جہاد
ابواب پر واپس
۰۱
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۰۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِيَانِ الْحِزَامِيَّ ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم . وَقَالَ عَمْرٌو رِوَايَةً " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ مُسْلِمُهُمْ لِمُسْلِمِهِمْ وَكَافِرُهُمْ لِكَافِرِهِمْ " .
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب اور قتیبہ بن سعید نے مغیرہ حزامی سے اور زہیر بن حرب اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ سے ( مغیرہ اور سفیان ) دونوں نے ابوزناد سے انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور زہیر کی حدیث میں ہے ، انہوں ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) نے حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی ( آپ سے بیان کی ) اور عمرو نے کہا : ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " لوگ اس اہم معاملے ( حکومت ) میں قریش کے تابع ہیں ، مسلمان ، قریشی مسلمانوں کے پیچھے چلنے والے ہیں اور کافر ، قریشی کافروں کے پیچھے چلنے والے ہیں
۰۲
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۰۲
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ " .
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ ہے جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ، انہوں نے بہت سی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک حدیث یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لوگ اس معاملے ( خلافت یا حکومت ) میں قریش کے تابع ہیں ، مسلمان ، قریشی مسلمانوں کے تابع ہیں اور کافر ، قریشی کافروں کے پیچھے چلنے والے ہیں
۰۳
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۰۳
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اچھائی اور برائی ( دونوں ) میں لوگ قریش کی پیروی کرتے ہیں
۰۴
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۰۴
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَزَالُ هَذَا الأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ " .
حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تک ( ان ) لوگوں میں دو انسان بھی باقی رہیں گے ، امرِ حکومت قریش میں ہو گا
۰۵
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۰۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ح وَحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانَ - عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " إِنَّ هَذَا الأَمْرَ لاَ يَنْقَضِي حَتَّى يَمْضِيَ فِيهِمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً " . قَالَ ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلاَمٍ خَفِيَ عَلَىَّ - قَالَ - فَقُلْتُ لأَبِي مَا قَالَ قَالَ " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
حصین ( بن عبدالرحمٰن ) نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں اپنے والد ( حضرت سمرہ بن جنادہ رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اس امر کا خاتمہ اس وقت تک نہ ہو گا جب تک اس میں بارہ جانشیں نہ گزریں ۔ " پھر آپ نے کوئی بات کی جو مجھ پر واضح نہ ہوئی ۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا : آپ نے فرمایا ہے : " وہ سب قریش میں سے ہوں گے
۰۶
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۰۶
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً " . ثُمَّ تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَلِمَةٍ خَفِيَتْ عَلَىَّ فَسَأَلْتُ أَبِي مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
عبدالملک بن عمیر نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " لوگوں کی امارت جاری رہے گی یہاں تک کہ بارہ اشخاص ان کے والی بنیں گے ۔ " پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات کہی جو مجھ پر واضح نہ ہوئی ، میں نے اپنے والد سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ سب قریش میں سے ہوں گے
۰۷
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۰۷
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَذْكُرْ " لاَ يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا " .
ابو عوانہ نے سماک سے ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی ، لیکن انہوں نے یہ بیان نہیں کیا : " لوگوں کی امارت کا سلسلہ چلتا رہے گا
۰۸
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۰۸
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَزَالُ الإِسْلاَمُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَىْ عَشَرَ خَلِيفَةً " . ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ لأَبِي مَا قَالَ فَقَالَ " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
حماد بن سلمہ نے سماک سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بارہ خلیفوں ( کے عہد ) تک اسلام غالب رہے گا ۔ " پھر آپ نے ایک کلمہ فرمایا جس کو میں نہیں سمجھ سکا ، میں نے اپنے والد سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ سب قریش میں سے ہوں گے
۰۹
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۰۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ، بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَزَالُ هَذَا الأَمْرُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَىْ عَشَرَ خَلِيفَةً " . قَالَ ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَىْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَقُلْتُ لأَبِي مَا قَالَ فَقَالَ " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
داود نے شعبی سے ، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بارہ خلفاء ( کے عہد ) تک اسلام کا غلبہ جاری رہے گا ۔ " پھر آپ نے کوئی بات کہی جس کو میں نہیں سمجھ سکا ، میں نے اپنے والد سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا : آپ نے فرمایا : " وہ سب قریش میں سے ہوں گے
۱۰
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۱۰
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعِي أَبِي فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " لاَ يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا مَنِيعًا إِلَى اثْنَىْ عَشَرَ خَلِيفَةً " . فَقَالَ كَلِمَةً صَمَّنِيهَا النَّاسُ فَقُلْتُ لأَبِي مَا قَالَ قَالَ " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .
(عبداللہ ) بن عون نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا ، میرے ساتھ میرے والد تھے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " بارہ خلفاء ( کے عہد ) تک مسلسل یہ دین غالب اور ( دشمنوں سے ) محفوظ رہے گا ۔ " پھر آپ نے کوئی کلمہ فرمایا جسے لوگوں نے مجھے سننے نہ دیا ، میں نے اپنے والد سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا : آپ نے فرمایا : " وہ سب قریش میں سے ہوں گے
۱۱
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۱۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ كَتَبْتُ إِلَى جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَعَ غُلاَمِي نَافِعٍ أَنْ أَخْبِرْنِي بِشَىْءٍ، سَمِعْتَهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَكَتَبَ إِلَىَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ جُمُعَةٍ عَشِيَّةَ رُجِمَ الأَسْلَمِيُّ يَقُولُ " لاَ يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ أَوْ يَكُونَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " عُصَيْبَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَفْتَتِحُونَ الْبَيْتَ الأَبْيَضَ بَيْتَ كِسْرَى أَوْ آلِ كِسْرَى " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " إِنَّ بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ فَاحْذَرُوهُمْ " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " إِذَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدَكُمْ خَيْرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " أَنَا الْفَرَطُ عَلَى الْحَوْضِ " .
