Hadith

اسلام میں موت کے بارے میں 7 مستند احادیث

S Sehri.bd May 19, 2026 1 min read 9 görüntüleme

موت — 7 hadith.

1. Sahih Al-Bukhari #7170

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ ‏"‏ مَنْ لَهُ بَيِّنَةٌ عَلَى قَتِيلٍ قَتَلَهُ، فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏‏.‏ فَقُمْتُ لأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلٍ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَشْهَدُ لِي، فَجَلَسْتُ، ثُمَّ بَدَا لِي فَذَكَرْتُ أَمْرَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ سِلاَحُ هَذ

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے عمر بن کثیر نے، ان سے ابوقتادہ کے غلام ابو محمد نافع نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی جنگ کے دن فرمایا ”جس کے پاس کسی مقتول کے بارے میں جسے اس نے قتل کیا ہو گواہی ہو تو اس کا سامان اسے ملے گا۔ چنانچہ میں مقتول کے لیے گواہ تلاش کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو میرے لیے گواہی دے سکے، اس لیے میں بیٹھ گیا۔ پھر میرے سامنے ایک صورت آ

Abu Qatada — Sahih Al-Bukhari #7170 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

2. Mishkat al-Masabih #5713

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى ابْنِ عِمْرَانَ فَقَالَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ ". قَالَ: «فَلَطَمَ مُوسَى عَيْنَ مَلَكَ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا» قَالَ: " فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ فَقَالَ: إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي " قَالَ: " فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ: الْحَيَاةَ تُرِيدُ؟ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ ي

اس کی سند سے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت کا فرشتہ موسیٰ بن عمران کے پاس آیا اور ان سے کہا: اپنے رب کو جواب دو۔ اس نے کہا: "پھر موسیٰ نے موت کے فرشتے کی آنکھ پر مارا اور اسے نکال دیا۔" اس نے کہا: "پھر بادشاہ خدا کے پاس واپس آیا اور کہا: آپ نے مجھے اپنے ایک خادم کے پاس بھیجا ہے جو مرنا نہیں چاہتا۔ تو اس نے میری آنکھ نکال دی۔ اس نے کہا: پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر اس کی طرف لوٹائی اور فرمایا: میرے بندے کے پاس واپس جاؤ اور کہو: کیا تم زندگی چاہتے ہو؟ اگر تم زندہ رہنا چ

— Mishkat al-Masabih #5713 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

3. Mishkat al-Masabih #1659

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَوْ شَابٌّ فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهَا أَوْ عَنْهُ فَقَالُوا: مَاتَ. قَالَ: «أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي؟» قَالَ: فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا أَوْ أَمْرَهُ. فَقَالَ: «دلوني على قَبره» فدلوه فصلى عَلَيْهَا. قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا وَإِنَّ اللَّهَ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ» . وَلَفظه لمُسلم

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام عورت یا نوجوان مسجد کی دیکھ بھال کر رہا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھو دیا اور آپ نے اس کے بارے میں پوچھا۔ اس کے بارے میں انہوں نے کہا: وہ مر گیا۔ اس نے کہا: کیا تم نے مجھے خبر نہیں دی؟ اس نے کہا: گویا انہوں نے اسے یا اس کے معاملے کو حقیر سمجھا۔ اس نے کہا: مجھے اس کی قبر دکھاؤ۔ وہ اسے اس کے پاس لے گئے اور اس نے دعا کی۔ اس پر۔ اس نے کہا: "یہ قبریں ان کے لوگوں کے خلاف تاریکیوں سے بھری ہوئی ہیں، اور خدا ان پر میری دعاؤں کے ذریعے ان

— Mishkat al-Masabih #1659 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

4. Sunan Abi Dawud #1645

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ح حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ أَبُو مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ طَارِقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى عَاجِلٍ

ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے ظاہر کر دے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا، اور جو اس کو اللہ سے ظاہر کرے ( یعنی اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا مانگے ) تو قریب ہے کہ اسے اللہ بے پروا کر دے یا تو جلد موت دے کر یا جلد مالدار کر کے ۔

Abdullah ibn Mas'ud — Sunan Abi Dawud #1645 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

5. Sunan an-Nasa'i #1900

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ ‏.‏ فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي أُصَلِّي عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ فَجَذَبَهُ عُمَرُ وَقَالَ قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ ع

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ( منافق ) مر گیا، تو اس کے بیٹے ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ( اور ) عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ میں اس میں انہیں کفنا دوں، اور آپ ان پر نماز ( جنازہ ) پڑھ دیجئیے، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص انہیں دے دی، پھر فرمایا: جب تم فارغ ہو لو تو مجھے خبر کرو میں ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھوں گا ( اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے ) تو

It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said — Sunan an-Nasa'i #1900 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

6. Sahih Al-Bukhari #408

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا، سَعِيدٍ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى نُخَامَةً فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ‏"‏‏.‏

ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر کچھ تخمک دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر لے کر اسے کھرچ دیا اور فرمایا: تم میں سے اگر کوئی تھوکنا چاہے تو وہ نہ اپنے سامنے تھوکے اور نہ دائیں طرف بلکہ وہ اپنے بائیں یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔

Abu Huraira and Abu Sa'id — Sahih Al-Bukhari #408 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

7. Mishkat al-Masabih #1441

وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ فِي الْأُولَى سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي

کثیر بن عبداللہ کی سند سے، اپنے والد کی سند سے، اپنے دادا کی سند سے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عیدوں میں سے پہلی عید کو قرأت سے پہلے سات مرتبہ اللہ اکبر کہا۔ اور بعد کی زندگی میں پانچ مرتبہ پڑھنے سے پہلے۔ اسے ترمذی، ابن ماجہ اور الدارمی نے روایت کیا ہے۔

— Mishkat al-Masabih #1441 (Sahih)

مکمل حدیث پڑھیں →

اہم نکات

مزید جاننا چاہتے ہیں؟ حدیث مجموعہ | حدیث تلاش کریں

#death #hadith #islam