صحیح مسلم — حدیث #۱۱۳۰۶
حدیث #۱۱۳۰۶
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَسَلْ لِي عَنْ ذَلِكَ يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا . قَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا . فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ نَزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا " . قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا . فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ .
سہل بن سعد ساعدی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے عویمر عجلانی ، عاصم بن عدی انصاری کے پاس آیا اور ان سے کہا اے عاصم! بھلا اگر کوئی شخص اپنی جورو کیس اتھ کسی مرد کو دیکھے کیا اس کو مار ڈالے ، پھر تم اس کو مار ڈالو گے یا وہ کیا کرے؟ تو یہ مسئلہ پوچھو میرے واسطے رسول اﷲ ﷺ سے ۔ عاصم رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ ﷺ سے پوچھا آپ نے اس قسم کے سوالوں کو ناپسند کیا اور ان کی برائی بیان کی ۔ عاصمؓ نے جو رسول اﷲ ﷺ سے سنا وہ ان کو شاق گزرا ۔ جب وہ اپنے لوگوں میں لوٹ کر آئے تو عویمر ان کے پاس آئے اور پوچھا اے عاصمؓ! جناب رسول اﷲ ﷺ نے کیا فرمایا؟ عاصمؓ نے عویمرؓ سے کہا تو میرے اچھی چیز نہیں لایا ۔ رسول اﷲ ﷺ کو تیرا مسئلہ پوچھنا ناگوار ہوا ۔ عویمرؓ نے کہا قسم خدا کی میں تو باز نہ آؤں گا جب تک یہ مسئلہ آپ سے نہ پوچھوں گا ۔ پھر عویمرؓ آیا رسول اﷲ ﷺ کے پاس تمام لوگوں میں اور عرض کیا یارسول اﷲ! آپ کیا فرماتے ہیں اگرکوئی شخص اپنی بی بی کے پاس غیر مرد کو دیکھے اس کو مار ڈالے ، پھر آپ اس کو مار ڈالیں گے ( اس کے قصاص میں ) وہ کیا کرے؟ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تیرے او رتیری جورو کے باب میں اﷲ کا حکم اُترا ( یعنی آیت لعان کی ) تو جا او راپنی جورو کو لے کر آ ۔ سہلؓ نے کہا پھر دونوں میاں بیبی نے لعان کیا او رمیں لوگوں کے ساتھ رسول اﷲ ﷺ کے پاس موجود تھا جب وہ فارغ ہوئے تو عویمرؓ نے کہا یا رسول اﷲ اگر میں اس عورت کو اب رکھوں تو میں جھوٹا ہوں پھر عویمرؓ نے اس کو تین طلاق دے دیں اس سے پہلے کہ رسول اﷲ ﷺ اس کو حکم کرتے ابن شہاب نے کہا پھر لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ ٹھہرگیا ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۱۹/۳۷۴۳
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۹: طلاق