حاتم بن اسماعیل نے مہاجر بن مسمار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ، کہا : میں نے اپنے غلام نافع کے ہاتھ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے پاس خط بھیجا کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ۔ انہوں نے مجھے لکھ بھیجا کہ اس جمعہ کے دن جس کی شام کو حضرت ( ماعز ) اسلمی رضی اللہ عنہ کو رجم کیا گیا تھا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا : " قیامت تک یہ دین قائم رہے گا ، یا جب تک مسلمانوں پر بارہ خلفاء حکومت کریں گے جو سب کے سب قریش میں سے ہوں گے ۔ " اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت کسریٰ یا آل کسریٰ کا سفید محل فتح کرے گی ۔ " اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " قیامت کے قریب کچھ کذاب ظاہر ہوں گے ، ان سے بچنا ۔ " اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو کوئی اچھی چیز دے تو وہ اپنے اور اپنے گھر والوں سے آغاز کرے ۔ " اور میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا : " میں حوض پر تمہارا پیش رَو ہوں گا
۱۲
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۱۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُهَاجِرِ، بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ سَمُرَةَ الْعَدَوِيِّ حَدِّثْنَا مَا، سَمِعْتَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَاتِمٍ .
ابن ابی ذئب نے مہاجر بن مسمار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عامر بن سعد سے روایت کی کہ انہوں نے ابن سمرہ عدوی رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ، وہ ہمیں بیان کیجیے ۔ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ۔ ۔ پھر حاتم کی حدیث کی طرح بیان کیا
۱۳
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۱۳
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ حَضَرْتُ أَبِي حِينَ أُصِيبَ فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ وَقَالُوا جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا . فَقَالَ رَاغِبٌ وَرَاهِبٌ قَالُوا اسْتَخْلِفْ فَقَالَ أَتَحَمَّلُ أَمْرَكُمْ حَيًّا وَمَيِّتًا لَوَدِدْتُ أَنَّ حَظِّي مِنْهَا الْكَفَافُ لاَ عَلَىَّ وَلاَ لِي فَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي - يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ - وَإِنْ أَتْرُكْكُمْ فَقَدْ تَرَكَكُمْ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حِينَ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ .
ہشام کے والد ( عروہ ) نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب میرے والد ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) زخمی ہوئے تو میں ان کے پاس موجود تھا ، لوگوں نے ان کی تعریف کی اور کہا : "" اللہ آپ کو اچھی جزا دے! "" انہوں ( عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں ( بیک وقت ) رغبت رکھنے والا اور ڈرنے والا ہوں ۔ لوگوں نے کہا : آپ کسی کو اپنا ( جانشیں ) بنا دیجیے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں زندگی میں بھی تمہارے معاملات کا بوجھ اٹھاؤں اور مرنے کے بعد بھی؟ مجھے صرف یہ خواہش ہے کہ ( قیامت کے روز ) اس خلافت سے میرے حصے میں یہ آ جاے کہ ( حساب کتاب ) برابر سرابر ہو جائے ۔ نہ میرے خلاف ہو ، نہ میرے حق میں ( چاہے انعام نہ ملے ، مگر سزا سے بچ جاؤں ) اگر میں جانشیں مقرر کروں تو انہوں نے مقرر کیا جو مجھ سے بہتر تھے ، یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور اگر میں تمہیں ایسے ہی چھوڑ دوں تو انہوں نے تمہیں ( جانشیں مقرر کیے بغیر ) چھوڑ دیا جو مجھ سے ( بہت زیادہ ) بہتر تھے ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو میں نے جان لیا کہ وہ جانشیں مقرر نہیں کریں گے
۱۴
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۱۴
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَأَلْفَاظُهُمْ، مُتَقَارِبَةٌ قَالَ إِسْحَاقُ وَعَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقَالَتْ أَعَلِمْتَ أَنَّ أَبَاكَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ قَالَ قُلْتُ مَا كَانَ لِيَفْعَلَ . قَالَتْ إِنَّهُ فَاعِلٌ . قَالَ فَحَلَفْتُ أَنِّي أُكَلِّمُهُ فِي ذَلِكَ فَسَكَتُّ حَتَّى غَدَوْتُ وَلَمْ أُكَلِّمْهُ - قَالَ - فَكُنْتُ كَأَنَّمَا أَحْمِلُ بِيَمِينِي جَبَلاً حَتَّى رَجَعْتُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلَنِي عَنْ حَالِ النَّاسِ وَأَنَا أُخْبِرُهُ - قَالَ - ثُمَّ قُلْتُ لَهُ إِنِّي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ مَقَالَةً فَآلَيْتُ أَنْ أَقُولَهَا لَكَ زَعَمُوا أَنَّكَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ وَإِنَّهُ لَوْ كَانَ لَكَ رَاعِي إِبِلٍ أَوْ رَاعِي غَنَمٍ ثُمَّ جَاءَكَ وَتَرَكَهَا رَأَيْتَ أَنْ قَدْ ضَيَّعَ فَرِعَايَةُ النَّاسِ أَشَدُّ قَالَ فَوَافَقَهُ قَوْلِي فَوَضَعَ رَأْسَهُ سَاعَةً ثُمَّ رَفَعَهُ إِلَىَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْفَظُ دِينَهُ وَإِنِّي لَئِنْ لاَ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَسْتَخْلِفْ وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَدِ اسْتَخْلَفَ . قَالَ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَعْدِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَدًا وَأَنَّهُ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ .
سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ، کہا : میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، انہوں نے کہا : کیا تم کو علم ہے کہ تمہارے والد کسی کو ( اپنا ) جانشیں مقرر نہیں کر رہے؟ میں نے کہا : وہ ایسا نہیں کریں گے ۔ وہ کہنے لگیں : وہ یہی کرنے والے ہیں ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے قسم کھائی کہ میں اس معاملے میں ان سے بات کروں گا ، پھر میں خاموش ہو گیا حتی کہ صبح ہو گئی اور میں نے ان سے اس معاملے میں بات نہیں کی تھی ، اور مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میں نے اپنے دائیں ہاتھ میں پہاڑ اٹھایا ہوا ہے ( مجھ پر اپنی قسم کا بہت زیادہ بوجھ تھا ) آخر کار میں واپس آیا اور ان کے پاس گیا ، انہوں نے مجھ سے لوگوں کا حال دریافت کیا ، میں آپ کو حالات سے باخبر کرنے لگا ، پھر میں نے ان سے کہا : میں نے لوگوں سے ایک بات سنی تھی اور وہ سن کر میں نے قسم کھائی کہ وہ میں آپ سے ضرور بیان کروں گا ۔ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کسی کو اپنا جانشیں نہیں بنائیں گے اور بات یہ ہے کہ اگر آپ کا کوئی اونٹوں یا بکریوں کا چرواہا ہو اور وہ آپ کے پاس چلا آئے اور ان کو ایسے ہی چھوڑ دے تو آپ یہی کہیں گے کہ اس نے ان کو ضائع کر دیا ہے ۔ سو لوگوں کی نگہبانی تو اس سے زیادہ ضروری ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو میری رائے ٹھیک معلوم ہوئی ، انہوں نے گھڑی بھر سر جھکائے رکھا ، پھر میری طرف سر اٹھا کر فرمایا : بلاشبہ اللہ عزوجل اپنے دین کی حفاظت فرمائے گا اور اگر میں کسی کو جانشیں نہ بناؤں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو جانشیں مقرر نہیں کیا تھا اور اگر میں کسی کو جانشیں بناؤں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جانشیں بنایا تھا ۔ ( دونوں میں سے کسی بھی مثال پر عمل کیا جا سکتا ہے ۔ ) انہوں ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : اللہ کی قسم! جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو میں نے جان لیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے کبھی نہیں ہٹیں گے اور وہ کسی کو جانشیں بنانے والے نہیں
۱۵
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۱۵
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، بْنُ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ أُكِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا " .
جریر بن حازم نے کہا : ہمیں حسن بصری نے اور انہیں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " عبدالرحمٰن! امارت طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تم کو طلب کرنے سے ( امارت ) ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے ( اس کی تمام تر ذمہ داریاں خود اٹھاؤ گے ، اللہ کی مدد شامل نہ ہو گی ) اور اگر تمہیں مانگے بغیر ملی تو ( اللہ کی طرف سے ) تمہاری اعانت ہو گی
۱۶
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۱۶
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ، بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، وَمَنْصُورٍ، وَحُمَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .
یونس بن عبید ، منصور ، حمید اور ہشام بن حسان سب نے حسن بصری سے ، انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جریر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی
۱۷
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۱۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَرَجُلاَنِ مِنْ بَنِي عَمِّي فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِّرْنَا عَلَى بَعْضِ مَا وَلاَّكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ . وَقَالَ الآخَرُ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ " إِنَّا وَاللَّهِ لاَ نُوَلِّي عَلَى هَذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهُ وَلاَ أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ " .
برید بن عبداللہ سے روایت ہے ، انہوں نے ابوبردہ سے ، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ ( اشعری ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں اور میرے چچا کے بیٹوں میں سے دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان دونوں میں سے ایک نے کہا : اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کی تولیت میں جو دیا اس کے کسی حصے پر ہمیں امیر بنا دیجیے ۔ دوسرے نے بھی یہی کہا ۔ آپ نے فرمایا : " اللہ کی قسم! ہم کسی ایسے شخص کو اس کام کی ذمہ داری نہیں دیتے جو اس کو طلب کرے ، نہ ایسے شخص کو بناتے ہیں جو اس کا خواہش مند ہو
۱۸
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۱۸
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حَاتِمٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعِي رَجُلاَنِ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي وَالآخَرُ عَنْ يَسَارِي فَكِلاَهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَاكُ فَقَالَ " مَا تَقُولُ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ " . قَالَ فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ . قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ وَقَدْ قَلَصَتْ فَقَالَ " لَنْ أَوْ لاَ نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ وَلَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ " . فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ قَالَ انْزِلْ وَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ قَالَ مَا هَذَا قَالَ هَذَا كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السَّوْءِ فَتَهَوَّدَ قَالَ لاَ أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَقَالَ اجْلِسْ نَعَمْ . قَالَ لاَ أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ . فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ثُمَّ تَذَاكَرَا الْقِيَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا مُعَاذٌ أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي .
