیم دورقی نے مجھے یہی حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عبدالصمد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے علاء اور سہیل سے حدیث بیان کی ، ان دونوں نے اپنے اپنے والد ( عبدالرحمٰن بن یعقوب اور ابوصالح سمان ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز ہمیں محمد بن مثنیٰ نے یہی حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالصمد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز عبیداللہ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی اپنے ( مسلمان ) بھائی کے کیے گئے سودے پر سودا کرے ، اور دَورقی کی روایت میں ( سوم اخيه کی بجائے ) سيمة اخيه ( چھوٹے سے سودے ) کے الفاظ ہیں
۱۵
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۱۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ لِبَيْعٍ وَلاَ يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلاَ تَنَاجَشُوا وَلاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلاَ تُصَرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ ‏"‏ ‏.‏
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیع کے لیے قافلے کے ساتھ راستے میں ( جا کر ) ملاقات نہ کی جائے ، نہ تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع کرے ، نہ خریدنے کی نیت کے بغیر محض بھاؤ بڑھانے کے لیے قیمت لگاؤ ، نہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع کرے اور نہ تم اونٹنی اور بکری کا دودھ روکو ، جس نے انہیں اس کے بعد خرید لیا تو ان کا دودھ دوہنے کے بعد اسے دو باتوں کا اختیار ہے : اگر اسے وہ پسند ہے تو اسے رکھ لے اور اگر اسے ناپسند ہے تو ایک صاع کھجور کے ساتھ اسے واپس کر دے
۱۶
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۱۶
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ التَّلَقِّي لِلرُّكْبَانِ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَأَنْ تَسْأَلَ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا وَعَنِ النَّجْشِ وَالتَّصْرِيَةِ وَأَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ‏.‏
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تجارتی ) قافلوں کو آگے جا کر ( ان کے راستوں میں ) ملنے سے ، شہری کو کسی دیہاتی کے لیے بیع کرنے سے ، عورت کو اپنی ( مسلمان ) بہن کی طلاق کا مطالبہ کرنے سے ، محض بھاؤ چڑھانے کے لیے قیمت لگانے سے ، جانور کے تھنوں میں دودھ روکنے سے ، اور اپنے بھائی کے کیے گئے سودے پر سودا کرنے سے منع فرمایا ۔
۱۷
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۱۷
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبُ، بْنُ جَرِيرٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالُوا، جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَوَهْبٍ نُهِيَ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ ‏.‏
غندر ، وہب بن جریر اور عبدالصمد بن عبدالوارث سب نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ شعبہ سے روایت کردہ معاذ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، غندر اور وہب کی حدیث میں ( مجہول کے صیغے کے ساتھ ) ہے : " منع کیا گیا ہے " اور عبدالصمد کی حدیث میں ( معروف کے صیغے کے ساتھ ) ہے : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا
۱۸
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۱۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ النَّجْشِ ‏.‏
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خریدنے کے ارادے کے بغیر ) بھاؤ چڑھانے کے لیے قیمت لگانے سے منع فرمایا
۱۹
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۱۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تُتَلَقَّى السِّلَعُ حَتَّى تَبْلُغَ الأَسْوَاقَ ‏.‏ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ نُمَيْرٍ ‏.‏ وَقَالَ الآخَرَانِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ التَّلَقِّي ‏.‏
ابن ابی زائدہ ، یحییٰ بن سعید اور ( عبداللہ ) ابن نمیر ، ان سب نے عبیداللہ سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ بازار میں پہنچنے سے پہلے سامان حاصل کیا جائے ۔ یہ ابن نمیر کے الفاظ ہیں اور دوسرے دونوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سامانِ تجارت لانے والوں کو ) راستے میں جا کر ملنے سے منع فرمایا ۔
۲۰
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۲۰
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ‏.‏
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عبیداللہ سے ابن نمیر کی روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی
۲۱
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۲۱
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي، عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ ‏.‏
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( راستے میں ) جا کر سامان تجارت لینے سے منع فرمایا
۲۲
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۲۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُتَلَقَّى الْجَلَبُ ‏
