صحیح مسلم — حدیث #۱۳۲۲۲
حدیث #۱۳۲۲۲
حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ فَسَبَّتْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَهْ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ " . وَزَادَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
یعلیٰ بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کی بات سمجھ لی ( انھوں نے سلام کے بجا ئے سام کا لفظ بولا تھا ) اور انھیں برا بھلا کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! بس کرو ، اللہ تعا لیٰ برا ئی اور اسے اپنالینے کو پسند نہیں فرماتا ۔ " اور یہ اضافہ کیا تو اس پر اللہ عزوجل نے ( وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ ) نازل فر ما ئی : " اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ آپ کو سلام کہتا ہے ۔ " آیت کے آخر تک ( اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ اس پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ان کے لیے دوزخ کا فی ہے جس میں وہ جلیں گے اور وہ لوٹ کر جانے کا بدترین ٹھکا ناہے ۔)
ماخذ
صحیح مسلم # ۳۹/۵۶۵۹
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۹: آداب
موضوعات:
#Mother