صحیح مسلم — حدیث #۱۵۰۵۱
حدیث #۱۵۰۵۱
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهْوَ فِي بَيْتِ بِنْتِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ فَعَطَسْتُ فَلَمْ يُشَمِّتْنِي وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي فَأَخْبَرْتُهَا فَلَمَّا جَاءَهَا قَالَتْ عَطَسَ عِنْدَكَ ابْنِي فَلَمْ تُشَمِّتْهُ وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا . فَقَالَ إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَمْ أُشَمِّتْهُ وَعَطَسَتْ فَحَمِدَتِ اللَّهَ فَشَمَّتُّهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ فَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلاَ تُشَمِّتُوهُ " .
ابو بردہ سے روایت ہے کہا : میں ( اپنے والد ) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا وہ اس وقت حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی کے گھر تھے ۔ مجھے چھینک آئی تو انھوں نے جواب میں دعانہیں دی اور اس ( فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ) کو چھینک آئی تو اس کو انھوں نے جواب میں دعا دی میں اپنی والدہ کے پاس گیا اور انھیں بتا یا جب وہ ( میرے والد ) ان ( میری والدہ ) کے پاس آئے تو انھوں نے کہا : تمھارے پاس میرے بیٹے کو چھینک آئی تو تم نے جواب میں دعا نہیں دی ۔ اور ان ( فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ) کو چھینک آئی تو تم نے جواب میں دعا دی ۔ انھوں نے کہا : تمھارے بیٹے کو چھینک آئی تو اس نے الحمد اللہ نہیں کہا : اس لیےمیں نے جواب نہیں دیا اس ( خاتون ) کو چھینک آئی تو انھوں نے الحمد اللہ کہا : اس لیے میں نےان کو جواب میں دعا دی ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : آپ فرماتے تھے : " جب تم میں سےکسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد اللہ کہے تو اس کو جواب میں دعا دواور اگر وہ الحمد اللہ نہ کہے تو دعا نہ دو ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۵۵/۷۴۸۸
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵۵: زہد اور نرم دلی