ہُشَیم نے ہمیں ہشام سے خبر دی ، انہوں نے ابن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( راستے میں ) جا کر باہر سے لائے جانے والے سامان تجارت کو حاصل کرنے سے منع فرمایا
۲۳
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۲۳
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامٌ، الْقُرْدُوسِيُّ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَلَقَّوُا الْجَلَبَ ‏.‏ فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ‏"‏ ‏.‏
ابن جریج نے کہا : مجھے ہشام قردوسی نے ابن سیرین سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سامانِ تجارت کو راستے میں جا کر حاصل نہ کرو ۔ جس نے باہر مل کر ان سے سامان خرید لیا ، تو جب اس کا مالک بازار میں آئے گا تو اسے ( بیع کو برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا ) اختیار ہو گا
۲۴
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۲۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ زُهَيْرٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ‏
ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زُہَیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ اس ( سند ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے ، آپ نے فرمایا : "" کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے ۔ "" زہیر نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے
۲۵
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۲۵
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُنْ لَهُ سِمْسَارًا
طاوس کے بیٹے نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ باہر نکل کر قافلے والوں سے ملا جائے اور اس سے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ۔ ( طاوس نے ) کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ کے فرمان : " کوئی شہری دیہاتی کی طرف سے ( بیع نہ کرے ) " کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے جواب دیا : وہ اس کا دلال نہ بنے
۲۶
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۲۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح. وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقِ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ‏"‏ ‏.‏ غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى ‏"‏ يُرْزَقُ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور احمد بن یونس نے کہا : ہمیں ابوخثیمہ زہیر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع نہ کرے ۔ لوگوں کو چھوڑ دو ، اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے سے رزق دیتا ہے ۔ " البتہ یحییٰ کی روایت میں ( مجہول کے صیغے کے ساتھ ) ہے : " رزق دیا جاتا ہے
۲۷
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۲۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابوزہیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ ( 3828 ) یونس نے ابن سیرین سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں منع کیا گیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ، خواہ وہ اس کا بھائی ہو یا والد
۲۸
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۲۸
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ قَالَ نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ، حَاضِرٌ لِبَادٍ ‏.‏ وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ ‏.‏
یونس نے ابن سیرین سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں منع کیا گیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ، خواہ وہ اس کا بھائی ہو یا والد
۲۹
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۲۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ،ح ‏.‏ وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ نُهِينَا عَنْ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ‏.‏
ابن عون نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمیں اس بات سے منع کیا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع کرے
۳۰
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۳۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَلْيَنْقَلِبْ بِهَا فَلْيَحْلُبْهَا فَإِنْ رَضِيَ حِلاَبَهَا أَمْسَكَهَا وَإِلاَّ رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ ‏"‏ ‏.‏
موسیٰ بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی گئی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی تو وہ اسے لے کر گھر واپس آئے اور اس کا دودھ نکالے ، اگر وہ اس کے ددھ دینے سے راضی ہو تو اسے رکھ لے ، ورنہ کھجور کے ایک صاع سمیت اسے واپس کر دے
۳۱
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۳۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ ابْتَاعَ شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ فِيهَا بِالْخِيَارِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ‏"‏ ‏.‏
سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے ایسی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی جس کا دودھ روکا گیا ہے تو اسے تین دن تک اس کے بارے میں اختیار ہے ، اگر چاہے تو رکھ لے اور چاہے تو واپس کر دے اور اس کے ساتھ کھجور کا ایک صاع بھی واپس کرے
