Hadith

اسلام میں موت کے بارے میں 7 مستند احادیث

S Sehri.bd July 2, 2026 1 min read 34 dilihat

موت — 7 hadith.

1. Sahih Al-Bukhari #7170

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ ‏"‏ مَنْ لَهُ بَيِّنَةٌ عَلَى قَتِيلٍ قَتَلَهُ، فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏‏.‏ فَقُمْتُ لأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلٍ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَشْهَدُ لِي، فَجَلَسْتُ، ثُمَّ بَدَا لِي فَذَكَرْتُ أَمْرَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ سِلاَحُ هَذ

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے عمر بن کثیر نے، ان سے ابوقتادہ کے غلام ابو محمد نافع نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی جنگ کے دن فرمایا ”جس کے پاس کسی مقتول کے بارے میں جسے اس نے قتل کیا ہو گواہی ہو تو اس کا سامان اسے ملے گا۔ چنانچہ میں مقتول کے لیے گواہ تلاش کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو میرے لیے گواہی دے سکے، اس لیے میں بیٹھ گیا۔ پھر میرے سامنے ایک صورت آ

Abu Qatada — Sahih Al-Bukhari #7170 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

2. Sahih Muslim #4533

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ، بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏

(محمد بن ابراہیم ) ابن ابی عدی اور محمد بن جعفر دونوں نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان ( اعمش ) سے ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا ، کہا جائے گا : یہ فلاں کی عہد شکنی ( کا نشان ) ہے

— Sahih Muslim #4533 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

3. Jami' at-Tirmidhi #1892

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ جَدَّتِهِ، كَبْشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ قَائِمًا فَقُمْتُ إِلَى فِيهَا فَقَطَعْتُهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَيَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ هُوَ أَخُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ وَهُوَ أَقْدَمُ مِنْهُ مَوْتًا ‏.‏

ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن یزید بن جبیر نے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ سے، وہ اپنی دادی سے ایک مینڈھا ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ نے کھڑے ہو کر کسی سے پانی پیا، میں نے اسے لٹکا کر پانی میں ڈالا۔ ابو عیسیٰ نے کہا۔ ایک اچھی، صحیح اور عجیب حدیث۔ یزید بن یزید بن جبیر عبدالرحمٰن بن یزید بن جبیر کے بھائی ہیں اور وفات میں ان سے عمر میں بڑے ہیں۔ .

'Abdur-Rahman bin Abi 'Amrah — Jami' at-Tirmidhi #1892 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

4. Mishkat al-Masabih #431

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِي السّنة C: هَذَا مَنْسُوخ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا: "میں تجھ سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں"، پھر تین بار فرمایا: "میں تجھ پر خدا کی لعنت بھیجتا ہوں"، پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا جیسے وہ کچھ لے رہا ہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو نماز کے دوران کچھ ایسا کہتے سنا جو پہلے آپ کو کہتے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو اپنا ہاتھ بڑھاتے دیکھا۔ اس نے جواب دیا: "خدا کا دشمن ابلیس آگ کا شعلہ لے کر میرے چہ

Abud Darda’ said — Mishkat al-Masabih #431 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

5. Musnad Ahmad #186

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَا سَأَلْتُهُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَذَكَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا قَدْ نَقَرَنِي نَقْرَتَيْنِ وَلَا أُرَاهُ إِلَّا لِحُضُورِ أَجَلِي وَإِنَّ أَقْوَامًا يَأْمُرُونِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ وَإِنَّ اللَّ

ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے، وہ معدن بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا۔ اور اس نے کہا درحقیقت میں نے دیکھا ہے کہ جیسے ایک مرغ نے مجھے دو مرتبہ چونچ لیا ہے اور میں اسے اپنی موت کے آنے کے سوا کچھ نہیں دیکھ رہا ہوں اور کچھ لوگ مجھے حکم دے رہے ہیں کہ میری جگہ لے لو، اور خدا اس کے دین کو ختم کرنے و

It was narrated from Ma'dan bin Abi Talhah that 'Umar bin al Khattab رضي الله عنه delivered a khutbah one Friday, and he mentioned the Prophet of Allah ﷺ and Abu Bakr رضي الله عنه, He said — Musnad Ahmad #186 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

6. Sahih Muslim #1824

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ‏"‏ ‏.‏

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنا ؤ شیطان اس گھر سے بھا گتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے ۔

— Sahih Muslim #1824 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

7. Mishkat al-Masabih #115

وَعَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْء من الْقدر فَحَدثني بِشَيْء لَعَلَّ الله أَن يذهبه من قلبِي قَالَ لَو أَن الله عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وأَهْلَ أَرْضِهِ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ وَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُ

اُس نے اُنہیں اکٹھا کیا اور جوڑے میں ڈال دیا۔ اس کے بعد اس نے ان کی شکل بنائی اور ان کو کلام سے نوازا اور وہ بولے۔ پھر اس نے ان سے معاہدہ کیا اور انہیں اپنے بارے میں گواہی دینے کے لیے بلایا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ اس نے کہا کہ میں ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو تم پر گواہ بناتا ہوں اور تمہارے باپ آدم کو تم پر گواہ بناتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہمیں اس کا علم نہیں تھا، جان لو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میرے علاوہ کوئی رب نہیں اور م

On God’s words, “When your Lord took from the children of Adam from their backs their offspring,” 1 Ubayy b. Ka‘b said — Mishkat al-Masabih #115 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

اہم نکات

مزید جاننا چاہتے ہیں؟ حدیث مجموعہ | حدیث تلاش کریں

#death #hadith #islam