مشروبات
ابواب پر واپس
۰۱
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۶۹
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ يَوْمَ نَزَلَ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ وَثَلاَثٌ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُفَارِقْنَا حَتَّى يَعْهَدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ الْجَدُّ وَالْكَلاَلَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا .
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت شراب پانچ چیزوں: انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو سے بنتی تھی، اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے، اور تین باتیں ایسی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا نہ ہوں جب تک کہ آپ انہیں ہم سے اچھی طرح بیان نہ کر دیں: ایک دادا کا حصہ، دوسرے کلالہ کا معاملہ اور تیسرے سود کے کچھ مسائل۔
۰۲
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۷۰
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالَ عُمَرُ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً فَنَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ { يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ } الآيَةَ قَالَ فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ قَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً فَنَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي فِي النِّسَاءِ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى } فَكَانَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ يُنَادِي أَلاَ لاَ يَقْرَبَنَّ الصَّلاَةَ سَكْرَانُ فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ } قَالَ عُمَرُ انْتَهَيْنَا .
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں ہمیں واضح حکم فرما جس سے تشفی ہو جائے تو سورۃ البقرہ کی یہ آیت اتری: «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير» یعنی لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے ان میں بڑے گناہ ہیں ( سورة البقرہ: ۲۱۹ ) ۔ راوی کہتے ہیں: تو عمر رضی اللہ عنہ بلائے گئے اور یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو انہوں نے پھر دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کے سلسلے میں صاف اور واضح حکم نازل فرما جس سے تشفی ہو سکے، تو سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی: «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» یعنی اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ ( سورة النساء: ۴۳ ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی جب اقامت کہہ دی جاتی تو آواز لگاتا: خبردار کوئی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ آئے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے پھر دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں کوئی واضح اور صاف حکم نازل فرما، تو یہ آیت نازل ہوئی:«فهل أنتم منتهون» یعنی کیا اب باز آ جاؤ گے ( سورة المائدہ: ۹۱ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم باز آ گئے ۔
۰۳
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۷۱
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ دَعَاهُ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَسَقَاهُمَا قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ فَأَمَّهُمْ عَلِيٌّ فِي الْمَغْرِبِ فَقَرَأَ { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } فَخَلَطَ فِيهَا فَنَزَلَتْ { لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ } .
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ایک انصاری نے بلایا اور انہیں شراب پلائی اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی پھر علی رضی اللہ عنہ نے مغرب پڑھائی اور سورۃ «قل يا أيها الكافرون» کی تلاوت کی اور اس میں کچھ گڈ مڈ کر دیا تو آیت: «لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» نشے کی حالت میں نماز کے قریب تک مت جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو تم پڑھو نازل ہوئی۔
۰۴
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۷۲
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى } وَ { يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ } نَسَخَتْهُمَا الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ { إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ } الآيَةَ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» ( سورة النساء: ۴۳ ) اور «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس» ( سورة البقرہ: ۲۱۹ ) ان دونوں آیتوں کو سورۃ المائدہ کی آیت «إنما الخمر والميسر والأنصاب» ( سورة المائدة: ۹۰ ) نے منسوخ کر دیا ہے۔
۰۵
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۷۳
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ حَيْثُ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ وَمَا شَرَابُنَا يَوْمَئِذٍ إِلاَّ الْفَضِيخُ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ وَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا هَذَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت کے وقت میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا، ہماری شراب اس روز کھجور ہی سے تیار کی گئی تھی، اتنے میں ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے بھی آواز لگائی تو ہم نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی ہے۔
۰۶
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۷۴
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، مَوْلاَهُمْ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَشَارِبَهَا وَسَاقِيَهَا وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ " .
" لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَشَارِبَهَا وَسَاقِيَهَا وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب کے پینے اور پلانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے نچوڑنے اور نچوڑوانے والے، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے سب پر اللہ کی لعنت ہو ۔
۰۷
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۷۵
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا قَالَ " أَهْرِقْهَا " . قَالَ أَفَلاَ أَجْعَلُهَا خَلاًّ قَالَ " لاَ " .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیموں کے سلسلے میں پوچھا جنہوں نے میراث میں شراب پائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بہا دو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا میں اس کا سرکہ نہ بنا لوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ۔
۰۸
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۷۶
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" إِنَّ مِنَ الْعِنَبِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ الْبُرِّ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا " .
" إِنَّ مِنَ الْعِنَبِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ الْبُرِّ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا " .
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب انگور کی بھی ہوتی ہے، کھجور کی بھی، شہد کی بھی ہوتی ہے، گیہوں کی بھی ہوتی ہے، اور جو کی بھی ہوتی ہے ۱؎ ۔
۰۹
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۷۷
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ عَامِرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" إِنَّ الْخَمْرَ مِنَ الْعَصِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ وَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ " .
" إِنَّ الْخَمْرَ مِنَ الْعَصِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ وَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ " .
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: شراب انگور کے رس، کشمش، کھجور، گیہوں، جو اور مکئی سے بنتی ہے، اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں ۔
۱۰
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۷۸
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ اسْمُ أَبِي كَثِيرٍ الْغُبَرِيِّ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُفَيْلَةَ السَّحْمِيُّ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ أُذَيْنَةُ وَالصَّوَابُ غُفَيْلَةُ .
" الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ اسْمُ أَبِي كَثِيرٍ الْغُبَرِيِّ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُفَيْلَةَ السَّحْمِيُّ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ أُذَيْنَةُ وَالصَّوَابُ غُفَيْلَةُ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں کھجور اور انگور سے بنتی ہے ۱؎ ۔
۱۱
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۷۹
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، - فِي آخَرِينَ - قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ " .
" كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۱؎، اور جو مر گیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا ( یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا ) ۔
۱۲
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۸۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ، يَقُولُ عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ مُخَمِّرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ شَرِبَ مُسْكِرًا بُخِسَتْ صَلاَتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " . قِيلَ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ وَمَنْ سَقَاهُ صَغِيرًا لاَ يَعْرِفُ حَلاَلَهُ مِنْ حَرَامِهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ "
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس نے کوئی نشہ آور چیز استعمال کی تو اس کی چالیس روز کی نماز کم کر دی جائے گی، اگر اس نے اللہ سے توبہ کر لی تو اللہ اسے معاف کر دے گا اور اگر چوتھی بار پھر اس نے پی تو اللہ کے لیے یہ روا ہو جاتا ہے کہ اسے «طینہ الخبال» پلائے عرض کیا گیا: «طینہ الخبال» کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: جہنمیوں کی پیپ ہے، اور جس شخص نے کسی کمسن لڑکے کو جسے حلال و حرام کی تمیز نہ ہو شراب پلائی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور جہنمیوں کی پیپ پلائے گا ۔
۱۳
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۸۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ دَاوُدَ بْنِ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ " .
" مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ " .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۔
۱۴
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۸۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْبِتْعِ فَقَالَ
" كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَرَأْتُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْجُرْجُسِيِّ حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ زَادَ وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مَا كَانَ أَثْبَتَهُ مَا كَانَ فِيهِمْ مِثْلُهُ يَعْنِي فِي أَهْلِ حِمْصَ يَعْنِي الْجُرْجُسِيَّ .
" كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَرَأْتُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْجُرْجُسِيِّ حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ زَادَ وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مَا كَانَ أَثْبَتَهُ مَا كَانَ فِيهِمْ مِثْلُهُ يَعْنِي فِي أَهْلِ حِمْصَ يَعْنِي الْجُرْجُسِيَّ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کا حکم پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ہر شراب جو نشہ آور ہو حرام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یزید بن عبدربہ جرجسی پر اس روایت کو یوں پڑھا: آپ سے محمد بن حرب نے بیان کیا انہوں نے زبیدی سے اور زبیدی نے زہری سے یہی حدیث اسی سند سے روایت کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ بتع شہد کی شراب کو کہتے ہیں، اہل یمن اسے پیتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا: «لا إله إلا الله» جرجسی کیا ہی معتبر شخص تھا، اہل حمص میں اس کی نظیر نہیں تھی۔
۱۵
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۸۳
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ فِيهَا عَمَلاً شَدِيدًا وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلاَدِنَا . قَالَ " هَلْ يُسْكِرُ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " فَاجْتَنِبُوهُ " . قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ . قَالَ " فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَقَاتِلُوهُمْ " .
