سنن ابو داؤد — حدیث #۱۷۵۱۶

حدیث #۱۷۵۱۶
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - قَالَ مُسَدَّدٌ - حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَلَكْتُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اجْلِسْ ‏"‏ ‏.‏ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرَ مِنَّا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ ثَنَايَاهُ قَالَ ‏"‏ فَأَطْعِمْهُ إِيَّاهُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ مُسَدَّدٌ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ أَنْيَابُهُ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ایک گردن آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: دو مہینے مسلسل روزے رکھنے کی طاقت ہے؟ کہا: نہیں، فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ ، کہا: نہیں، فرمایا: بیٹھو ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: انہیں صدقہ کر دو ، کہنے لگا: اللہ کے رسول! مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھرانہ ہے ہی نہیں، اس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے اور فرمایا: اچھا تو انہیں ہی کھلا دو ۔ مسدد کی روایت میں ایک دوسری جگہ «ثناياه» کی جگہ «أنيابه» ہے۔
راوی
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۱۴/۲۳۹۰
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۴: روزہ
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث

متعلقہ احادیث