۳۲
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۳۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، - يَعْنِي الْعَقَدِيَّ - حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لاَ سَمْرَاءَ ‏"‏‏.‏
قرہ نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی ہوئی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی تو اسے تین دن تک اختیار ہے ۔ اگر وہ اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ غلے کا ایک صاع بھی واپس کرے ، گندم کا نہیں
۳۳
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۳۳
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لاَ سَمْرَاءَ ‏"‏ ‏.‏
سفیان نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خرید لی ، اسے دو باتوں کا اختیار ہے ۔ اگر چاہے تو اسے رکھ لے اور اگر چاہے تو اسے واپس کر دے ، اور کھجور کا ایک صاع بھی واپس کر دے ، گندم کا نہیں
۳۴
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۳۴
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَنِ اشْتَرَى مِنَ الْغَنَمِ فَهُوَ بِالْخِيَارِ ‏"‏ ‏.‏
عبدالوہاب نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، لیکن انہوں نے کہا : " جس نے ( دودھ روکی ہوئی ) کوئی بھیڑ یا بکری خریدی اسے اختیار ہے
۳۵
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۳۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا مَا أَحَدُكُمُ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا إِمَّا هِيَ وَإِلاَّ فَلْيَرُدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ ‏"‏ ‏.‏
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، اس کے بعد انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ تھی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی دودھ روکی گئی اونٹنی یا بھیڑ ( یا بکری ) خرید لے تو اسے اس کا دودھ نکالنے کے بعد دو باتوں کا اختیار ہے یا تو وہ ( جانور ) لے لے ورنہ کھجور کے ایک صاع سمیت اسے واپس کر دے
۳۶
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۳۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ كُلَّ شَىْءٍ مِثْلَهُ ‏.‏
سفیان بن عیینہ اور سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق روایت کی
۳۷
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۳۸
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ، أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، - وَهُوَ الثَّوْرِيُّ - كِلاَهُمَا عَنْ عَمْرِو، بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
معمر نے ابن طاوس سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے غلہ خریدا تو وہ اسے فروخت نہ کرے حتی کہ اسے اپنے قبضے میں لے لےحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ہر چیز کو غلے کی طرح سمجھتا ہوں
۳۸
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۳۹
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ كُلَّ شَىْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ ‏.‏
ابوبکر بن ابی شیبہ ، ابو کُرَیب اور اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ اسحاق نے کہا : ہمیں خبر دی اور دیگر نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ وکیع نے سفیان سے ، انہوں نے ابن طاوس سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو غلہ خریدے تو اسے آگے فروخت نہ کرے حتی کہ اسے ماپ ( کر قبضے میں لے ) لے
۳۹
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۴۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں مالک نے حدیث سنائی ۔ اور یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نے مالک کے سامنے قراءت کی کہ نافع سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص غلہ خریدے تو پورا حاصل کرنے سے پہلے اسے فروخت نہ کرے
۴۰
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۴۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبْتَاعُ الطَّعَامَ فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ نے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم غلہ خریدا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر ایسے آدمی مقرر فرماتے جو ہمیں حکم دیتے کہ اسے فروخت کرنے سے پہلے اس جگہ سے جہاں ہم نے اسے خریدا تھا ، کسی دوسری جگہ منتقل کریں
۴۱
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۴۳
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ وَيَقْبِضَهُ ‏"‏ ‏.‏
نیز انہوں ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : ہم اہل قافلہ سے بغیر ماپ ( اور وزن ) کے غلہ خریدا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا کہ ہم اسے ، اس کی جگہ سے منتقل کرنے سے پلے ، آگے فروخت کریں
۴۲
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۴۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَقَالَ عَلِيٌّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ ‏"‏ ‏.‏
عمر بن محمد نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص غلہ خریدے تو اسے پورا کر لینے اور اپنے قبضے میں لینے سے پہلے فروخت نہ کرے