حمید بن ہلال نے کہا : مجھے ابوبردہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : میں بنو اشعر میں سے دو آدمیوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، ایک میری دائیں جانب تھا اور دوسرا میری بائیں جانب ۔ ان دونوں نے کسی منصب کا سوال کیا ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے ، آپ نے فرمایا : " ابوموسیٰ! " یا فرمایا : " عبداللہ بن قیس! تم کیا کہتے ہو؟ " میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! ان دونوں نے مجھے یہ نہیں بتایا تھا کہ ان کے دل میں کیا ہے؟ اور نہ مجھے یہ پتہ تھا کہ یہ دونوں منصب کا سوال کریں گے ۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : ایسا لگتا ہے کہ میں ( آج بھی ) آپ کے ہونٹ کے نیچے مسواک دیکھ رہا ہوں جبکہ آپ کا ہونٹ اوپر کو سمٹا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : " جو شخص خواہش مند ہو گا ہم اسے اپنے کسی کام کی ذمہ داری نہیں یا ( فرمایا : ) ہرگز نہیں دیں گے لیکن ابو موسیٰ! یا فرمایا : عبداللہ بن قیس! تم ( ذمہ داری سنبھالنے کے لیے ) چلے جاؤ ۔ " تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیج دیا ، پھر ( ساتھ ہی ) ان کے پیچھے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا ، جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان کے پاس پہنچے تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : تشریف لائیے اور ان کے بیٹھنے کے لیے ایک گدا بچھایا ، تو وہاں اس وقت ایک شخص رسیوں سے بندھا ہوا تھا ، انہوں ( حضرت معاذ رضی اللہ عنہ ) نے پوچھا : یہ کون ہے؟ ( حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ایک یہودی تھا ، پھر یہ مسلمان ہو گیا اور اب پھر اپنے دین ، برائی کے کے دین پر لوٹ گیا ہے اور یہودی ہو گیا ہے ۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اس کو قتل نہ کر دیا جائے ، یہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے ۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ، ( ہم اس کو قتل کرتے ہیں ) آپ بیٹھیے ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اس شخص کو قتل نہیں کر دیا جاتا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے ، تین ( مرتبہ یہی مکالمہ ہوا ) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ، اس شخص کو قتل کر دیا گیا ، پھر ان دونوں نے آپس میں رات کے قیام کے بارے میں گفتگو کی ۔ دونوں میں سے ایک ( یعنی ) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : جہاں تک میرا معاملہ ہے ، میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں اور میں اپنے قیام میں جس اجر کی امید رکھتا ہوں اپنی نیند میں بھی اسی ( اجر ) کی توقع رکھتا ہوں
۱۹
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۱۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الأَكْبَرِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ تَسْتَعْمِلُنِي قَالَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي ثُمَّ قَالَ " يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ ضَعِيفٌ وَإِنَّهَا أَمَانَةٌ وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْىٌ وَنَدَامَةٌ إِلاَّ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا " .
ابن حجیرہ اکبر نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے عامل نہیں بنائیں گے؟ آپ نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا : " ابوذر! تم کمزور ہو ، اور یہ ( امارت ) امانت ہے اور قیامت کے دن یہ شرمندگی اور رسوائی کا باعث ہو گی ، مگر وہ شخص جس نے اسے حق کے مطابق قبول کیا اور اس میں جو ذمہ داری اس پر عائد ہوئی تھی اسے ( اچھی طرح ) ادا کیا ۔ ( وہ شرمندگی اور رسوائی سے مستثنیٰ ہو گا)
۲۰
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۲۰
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلاَهُمَا عَنِ الْمُقْرِئِ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ سَالِمِ، بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي لاَ تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلاَ تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ " .
ابو سالم جیشانی نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوذر! میں دیکھتا ہوں کہ تم کمزور ہو اور میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جسے اپنے لیے پسند کرتا ہوں ، تم کبھی دو آدمیوں پر امیر نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کے متولی بننا
۲۱
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۲۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو، - يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو بَكْرٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا " .
ابوبکر بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب اور ابن نمیر تینوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمرو بن اوس سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، ابن نمیر اور ابوبکر نے کہا : انہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ، زہیر کی حدیث میں ہے ( عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ) کہا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عدل کرنے والے اللہ کے ہاں رحمٰن عزوجل کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ، یہ وہی لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں ، اپنے اہل و عیال اور جن کے یہ ذمہ دار ہیں ان کے معاملے میں عدل کرتے ہیں
۲۲
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۲۲
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ شُمَاسَةَ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَىْءٍ، فَقَالَتْ مِمَّنْ أَنْتَ فَقُلْتُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ . فَقَالَتْ كَيْفَ كَانَ صَاحِبُكُمْ لَكُمْ فِي غَزَاتِكُمْ هَذِهِ فَقَالَ مَا نَقَمْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِنْ كَانَ لَيَمُوتُ لِلرَّجُلِ مِنَّا الْبَعِيرُ فَيُعْطِيهِ الْبَعِيرَ وَالْعَبْدُ فَيُعْطِيهِ الْعَبْدَ وَيَحْتَاجُ إِلَى النَّفَقَةِ فَيُعْطِيهِ النَّفَقَةَ فَقَالَتْ أَمَا إِنَّهُ لاَ يَمْنَعُنِي الَّذِي فَعَلَ فِي مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخِي أَنْ أُخْبِرَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي بَيْتِي هَذَا " اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ " .
