۷۰ حدیث
۰۱
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۷۱
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قاضی بنا دیا گیا ( گویا ) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا ۔
۰۲
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۷۲
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَخْنَسِيِّ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، وَالأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا گیا ( گویا ) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا ۔
۰۳
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۷۳
بریدہ ابن الحسب رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْقُضَاةُ ثَلاَثَةٌ وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ وَاثْنَانِ فِي النَّارِ فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا أَصَحُّ شَىْءٍ فِيهِ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ بُرَيْدَةَ ‏"‏ الْقُضَاةُ ثَلاَثَةٌ ‏"‏ ‏.‏
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنتی اور دو جہنمی، رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہو گا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے ۔ اور وہ شخص جس نے نادانی سے لوگوں کا فیصلہ کیا وہ بھی جہنمی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی ابن بریدہ کی تین قاضیوں والی حدیث اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے۔
۰۴
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۷۴
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ ‏"‏ ‏.‏ فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَزْمٍ فَقَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم ( قاضی ) خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور درستگی کو پہنچ جائے تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے، اور جب قاضی سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور خطا کر جائے تو بھی اس کے لیے ایک اجر ہے ۱؎ ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسی طرح ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔
۰۵
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۷۵
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ نَجْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - وَهُوَ أَبُو كَثِيرٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ مَنْ طَلَبَ قَضَاءَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَنَالَهُ ثُمَّ غَلَبَ عَدْلُهُ جَوْرَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ غَلَبَ جَوْرُهُ عَدْلَهُ فَلَهُ النَّارُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے منصب قضاء کی درخواست کرے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے پھر اس کے ظلم پر اس کا عدل غالب آ جائے تو اس کے لیے جنت ہے، اور جس کا ظلم اس کے عدل پر غالب آ جائے تو اس کے لیے جہنم ہے ۔
۰۶
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۷۶
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي يَحْيَى الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ‏{‏ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ الْفَاسِقُونَ ‏}‏ هَؤُلاَءِ الآيَاتُ الثَّلاَثُ نَزَلَتْ فِي الْيَهُودِ خَاصَّةً فِي قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون» جو اللہ کے حکم کے موافق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں اللہ تعالیٰ کے قول «الفاسقون» سورة المائدة: ( ۴۴، ۴۵، ۴۷ ) تک، یہ تینوں آیتیں یہودیوں کے متعلق اور بطور خاص بنی قریظہ اور بنی نضیر کی شان میں نازل ہوئیں۔
۰۷
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۷۷
عبدالرحمن بن بشر الانصاری الازرق رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ رَجَاءٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الأَنْصَارِيِّ الأَزْرَقِ، قَالَ دَخَلَ رَجُلاَنِ مِنْ أَبْوَابِ كِنْدَةَ وَأَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ جَالِسٌ فِي حَلْقَةٍ فَقَالاَ أَلاَ رَجُلٌ يُنَفِّذُ بَيْنَنَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْحَلْقَةِ أَنَا ‏.‏ فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ كَفًّا مِنْ حَصًى فَرَمَاهُ بِهِ وَقَالَ مَهْ إِنَّهُ كَانَ يُكْرَهُ التَّسَرُّعُ إِلَى الْحُكْمِ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن بشر انصاری ازرق کہتے ہیں کہ کندہ کے دروازوں سے دو شخص جھگڑتے ہوئے آئے اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ایک حلقے میں بیٹھے ہوئے تھے، تو ان دونوں نے کہا: کوئی ہے جو ہمارے درمیان فیصلہ کر دے! حلقے میں سے ایک شخص بول پڑا: ہاں، میں فیصلہ کر دوں گا، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مٹھی کنکری لے کر اس کو مارا اور کہا: ٹھہر ( عہد نبوی میں ) قضاء میں جلد بازی کو مکروہ سمجھا جاتا تھا ۱؎۔
۰۸
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۷۸
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ بِلاَلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ وُكِلَ إِلَيْهِ وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ بِلاَلِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ بِلاَلِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ عَنْ خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: جو شخص منصب قضاء کا طالب ہوا اور اس ( عہدے ) کے لیے مدد چاہی ۱؎ وہ اس کے سپرد کر دیا گیا ۲؎، جو شخص اس عہدے کا خواستگار نہیں ہوا اور اس کے لیے مدد نہیں چاہی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک فرشتہ نازل فرماتا ہے جو اسے راہ صواب پر رکھتا ہے ۔