دیلم حمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اس سے بچو ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے، آپ نے فرمایا: اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو ۔
۱۶
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۸۴
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَرَابٍ مِنَ الْعَسَلِ فَقَالَ " ذَاكَ الْبِتْعُ " . قُلْتُ وَيُنْتَبَذُ مِنَ الشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ . فَقَالَ " ذَاكَ الْمِزْرُ " . ثُمَّ قَالَ " أَخْبِرْ قَوْمَكَ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ بتع ہے میں نے کہا: جو اور مکئی سے بھی شراب بنائی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مزر ہے پھر آپ نے فرمایا: اپنی قوم کو بتا دو کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔
۱۷
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۸۵
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ وَالْغُبَيْرَاءِ وَقَالَ
" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ ابْنُ سَلاَمٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْغُبَيْرَاءُ السُّكُرْكَةُ تُعْمَلُ مِنَ الذُّرَةِ شَرَابٌ يَعْمَلُهُ الْحَبَشَةُ .
" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ ابْنُ سَلاَمٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْغُبَيْرَاءُ السُّكُرْكَةُ تُعْمَلُ مِنَ الذُّرَةِ شَرَابٌ يَعْمَلُهُ الْحَبَشَةُ .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، جوا، کوبہ ( چوسر یا ڈھولک ) اور غبیراء سے منع کیا، اور فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سلام ابو عبید نے کہا ہے: غبیراء ایسی شراب ہے جو مکئی سے بنائی جاتی ہے حبشہ کے لوگ اسے بناتے ہیں۔
۱۸
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۸۶
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ وَمُفَتِّرٍ .
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نشہ آور چیز اور ہر «مفتر» ( فتور پیدا کرنے اور سستی لانے والی ) چیز سے منع فرمایا ہے۔
۱۹
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۸۷
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، - يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ - حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، - قَالَ مُوسَى هُوَ عَمْرُو بْنُ سَلْمٍ الأَنْصَارِيُّ - عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَا أَسْكَرَ مِنْهُ الْفَرْقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ " .
" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَا أَسْكَرَ مِنْهُ الْفَرْقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز فرق ۱؎ بھر نشہ لاتی ہے اس کا ایک چلو بھی حرام ہے ۔
۲۰
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۸۸
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ فَتَذَاكَرْنَا الطِّلاَءَ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الأَشْعَرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا " .
" لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا " .
مالک بن ابی مریم کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن غنم ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے طلاء ۱؎ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے لیکن اس کا نام شراب کے علاوہ کچھ اور رکھ لیں گے ۲؎ ۔
۲۱
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۸۹
قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شَيْخٌ، مِنْ أَهْلِ وَاسِطٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، وَسُئِلَ، عَنِ الدَّاذِيِّ، فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ الدَّاذِيُّ شَرَابُ الْفَاسِقِينَ .
" لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ الدَّاذِيُّ شَرَابُ الْفَاسِقِينَ .
حارث بن منصور کہتے ہیں میں نے سفیان ثوری سے سنا ان سے «داذی» ۱؎ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ نے فرمایا ہے: میری امت کے بعض لوگ شراب پئیں گے لیکن اسے دوسرے نام سے موسوم کریں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری کا کہنا ہے:«داذی» فاسقوں کی شراب ہے۔
۲۲
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۹۰
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ قَالاَ نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ .
ابن عمر اور ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمبی، سبز رنگ کے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن ۱؎ سے منع فرمایا ہے۔
۲۳
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۹۱
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَعْلَى، - يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبِيذَ الْجَرِّ فَخَرَجْتُ فَزِعًا مِنْ قَوْلِهِ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبِيذَ الْجَرِّ فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَمَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ قَالَ وَمَا ذَاكَ قُلْتُ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبِيذَ الْجَرِّ . قَالَ صَدَقَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبِيذَ الْجَرِّ . قُلْتُ مَا الْجَرُّ قَالَ كُلُّ شَىْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ .
سعید بن جبیر کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» ( مٹی کا گھڑا ) میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے تو میں ان کی یہ بات سن کر گھبرایا ہوا نکلا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: کیا آپ نے سنا نہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کیا کہتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، انہوں نے کہا: وہ سچ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، میں نے کہا: «جر» کیا ہے؟ فرمایا: ہر وہ چیز ہے جو مٹی سے بنائی جاتی ہو۔
۲۴
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۹۲
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ - وَقَالَ مُسَدَّدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا، حَدِيثُ سُلَيْمَانَ قَالَ - قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا هَذَا الْحَىَّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ وَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي شَهْرٍ حَرَامٍ فَمُرْنَا بِشَىْءٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا . قَالَ " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَشَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . وَعَقَدَ بِيَدِهِ وَاحِدَةً . وَقَالَ مُسَدَّدٌ الإِيمَانُ بِاللَّهِ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا الْخُمُسَ مِمَّا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْمُقَيَّرِ " . وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ النَّقِيرِ مَكَانَ الْمُقَيَّرِ . وَقَالَ مُسَدَّدٌ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمُزَفَّتِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو جَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ بنو ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں ۱؎ ہی میں پہنچ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کا حکم دے دیجئیے کہ جن پر ہم خود عمل کرتے رہیں اور ان لوگوں کو بھی ان پر عمل کے لیے کہیں جو اس وفد کے ساتھ نہیں آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں ( جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں ) اللہ پر ایمان لانا اور اس بات کی گواہی دینی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے ایک کی گرہ بنائی، مسدد کہتے ہیں: آپ نے اللہ پر ایمان لانا، فرمایا، پھر اس کی تفسیر کی کہ اس کا مطلب ) اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ دینا ہے، اور میں تمہیں دباء، حنتم، مزفت اور مقیر سے منع کرتا ہوں ۔ ابن عبید نے لفظ مقیر کے بجائے نقیر اور مسدد نے نقیر اور مقیر کہا، اور مزفت کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔
۲۵
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۹۳
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ
" أَنْهَاكُمْ عَنِ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَالْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمَزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ وَلَكِنِ اشْرَبْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهْ " .
" أَنْهَاكُمْ عَنِ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَالْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمَزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ وَلَكِنِ اشْرَبْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهْ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: میں تمہیں لکڑی کے برتن، تار کول ملے ہوئے برتن، سبز لاکھی گھڑے، تمبی اور کٹے ہوئے چمڑے کے برتن سے منع کرتا ہوں لیکن تم اپنے چمڑے کے برتن سے پیا کرو اور اس کا منہ باندھ کر رکھو ۔
۲۶
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۹۴
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قِصَّةِ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالُوا فِيمَ نَشْرَبُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" عَلَيْكُمْ بِأَسْقِيَةِ الأَدَمِ الَّتِي يُلاَثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا " .
" عَلَيْكُمْ بِأَسْقِيَةِ الأَدَمِ الَّتِي يُلاَثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا " .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے وفد عبدالقیس کے واقعے کے سلسلے میں روایت ہے کہ وفد کے لوگوں نے پوچھا: ہم کس چیز میں پیئں اللہ کے نبی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان مشکیزوں کو لازم پکڑو جن کے منہ باندھ کر رکھے جاتے ہوں ۔
۲۷
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۹۵
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي الْقَمُوصِ، زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ حَدَّثَنِي رَجُلٌ، كَانَ مِنَ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يَحْسِبُ عَوْفٌ أَنَّ اسْمَهُ قَيْسُ بْنُ النُّعْمَانِ فَقَالَ
" لاَ تَشْرَبُوا فِي نَقِيرٍ وَلاَ مُزَفَّتٍ وَلاَ دُبَّاءٍ وَلاَ حَنْتَمٍ وَاشْرَبُوا فِي الْجِلْدِ الْمُوكَإِ عَلَيْهِ فَإِنِ اشْتَدَّ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ فَإِنْ أَعْيَاكُمْ فَأَهْرِيقُوهُ " .