ابن وہب نے کہا : مجھے حرملہ نے عبدالرحمان بن شماسہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی مسئلے کے بارے میں پوچھنے کے لیے گیا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے عرض کی : میں اہلِ مصر میں سے ہوں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : تمہارا حاکم حالیہ جنگ کے دوران میں تمہارے ساتھ کیسا رہا؟ میں نے کہا : ہمیں اس کی کوئی بات بری نہیں لگی ، اگر ہم میں سے کشی شخص کا اونٹ مر جاتا تو وہ اس کو اونٹ دے دیتا ، اور اگر غلام مر جاتا تو وہ اس کو غلام دے دیتا اور اگر کسی کو خرچ کی ضرورت ہوتی تو وہ اس کو خرچ دیتا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : " میرے بھائی محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے معاملے میں اس نے جو کچھ کیا وہ مجھے اس سے نہیں روک سکتا کہ میں تمہیں وہ بات سناؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس گھر میں کہتے ہوئے سنی ، ( فرمایا : ) " اے اللہ! جو شخص بھی میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان پر سختی کرے ، تو اس پر سختی فرما ، اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا اور ان کے ساتھ نرمی کی ، تو اس کے ساتھ نرمی فرما
۲۳
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۲۳
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ حَرْمَلَةَ، الْمِصْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ
جریر بن حازم نے حرملہ مصری سے ، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی شماسہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مانند روایت کی ۔ ( 4724 ) لیث نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : "" سن رکھو! تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر شخص سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا ، سو جو امیر لوگوں پر مقرر ہے وہ راعی ( لوگوں کی بہبود کا ذمہ دار ) ہے اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا اور مرد اپنے اہل خانہ پر راعی ( رعایت پر مامور ) ہے ، اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہو گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی راعی ہے ، اس سے ان کے متعلق سوال ہو گا اور غلام اپنے مالک کے مال میں راعی ہے ، اس سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا ، سن رکھو! تم میں سے ہر شخص راعی ہے اور ہر شخص سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا
۲۴
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۲۴
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " أَلاَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ أَلاَ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " .
عبیداللہ بن عمر ، ایوب ، ضحاک بن عثمان اور اسامہ ( بن زید لیثی ) سب نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر شخص حاكم ہے اور ہر ایك سے سوال ہوگا اس كی رعیت كا ( حاكم سے مراد منتظم اور نگراں كار اور محافظ ہے ) پھر جو كوئی بادشاہ ہے وہ لوگوں كا حاكم ہے اور اس سے سوال ہوگا اس كی رعیت كا كہ اس نے اپنی رعیت كے حق ادا كیے ان كی جان و مال كی حفاظت كی یا نہیں اور آدمی حاكم ہے اپنے گھر والوں كا اس سے سوال ہوگا ان كا اور عورت حاكم ہے اپنے خاوند كے گھر كی اور بچوں كی اس سے ان كا سوال ہو گا اور غلام حاكم ہے اپنے مالك كے مال كا اس سے اس كا سوال ہوگا . غرض یہ ہے كہ تم میں سے ہر ایك شخص حاكم ہے اور تم میں سے ہر ایك سے سوال ہوگا اس كی رعیت كا
۲۵
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۲۷
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح. وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ قَالَ وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَدْ قَالَ " الرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " .
اسماعیل بن جعفر نے حضرت عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اور یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نافع کی حدیث کے مانند ۔ ( یونس نے ) زہری کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : کہا : میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آدمی اپنے باپ کے مال کا راعی ( محافظ ) ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا
۲۶
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۲۸
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، سَمَّاهُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْمَعْنَى .
بسر بن سعید نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے
۲۷
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۲۹
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلاَّ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " .
ابو اشہب نے حضرت حسب بصری سے روایت کی کہ عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس اس مرض میں ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے جس میں ان کی وفات ہوئی ۔ حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم کو ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جس کو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، اگر مجھے ( پکا ) علم ہوتا کہ میں ابھی اور زندہ رہوں گا تو میں تمہیں یہ حدیث نہ سناتا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " کوئی شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے کسی بھی رعیت کا ذمہ دار بنایا وہ جس دن مرے اس حال میں مرے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ خیانت کرنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا
۲۸
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۳۰
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ دَخَلَ ابْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ . بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الأَشْهَبِ وَزَادَ قَالَ أَلاَّ كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا، قَبْلَ الْيَوْمِ قَالَ مَا حَدَّثْتُكَ أَوْ، لَمْ أَكُنْ لأُحَدِّثَكَ .