۰۹
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۷۹
ابو بردہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ لَنْ نَسْتَعْمِلَ - أَوْ لاَ نَسْتَعْمِلُ - عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ ‏"‏ ‏.‏
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ہرگز کسی ایسے شخص کو عامل مقرر نہیں کریں گے جو عامل بننا چاہے ۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
۱۰
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۸۰
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے، اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت کی ہے۔
۱۱
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۸۱
عدی بن عمیرہ الکندی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَسْوَدُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأْتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَهُ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى ‏"‏ ‏.‏
عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے جو شخص کسی کام پر ہمارا عامل مقرر کیا گیا، پھر اس نے ہم سے ان ( محاصل ) میں سے ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائی تو وہ چوری ہے، اور وہ قیامت کے دن اس چرائی ہوئی چیز کے ساتھ آئے گا اتنے میں انصار کا ایک کالے رنگ کا آدمی کھڑا ہوا، گویا کہ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ اس شخص نے عرض کیا: آپ کو میں نے ایسے ایسے فرماتے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو یہ کہہ ہی رہا ہوں کہ ہم نے جس شخص کو کسی کام پر عامل مقرر کیا تو ( محاصل ) تھوڑا ہو یا زیادہ اسے حاضر کرے اور جو اس میں سے اسے دیا جائے اسے لے لے، اور جس سے منع کر دیا جائے اس سے رکا رہے ۔
۱۲
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۸۲
علی ابن ابوطالب رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُرْسِلُنِي وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ وَلاَ عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ فَقَالَ ‏
"‏ إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ فَإِذَا جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلاَ تَقْضِيَنَّ حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الأَوَّلِ فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا أَوْ مَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَعْدُ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے ( قاضی ) بنا کر بھیج رہے ہیں جب کہ میں کم عمر ہوں اور قضاء ( فیصلہ کرنے ) کا علم بھی مجھے نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے دل کی رہنمائی کرے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا، جب تم فیصلہ کرنے بیٹھو اور تمہارے سامنے دونوں فریق موجود ہوں تو جب تک تم دوسرے کا بیان اسی طرح نہ سن لو جس طرح پہلے کا سنا ہے فیصلہ نہ کرو کیونکہ اس سے معاملے کی حقیقت واشگاف ہو کر سامنے آ جائے گی وہ کہتے ہیں: تو میں برابر فیصلہ دیتا رہا، کہا: پھر مجھے اس کے بعد کسی فیصلے میں شک نہیں ہوا۔
۱۳
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۸۳
ام سلمہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَىَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ بِشَىْءٍ فَلاَ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں انسان ہی ہوں ۱؎، تم اپنے مقدمات کو میرے پاس لاتے ہو، ہو سکتا ہے کہ تم میں کچھ لوگ دوسرے کے مقابلہ میں اپنی دلیل زیادہ بہتر طریقے سے پیش کرنے والے ہوں تو میں انہیں کے حق میں فیصلہ کر دوں جیسا میں نے ان سے سنا ہو، تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی کے کسی حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس میں سے ہرگز کچھ نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں ۔
۱۴
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۸۴
ام سلمہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاَنِ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ لَهُمَا لَمْ تَكُنْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ إِلاَّ دَعْوَاهُمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مِثْلَهُ فَبَكَى الرَّجُلاَنِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَقِّي لَكَ ‏.‏ فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ أَمَّا إِذْ فَعَلْتُمَا مَا فَعَلْتُمَا فَاقْتَسِمَا وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ ‏.‏ ثُمَّ اسْتَهِمَا ثُمَّ تَحَالاَّ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص اپنے میراث کے مسئلے میں جھگڑتے ہوئے آئے اور ان دونوں کے پاس بجز دعویٰ کے کوئی دلیل نہیں تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ۔ ۔ ( پھر راوی نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی ) تو دونوں رو پڑے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا: میں نے اپنا حق تجھے دے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: جب تم ایسا کر رہے ہو تو حق کو پیش نظر رکھ کر ( مال ) کو تقسیم کر لو، پھر قرعہ اندازی کر لو اور ایک دوسرے کو معاف کر دو ۔
۱۵
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۸۵
ام سلمہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ وَأَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ فَقَالَ ‏
"‏ إِنِّي إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِرَأْيِي فِيمَا لَمْ يُنْزَلْ عَلَىَّ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