" لاَ تَشْرَبُوا فِي نَقِيرٍ وَلاَ مُزَفَّتٍ وَلاَ دُبَّاءٍ وَلاَ حَنْتَمٍ وَاشْرَبُوا فِي الْجِلْدِ الْمُوكَإِ عَلَيْهِ فَإِنِ اشْتَدَّ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ فَإِنْ أَعْيَاكُمْ فَأَهْرِيقُوهُ " .
ابوالقموص زید بن علی سے روایت ہے، کہتے ہیں مجھ سے عبدالقیس کے اس وفد میں سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ایک شخص نے بیان کیا ( عوف کا خیال ہے کہ اس کا نام قیس بن نعمان تھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نقیر، مزفت، دباء، اور حنتم میں مت پیو، بلکہ مشکیزوں سے پیو جس پر ڈاٹ لگا ہو، اور اگر نبیذ میں تیزی آ جائے تو پانی ڈال کر اس کی تیزی توڑ دو اگر اس کے باوجود بھی تیزی نہ جائے تو اسے بہا دو ۔
۲۸
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۹۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَ نَشْرَبُ قَالَ " لاَ تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَلاَ فِي الْمُزَفَّتِ وَلاَ فِي النَّقِيرِ وَانْتَبِذُوا فِي الأَسْقِيَةِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنِ اشْتَدَّ فِي الأَسْقِيَةِ قَالَ " فَصُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ لَهُمْ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ " أَهْرِيقُوهُ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَىَّ أَوْ حُرِّمَ الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْكُوبَةُ " . قَالَ " وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " . قَالَ سُفْيَانُ فَسَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ بَذِيمَةَ عَنِ الْكُوبَةِ قَالَ الطَّبْلُ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں وفد عبدالقیس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کس برتن میں پیئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں پانی ڈال دیا کرو وفد کے لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ( اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو ) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: اسے بہا دو ۱؎ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور ڈھولک کو حرام قرار دیا ہے یا یوں کہا: شراب، جوا، اور ڈھول ۲؎ حرام قرار دے دی گئی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے کوبہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ڈھول ہے۔
۲۹
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۹۷
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْجِعَةِ .
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تونبی، سبز رنگ کے برتن، لکڑی کے برتن اور جو کی شراب سے منع فرمایا۔
۳۰
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۹۸
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلاَثٍ وَأَنَا آمُرُكُمْ بِهِنَّ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الأَشْرِبَةِ أَنْ تَشْرَبُوا إِلاَّ فِي ظُرُوفِ الأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ أَنْ لاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي أَنْ تَأْكُلُوهَا بَعْدَ ثَلاَثٍ فَكُلُوا وَاسْتَمْتِعُوا بِهَا فِي أَسْفَارِكُمْ " .
" نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلاَثٍ وَأَنَا آمُرُكُمْ بِهِنَّ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الأَشْرِبَةِ أَنْ تَشْرَبُوا إِلاَّ فِي ظُرُوفِ الأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ أَنْ لاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي أَنْ تَأْكُلُوهَا بَعْدَ ثَلاَثٍ فَكُلُوا وَاسْتَمْتِعُوا بِهَا فِي أَسْفَارِكُمْ " .
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں تین چیزوں سے روک دیا تھا، اب میں تمہیں ان کا حکم دیتا ہوں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے ۱؎ اور میں نے تمہیں چمڑے کے علاوہ برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، لیکن اب تم ہر برتن میں پیو، البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پیو، اور میں نے تمہیں تین روز کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، لیکن اب اسے بھی ( جب تک چاہو ) کھاؤ اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
۳۱
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۶۹۹
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الأَوْعِيَةِ قَالَ قَالَتِ الأَنْصَارُ إِنَّهُ لاَ بُدَّ لَنَا . قَالَ
" فَلاَ إِذًا " .
