صحیح مسلم — حدیث #۱۳۳۹۵
حدیث #۱۳۳۹۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الأَنْصَارِيَّ، - وَكَانَ مَسْكَنُهُ بِقُبَاءٍ فَانْتَقَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ - فَبَيْنَمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسًا مَعَهُ يَفْتَحُ خَوْخَةً لَهُ إِذَا هُمْ بِحَيَّةٍ مِنْ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ فَأَرَادُوا قَتْلَهَا فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْهُنَّ - يُرِيدُ عَوَامِرَ الْبُيُوتِ - وَأُمِرَ بِقَتْلِ الأَبْتَرِ وَذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَقِيلَ هُمَا اللَّذَانِ يَلْتَمِعَانِ الْبَصَرَ وَيَطْرَحَانِ أَوْلاَدَ النِّسَاءِ .
یحییٰ بن سعید کہہ رہے تھے : مجھے نافع نے خبر دی کہ حضرت ابولبابہ بن عبدا لمنذرانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ اور ان کا گھر قبا ء میں تھا وہ مدینہ منورہ منتقل ہو گئے ۔ ایک دن حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ بیٹھے ہو ئے ( ان کی خاطر ) اپنا ایک دروازہ کھول رہے تھے کہ اچانک انھوں نے ایک سانپ دیکھا جو گھر آباد کرنے والے ( مدت سے گھروں میں رہنے والے ) سانپوں میں سے تھا ۔ گھروالوں نے اس کو قتل کرنا چا ہا تو حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ان کو ۔ ان کی مراد گھروں میں رہنے والے سانپوں سے تھے ۔ مارنے سے منع کیا گیا تھا ۔ اور دم کٹے اور دوسفید دھاریوں والے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ کہا گیا : یہی دو سانپ ہیں جو نظر چھین لیتے ہیں اور عورتوں کے ( پیٹ کے ) بچوں کو گرا دیتے ہیں ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۳۹/۵۸۳۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۳۹: آداب
موضوعات:
#Mother