اس سند سے بھی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہ دونوں ترکہ اور کچھ چیزوں کے متعلق جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہو چکی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں جس میں مجھ پر کوئی حکم نہیں نازل کیا گیا ہے ۔
۱۶
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۸۶
عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الرَّأْىَ إِنَّمَا كَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُصِيبًا لأَنَّ اللَّهَ كَانَ يُرِيهِ وَإِنَّمَا هُوَ مِنَّا الظَّنُّ وَالتَّكَلُّفُ ‏.‏
ابن شہاب کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا: لوگو! رائے تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی درست تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو سجھاتا تھا، اور ہماری رائے محض ایک گمان اور تکلف ہے ۱؎ ۔
۱۷
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۸۷
معاذ بن معاذ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عُثْمَانَ الشَّامِيُّ، وَلاَ إِخَالُنِي رَأَيْتُ شَامِيًّا أَفْضَلَ مِنْهُ يَعْنِي حَرِيزَ بْنَ عُثْمَانَ ‏.‏
معاذ بن معاذ کہتے ہیں ابوعثمان شامی نے مجھے خبر دی اور میری نظر میں ان سے ( یعنی حریز بن عثمان سے ) کوئی شامی افضل نہیں ۱؎۔
۱۸
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۸۸
عبداللہ ابن الزبیر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الْخَصْمَيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَىِ الْحَكَمِ ‏.‏
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں حاکم کے سامنے بیٹھیں۔
۱۹
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۸۹
عبدالرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ لاَ يَقْضِي الْحَكَمُ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ ‏"‏ ‏.‏
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے بیٹے کے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: غصے کی حالت میں قاضی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ۔
۲۰
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۹۰
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ‏{‏ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ‏}‏ فَنُسِخَتْ قَالَ ‏{‏ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ ‏}‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ چاہیں تو فیصلہ کریں یا فیصلہ سے اعراض کریں ( سورۃ المائدہ: ۴۲ ) منسوخ ہے، اور اب یہ ارشاد ہے «فاحكم بينهم بما أنزل الله» تو ان کے معاملات میں اللہ کی نازل کردہ وحی کے مطابق فیصلہ کیجئے ( سورۃ المائدہ: ۴۸ ) ۔
۲۱
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۹۱
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ‏}‏ ‏{‏ وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ ‏}‏ الآيَةَ قَالَ كَانَ بَنُو النَّضِيرِ إِذَا قَتَلُوا مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ أَدَّوْا نِصْفَ الدِّيَةِ وَإِذَا قَتَلَ بَنُو قُرَيْظَةَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ أَدَّوْا إِلَيْهِمُ الدِّيَةَ كَامِلَةً فَسَوَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمْ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب یہ آیت «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کا فیصلہ کریں یا نہ کریں ( سورۃ المائدہ: ۴۲ ) «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» اور اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو ( سورۃ المائدہ: ۴۲ ) نازل ہوئی تو دستور یہ تھا کہ جب بنو نضیر کے لوگ قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ آدھی دیت دیتے، اور جب بنو قریظہ کے لوگ بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ پوری دیت دیتے، تو اس آیت کے نازل ہوتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت برابر کر دی۔
۲۲
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۹۲
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بعض صحابہ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أُنَاسٍ، مِنْ أَهْلِ حِمْصَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلاَ آلُو ‏.‏ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدْرَهُ وَقَالَ ‏"‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے حمص کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن ( کا گورنر ) بنا کرب بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟ تو معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاس کو تو کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کا سینہ تھپتھپایا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جو اللہ کے رسول کو راضی اور خوش کرتی ہے ۔
۲۳
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۹۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَوْنٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ نَاسٍ، مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ‏.‏
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا۔ ۔ ۔، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
۲۴
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۹۴
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، أَوْ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ - شَكَّ الشَّيْخُ - عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ أَحْمَدُ ‏"‏ إِلاَّ صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلاَلاً ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے درمیان مصالحت جائز ہے ۔ احمد بن عبدالواحد نے اتنا اضافہ کیا ہے: سوائے اس صلح کے جو کسی حرام شے کو حلال یا کسی حلال شے کو حرام کر دے ۔ اور سلیمان بن داود نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہیں گے ۱؎ ۔
