اعتکاف
ابواب پر واپس
۰۱
صحیح مسلم # ۱۵/۱۲۲۰
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ يَوْمَ عَرَفَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَمِنَ الْحُمْسِ فَمَا شَأْنُهُ هَا هُنَا وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُعَدُّ مِنَ الْحُمْسِ .
یحییٰ بن سعید نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حضرت معیقیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے نماز ( کے دوران ) میں ہاتھ سے ( کنکریاں وغیرہ ) صاف کرنے کے بارےمیں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ‘ ‘ ایک بار ( کی جاسکتی ہیں ۔ ) ’’
۰۲
صحیح مسلم # ۱۵/۱۲۲۲
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعْرِسِينَ بِهِنَّ فِي الأَرَاكِ ثُمَّ يَرُوحُونَ فِي الْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ .
(ہشام کے بجائے ) شیبان نے یحییٰ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں جو سجدے کی جگہ کی مٹی برابر کرتا ہے ، فرمایا : ‘ ‘ اگر تم نے ایسا کرنا ہی ہے تو ایک بار کرو ۔ ’’
۰۳
صحیح مسلم # ۱۵/۱۳۳۲
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَدَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ فِي عُمْرَتِهِ قَالَ لاَ .
عبداللہ بن شقیق نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ قبر کے عذاب سے ، جہنم کے عذاب سے اور دجال کے فتنے سے پناہ مانگا کرتے تھے ۔
۰۴
صحیح مسلم # ۱۵/۱۳۵۴
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلاً قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَاىَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ
" إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلاَ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا فَقُولُوا لَهُ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " . فَقِيلَ لأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لاَ يُعِيذُ عَاصِيًا وَلاَ فَارًّا بِدَمٍ وَلاَ فَارًّا بِخَرْبَةٍ .
" إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلاَ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا فَقُولُوا لَهُ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " . فَقِيلَ لأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لاَ يُعِيذُ عَاصِيًا وَلاَ فَارًّا بِدَمٍ وَلاَ فَارًّا بِخَرْبَةٍ .
جریر نےعمارہ بن قعقاع سے ، انھوں نے ابوزرعہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسو ل اللہ ﷺ جب ( آغاز ) نماز کے لیے تکبیر کہتے تو قراءات کرنے سے پہلے کچھ دیر سکوت فرماتے ، میں نےعرض کی : اے اللہ کے رسو ل ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! دیکھیے یہ جو تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ کی خاموشی ہے ( اس کے دوران میں ) آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’میں کہتا ہوں : اللہم باعدبینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب اللہم نقنی من خطایای کما ینقی الثوب الابیض من الدنس ، اللم اغسلنی من خطایای بالثلج والماء والبرد’’ اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے ۔ اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ۔ اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے پاک کر دے برف کے ساتھ ، پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ ۔ ‘ ‘
۰۵
صحیح مسلم # ۱۵/۱۳۶۶
وَحَدَّثَنَاهُ حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا - قَالَ - ثُمَّ قَالَ لِي هَذِهِ شَدِيدَةٌ
" مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً " . قَالَ فَقَالَ ابْنُ أَنَسٍ أَوْ آوَى مُحْدِثًا .
" مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً " . قَالَ فَقَالَ ابْنُ أَنَسٍ أَوْ آوَى مُحْدِثًا .
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے معمر سے حدیث سنائی ، ابو بکر ( بن ابی شبیہ نے مزید ) کہا : ہمیں ابن علیہ نے حجاج بن ابی عثمان سے حدیث سنائی ، نیز اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس اور عبدالزراق نے معمر سے خبر دی ۔ اسحاق نے ( مزید ) کہا : ہمیں ولید بن مسلم نے شیبان سے خبر دی ، ان سب ( معمر ، حجاج بن ابی عثمان اور شبیان ) نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی ، انھوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ۔ اسحاق نے معمر اور شیبان سے جو حدیث روایت کی اس مین یہ اضافہ کیا ہے ۔ ’’ یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو کہ میں باہر نکل آیا ہوں ۔ ‘ ‘
۰۶
صحیح مسلم # ۱۵/۲۷۹۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ
مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {
يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ} فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ
" عَلَى الصِّرَاطِ " .
مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {
يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ} فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ
" عَلَى الصِّرَاطِ " .
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ احرام باندھنے والا کیسے کپڑے پہنے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : " نہ قمیص پہنو نہ عمامہ ، نہ شلوار ، نہ کوٹ ( ٹوپی جڑا لبادہ ) اور نہ موزے پہنو ، سوائے اس کے جسے جوتے میسر نہ ہوں وہ موزے پہن لے ، اور انھیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ لے ۔ اور ایسا کپڑا نہ پہنو جسے کچھ بھی زعفران یا ورس ( زرد چولہ ) لگا ہو ۔
۰۷
صحیح مسلم # ۱۵/۲۷۹۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ،
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،
عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَكُونُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَكْفَؤُهَا
الْجَبَّارُ بِيَدِهِ كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلاً لأَهْلِ الْجَنَّةِ " . قَالَ فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ
الْيَهُودِ فَقَالَ بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ أَلاَ أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ
" بَلَى " . قَالَ تَكُونُ الأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً - كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
- قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ أَلاَ
أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ قَالَ " بَلَى " . قَالَ إِدَامُهُمْ بَالاَمُ وَنُونٌ . قَالُوا وَمَا هَذَا قَالَ ثَوْرٌ وَنُونٌ
يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا .
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،
عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَكُونُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَكْفَؤُهَا
الْجَبَّارُ بِيَدِهِ كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلاً لأَهْلِ الْجَنَّةِ " . قَالَ فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ
الْيَهُودِ فَقَالَ بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ أَلاَ أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ
" بَلَى " . قَالَ تَكُونُ الأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً - كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
- قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ أَلاَ
أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ قَالَ " بَلَى " . قَالَ إِدَامُهُمْ بَالاَمُ وَنُونٌ . قَالُوا وَمَا هَذَا قَالَ ثَوْرٌ وَنُونٌ
يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا .
حضرت سالم نے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا ، احرام باندھنے والا کیسا لباس پہنے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " محرم نہ قمیص پہنے ، نہ عمامہ ، نہ ٹوپی جرا لبادہ ، نہ شلوار ، نہ ایسے کپڑے پہنے جسے ورس یا زعفرا ن لگاہو ، اور نہ موزے پہنے ، مگر جسے جوتے نہ ملیں تو ( وہ موزے پہن لے اور ) انھیں ( اوپر سے ) اتنا کاٹ ے کہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہوجائیں ۔
۰۸
صحیح مسلم # ۱۵/۲۷۹۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ،
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" لَوْ تَابَعَنِي عَشْرَةٌ مِنَ الْيَهُودِ لَمْ
يَبْقَ عَلَى ظَهْرِهَا يَهُودِيٌّ إِلاَّ أَسْلَمَ " .
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" لَوْ تَابَعَنِي عَشْرَةٌ مِنَ الْيَهُودِ لَمْ
يَبْقَ عَلَى ظَهْرِهَا يَهُودِيٌّ إِلاَّ أَسْلَمَ " .
عبداللہ بن دینار نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے والے کو زعفران یا ورس میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع کیا ، نیز فرمایا؛ " جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اورانھیں ٹخنوں کےنیچے تک کاٹ لے ۔
۰۹
صحیح مسلم # ۱۵/۲۷۹۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ " . يَعْنِي الْمُحْرِمَ .
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے ، انھوں نے جابر بن زید سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، آپ فرمارہے تھے : " شلوار اس کے لئے ( جائز ) ہے جسے تہبند نہ ملے ، اور موزے اس کے لئے جسے جوتے میسر نہ ہو ، " یعنی احرام باندھنے والے کے لئے ۔
۱۰
صحیح مسلم # ۱۵/۲۷۹۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ . فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ .
شعبہ نے عمرو بن دینار سے یہ روایت اسی سندکے ساتھ بیان کی کہ انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے سنا ، پھر یہی حدیث سنائی ۔
۱۱
صحیح مسلم # ۱۵/۲۷۹۶
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الزِّيَادِيِّ،
أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ أَبُو جَهْلٍ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ
عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ . فَنَزَلَتْ { وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ
وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ * وَمَا لَهُمْ أَلاَّ يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ
الْحَرَامِ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ أَبُو جَهْلٍ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ
عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ . فَنَزَلَتْ { وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ
وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ * وَمَا لَهُمْ أَلاَّ يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ
الْحَرَامِ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
ابن عینیہ ، ہشیم ، سفیان ثوری ، ابن جریج اور ایوب ( سختیانی ) ان تمام نے عمرو بن دینار سے مذکورہ سند کےساتھ روایت کی ، ان تمام میں سے اکیلے شعبہ کے علاوہ کسی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں خطبہ ارشادفرمارہے تھے ۔
۱۲
صحیح مسلم # ۱۵/۲۷۹۷
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْقَيْسِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ،
عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ
يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَالَ فَقِيلَ نَعَمْ . فَقَالَ وَاللاَّتِ وَالْعُزَّى لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ
لأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ أَوْ لأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ - قَالَ - فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم وَهُوَ يُصَلِّي زَعَمَ لِيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ - قَالَ - فَمَا فَجِئَهُمْ مِنْهُ إِلاَّ وَهُوَ يَنْكِصُ عَلَى
عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ - قَالَ - فَقِيلَ لَهُ مَا لَكَ فَقَالَ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلاً
وَأَجْنِحَةً . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ دَنَا مِنِّي لاَخْتَطَفَتْهُ الْمَلاَئِكَةُ عُضْوًا
عُضْوًا " . قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لاَ نَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَىْءٌ بَلَغَهُ { كَلاَّ
إِنَّ الإِنْسَانَ لَيَطْغَى * أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى * إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى * أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى * عَبْدًا
إِذَا صَلَّى * أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى * أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى * أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى} -
يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ - { أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى * كَلاَّ لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ * نَاصِيَةٍ
كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ * فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ * سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ * كَلاَّ لاَ تُطِعْهُ} زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ
قَالَ وَأَمَرَهُ بِمَا أَمَرَهُ بِهِ . وَزَادَ ابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ يَعْنِي قَوْمَهُ .
عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ
يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَالَ فَقِيلَ نَعَمْ . فَقَالَ وَاللاَّتِ وَالْعُزَّى لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ
لأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ أَوْ لأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ - قَالَ - فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم وَهُوَ يُصَلِّي زَعَمَ لِيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ - قَالَ - فَمَا فَجِئَهُمْ مِنْهُ إِلاَّ وَهُوَ يَنْكِصُ عَلَى
عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ - قَالَ - فَقِيلَ لَهُ مَا لَكَ فَقَالَ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلاً
وَأَجْنِحَةً . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ دَنَا مِنِّي لاَخْتَطَفَتْهُ الْمَلاَئِكَةُ عُضْوًا
عُضْوًا " . قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لاَ نَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَىْءٌ بَلَغَهُ { كَلاَّ
إِنَّ الإِنْسَانَ لَيَطْغَى * أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى * إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى * أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى * عَبْدًا
إِذَا صَلَّى * أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى * أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى * أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى} -
يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ - { أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى * كَلاَّ لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ * نَاصِيَةٍ
كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ * فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ * سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ * كَلاَّ لاَ تُطِعْهُ} زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ
قَالَ وَأَمَرَهُ بِمَا أَمَرَهُ بِهِ . وَزَادَ ابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ يَعْنِي قَوْمَهُ .
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جسے جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے ، اور جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار پہن لے ۔
۱۳
صحیح مسلم # ۱۵/۲۷۹۸
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ، بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهَا خَلُوقٌ - أَوْ قَالَ أَثَرُ صُفْرَةٍ - فَقَالَ كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي قَالَ وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْوَحْىُ فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ وَدِدْتُ أَنِّي أَرَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ - قَالَ - فَقَالَ أَيَسُرُّكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ قَالَ فَرَفَعَ عُمَرُ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ لَهُ غَطِيطٌ - قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ - كَغَطِيطِ الْبَكْرِ - قَالَ - فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الصُّفْرَةِ - أَوْ قَالَ أَثَرَ الْخَلُوقِ - وَاخْلَعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا أَنْتَ صَانِعٌ فِي حَجِّكَ " .
ہمام نے کہا : ہمیں عطا ابن ابی رباح نے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد ( یعلیٰ بن امیہ تمیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص حاضر ہوا ۔ ( اس وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ ( کے مقام ) پر تھے ، اس ( کے بدن ) پر جبہ تھا ، اس پر زعفران ملی خوشبو ( لگی ہوئی ) تھی ۔ یاکہا : زردی کا نشان تھا ۔ اس نے کہا : آپ مجھے میرے عمرے میں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ ( یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ( اتنے میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرکپڑا تان دیا گیا ۔ یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( اس عالم میں ) دیکھوں جب آپ پروحی اتر رہی ہو ۔ ( یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ) ( عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کہنے لگے : کیاتمھیں پسند ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہوتو تم انھیں دیکھو؟ ( یعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کپڑے کا ایک کنارا اٹھایا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سانس لینے کی بھاری آواز آرہی تھی ۔ صفوان نے کہا : میرا گمان ہے انھوں نے کہا : ۔ ۔ ۔ جس طرح جوان اونٹ کے سانس کی آواز ہوتی ہے ۔ ( یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت دو ر ہوئی ( تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عمرے کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ( پھر اس نے فرمایا : ) تم اپنے ( کپڑوں ) سے زردی ( زعفران ) کا نشان ۔ ۔ ۔ یا فرمایا : خوشبو کا اثر ۔ ۔ دھو ڈالو ، اپنا جبہ اتار دو اور عمرے میں وہی کچھ کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو ۔
۱۴
صحیح مسلم # ۱۵/۲۷۹۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،
ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ
عَزْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَىِّ،
بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الأَكْبَرِ} قَالَ مَصَائِبُ
الدُّنْيَا وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ أَوِ الدُّخَانُ . شُعْبَةُ الشَّاكُّ فِي الْبَطْشَةِ أَوِ الدُّخَانِ .
ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ
عَزْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَىِّ،
بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الأَكْبَرِ} قَالَ مَصَائِبُ
الدُّنْيَا وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ أَوِ الدُّخَانُ . شُعْبَةُ الشَّاكُّ فِي الْبَطْشَةِ أَوِ الدُّخَانِ .
عمرو بن دینار نے عطاء سے انھوں نے صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، میں ( یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا ، اس ( کے بدن ) پر ٹکڑیوں والا ( لباس ) ، یعنی جبہ تھا وہ زعفران ملی خوشبوسے لت پت تھا ۔ اس نے کہا میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے ۔ اور میرے جسم پر یہ لباس ہے ۔ اور میں نے خوشبو بھی لگائی ہے ۔ ( کیایہ درست ہے؟ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم اپنے حج میں کیا کرتے؟ " اس نے کہا : میں یہ اپنے کپڑے اتار دیتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " جو تم اپنے حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرے میں کرو ۔
۱۵
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۰۰
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - لَيْتَنِي أَرَى نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ . فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ عَلَيْهِ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَاعَةً ثُمَّ سَكَتَ فَجَاءَهُ الْوَحْىُ فَأَشَارَ عُمَرُ بِيَدِهِ إِلَى يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ تَعَالَ . فَجَاءَ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ فَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ " أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا " . فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَجِيءَ بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ " .
