صحیح مسلم — حدیث #۱۳۲۱۱
حدیث #۱۳۲۱۱
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ، بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَبَيْتُمْ إِلاَّ الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " . قَالُوا وَمَا حَقُّهُ قَالَ " غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الأَذَى وَرَدُّ السَّلاَمِ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " راستوں میں بیٹھنے سے اجتنا ب کرو ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے لیے ( را ستے کی ) مجلسوں کے بغیر جن میں ( بیٹھ کر ) ہم باتیں کرتے ہیں ، کو ئی چارہ نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اگر تم مجا لس کے بغیر نہیں رہ ہو سکتے تو را ستے کا حق ادا کرو ۔ " لوگوں نے کہا : اس کا حق کیا ہے ؟آپ نے فر ما یا : " نگاہ نیچی رکھنا تکلیف دہ چیزوں کو ( را ستے سے ) ہٹانا ، سلام کا جواب دینا ، اچھا ئی کی تلقین کرنا اور بر ائی سے روکنا ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۳۹/۵۶۴۸
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۹: آداب