۲۵
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۹۵
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ ‏"‏ يَا كَعْبُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَأَشَارَ لَهُ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ قَالَ كَعْبٌ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قُمْ فَاقْضِهِ ‏"‏ ‏.‏
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ابن ابی حدرد سے اپنے اس قرض کا جو ان کے ذمہ تھا مسجد کے اندر تقاضا کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا آپ اپنے گھر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے کمرے کا پردہ اٹھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو پکارا اور کہا: اے کعب! تو انہوں نے کہا: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، کعب نے کہا: میں نے معاف کر دیا اللہ کے رسول! تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ابن حدرد ) سے فرمایا: اٹھو اور اسے ادا کرو ۔
۲۶
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۹۶
زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ السَّرْحِ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ أَوْ يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا ‏"‏ ‏.‏ شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَيَّتَهُمَا قَالَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ مَالِكٌ الَّذِي يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ وَلاَ يَعْلَمُ بِهَا الَّذِي هِيَ لَهُ ‏.‏ قَالَ الْهَمْدَانِيُّ وَيَرْفَعُهَا إِلَى السُّلْطَانِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ السَّرْحِ أَوْ يَأْتِي بِهَا الإِمَامَ ‏.‏ وَالإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ الْهَمْدَانِيِّ ‏.‏ قَالَ ابْنُ السَّرْحِ ابْنَ أَبِي عَمْرَةَ ‏.‏ لَمْ يَقُلْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ‏.‏
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بہتر گواہ نہ بتاؤں؟ جو اپنی گواہی لے کر حاضر ہو یا فرمایا: اپنی گواہی پیش کرے قبل اس کے کہ اس سے پوچھا جائے ۱؎ ۔ عبداللہ بن ابی بکر نے شک ظاہر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الذي يأتي بشهادته» فرمایا، یا «يخبر بشهادته» کے الفاظ فرمائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: ایسا گواہ مراد ہے جو اپنی شہادت پیش کر دے اور اسے یہ علم نہ ہو کہ کس کے حق میں مفید ہے اور کس کے حق میں غیر مفید۔ ہمدانی کی روایت میں ہے: اسے بادشاہ کے پاس لے جائے، اور ابن السرح کی روایت میں ہے: اسے امام کے پاس لائے۔ لفظ «اخبار» ہمدانی کی روایت میں ہے۔ ابن سرح نے اپنی روایت میں صرف «ابن ابی عمرۃ» کہا ہے، عبدالرحمٰن نہیں کہا ہے۔
۲۷
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۹۷
یحییٰ بن راشد رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ جَلَسْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَخَرَجَ إِلَيْنَا فَجَلَسَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ عَنْهُ وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے انتظار میں بیٹھے تھے، وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھے پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کو روکنے کی سفارش کی تو گویا اس نے اللہ کی مخالفت کی، اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہو جائے، اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کر لے ۔
۲۸
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۹۸
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ) through different chain of narrators to the same effect. In this version he also said
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعُمَرِيُّ، حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ قَالَ ‏
"‏ وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِظُلْمٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے آپ نے فرمایا: اور جو شخص کسی مقدمے کی ناحق پیروی کرے گا، وہ اللہ کا غیظ و غضب لے کر واپس ہو گا ۔
۲۹
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۵۹۹
خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، - يَعْنِي الْعُصْفُرِيَّ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ ‏"‏ عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالإِشْرَاكِ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ * حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ ‏}‏ ‏.‏
خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی:«فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور * حنفاء لله غير مشركين به» بتوں کی گندگی اور جھوٹی باتوں سے بچتے رہو خالص اللہ کی طرف ایک ہو کر اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے ہوئے بغیر ( سورۃ الحج: ۳۰ ) ۔
۳۰
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۰۰
عمرو ابن شعیب
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَدَّ شَهَادَةَ الْخَائِنِ وَالْخَائِنَةِ وَذِي الْغِمْرِ عَلَى أَخِيهِ وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لأَهْلِ الْبَيْتِ وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْغِمْرُ الْحِنَةُ وَالشَّحْنَاءُ وَالْقَانِعُ الأَجِيرُ التَّابِعُ مِثْلُ الأَجِيرِ الْخَاصِّ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں ( مالکوں ) کے حق میں ہو رد کر دیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غمر» کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور «قانع» سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔
۳۱
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۰۱
The tradition mentioned above (No. 3593) has also been transmitted by Sulayman ibn Musa through a different chain of narrators. This version has
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ طَارِقٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، بِإِسْنَادِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ لاَ تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلاَ خَائِنَةٍ وَلاَ زَانٍ وَلاَ زَانِيَةٍ وَلاَ ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ ‏"‏ ‏.‏
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی، زانی مرد اور زانیہ عورت کی اور اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے شخص کی گواہی جائز نہیں ۔
۳۲
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۰۲
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَنَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ لاَ تَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: دیہاتی کی گواہی بستی اور شہر میں رہنے والے شخص کے خلاف جائز نہیں ۔
۳۳
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۰۳
عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَحَدَّثَنِيهِ صَاحِبٌ، لِي عَنْهُ - وَأَنَا لِحَدِيثِ، صَاحِبِي أَحْفَظُ - قَالَ تَزَوَّجْتُ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ فَدَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنَا جَمِيعًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا لَكَاذِبَةٌ ‏.‏ قَالَ ‏
"‏ وَمَا يُدْرِيكَ وَقَدْ قَالَتْ مَا قَالَتْ دَعْهَا عَنْكَ ‏"‏ ‏.‏
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عقبہ بن حارث نے اور میرے ایک دوست نے انہیں کے واسطہ سے بیان کیا اور مجھے اپنے دوست کی روایت زیادہ یاد ہے وہ ( عقبہ ) کہتے ہیں: میں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے شادی کی، پھر ہمارے پاس ایک کالی عورت آ کر بولی: میں نے تم دونوں ( میاں، بیوی ) کو دودھ پلایا ہے ۱؎، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ عورت جھوٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا معلوم؟ اسے جو کہنا تھا اس نے کہہ دیا، تم اسے اپنے سے علیحدہ کر دو ۔
۳۴
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۰۴
The tradition mentioned above has also been transmitted by 'Uqbah bin al-Harith to the same effect through a different chain of narrators. Abu Dawud said
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، - وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ، عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ - فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ نَظَرَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرٍ فَقَالَ هَذَا مِنْ ثِقَاتِ أَصْحَابِ أَيُّوبَ ‏.‏
اس سند سے بھی ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ عبید بن ابی مریم سے روایت کرتے ہیں اور وہ عقبہ بن حارث سے، ابن ابی ملیکہ کا کہنا ہے کہ میں نے اسے براہ راست عقبہ سے بھی سنا ہے لیکن عبید کی روایت مجھے زیادہ اچھی طرح یاد ہے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے حارث بن عمیر کو دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ ایوب کے ثقہ تلامذہ میں سے ہیں۔
۳۵
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۰۵
الشعبی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِدَقُوقَاءَ هَذِهِ وَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُشْهِدُهُ عَلَى وَصِيَّتِهِ فَأَشْهَدَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَدِمَا الْكُوفَةَ فَأَتَيَا أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ فَأَخْبَرَاهُ وَقَدِمَا بِتَرِكَتِهِ وَوَصِيَّتِهِ ‏.‏ فَقَالَ الأَشْعَرِيُّ هَذَا أَمْرٌ لَمْ يَكُنْ بَعْدَ الَّذِي كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَأَحْلَفَهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ بِاللَّهِ مَا خَانَا وَلاَ كَذِبَا وَلاَ بَدَّلاَ وَلاَ كَتَمَا وَلاَ غَيَّرَا وَإِنَّهَا لَوَصِيَّةُ الرَّجُلِ وَتَرِكَتُهُ فَأَمْضَى شَهَادَتَهُمَا ‏.‏
شعبی کہتے ہیں کہ ایک مسلمان شخص مقام دقوقاء میں مرنے کے قریب ہو گیا اور اسے کوئی مسلمان نہیں مل سکا جسے وہ اپنی وصیت پر گواہ بنائے تو اس نے اہل کتاب کے دو شخصوں کو گواہ بنایا، وہ دونوں کوفہ آئے اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کیا اور اس کا ترکہ بھی لے کر آئے اور وصیت بھی بیان کی، تو اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو ایسا معاملہ ہے جو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف ایک مرتبہ ہوا اور اس کے بعد ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو عصر کے بعد قسم دلائی کہ: قسم اللہ کی، ہم نے نہ خیانت کی ہے اور نہ جھوٹ کہا ہے، اور نہ ہی کوئی بات بدلی ہے نہ کوئی بات چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی ہیرا پھیری کی، اور بیشک اس شخص کی یہی وصیت تھی اور یہی ترکہ تھا۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی شہادتیں قبول کر لیں ( اور اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا ) ۔
۳۶
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۰۶
