صحیح مسلم — حدیث #۱۲۴۹۷
حدیث #۱۲۴۹۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي، طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ " . يَشُكُّ أَيَّهُمَا قَالَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . كَمَا قَالَ فِي الأُولَى قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ " أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ " . فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ الْبَحْرَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ .
اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا ( جو حضور کی رضاعی خالہ لگتی تھیں ) کے پاس تشریف لے جاتے اور وہ آپ کو کھانا پیش کرتی تھیں ، ( بعد ازاں ) وہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں ( آ گئی ) تھیں ، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں گئے ، انہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا اور پھر بیٹھ کر آپ کے سر میں جوئیں تلاش کرنے لگیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ، پھر آپ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے ، حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا : "" میری امت کے کچھ لوگ ، اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے ، وہ اس سمندر کی پشت پر سوار ہوں گے ۔ وہ تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہوں گے ، یا اپنے اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہوں گے ، یا اپنے اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی طرح ہوں گے ۔ "" انہٰں شک تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ کہا : تو ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان مجاہدین میں شامل کر دے ۔ آپ نے ان کے لیے دعا کی اور پھر اپنا سر ( تکیے پر ) رکھ کر سو گئے ، پھر آپ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا : "" مجھے ( خواب میں ) میری امت کے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے ۔ "" جس طرح پہلی مرتبہ فرمایا تھا ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے ۔ آپ نے فرمایا : "" تم اولین لوگوں میں سے ہو ۔ "" پھر حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سمندر میں ( بحری بیڑے پر ) سوار ہوئیں اور جب سمندر سے باہر نکلیں تو اپنی سواری کے جانور سے گر کر شہید ہو گئیں ۔ ( اس طرح شہادت پائی ۔)
ماخذ
صحیح مسلم # ۳۳/۴۹۳۴
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۳: جہاد