۔ ابن جریج نے کہا : مجھے عطاء نے خبر دی کہ صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن امیہ نے انھیں خبر دی کہ یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہاکرتے تھے : کاش!میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پروحی نازل ہورہی ہو ۔ ( ایک مرتبہ ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک کپڑے سےسایہ کیاگیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی تھے ۔ جن میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ۔ اس نے خوشبوسےلت پت جبہ پہنا ہواتھا ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کے بارے میں کیا خیا ل ہے ۔ جس نےاچھی طرح خوشبولگاکر جبے میں عمرے کا احرام باندھاہے ۔ ؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا ، پھرسکوت اختیار فرمایا تو ( اس اثناء میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوناشروع ہوگئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہاتھ سے یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اشارہ کیا ، ادھرآؤ یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگئے اور اپنا سر ( چادر ) میں داخل کردیا ۔ ادھر آؤ ، یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگئے اور پنا سر ( چادر ) میں داخل کردیا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہورہاتھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر بھاری بھاری سانس لیتے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کیفیت دور ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی مجھ سے عمرے کے متعلق سوال کیا تھا؟ " آدمی کو تلاش کرکے حاضر کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ خوشبو جو تم نے لگا رکھی ہے ۔ اسے تین مرتبہ دھو لو اور یہ جبہ ( لباس ) ، اسے اتار دو ، پھر اپنے عمرے میں ویسے ہی کرو جیسے تم اپنے حج میں کرتے ہو ۔
۱۶
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۰۱
وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ قَيْسًا، يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ، يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ، رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ قَدْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَأَنَا كَمَا تَرَى . فَقَالَ " انْزِعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ وَاغْسِلْ عَنْكَ الصُّفْرَةَ وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ " .
قیس ، عطاء سے حدیث بیا ن کرتے ہیں ، وہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے ، وہ اپنے والد ( یعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، وہ عمرے کااحرام باندھ کرتلبیہ کہہ چکا تھا ، اس نے اپنا سراور اپنی داڑھی کو زردرنگ سے رنگا ہواتھا ، اور اس ( کے جسم ) پر جبہ تھا ۔ اس نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور میں اس حالت میں ہوں جو آپ دیکھ رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جبہ اتار دوں ، اپنے آپ سے زرد رنگ کو دھو ڈالو اور جو تم نے اپنے حج میں کرنا تھا وہی عمرے میں کرو ۔
۱۷
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۰۲
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، قَالَ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ بِهَا أَثَرٌ مِنْ خَلُوقٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ أَفْعَلُ فَسَكَتَ عَنْهُ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ وَكَانَ عُمَرُ يَسْتُرُهُ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ يُظِلُّهُ فَقُلْتُ لِعُمَرَ - رضى الله عنه - إِنِّي أُحِبُّ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ أَنْ أُدْخِلَ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ . فَلَمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ خَمَّرَهُ عُمَرُ - رضى الله عنه - بِالثَّوْبِ فَجِئْتُهُ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ " أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا عَنِ الْعُمْرَةِ " . فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ " انْزِعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخَلُوقِ الَّذِي بِكَ وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِكَ مَا كُنْتَ فَاعِلاً فِي حَجِّكَ " .
رباح بن ابی معروف نے ہم سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے عطاء سے سنا ، انھوں نے کہا : مجھے صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص آیا ، اس نے جبہ پہن رکھاتھا جس پر زعفران ملی خوشبو کے نشانات تھے ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے تو میں کس طر ح کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہےاور اسے کوئی جواب نہ دیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے آگے اوٹ کرتے ، آپ پر سایہ کرتے ۔ میں نے حضرت عمر سے کہا : میر ی خواہش ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو ، میں بھی کپڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ اپنا سر داخل کروں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو کپڑے سے چھپا دیا ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کپڑے میں اپنا سر داخل کردیا اور آپ کو ( وحی کے نزول کی حالت میں ) دیکھا ۔ جب آپ کی وہ کیفیت زائل کردی گئی تو فرمایا : " ابھی عمرے کے متعلق سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ " ( اتنے میں ) وہ شخص آپ کے پاس آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنا جبہ اتار دو ، اپنے جسم سے زعفران ملی خوشبو کا نشان دھوڈالو اور عمرے میں وہی کرو جو تم نے حج میں کرنا تھا ۔
۱۸
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۰۳
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، حَدَّثَنِي أَبِي،
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ،
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ عَلَى زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ،
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ عَلَى زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
عمرو بن دینا ر نے طاوس سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ شام والوں کے لیے جحفہ نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والو ں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور فر ما یا : " یہ ( چاروں میقات ) ان جگہوں ( پر رہنے والے ) اور وہاں نہ رہنے والے ۔ وہاں تک پہنچنے والے ایسے لوگوں کے لیے ہیں جو حج اور عمرے کا ارادہ کریں اور جوان ( مقامات ) کے اندر ہو وہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھ لے جو اس سے زیادہ حرم کے قریب ہو وہ اسی طرح کرے حتی کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرا م باندھیں
۱۹
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۰۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ . وَقَالَ " هُنَّ لَهُمْ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ " .
وہیب نے کہا : ہمیں عبد اللہ بن طاوس نے اپنے والد سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ شام والوں کے لیے جحفہ نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور فر ما یا : " یہ ( مقامات ) وہاں کے باشندوں اور ہر آنے والے ایسے شخص کے لیے ( میقات ) ہیں جو دوسرے علاقوں سے وہاں پہنچے اور حج و عمرے کا ارادہ رکھتا ہو ۔ اور جو کو ئی ان ( مقامات ) سے اندر ہو وہ اسی جگہ سے ( احرا م ) باندھ لے ) جہاں سےوہ چلے حتیٰ کہ مکہ والے مکہ ہی سے ( احرام باند ھیں ۔)
۲۰
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۰۵
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ " .
نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مدینہ والے ذوالحلیفہ سے شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے ( احرام باند ھ کر ) تلبیہ کہیں ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : مجھے یہ بات بھی پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" یمن والے یلملم سے ( احرام باندھ کر ) تلبیہ کہں ۔
۲۱
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۰۶
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يُونُسُ،
بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ
يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ
" أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ فِي الدُّنْيَا
قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ قَتَادَةُ بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا .
بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ
يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ
" أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ فِي الدُّنْيَا
قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ قَتَادَةُ بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا .
سالم بن عبد اللہ بن عمر بن خطا ب نے اپنے والد سے روایت کی ۔ کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فر ما رہے تھے : "" اہل مدینہ کا مقام تلبیہ ( وہ جگہ جہاں سے بآواز بلند لبيك اللهم لبيك کہنے کا آغاز ہو تا ہے یعنی میقات مراد ہے ) ذوالحلیفہ ہے اہل شام کا مقام تلبیہ مهيعه وہی جحفه ہے اور اہل نجد کا قرن ( المنازل ) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( مجھے بتا نے والے ) ان لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔ ۔ ۔ میں نے آپ سے خود نہیں سنا ۔ ۔ ۔ فر ما یا "" اور اہل یمن کا مقام تلبیہ یلملم ہے ۔
۲۲
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۰۷
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ،
الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ
الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ثُمَّ يُقَالُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ
خَيْرًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ فَيَقُولُ لاَ وَاللَّهِ يَا رَبِّ . وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا
مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ هَلْ مَرَّ
بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ فَيَقُولُ لاَ وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤُسٌ قَطُّ وَلاَ رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ " .
الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ
الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ثُمَّ يُقَالُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ
خَيْرًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ فَيَقُولُ لاَ وَاللَّهِ يَا رَبِّ . وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا
مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ هَلْ مَرَّ
بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ فَيَقُولُ لاَ وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤُسٌ قَطُّ وَلاَ رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ " .
عبد اللہ بن دینا ر سے روایت ہے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کو حکم دیا کہ وہ ذولحلیفہ سے شام والوں کو حکم دیا کہ وہ جحفہ سے اور نجد والوں کو حکم دیا کہ وہ قرن ( منا زل ) سے ( احرام باندھ کر ) تلبیہ کا آغا ز کریں ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے خبردی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" یمن والے یلملم سے احرا م باند ھیں ۔
۲۳
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۰۸
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ سَمِعْتُ - ثُمَّ، انْتَهَى فَقَالَ أُرَاهُ يَعْنِي - النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم .
روح بن عبادہ نے کہا ہمیں ابن جریج نے حدیث سنا ئی کہا : ہمیں ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ان سے مقام تلبیہ کے بارے میں پو چھا جا رہا تھا تو انھوں نے کہا : میں نے سنا پھر رک گئے اور ( کچھ وقفے کے بعد ) کہا : ان ( جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ( کہ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے سنا)
۲۴
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۰۹
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ سَمِعْتُ - أَحْسِبُهُ، رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ " مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الآخَرُ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ " .
سفیا ن نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے سالم سے انھوں نے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مدینہ والے ذوالحلیفہ سے شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن منا زل سے احرا م باندھیں ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے بتا یا گیا ۔ ۔ ۔ میں نے خود نہیں سنا ۔ ۔ ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا یمن والے یلملم سے احرام باندھیں ۔
۲۵
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۱۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّ تَلْبِيَةَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ " . قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَزِيدُ فِيهَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ .
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا میں نے مالک کے سامنے ( اس حدیث کی ) قراءت کی انھوں نے نافع سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ ہوا کرتا تھا ۔ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ ، وَالنِّعْمَةَ ، لَكَ وَالْمُلْكَ ، لاَ شَرِيكَ لَكَ میں بار بار حاضر ہوں اے اللہ ! تیرے حضور حاضر ہوں میں حاضر ہوں یقیناً تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے ۔ ( کسی بھی چیز میں ) تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ اور ( نافع نے ) کہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ( مذکورہ تلبیہ ) میں یہ اضا فہ فر ما یا کرتے تھے ۔ "" لبيك لبيك وسعديك ، والخير بيديك ، والرغباء إليك والعمل "" میں تیر ے سامنے حاجر ہوں حاضر ہوں تیری اطا عت کی ایک کے بعد دوسری سعادت ( حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں ) اور ہر قسم کی خیر تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ ! میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ( ہر دم ) تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل ( تیری ہی رضا کے لیے ہیں)
۲۶
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۱۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَنَافِعٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ وَحَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ فَقَالَ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ " . قَالُوا وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ نَافِعٌ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ - رضى الله عنه - يَزِيدُ مَعَ هَذَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ .
موسیٰ بن عقبہ نے سالم بن عبد اللہ بن عمر اور حضرت عبد اللہ کے مولیٰ نافع اور حمزہ بن عبد اللہ کے واسطے سے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری جب آپ کو لے کر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس سیدھی کھڑی ہو جا تی تو آپ تلبیہ پکا رتے اور کہتے : "" میں بار بار حاضر ہوں ۔ اے اللہ ! میں تیرے حضور حاضر ہوں میں حاضرہوں یقیناً تمام تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے ( کسی بھی چیز میں تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ ( سالم نا فع اور حمزہ نے ) کہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے ۔ نافع نے کہا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان ( مذکورہ بالا ) کلما ت کے ساتھ ان الفاظ کاا ضافہ کرتے : "" میں تیرے سامنے حاضر ہوں حاضر ہوں تیری اطاعت کی ایک کے بعد دوسری سعادت ( حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں ) اور ہر قسم کی خیر تیرے دو نوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ !میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ( ہر دم ) تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل ( تیری رضا کے لیے ہیں)
۲۷
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۱۳
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
عبید اللہ ( بن عمربن حفص العدوی المدنی ) نے کہا مجھے نا فع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سنتے ہی تلبیہ یا د کر لیا پھر سالم نافع اور حمزہ کی حدیث کی طرح روایت بیا ن کی ۔
۲۸
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۱۴
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ فَإِنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ مُلَبِّدًا يَقُولُ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ " . لاَ يَزِيدُ عَلَى هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ . وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ . ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - يُهِلُّ بِإِهْلاَلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ .
ابن شہاب نے کہا : بلا شبہ سالم بن عبد اللہ بن عمر نے مجھے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں تلبیہ پکا رتے سنا کہ آپ کے بال جڑے ( گوندیا خطمی بو ٹی وغیرہ کے ذریعے سے باہم چپکے ) ہو ئے تھے آپ کہہ رہے تھے ۔ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ ، وَالنِّعْمَةَ ، لَكَ وَالْمُلْكَ ، لاَ شَرِيكَ لَكَان کلما ت پر اضا فہ نہیں فر ما تے تھے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ما یا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز ادا کرتے پھر جب آپ کی اونٹنی مسجد ذوالحلیفہ کے پاس آپ کو لے کر کھڑی ہو جا تی تو آپ ان کلما ت سے تلبیہ پکا رتے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کلما ت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا تلبیہ پکا رتے تھے اور ( ساتھ یہ ) کہتے : : لبيك اللهم لبيك لبيك لبيك وسعديك ، والخير بيديك ، والرغباء إليك والعمل "" : "" میں با ر بار حاضر ہوں ، اے اللہ !میں تیرے سامنے حاضر ہوں حاضر ہوں تیری طرف سے سعادتوں کا طلب گا ر ہوں ہر قسم کی بھلا ئی تیرے دو نوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ !میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ہر دم تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور ہر عمل تیری رضا کے لیے ہے ۔
۲۹
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۱۵
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ،
قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلاً . قَالَتْ فَغِرْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ
فَقَالَ " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ " . فَقُلْتُ وَمَا لِي لاَ يَغَارُ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ فَقَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَقَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ " . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَمَعِيَ شَيْطَانٌ
قَالَ " نَعَمْ " . قُلْتُ وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَالَ " نَعَمْ " . قُلْتُ وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ "
نَعَمْ وَلَكِنْ رَبِّي أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ " .
قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلاً . قَالَتْ فَغِرْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ
فَقَالَ " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ " . فَقُلْتُ وَمَا لِي لاَ يَغَارُ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ فَقَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَقَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ " . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَمَعِيَ شَيْطَانٌ
قَالَ " نَعَمْ " . قُلْتُ وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَالَ " نَعَمْ " . قُلْتُ وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ "
نَعَمْ وَلَكِنْ رَبِّي أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ " .
حضرت عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا مشر کین کہا کرتے تھے ہم حاضر ہیں ۔ تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : " تمھا ری بر بادی ! بس کرو بس کرو ( یہیں پر رک جا ؤ ) مگر وہ آگے کہتے : مگر ایک ہے شریک جو تمھا را ہے تم اس کے مالک ہو ، وہ مالک نہیں وہ لو گ بیت اللہ کا طواف کرتے ہو ئے یہی کہتے تھے ۔
۳۰
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۱۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، - رضى الله عنه - يَقُولُ بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِ .
یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی کہا میں نے مالک کے سامنے قراءت کی انھوں نے موسیٰ بن عقبہ سے اور انھوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا انھوں نے فر ما یا : یہ تمھا را چٹیل میدا ن بيداءوہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط بیا نی کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں مگر مسجد کے قریب ( یعنی ذوالحلیفہ ) ہی سے احرا م باندھا تھا ۔
۳۱
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۱۷
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُوسَى بْنِ، عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - إِذَا قِيلَ لَهُ الإِحْرَامُ مِنَ الْبَيْدَاءِ قَالَ الْبَيْدَاءُ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ حِينَ قَامَ بِهِ بَعِيرُهُ .
حاتم یعنی ابن اسماعیل نے مو سیٰ بن عقبہ سے انھوں نے سالم سے حدیث بیان کی کہا : جب ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہا جا تا کہ احرا م بیدا ء سے ( باند ھا جا تا ) ہے تو وہ کہتے پیداء وہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غلط بیا نی کرتے ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں درخت کے پاس ہی سے احرا م باندھا تھا ۔ جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی تھی ۔
۳۲
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۱۸
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا . قَالَ مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا الأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمَسُّ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْبَغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبَغَ بِهَا وَأَمَّا الإِهْلاَلُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ .
سعید بن ابی سعید مقبری نے عبید بن جریج سے روایت کی کہ انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا اے ابو عبد الرحمٰن !میں نے آپ کو چا ر ( ایسے ) کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کے کسی اور ساتھی کو کرتے نہیں دیکھا ۔ ابن عمر نے کہا : ابن جریج !وہ کو ن سے ( چار کام ) ہیں ؟ ابن جریج نے کہا : میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ( بیت اللہ کے ) دو یما نی رکنوں ( کونوں ) کے سوا اور کسی رکن کو ہاتھ نہیں لگا تے ، میں نے آپ کو دیکھا ہے سبتی ( رنگے ہو ئے صاف چمڑے کے ) جو تے پہنتے ہیں ۔ ( نیز آپ کو دیکھا کہ زرد رنگ سے ( کپڑوں کو ) رنگتے یں اور آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ مکہ میں ہو تے ہیں تو لو گ ( ذوالحجہ کی ) پہلی کا چا ند دیکھتے ہی لبیک پکار نا شروع کر دیتے ہیں لیکن آپ آٹھویں کا دن آنے تک تلبیہ نہیں پکا رتے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : جہا ں تک ارکان ( بیت اللہ کے کونوں ) کی بات ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمنی رکنوں کے سوا ( کسی اور رکن کو ) ہاتھ لگا تے نہیں دیکھا ۔ رہے سبتی جو تے تو بلا شبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جو تے پہنے دیکھا کہ جن پر بال نہ ہو تے تھے آپ انھیں پہن کر وضو فر ما تے ( لہٰذا ) مجھے پسند ہے کہ میں یہی ( سبتی جو تے ) پہنوں ۔ رہا زرد رنگ تو بلا شبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ یہ ( رنگ ) استعمال کرتے تھے ۔ اس لیے میں پسند کرتا ہوں کہ میں بھی اس رنگ کو استعمال کروں ۔ اور رہی بات تلبیہ ( لبیک کہتے نہیں سنا جب تک آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی نہ ہو جا تی ۔)
۳۳
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۱۹
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رضى الله عنهما - بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ مَرَّةً فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى إِلاَّ فِي قِصَّةِ الإِهْلاَلِ فَإِنَّهُ خَالَفَ رِوَايَةَ الْمَقْبُرِيِّ فَذَكَرَهُ بِمَعْنًى سِوَى ذِكْرِهِ إِيَّاهُ .
ابن قسیط نے عبید بن جریج سے روایت کی کہا : میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بارہ دفعہ حج اور عمرے کیے ۔ میں نے کہا : اے عبد الرحمٰن !میں نے آپ میں چار چیزیں دیکھی ہیں اور اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی مگر ( تلبیہ بلند کرنے کے ) قصے میں مقبری کی روایت مخالفت کی ، ان الفاظ کے بغیر روایت بالمعنی کی ۔
۳۴
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۲۰
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي
أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَفَطَّرَ رِجْلاَهُ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَصْنَعُ هَذَا
وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَقَالَ
" يَا عَائِشَةُ أَفَلاَ أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا "
.
أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَفَطَّرَ رِجْلاَهُ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَصْنَعُ هَذَا
وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَقَالَ
" يَا عَائِشَةُ أَفَلاَ أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا "
.
عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فر ما یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکا ب میں پاؤں رکھ لیتے اور آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو جا تی تو آپ ذوالحلیفہ سے ( اس وقت ) بلند آواز میں لبیک پکا ر نا شروع فر ما تے ۔
۳۵
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۲۱
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً .
صالح بن کیسان نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ بتا یا کرتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ پکارا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی ۔
۳۶
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۲۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ
أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتِ
النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ " .
أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتِ
النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ " .
سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آل ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہو ئے ۔ پھر سواری آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ تلبیہ پکا ر نے لگے ۔
۳۷
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۲۳
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ،
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سفر کے ) شروع میں ذوالحلیفہ میں رات گزاری اور وہاں کی مسجد میں نماز ادا کی ۔
۳۸
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۲۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ .
عروہ نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے فر ما یا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرا م باندھا تو میں نے احرا م کے لیے اور آپ کے طواف بیت اللہ سے پہلے اھرا م کھولنے کے لیے آپ کو خوشبو لگائی ۔
۳۹
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۲۵
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي
أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ أَبَا حَازِمٍ، حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، يَقُولُ شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَجْلِسًا وَصَفَ فِيهِ الْجَنَّةَ حَتَّى انْتَهَى ثُمَّ قَالَ صلى الله عليه وسلم
فِي آخِرِ حَدِيثِهِ " فِيهَا مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " . ثُمَّ
اقْتَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ { تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ
يُنْفِقُونَ * فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} .
أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ أَبَا حَازِمٍ، حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، يَقُولُ شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَجْلِسًا وَصَفَ فِيهِ الْجَنَّةَ حَتَّى انْتَهَى ثُمَّ قَالَ صلى الله عليه وسلم
فِي آخِرِ حَدِيثِهِ " فِيهَا مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " . ثُمَّ
اقْتَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ { تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ
يُنْفِقُونَ * فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} .
افلح بن حمید نے قاسم بن محمد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تو احرام کے لیے اور طواف بیت اللہ سے پہلے جب آپ نے احرا م کھو لا تو آپ کے احرا م کھولنے کے لیے میں نے آپ کو اپنے ہا تھ سے خوشبو لگا ئی ۔
۴۰
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۲۶
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ .
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی کہا : میں نے مالک کے سامنے قراءت کی کہ عبد الرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد ( قاسم بن ابی بکر ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باندھنے سے پہلے آپ کے احرا م کے لیے اور طواف ( افاضہ ) کرنے سے پہلے احرام کھو لنے کے لیے خوشبو لگا تی تھی ۔
۴۱
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۲۷
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحِلِّهِ وَلِحِرْمِهِ.