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَعَدِيِّ بْنِ بَدَّاءَ فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامَ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ فَقَالُوا اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ وَعَدِيٍّ فَقَامَ رَجُلاَنِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ ‏.‏ قَالَ فَنَزَلَتْ فِيهِمْ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ‏}‏ الآيَةَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا تو سہمی ایک ایسی سر زمین میں مر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو لوگوں نے اس میں چاندی کا وہ گلاس نہیں پایا جس پر سونے کا پتر چڑھا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم دلائی، پھر وہ گلاس مکہ میں ملا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے تو اس سہمی کے اولیاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور ان دونوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور گلاس ان کے ساتھی کا ہے۔ راوی کہتے ہیں: یہ آیت: «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت» سورة المائدة: ( ۱۰۶ ) انہی کی شان میں اتری ۱؎۔
۳۷
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۰۷
عمرہ بن خزیمہ رضی اللہ عنہ کے چچا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَهُمْ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّ عَمَّهُ، حَدَّثَهُ وَهُوَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ فَاسْتَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَشْىَ وَأَبْطَأَ الأَعْرَابِيُّ فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الأَعْرَابِيَّ فَيُسَاوِمُونَهُ بِالْفَرَسِ وَلاَ يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ابْتَاعَهُ فَنَادَى الأَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسَ وَإِلاَّ بِعْتُهُ ‏.‏ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الأَعْرَابِيِّ فَقَالَ ‏"‏ أَوَلَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ لاَ وَاللَّهِ مَا بِعْتُكَهُ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَلَى قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ ‏"‏ ‏.‏ فَطَفِقَ الأَعْرَابِيُّ يَقُولُ هَلُمَّ شَهِيدًا ‏.‏ فَقَالَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ ‏.‏ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى خُزَيْمَةَ فَقَالَ ‏"‏ بِمَ تَشْهَدُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ ‏.‏
عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ان کے چچا نے ان سے بیان کیا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا، آپ اسے اپنے ساتھ لے آئے تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چلنے لگے، دیہاتی نے تاخیر کر دی، پس کچھ لوگ دیہاتی کے پاس آنا شروع ہوئے اور گھوڑے کا مول بھاؤ کرنے لگے اور وہ لوگ یہ نہ سمجھ سکے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ہے، چنانچہ دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور کہا: اگر آپ اسے خریدتے ہیں تو خرید لیجئے ورنہ میں نے اسے بیچ دیا، دیہاتی کی آواز سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کیا میں تجھ سے اس گھوڑے کو خرید نہیں چکا؟ دیہاتی نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی، میں نے اسے آپ سے فروخت نہیں کیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ میں اسے تم سے خرید چکا ہوں پھر دیہاتی یہ کہنے لگا کہ گواہ پیش کیجئے، تو خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر چکے ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم کیسے گواہی دے رہے ہو؟ خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی تصدیق کی وجہ سے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔
۳۸
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۰۸
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا سَيْفٌ الْمَكِّيُّ، - قَالَ عُثْمَانُ سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ - عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلف اور ایک گواہ پر فیصلہ کیا ۱؎۔
۳۹
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۰۹
The tradition mentioned above has also been transmitted by 'Amr bin Dinar through a different chain of narrators and to the same effect. Salamah has in his version
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ سَلَمَةُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ عَمْرٌو فِي الْحُقُوقِ ‏.‏
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے سلمہ نے اپنی حدیث میں یوں کہا کہ: عمرو نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حقوق میں تھا ( نہ کہ حدود میں ) ۔
۴۰
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۱۰
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ أَخْبَرَنِي الشَّافِعِيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسُهَيْلٍ فَقَالَ أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ - وَهُوَ عِنْدِي ثِقَةٌ - أَنِّي حَدَّثْتُهُ إِيَّاهُ وَلاَ أَحْفَظُهُ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَدْ كَانَ أَصَابَتْ سُهَيْلاً عِلَّةٌ أَذْهَبَتْ بَعْضَ عَقْلِهِ وَنَسِيَ بَعْضَ حَدِيثِهِ فَكَانَ سُهَيْلٌ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَبِيعَةَ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع بن سلیمان مؤذن نے مجھ سے اس حدیث میں «قال: أخبرني الشافعي عن عبدالعزيز» کا اضافہ کیا عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: میں نے اسے سہیل سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھے ربیعہ نے خبر دی ہے اور وہ میرے نزدیک ثقہ ہیں کہ میں نے یہ حدیث ان سے بیان کی ہے لیکن مجھے یاد نہیں۔ عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: سہیل کو ایسا مرض ہو گیا تھا جس سے ان کی عقل میں کچھ فتور آ گیا تھا اور وہ کچھ احادیث بھول گئے تھے، تو سہیل بعد میں اسے «عن ربیعہ عن أبیہ» کے واسطے سے روایت کرتے تھے۔
