Hadith

اسلام میں صبر کے بارے میں 7 مستند احادیث

S Sehri.bd July 20, 2026 1 min read 79 tontonan

صبر — 7 hadith.

1. Sahih Al-Bukhari #4725

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى صَاحِبَ الْخَضِرِ لَيْسَ هُوَ مُوسَى صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ حَدَّثَنِي أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ مُوسَى قَامَ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَسُئِلَ أَىُّ النَّاسِ أَعْلَمُ فَقَال

ہم سے عبدااللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سعید بن جبیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا نوف بکالی کہتا ہے ( جو کعب احبار کا رہیب تھا ) کہ جن موسیٰ کی خضر کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی وہ بنی اسرائیل کے ( رسول ) موسیٰ کے علاوہ دوسرے ہیں۔ ( یعنی موسیٰ بن میثا بن افراثیم بن یوسف بن یعقوب ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا دشمن خدا نے غلط کہا۔ مجھ سے ابی بن کعب نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی

Sa'id bin Jubair — Sahih Al-Bukhari #4725 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

2. Jami' at-Tirmidhi #3180

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا ذُكِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُكِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيَّ خَطِيبًا فَتَشَهَّدَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ أَشِيرُوا عَلَىَّ فِي أُنَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي مِنْ سُوءٍ قَطُّ وَأَبَنُوا بِمَنْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْ

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں جو ذکر کیا گیا ہے، اور جس کے بارے میں مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے واعظ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مستحق، پھر اس نے کہا "لیکن جب انہوں نے مجھے ایسے لوگوں کے بارے میں مشورہ دیا جو میرے خاندان پر الزام لگاتے ہیں، خدا کی قسم، میں نے کبھی نہیں جانا کہ میرے خاندان

'Aishah — Jami' at-Tirmidhi #3180 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

3. Sahih Al-Bukhari #4726

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَغَيْرَهُمَا قَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ إِنَّا لَعِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِهِ، إِذْ قَالَ سَلُونِي قُلْتُ أَىْ أَبَا عَبَّاسٍ ـ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ ـ بِالْكُوفَةِ رَجُلٌ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ نَوْفٌ، يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ بِمُوسَى

ہم سے ابراہیم بن موسی نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریر نے خبر دی، کہا کہ مجھے یعلیٰ بن مسلم اور عمرو بن دینار نے خبر دی سعید بن جبیر سے، دونوں میں سے ایک اپنے ساتھی اور دیگر راوی کے مقابلہ میں بعض الفاظ زیادہ کہتا ہے اور ان کے علاوہ ایک اور صاحب نے بھی سعید بن جبیر سے سن کر بیان کیا کہ انہوں نے کہا ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ان کے گھر حاضر تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ دین کی باتیں مجھ سے کچھ پوچھو۔ میں نے عرض کیا: اے ابوعباس! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے کوفہ میں

Ibn Juraij — Sahih Al-Bukhari #4726 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

4. Mishkat al-Masabih #3260

وَعَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي امْرَأَةً فِي لِسَانِهَا شَيْءٌ يَعْنِي الْبَذَاءَ قَالَ: «طَلِّقْهَا» . قُلْتُ: إِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا وَلَهَا صُحْبَةٌ قَالَ: «فَمُرْهَا» يَقُولُ عِظْهَا «فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَقْبَلُ وَلَا تَضْرِبَنَّ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أُمَيَّتَكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک عورت ہے جس کی زبان پر کوئی چیز ہے جس کے معنی فحش ہیں۔ اس نے کہا: اسے طلاق دے دو۔ میں نے کہا: اس سے میرا ایک بیٹا ہے اور اس کا ایک ساتھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے حکم دو،“ وہ اسے نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے، ”اگر اس میں بھلائی ہے تو وہ قبول کر لے گی، اور اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارو جیسے تم مارو۔ آپ کی ناخواندگی۔ ابو نے بیان کیا۔ ڈیوڈ

— Mishkat al-Masabih #3260 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

5. Sahih Al-Bukhari #2468

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا عَلَى أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ لَهُمَا ‏{‏إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا‏}‏ فَحَجَجْتُ مَعَهُ فَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالإ

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے اور ان سے ابن شہاب نے کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ہمیشہ اس بات کا آروز مند رہتا تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے نام پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ التحریم میں ) فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما‏» ”اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرو ( تو بہتر ہے ) کہ تمہارے دل بگڑ گئے ہیں۔“ پھر

'Abdullah bin 'Abbas — Sahih Al-Bukhari #2468 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

6. Riyad as-Salihin #258

وعن مجيبة الباهلية عن أبيها أو عمها، أنه أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم انطلق فأتاه بعد سنة وقد تغيرت حاله وهيئته، فقال‏:‏ يا رسول الله أما تعرفني‏؟‏ قال‏:‏ ‏"‏ومن أنت‏؟‏‏"‏ قال‏:‏ أنا الباهلي الذي جئتك عام الأول‏.‏ قال‏:‏ ‏"‏فما غيرك، وقد كنت حسن الهيئة‏؟‏‏"‏ قال‏:‏ ما أكلت طعامًا منذ فارقتك إلا بليل‏.‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏عذبت نفسك‏!‏‏"‏ ثم قال‏:‏ ‏"‏صم شهر الصبر، ويومًا من كل شهر‏"‏ قال‏:‏ زدني، فإن بي قوة، قال‏:‏ ‏"‏ صم يومين‏"‏ قال‏:‏ زذني، قال‏:‏ ‏"‏صم ثلاثة أيام‏"‏ ق

"میں الباہلی ہوں جو پچھلے سال آپ سے ملنے آیا تھا۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم تو بہت خوبصورت تھے، تمہاری شکل کس چیز نے بدل دی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ جب سے یہاں سے نکلا ہوں میں نے سوائے رات کے کچھ نہیں کھایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنے آپ کو اذیت میں ڈال دیا ہے، صبر کے مہینے (یعنی رمضان) میں روزے رکھو اور ہر مہینے میں سے ایک دن روزہ رکھو۔ اس نے عرض کیا کہ مجھے مزید نفلی روزے رکھنے کی اجازت دیں کیونکہ میں ایسا کرنے کی استطاعت رکھتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ ع

Reported Mujibah Al-Bahiliyah on the authority of her father or uncle that he visited the Messenger of Allah (ﷺ) once and then went to see him again after a year. His appearance had totally changed. He asked the Messenger of Allah (ﷺ) if he had recognized — Riyad as-Salihin #258 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

7. Sahih Muslim #5972

وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ وَمَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ الْوَرِقِ وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلاَ يَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى

نافع بن عمر جحمی نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " میر احوض ( لمبائی چوڑائی میں ) ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے اور اس کے ( چاروں ) کنارے برابر ہیں ( مربع ہے ) ، اس کاپانی چاندی سے زیادہ چمکدار ، اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ معطر ہے ، اس کے کوزے آسمان کےستاروں جتنے ہیں ۔ جو شخص اس میں سے پی لے گا ، اسے اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی ۔

— Sahih Muslim #5972 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

اہم نکات

مزید جاننا چاہتے ہیں؟ حدیث مجموعہ | حدیث تلاش کریں

#patience #hadith #islam