عبید اللہ بن عمر نے حدیث سنا ئی کہا : میں نے قاسم کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہو ئے سنا انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م کھو لنے اور احرا م باند ھنے کے لیے خوشبو لگائی ۔
۴۲
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۲۸
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَبِي،
حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً
يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا " .
قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ، فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو
سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ
الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا " .
حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً
يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا " .
قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ، فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو
سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ
الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا " .
عمر بن عبد اللہ بن عروہ نے خبر دی کہ انھوں نے عروہ اور قاسم کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دیتے ہو ئے سنا انھوں نے کہا حجۃ الودع کے موقع پر میں نے اپنے ہا تھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م کھو لنے اور احرا م باند ھنے کے لیے ذریرہ ( نامی ) خوشبو لگا ئی ۔
۴۳
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۲۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ،
بْنُ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي
مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ
صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ . فَيَقُولُونَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا
وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ . فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ وَمَا لَنَا لاَ نَرْضَى يَا رَبِّ وَقَدْ
أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ فَيَقُولُ أَلاَ أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ وَأَىُّ
شَىْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ فَيَقُولُ أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلاَ أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا " .
بْنُ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي
مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ
صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ . فَيَقُولُونَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا
وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ . فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ وَمَا لَنَا لاَ نَرْضَى يَا رَبِّ وَقَدْ
أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ فَيَقُولُ أَلاَ أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ وَأَىُّ
شَىْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ فَيَقُولُ أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلاَ أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا " .
سفیان نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہمیں عثمان بن عروہ نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیان کی کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باندھتے وقت کو ن سی خوشبو لگا ئی تھی ؟انھوں نے فر ما یا سب سے اچھی خوشبو ۔
۴۴
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۳۰
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَطْيَبِ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ثُمَّ يُحْرِمُ .
ہشا م سے روایت ہے انھوں نے عثمان بن عروہ سے روایت کی کہا : میں عروہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا انھوں نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باند ھنے سے پہلے جو سب سے عمد ہ خوشبو لگا سکتی تھی لگا تی پھر آپ احرا م باندھتےتھے ۔
۴۵
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۳۱
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ بِأَطْيَبِ مَا وَجَدْتُ .
ابو الرجال ( محمد بن عبد الر حمان بن حارثہ انصاری ) نے اپنی والد ہ ( عمرہ بنت عبد الرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا بن سعد زرارہ انصار یہ ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باند ھتے وقت جب آپ احرا م کا ارادہ فرماتے اور طواف افاضہ کرنے سے پہلے احرا م کھو لتے وقت جو سب سے عمدہ خوشبو پا ئی وہ لگا ئی ۔
۴۶
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۳۲
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ،
عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي
حُبًّا نَاسٌ يَكُونُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ " .
عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي
حُبًّا نَاسٌ يَكُونُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ " .
منصور نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ احرا م باند ھ چکے ہیں ۔ خلف نے "" جبکہ آپ احرا م باند ھ چکے ہیں "" کے الفا ظ نہیں کہے ۔ لیکن انھوں نے یہ کہا وہ آپ کے احرا م کی خوشبو تھی ( جو آپ نے احرا م باند ھنے سے پہلے اپنے جسم کو لگوائی تھی)
۴۷
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۳۳
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ،
الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا
يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ فَتَهُبُّ رِيحُ الشَّمَالِ فَتَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ وَثِيَابِهِمْ فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالاً
فَيَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ وَقَدِ ازْدَادُوا حُسْنًا وَجَمَالاً فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ
بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالاً . فَيَقُولُونَ وَأَنْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالاً " .
الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا
يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ فَتَهُبُّ رِيحُ الشَّمَالِ فَتَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ وَثِيَابِهِمْ فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالاً
فَيَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ وَقَدِ ازْدَادُوا حُسْنًا وَجَمَالاً فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ
بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالاً . فَيَقُولُونَ وَأَنْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالاً " .
اعمش نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے ایسے لگتا ہے کہ میں ( اب بھی ) آپ کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے لبیک پکا ر رہے ہیں ۔
۴۸
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۳۴
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُلَبِّي.
ابو الضحی نے مسروق سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایسے لگتا ہے جیسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ تلبیہ پکار رہے ہیں ۔
۴۹
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۳۵
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَعَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ . بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ .
مسلم نے مسروق سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا لگتا ہے کہ میں دیکھ رہی ہوں ( آگے ) وکیع کی حدیث کے مانند ہے ۔
۵۰
صحیح مسلم # ۱۵/۲۸۳۶
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ
ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" مَنْ يَدْخُلُ
الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لاَ يَبْأَسُ لاَ تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلاَ يَفْنَى شَبَابُهُ " .
ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" مَنْ يَدْخُلُ
الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لاَ يَبْأَسُ لاَ تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلاَ يَفْنَى شَبَابُهُ " .
حکم نے کہا : میں نے ابرا ہیم کو اسود سے حدیث بیان کرتے سنا انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جیسے میں ( اب بھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سر کے بالوں کو جدا کرنے والی لکیروں ( مانگ ) میں کوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرا م باندھا ہوا ہے ۔