۴۱
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۱۱
The tradition mentioned above has also been transmitted by Rabi'ah through the chain of Abu Mus'ab and to the same effect. Sulaiman said
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ، - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، بِإِسْنَادِ أَبِي مُصْعَبٍ وَمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ سُلَيْمَانُ فَلَقِيتُ سُهَيْلاً فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ مَا أَعْرِفُهُ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ رَبِيعَةَ أَخْبَرَنِي بِهِ عَنْكَ ‏.‏ قَالَ فَإِنْ كَانَ رَبِيعَةُ أَخْبَرَكَ عَنِّي فَحَدِّثْ بِهِ عَنْ رَبِيعَةَ عَنِّي ‏.‏
ابومصعب ہی کی سند سے ربیعہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے سہیل سے ملاقات کی اور اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں اسے نہیں جانتا تو میں نے ان سے کہا: ربیعہ نے مجھے آپ کے واسطہ سے اس حدیث کی خبر دی ہے تو انہوں نے کہا: اگر ربیعہ نے تمہیں میرے واسطہ سے خبر دی ہے تو تم اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔
۴۲
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۱۲
زبیب بن ثعلبہ الانباری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْبِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ جَدِّيَ الزُّبَيْبَ، يَقُولُ بَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَيْشًا إِلَى بَنِي الْعَنْبَرِ فَأَخَذُوهُمْ بِرُكْبَةٍ مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِفِ فَاسْتَاقُوهُمْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَكِبْتُ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ أَتَانَا جُنْدُكَ فَأَخَذُونَا وَقَدْ كُنَّا أَسْلَمْنَا وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ فَلَمَّا قَدِمَ بَلْعَنْبَرُ قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ لَكُمْ بَيِّنَةٌ عَلَى أَنَّكُمْ أَسْلَمْتُمْ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذُوا فِي هَذِهِ الأَيَّامِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَنْ بَيِّنَتُكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ سَمُرَةُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ وَرَجُلٌ آخَرُ سَمَّاهُ لَهُ فَشَهِدَ الرَّجُلُ وَأَبَى سَمُرَةُ أَنْ يَشْهَدَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ أَبَى أَنْ يَشْهَدَ لَكَ فَتَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِكَ الآخَرِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَاسْتَحْلَفَنِي فَحَلَفْتُ بِاللَّهِ لَقَدْ أَسْلَمْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ ‏.‏ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اذْهَبُوا فَقَاسِمُوهُمْ أَنْصَافَ الأَمْوَالِ وَلاَ تَمَسُّوا ذَرَارِيَهُمْ لَوْلاَ أَنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ ضَلاَلَةَ الْعَمَلِ مَا رَزَيْنَاكُمْ عِقَالاً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الزُّبَيْبُ فَدَعَتْنِي أُمِّي فَقَالَتْ هَذَا الرَّجُلُ أَخَذَ زِرْبِيَّتِي فَانْصَرَفْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - يَعْنِي فَأَخْبَرْتُهُ - فَقَالَ لِي ‏"‏ احْبِسْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَخَذْتُ بِتَلْبِيبِهِ وَقُمْتُ مَعَهُ مَكَانَنَا ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمَيْنِ فَقَالَ ‏"‏ مَا تُرِيدُ بِأَسِيرِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَرْسَلْتُهُ مِنْ يَدِي فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِلرَّجُلِ ‏"‏ رُدَّ عَلَى هَذَا زِرْبِيَّةَ أُمِّهِ الَّتِي أَخَذْتَ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهَا خَرَجَتْ مِنْ يَدِي ‏.‏ قَالَ فَاخْتَلَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَيْفَ الرَّجُلِ فَأَعْطَانِيهِ ‏.‏ وَقَالَ لِلرَّجُلِ ‏"‏ اذْهَبْ فَزِدْهُ آصُعًا مِنْ طَعَامٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَزَادَنِي آصُعًا مِنْ شَعِيرٍ ‏.‏
زبیب عنبری کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عنبر کی طرف ایک لشکر بھیجا، تو لشکر کے لوگوں نے انہیں مقام رکبہ۱؎ میں گرفتار کر لیا، اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ لائے، میں سوار ہو کر ان سے آگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: السلام علیک یا نبی اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا لشکر ہمارے پاس آیا اور ہمیں گرفتار کر لیا، حالانکہ ہم مسلمان ہو چکے تھے اور ہم نے جانوروں کے کان کاٹ ڈالے تھے ۲؎، جب بنو عنبر کے لوگ آئے تو مجھ سے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اس بات کی گواہی ہے کہ تم گرفتار ہونے سے پہلے مسلمان ہو گئے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون تمہارا گواہ ہے؟ میں نے کہا: بنی عنبر کا سمرہ نامی شخص اور ایک دوسرا آدمی جس کا انہوں نے نام لیا، تو اس شخص نے گواہی دی اور سمرہ نے گواہی دینے سے انکار کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمرہ نے تو گواہی دینے سے انکار کر دیا، تم اپنے ایک گواہ کے ساتھ قسم کھاؤ گے؟ میں نے کہا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسم دلائی، پس میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک ہم لوگ فلاں اور فلاں روز مسلمان ہو چکے تھے اور جانوروں کے کان چیر دیئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور ان کا آدھا مال تقسیم کر لو اور ان کی اولاد کو ہاتھ نہ لگانا، اگر اللہ تعالیٰ مجاہدین کی کوششیں بیکار ہونا برا نہ جانتا تو ہم تمہارے مال سے ایک رسی بھی نہ لیتے ۔ زبیب کہتے ہیں: مجھے میری والدہ نے بلایا اور کہا: اس شخص نے تو میرا توشک چھین لیا ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے ( صورت حال ) بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اسے پکڑ لاؤ میں نے اسے اس کے گلے میں کپڑا ڈال کر پکڑا اور اس کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کو کھڑا دیکھ کر فرمایا: تم اپنے قیدی سے کیا چاہتے ہو؟ تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا: تو اس کی والدہ کا توشک واپس کرو جسے تم نے اس سے لے لیا ہے اس شخص نے کہا: اللہ کے نبی! وہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، وہ کہتے ہیں: تو اللہ کے نبی نے اس آدمی کی تلوار لے لی اور مجھے دے دی اور اس آدمی سے کہا: جاؤ اور اس تلوار کے علاوہ کھانے کی چیزوں سے چند صاع اور اسے دے دو وہ کہتے ہیں: اس نے مجھے ( تلوار کے علاوہ ) جو کے چند صاع مزید دئیے۔
۴۳
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۱۳
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، ادَّعَيَا بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْسَتْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا ‏.‏
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔
۴۴
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۱۴
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ‏.‏
اس سند سے بھی سعید (ابن ابی عروبۃ) سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
۴۵
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۱۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ أَنَّ رَجُلَيْنِ، ادَّعَيَا بَعِيرًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ فَقَسَمَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ ‏.‏
اس سند سے بھی قتادہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمیوں نے کسی ایک اونٹ کا دعویٰ کیا، اور دونوں نے دو دو گواہ پیش کئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا۔
۴۶
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۱۶
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلاَسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، اخْتَصَمَا فِي مَتَاعٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ مَا كَانَ أَحَبَّا ذَلِكَ أَوْ كَرِهَا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں قسم پر قرعہ اندازی کرو ۱؎ خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند ۔
۴۷
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۱۷
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - قَالَ أَحْمَدُ قَالَ - حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ إِذَا كَرِهَ الاِثْنَانِ الْيَمِينَ أَوِ اسْتَحَبَّاهَا فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَلَمَةُ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَقَالَ إِذَا أُكْرِهَ الاِثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں ( اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے ) ۔ سلمہ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی روایت میں «حدثنا معمر» کے بجائے «أخبرنا معمر» اور «إذا كَرِهَ الاثنان اليمين» کے بجائے «إذا أكره الاثنان على اليمين»ہے۔
۴۸
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۱۸
The tradition mentioned above has also been transmitted by sa’id b. ‘Urubah through the chain as narrated by Ibn Minhal. This version has
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، بِإِسْنَادِ ابْنِ مِنْهَالٍ مِثْلَهُ قَالَ فِي دَابَّةٍ وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ ‏.‏
سعید بن ابی عروبہ سے ابن منہال کی سند سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں «في متاع» کے بجائے «في دابة» کے الفاظ ہیں یعنی دو شخصوں نے ایک چوپائے کے سلسلہ میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا۔
۴۹
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۱۹
ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ‏.‏
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے میرے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ پر قسم کا فیصلہ کیا ہے ( یعنی جب وہ منکر ہو اور مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو وہ قسم کھائے ) ۔
۵۰
سنن ابو داؤد # ۲۵/۳۶۲۰
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ - يَعْنِي لِرَجُلٍ حَلَّفَهُ - ‏
"‏ احْلِفْ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ مَا لَهُ عِنْدَكَ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي لِلْمُدَّعِي ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو يَحْيَى اسْمُهُ زِيَادٌ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے قسم کھلائی تو یوں فرمایا: اس اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کہ تیرے پاس اس ( یعنی مدعی کی ) کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