یونس نے حضرت حسن بصری سے روایت کی ، کہا : ابن زیاد حضرت معقل رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ اس وقت ( بیمار تھے اور ) درد میں مبتلا تھے ، جیسے ابو اشہب کی حدیث ہے اور انہوں نے اضافہ کیا : اس ( ابن زیاد ) نے کہا : آپ نے آج سے پہلے مجھے یہ حدیث کیوں نہیں بیان کی؟ حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے تمہیں کبھی حدیث نہیں سنائی ، ( تم نے حدیث کا سماع ہی نہیں کیا ) یا فرمایا : میں تمہیں حدیث بیان نہیں کیا کرتا تھا ( حدیث میں تمہارا استاد نہ تھا)
۲۹
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۳۱
وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، أَنَّإِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلاَ أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لاَ يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ إِلاَّ لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ " .
ابو ملیح سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن زیاد ، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کے پاس گیا ، حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تم کو ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں اور اگر میں مرض الموت میں نہ ہوتا تو تمہیں یہ حدیث نہ سناتا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : " کوئی امیر نہیں جو مسلمانوں کے امور کا ذمہ دار ہو ، پھر ان کے لیے جدوجہد اور خیرخواہی نہ کرے ، مگر وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہو گا
۳۰
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۳۲
وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ أَبِي، الأَسْوَدِ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ، مَرِضَ فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ . نَحْوَ حَدِيثِ الْحَسَنِ عَنْ مَعْقِلٍ، .
سوادہ بن ابواسود نے خبر دی کہ میرے والد نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لیے گیا ۔ ( آگے ) حسن بصری کی حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث کی طرح ہے
۳۱
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۳۳
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو، - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَقَالَ أَىْ بُنَىَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " . فَقَالَ لَهُ اجْلِسْ فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِي غَيْرِهِمْ .
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا کہ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے ، عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور فرمایا : میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " بدترین راعی ، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے ، تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہو ۔ " اس نے کہا : آپ بیٹھیے : آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چھلنی میں بچ جانے والے آخری حصے کی طرح ہیں ۔ ( آخر میں چونکہ تنکے ، پتھر ، بھوسی بچ جاتے ہیں ، اس لیے ) انہوں نے کہا : کیا ان میں بھوسی ، تنکے ، پتھر تھے؟ یہ تو ان کے بعد ہوئے اور ان کے علاوہ دوسروں میں ہوئے
۳۲
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۳۴
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي، زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ ثُمَّ قَالَ " لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ " .
اسماعیل بن ابراہیم نے ابوحیان سے ، انہوں نے ابو زرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے ۔ اور آپ نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا : آپ نے ایسی خیانت اور اس کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیا ، پھر فرمایا : " میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس طرح آتا ہوا نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر اونٹ سوار ہو کر بلبلا رہا ہو اور وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد فرمائیے ، اور میں جواب میں کہوں : میں تمہارے لئے کچھ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں ( دنیا ہی میں ) حق پہنچا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر گھوڑا سوار ہو کر ہنہنا رہا ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں کہ میں تمہارے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتا ، میں نے تمہیں حق پہنچا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر بکری سوار ہو کر ممیا رہی ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں حق سے آگاہ کر دیا تھا ، میں تم میں سے کسی شخص کو روزِ قیامت اس حالت میں نہ دیکھوں کہ اس کی گردن پر کسی شخص کی جان سوار ہو اور وہ ( ظلم کی دہائی دیتے ہوئے ) چیخیں مار رہی ہو ، اور وہ شخص کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ، میں نے تمہیں سب کچھ بتا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر کپڑا لدا ہوا پھڑپھڑا رہا ہو ، اور وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، میں کہوں : تمہارے لیے میرے بس میں کچھ نہیں ، میں نے تم کو سب کچھ سے آگاہ کر دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گرن پر نہ بولنے والا مال ( سونا چاندی ) لدا ہوا ہو ، وہ کہے : اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے ، میں کہوں : تمہارے لیے میرے پاس کسی چیز کا اختیار نہیں ، میں نے تم کو ( انجام ) کی خبر پہنچا دی تھی
۳۳
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۳۵
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ، .
عبدالرحیم بن سلیمان نے ابوحیان سے ، جریر نے ان سے اور عمارہ بن قعقاع سے ، ان سب نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوحیان سے اسماعیل کی روایت کردہ حدیث کی طرح روایت بیان کی
۳۴
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۳۶
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ قَالَ حَمَّادٌ ثُمَّ سَمِعْتُ يَحْيَى بَعْدَ ذَلِكَ يُحَدِّثُهُ فَحَدَّثَنَا بِنَحْوِ مَا حَدَّثَنَا عَنْهُ أَيُّوبُ .
حماد بن زید نے ایوب سے ، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا اور اس کی سنگینی بیان کی اور انہوں ( ایوب ) نے پوری حدیث بیان کی ۔ حماد نے کہا : پھر اس کے بعد میں نے یحییٰ بن سعید کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ۔ انہوں نے بعینہ اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ہمیں ایوب نے ان سے بیان کی تھی
۳۵
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۳۷
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
ہمیں عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا : ہمیں ایوب نے یحییٰ بن سعید بن حیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے ابوہریرہ سے ان سب کی حدیث کی طرح حدیث روایت کی
۳۶
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۳۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مِنَ الأَسْدِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ - قَالَ عَمْرٌو وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ - فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا لِي أُهْدِيَ لِي قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ " مَا بَالُ عَامِلٍ أَبْعَثُهُ فَيَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي . أَفَلاَ قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ فِي بَيْتِ أُمِّهِ حَتَّى يَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لاَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لاَ يَنَالُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ تَيْعِرُ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَتَىْ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " . مَرَّتَيْنِ .
ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ، ۔ ۔ الفاظ ابوبکر بن ابی شیبہ کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو جسے ابن لُتبیہ کہا جاتا تھا ، عامل مقرر کیا ۔ ۔ عمرو اور ابن ابی عمر نے کہا : زکاۃ کی وصولی پر ( مقرر کیا ) ۔ ۔ جب وہ ( زکاۃ وصول کر کے ) آیا تو اس نے کہا : یہ آپ لوگوں کے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ کیا گیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا : "" ایک عامل کا حال کیا ہوتا ہے کہ میں اس کو ( زکاۃ وصول کرنے ) بھیجتا ہوں اور وہ آ کر کہتا ہے : یہ آپ لوگوں کے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ کیا گیا ہے ، ایسا کیوں نہ ہوا کہ یہ اپنے باپ یا اپنی ماں کےگھر میں بیٹھتا ، پھر نظر آتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں کہ وہ اس ( مال ) میں سے ( اپنے لیے ) کچھ لے ، مگر وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس نے اسے اپنی گردن پر اٹھا رکھا ہو گا ، قیامت کے دن اونٹ ہو گا ، بلبلا رہا ہو گا ، گائے ہو گی ، ڈکرا رہی ہو گی ، بکری ہو گئی ، ممیا رہی ہو گی ۔ "" پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر بلند کیے کہ ہمیں آپ کی دونوں بغلوں کے سفید حصے نظر آئے ، پھر آپ نے دو مرتبہ فرمایا : "" اے اللہ! کیا میں نے ( حق ) پہنچا دیا؟ "" ( 4739 ) معمر نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اَزد کے ابن لتبيه نامی ایک شخص کو زکاۃ ( کی وصولی ) پر عامل بنایا ، وہ کچھ مال لے کر آیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور کہا : یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : "" تم اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے ، پھر دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ "" پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، پھر سفیان ( بن عیینہ ) کی حدیث کی طرح بیان کیا
۳۷
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۳۹
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ - رَجُلاً مِنَ الأَزْدِ - عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ بِالْمَالِ فَدَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَفَلاَ قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَتَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْكَ أَمْ لاَ " . ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَطِيبًا . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ .
معمر نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اَزد کے ابن لتبيه نامی ایک شخص کو زکاۃ ( کی وصولی ) پر عامل بنایا ، وہ کچھ مال لے کر آیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور کہا : یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے ، پھر دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ " پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، پھر سفیان ( بن عیینہ ) کی حدیث کی طرح بیان کیا
۳۸
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۴۰
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مِنَ الأَزْدِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ الأُتْبِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ قَالَ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَهَلاَّ جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا " . ثُمَّ خَطَبَنَا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلاَّنِي اللَّهُ فَيَأْتِي فَيَقُولُ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي . أَفَلاَ جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا وَاللَّهِ لاَ يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلاَّ لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةً تَيْعِرُ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " . بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي .
ہشام نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو بنو سلیم کے صدقات وصول کرنے کے لیے عامل بنایا ، اسے ابن اُتبیہ کہا جاتا تھا ۔ جب وہ مال وصول کر کے آیا تو ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس کے ساتھ حساب کیا ۔ وہ کہنے لگا : یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم سچے ہو تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں جا کر کیوں نہ بیٹھ گئے تاکہ تمہارا ہدیہ تمہارے پاس آ جاتا ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی ، پھر فرمایا : " اما بعد! میں تم میں سے کسی شخص کو کسی ایسے کام پر عامل بناتا ہوں جس کی تولیت ( انتظام ) اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کی ہے اور وہ شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تم لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے ملا ہے ۔ وہ شخص اگر سچا ہے تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا تاکہ اس کا ہدیہ اس کے پاس آتا ، اللہ کی قسم! تم میں سے جو شخص بھی اس مال میں سے کوئی چیز اپنے حق کے بغیر لے گا ، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ وہ چیز اس نے اپنی گردن پر اٹھا رکھی ہو گی ، میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ضرور پہچان لوں گا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ اس نے اونٹ اٹھایا ہو گا جو بلبلا رہا ہو گا ، یا گائے اٹھا رکھی ہو گی جو ڈکرا رہی ہو گی ، یا بکری اٹھائی ہو گی جو ممیا رہی ہو گی ، " پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی ، ( اس وقت ) آپ فرما رہے تھے : " اے اللہ! کیا میں نے ( تیرا پیگام ) پہنچا دیا؟ " ( ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ سب ) میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا
۳۹
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۴۱
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ، أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي حَدِيثِ عَبْدَةَ وَابْنِ نُمَيْرٍ فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ . كَمَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ " تَعْلَمُنَّ وَاللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا " . وَزَادَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ قَالَ بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنَاىَ . وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَإِنَّهُ كَانَ حَاضِرًا مَعِي .
