صحیح مسلم — حدیث #۱۲۱۶۷
حدیث #۱۲۱۶۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، الْقَيْسِيُّ كُلُّهُمْ عَنِ الْمُعْتَمِرِ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي شَيْبَةَ - حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، - وَقَالَ حَامِدٌ وَابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى أَنَّ الرَّجُلَ، - كَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم النَّخَلاَتِ مِنْ أَرْضِهِ . حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مَا كَانَ أَعْطَاهُ . قَالَ أَنَسٌ وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْأَلَهُ مَا كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِيهِنَّ فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي وَقَالَتْ وَاللَّهِ لاَ نُعْطِيكَاهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أُمَّ أَيْمَنَ اتْرُكِيهِ وَلَكِ كَذَا وَكَذَا " . وَتَقُولُ كَلاَّ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ . فَجَعَلَ يَقُولُ كَذَا حَتَّى أَعْطَاهَا عَشْرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهِ .
ابوبکر بن ابی شیبہ ، حامد بن عمر بکراوی اور محمد بن عبدالاعلیٰ قیسی ، سب نے معتمر سے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں ۔ ہمیں معتمر بن سلیمان تیمی نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ کوئی آدمی ۔ ۔ جبکہ حامد اور عبدالاعلیٰ نے کہا : کوئی مخصوص آدمی ۔ ۔ اپنی زمین سے کھجوروں کے کچھ درخت ( فقرائے مہاجرین کی خبر گیری کے لیے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص کر دیتا تھا ، حتی کہ قریظہ اور بنونضیر آپ کے لیے فتح ہو گئے تو اس کے بعد جو کسی نے آپ کو دیا تھا ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرنا شروع کر دیا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ سے وہ سب یا اس کا کچھ حصہ مانگوں ، جو ان کے گھر والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا ۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے وہ سب کا سب مجھے دے دیا ، اس پر ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں ، میرے گلے میں کپڑا ڈالا اور کہنے لگیں : اللہ کی قسم! ہم وہ ( درخت ) تمہیں نہیں دیں گے ، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمیں دے چکے ہیں ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ام ایمان! اسے چھوڑ دو ، اتنا اتنا تمہارا ہوا وہ کہتی تہیں : ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! اور آپ اسی طرح فرماتے رہے حتی کہ آپ نے اسے دس گنا یا تقریبا دس گنا عطا فرما دیا
ماخذ
صحیح مسلم # ۳۲/۴۶۰۴
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۲: گمشدہ چیز