۴۳
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۴۶
معمر نے زہری سے ، انہوں نے سالم سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اگر وہ ( وزن اور ماپ کے بغیر ) اندازے سے ( ڈھیر کی صورت میں ) غلہ خریدتے اور اس کو منتقل کرنے سے پہلے اسی جگہ فروخت کرتے تو اس پر ان کو مار پڑتی تھی
۴۴
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۴۷
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ قَدْ رَأَيْتُ النَّاسَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ابْتَاعُوا الطَّعَامَ جِزَافًا يُضْرَبُونَ فِي أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِمْ وَذَلِكَ حَتَّى يُئْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يَشْتَرِي الطَّعَامَ جِزَافًا فَيَحْمِلُهُ إِلَى أَهْلِهِ ‏.‏
یونس نے مجھے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ نے بتایا کہ ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کو دیکھا کہ جب وہ ( ناپ تول کے بغیر ) اندازے سے غلہ خریدتے تو اس بات پر انہیں مار پڑی تھی کہ وہ اس کو گھروں میں منتقل کرنے سے پہلے ، اسی جگہ اسے بیچیں ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد اندازے سے غلہ خریدتے ، پھر اسے اپنے گھر اٹھا لاتے
۴۵
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۴۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ ‏"‏ مَنِ ابْتَاعَ ‏"‏ ‏.‏
ابوبکر بن ابی شیبہ ، ابن نمیر اور ابو کریب نے کہا : ہمیں زید بن حباب نے ضحاک بن عثمان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بُکَیر بن عبداللہ بن اشج سے ، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو شخص غلہ خریدے تو اسے ناپ کر لے لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرے ۔ "" ابوبکر کی روایت میں ( من الشترى کی بجائے ) من ابتاع کے الفاظ ہیں ( معنی ایک جیسے ہیں)
۴۶
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۴۹
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ، بْنُ عُثْمَانَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ أَحْلَلْتَ بَيْعَ الرِّبَا ‏.‏ فَقَالَ مَرْوَانُ مَا فَعَلْتُ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَحْلَلْتَ بَيْعَ الصِّكَاكِ وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يُسْتَوْفَى ‏.‏ قَالَ فَخَطَبَ مَرْوَانُ النَّاسَ فَنَهَى عَنْ بَيْعِهَا ‏.‏ قَالَ سُلَيْمَانُ فَنَظَرْتُ إِلَى حَرَسٍ يَأْخُذُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ ‏.‏
عبداللہ بن حارث مخزومی نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ضحاک بن عثمان نے بکیر بن عبداللہ بن اشج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے مروان سے کہا : تم نے سودی تجارت حلال کر دی ہے؟ مروان نے جواب دیا : میں نے ایسا کیا کیا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نے ادائیگی کی دستاویزات ( چیکوں ) کی بیع حلال قرار دی ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل قبضہ کرنے سے پہلے غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔ کہا : اس پر مروان نے لوگوں کو خطبہ دیا اور ان ( چیکوں ) کی بیع سے منع کر دیا ۔ سلیمان نے کہا : میں نے محافظوں کو دیکھا وہ انہیں لوگوں کے ہاتھوں سے واپس لے رہے تھے
۴۷
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۵۰
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا ابْتَعْتَ طَعَامًا فَلاَ تَبِعْهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَهُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : " جب تم غلہ خریدو تو اسے پوری طرح قبضے میں لینے سے پہلے نہ بیچو
۴۸
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۵۱
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لاَ يُعْلَمُ مَكِيلَتُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ ‏.‏
روح بن عبادہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے ابوزبیر سے خبر دی ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ ۔ ۔ اسی ( مذکورہ بالا روایت ) کے مانند ، لیکن انہوں نے حدیث کے آخر میں من التمر کے الفاظ ذکر نہیں کیے
۴۹
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۵۲
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ مِنَ التَّمْرِ ‏.‏ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ ‏.‏
روح بن عبادہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے ابوزبیر سے خبر دی ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ ۔ ۔ اسی ( مذکورہ بالا روایت ) کے مانند ، لیکن انہوں نے حدیث کے آخر میں من التمر کے الفاظ ذکر نہیں کیے
۵۰
صحیح مسلم # ۲۱/۳۸۵۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْبَيِّعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلاَّ بَيْعَ الْخِيَارِ ‏"‏ ‏.‏
امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیع کرنے والے دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی کے خلاف ( بیع فسخ کرنے کا ) اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں ، الا یہ کہ اختیار والی بیع ہو