عبدہ ، ابن نمیر اور ابومعاویہ ، اسی طرح عبدالرحیم بن سلیمان اور سفیان سب نے اسی سند کے ساتھ ہشام سے روایت کی ۔ عبدہ اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے : جب وہ آیا تو ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس کے ساتھ حساب کیا ، جس طرح ابواسامہ نے کہا اور ابن نمیر کی حدیث میں یہ ( بھی ) ہے : " تم لوگوں کو ضرور پتہ چل جائے گا ، اللہ کی قسم! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی بھی شخص جو اس ( مال ) میں سے کوئی چیز لے گا ۔ " سفیان کی حدیث میں یہ اضافہ ہے : میری آنکھ نے دیکھا اور میرے دونوں کانوں نے سنا ۔ ( حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کرتے ہوئے ) کہا : تم لوگ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھ لو ، وہ بھی میرے ساتھ موجود تھے
۴۰
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۴۲
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ، - وَهُوَ أَبُو الزِّنَادِ - عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ بِسَوَادٍ كَثِيرٍ فَجَعَلَ يَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ إِلَىَّ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ عُرْوَةُ فَقُلْتُ لأَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مِنْ فِيهِ إِلَى أُذُنِي .
عبداللہ بن ذکوان یعنی ابوزناد سے روایت ہے انہوں نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صدقات پر عامل مقرر کیا ، وہ بہت زیادہ مال لے کر آیا اور کہنے لگا : یہ آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے بطور ہدیہ ملا ہے ، پھر اسی ( سابقہ حدیث کی ) طرح بیان کیا ۔ عروہ نے کہا : میں نے حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟ انہوں نے کہا : براہِ راست آپ کے دہن مبارک سے اپنے کانوں تک ( آتی ہوئی آواز سے سنی)
۴۱
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۴۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي، خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ كَانَ غُلُولاً يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ أَسْوَدُ مِنَ الأَنْصَارِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ قَالَ " وَمَا لَكَ " . قَالَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا . قَالَ " وَأَنَا أَقُولُهُ الآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى " .
وکیع بن جراح نے کہا : ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " ہم تم میں سے جس شخص کو کسی کام پر عامل مقرر کریں اور وہ ایک سوئی یا اس سے بڑی کوئی چیز ہم سے چھپا لے تو یہ خیانت ہو گی ، وہ شخص قیامت کے دن اسے ساتھ لے کر آئے گا ۔ " ( حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں دیکھ رہا تھا ، ( یہ بات سن کر ) انصار میں سے کالے رنگ کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ! آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئے! آپ نے فرمایا : " تمہیں کیا ہوا؟ " اس نے کہا : میں نے آپ کو اس اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے ( میں اس وعید سے ڈرتا ہوں ۔ ) آپ نے فرمایا : میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ ہم تم میں سے جس شخص کو کسی کام کا عامل بنائیں وہ ہر چھوٹی اور بڑی چیز کو لے کر آئے ، اس کے بعد اس میں سےجو چیز اس کو دی جائے وہ لے لے اور جو چیز اس سے روک لی جائے اس سے دور رہے
۴۲
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۴۴
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ، بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
عبداللہ بن نمیر ، محمد بن بشر اور ابواسامہ سبنے کہا : ہمیں اسماعیل نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق حدیث بیان کی
۴۳
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۴۵
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بْنُ أَبِي خَالِدٍ أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
فضل بن موسیٰ نے کہا : ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں قیس بن ابی حازم نے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، ان سب کی حدیث کے مانند
۴۴
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۴۶
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ نَزَلَ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ} فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ السَّهْمِيِّ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ . أَخْبَرَنِيهِ يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
ابن جریج نے بیان کیا کہ قرآن مجید کی آیت : " اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے اختیار والے ہیں " حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر میں ( امیر بنا کر ) روانہ کیا تھا ( ابن جریج نے کہا ) مجھے یعلیٰ بن مسلم نے سعید بن جبیر سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی
۴۵
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۴۹
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي " .
یونس نے خبر دی کہ انہیں ابن شہاب نے خبر دی ، کہا : ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے ( مقرر کردہ ) امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی
۴۶
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۵۰
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ سَوَاءً
زیاد ( بن سعد ) سے روایت ہے ، انہوں نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ بالکل اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند
۴۷
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۵۱
وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح. وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، سَمِعَ أَبَا عَلْقَمَةَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
ابو عوانہ اور شعبہ نے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کی ، انہوں نے علقمہ سے ( حدیث ) سنی ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی طرح روایت کی
۴۸
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۵۲
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
معمر نے ہمام بن منبہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کے مانند روایت کی
۴۹
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۵۳
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ وَقَالَ " مَنْ أَطَاعَ الأَمِيرَ " . وَلَمْ يَقُلْ أَمِيرِي وَكَذَلِكَ فِي حَدِيثِ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ( ازاد کردہ غلام ) ابو یونس نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی ( حدیث ) روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے " جس نے امیر کی اطاعت کی " فرمایا ، " میرے امیر کی " نہیں فرمایا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہمام کی روایت کردہ حدیث میں بھی اسی طرح ہے
۵۰
صحیح مسلم # ۳۳/۴۷۵۴
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ، قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ " .
ابو صالح السمان سے روایت ہے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم پر ( امیر کا حکم ) سننا اور ماننا واجب ہے ، اپنی مشکل ( کی کیفیت ) میں بھی اور اپنی آسانی میں بھی ، اپنی خوشی میں بھی اور اپنی ناخوشی میں بھی اور اس وقت بھی جب تک پر ( کسی اور کو ) ترجیح دی جا رہی ہو