" فَلاَ إِذًا " .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تو انصار کے لوگوں نے آپ سے عرض کیا: وہ تو ہمارے لیے بہت ضروری ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب ممانعت نہیں رہی ( تمہیں ان کی اجازت ہے ) ۔
۳۲
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۰۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الأَوْعِيَةَ الدُّبَّاءَ وَالْحَنْتَمَ وَالْمُزَفَّتَ وَالنَّقِيرَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ إِنَّهُ لاَ ظُرُوفَ لَنَا . فَقَالَ
" اشْرَبُوا مَا حَلَّ " .
" اشْرَبُوا مَا حَلَّ " .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت، اور نقیر کے برتنوں کا ذکر کیا ۱؎ تو ایک دیہاتی نے عرض کیا: ہمارے پاس تو اور کوئی برتن ہی نہیں رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا جو حلال ہوا سے پیو ۔
۳۳
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۰۱
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، - يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، بِإِسْنَادِهِ قَالَ
" اجْتَنِبُوا مَا أَسْكَرَ " .
" اجْتَنِبُوا مَا أَسْكَرَ " .
شریک سے اسی سند سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نشہ آور چیز سے بچو ۔
۳۴
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۰۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يَجِدُوا سِقَاءً نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی اور اگر وہ چمڑے کا برتن نہیں پاتے تو پتھر کے برتن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی۔
۳۵
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۰۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا وَنَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور کو ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا، نیز کچی اور پکی کھجور ملا کر نبیذ بنا نے سے منع فرمایا۔
۳۶
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۰۴
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ، وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ، وَالرُّطَبِ، وَقَالَ،
" انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَةٍ " . قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
" انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَةٍ " . قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کشمش اور کھجور ملا کر اور پکی اور کچی کھجور ملا کر اور اسی طرح ایسی کھجور جس میں سرخی یا زردی ظاہر ہونے لگی ہو اور تازی پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا، اور آپ نے فرمایا: ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
۳۷
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۰۵
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، - عَنْ رَجُلٍ، - قَالَ حَفْصٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَهَى عَنِ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ .
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور کو پکی ہوئی کھجور کے ساتھ اور کشمش کو کھجور کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
۳۸
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۰۶
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ، حَدَّثَتْنِي رَيْطَةُ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَتْ سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْهُ قَالَتْ كَانَ يَنْهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا أَوْ نَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ .
کبشہ بنت ابی مریم کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان چیزوں کے متعلق پوچھا جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کھجور کو زیادہ پکانے سے جس سے اس کی گٹھلی ضائع ہو جائے، اور کشمش کے ساتھ کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے تھے۔
۳۹
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۰۷
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُنْبَذُ لَهُ زَبِيبٌ فَيُلْقِي فِيهِ تَمْرًا وَتَمْرٌ فَيُلْقِي فِيهِ الزَّبِيبَ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمکش کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں کھجور ڈال دی جاتی اور جب کھجور کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں انگور ڈال دیا جاتا۔
۴۰
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۰۸
حَدَّثَنَا زَيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ عَطِيَّةَ، قَالَتْ دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْنَاهَا عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ فَقَالَتْ كُنْتُ آخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ وَقَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ فَأُلْقِيهِ فِي إِنَاءٍ فَأَمْرُسُهُ ثُمَّ أَسْقِيهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم .
صفیہ بنت عطیہ کہتی ہیں میں عبدالقیس کی چند عورتوں کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، اور ہم نے آپ سے کھجور اور کشمش ملا کر ( نبیذ تیار کرنے کے سلسلے میں ) پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک مٹھی کھجور اور ایک مٹھی کشمش لیتی اور اسے ایک برتن میں ڈال دیتی، پھر اس کو ہاتھ سے مل دیتی پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلاتی۔
۴۱
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۰۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَعِكْرِمَةَ، أَنَّهُمَا كَانَا يَكْرَهَانِ الْبُسْرَ وَحْدَهُ وَيَأْخُذَانِ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَخْشَى أَنْ يَكُونَ الْمُزَّاءَ الَّذِي نُهِيَتْ عَنْهُ عَبْدُ الْقَيْسِ . فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ مَا الْمُزَّاءُ قَالَ النَّبِيذُ فِي الْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ .
جابر بن زید اور عکرمہ سے روایت ہے کہ وہ دونوں صرف کچی کھجور کی نبیذ کو مکروہ جانتے تھے، اور اس مذہب کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لیتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں ڈرتا ہوں کہیں یہ «مزاء» نہ ہو جس سے عبدالقیس کو منع کیا گیا تھا ہشام کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے کہا: «مزاء» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: حنتم اور مزفت میں تیار کی گئی نبیذ۔
۴۲
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۱۰
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنِ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتَ مَنْ نَحْنُ وَمِنْ أَيْنَ نَحْنُ فَإِلَى مَنْ نَحْنُ قَالَ " إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ " . فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا مَا نَصْنَعُ بِهَا قَالَ " زَبِّبُوهَا " . قُلْنَا مَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ قَالَ " انْبِذُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَانْبِذُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَانْبِذُوهُ فِي الشِّنَانِ وَلاَ تَنْبِذُوهُ فِي الْقُلَلِ فَإِنَّهُ إِذَا تَأَخَّرَ عَنْ عَصْرِهِ صَارَ خَلاًّ " .
دیلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں، لیکن کس کے پاس آئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے پاس پھر ہم نے عرض کیا: اے رسول اللہ! ہمارے یہاں انگور ہوتا ہے ہم اس کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خشک لو ہم نے عرض کیا: اس زبیب ( سوکھے ہوئے انگور ) کو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح کو اسے بھگو دو، اور شام کو پی لو، اور جو شام کو بھگوؤ اسے صبح کو پی لو اور چمڑوں کے برتنوں میں اسے بھگویا کرو، مٹکوں اور گھڑوں میں نہیں کیونکہ اگر نچوڑنے میں دیر ہو گی تو وہ سرکہ ہو جائے گا ۱؎ ۔
۴۳
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۱۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سِقَاءٍ يُوكَأُ أَعْلاَهُ وَلَهُ عَزْلاَءُ يُنْبَذُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً وَيُنْبَذُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ایسے چمڑے کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جس کا اوپری حصہ باندھ دیا جاتا، اور اس کے نیچے کی طرف بھی منہ ہوتا، صبح میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے شام میں پیتے اور شام میں نبیذ بنائی جاتی تو اسے صبح میں پیتے ۱؎۔
۴۴
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۱۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ شَبِيبَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ، يُحَدِّثُ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي، عَمْرَةُ عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غُدْوَةً فَإِذَا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ فَتَعَشَّى شَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ وَإِنْ فَضَلَ شَىْءٌ صَبَبْتُهُ - أَوْ فَرَغْتُهُ - ثُمَّ تَنْبِذُ لَهُ بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ قَالَتْ نَغْسِلُ السِّقَاءَ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً فَقَالَ لَهَا أَبِي مَرَّتَيْنِ فِي يَوْمٍ قَالَتْ نَعَمْ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح کو نبیذ بھگوتی تھیں تو جب شام کا وقت ہوتا تو آپ شام کا کھانا کھانے کے بعد اسے پیتے، اور اگر کچھ بچ جاتی تو میں اسے پھینک دیتی یا اسے خالی کر دیتی، پھر آپ کے لیے رات میں نبیذ بھگوتی اور صبح ہوتی تو آپ اسے دن کا کھانا تناول فرما کر پیتے۔ وہ کہتی ہیں: مشک کو صبح و شام دھویا جاتا تھا۔ مقاتل کہتے ہیں: میرے والد ( حیان ) نے ان سے کہا: ایک دن میں دو بار؟ وہ بولیں: ہاں دو بار۔
۴۵
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۱۳
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ يُنْبَذُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الزَّبِيبُ فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ فَيُسْقَى الْخَدَمَ أَوْ يُهَرَاقُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَعْنَى يُسْقَى الْخَدَمَ يُبَادَرُ بِهِ الْفَسَادُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو عُمَرَ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيُّ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اس دن پیتے، دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے پھر حکم فرماتے تو جو بچا ہوتا اسے خدمت گزاروں کو پلا دیا جاتا یا بہا دیا جاتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خادموں کو پلانے کا مطلب یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے انہیں پلا دیا جاتا۔
۴۶
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۱۴
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُنَّ فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ " . فَنَزَلَتْ { لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي } إِلَى { إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ } لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رضى الله عنهما { وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا } لِقَوْلِهِ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً " .
عبید بن عمیر کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ خبر دے رہی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور شہد پیتے تھے تو ایک روز میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس تشریف لائے، تو اس نے آپ سے ویسے ہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا تو قرآن کریم کی آیت: «لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي» ۲؎ سے لے کر «إن تتوبا إلى الله» ۳؎ تک عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے متعلق نازل ہوئی۔ «إن تتوبا» میں خطاب عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو ہے اور «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» میں «حديثا» سے مراد آپ کا: «بل شربت عسلا» ( بلکہ میں نے شہد پیا ہے ) کہنا ہے۔
۴۷
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۱۵
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ . فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْخَبَرِ . وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ تُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ . وَفِي الْحَدِيثِ قَالَتْ سَوْدَةُ بَلْ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ . قَالَ
" بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً سَقَتْنِي حَفْصَةُ " . فَقُلْتُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْمَغَافِيرُ مُقْلَةٌ وَهِيَ صَمْغَةٌ . وَجَرَسَتْ رَعَتْ . وَالْعُرْفُطُ نَبْتٌ مِنْ نَبْتِ النَّحْلِ .
" بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً سَقَتْنِي حَفْصَةُ " . فَقُلْتُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْمَغَافِيرُ مُقْلَةٌ وَهِيَ صَمْغَةٌ . وَجَرَسَتْ رَعَتْ . وَالْعُرْفُطُ نَبْتٌ مِنْ نَبْتِ النَّحْلِ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیزیں اور شہد پسند کرتے تھے، اور پھر انہوں نے اسی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بہت ناگوار لگتا کہ آپ سے کسی قسم کی بو محسوس کی جائے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ سودہ ۱؎ نے کہا: بلکہ آپ نے مغافیر کھائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے شہد پیا ہے، جسے حفصہ نے مجھے پلایا ہے تو میں نے کہا: شاید اس کی مکھی نے عرفط ۲؎ چاٹا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مغافیر: مقلہ ہے اور وہ گوند ہے، اور جرست: کے معنی چاٹنے کے ہیں، اور عرفط شہد کی مکھی کے پودوں میں سے ایک پودا ہے۔
۴۸
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۱۶
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصُومُ فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِ فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ فَقَالَ
" اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لاَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ " .
" اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لاَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھا کرتے ہیں تو میں اس نبیذ کے لیے جو میں نے ایک تمبی میں بنائی تھی آپ کے روزہ نہ رکھنے کا انتظار کرتا رہا پھر میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا وہ جوش مار رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس دیوار پر مار دو یہ تو اس شخص کا مشروب ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا ۔
۴۹
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۱۷
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کھڑے ہو کر کچھ پیئے۔
۵۰
سنن ابو داؤد # ۲۷/۳۷۱۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، أَنَّ عَلِيًّا، دَعَا بِمَاءٍ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رِجَالاً يَكْرَهُ أَحَدُهُمْ أَنْ يَفْعَلَ هَذَا وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ مِثْلَ مَا رَأَيْتُمُونِي أَفْعَلُهُ .
نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور اسے کھڑے ہو کر پیا اور کہا: بعض لوگ ایسا کرنے کو مکروہ اور ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے کرتے دیکھا ہے ۱؎۔