سنن ابو داؤد — حدیث #۱۷۶۵۸

حدیث #۱۷۶۵۸
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي نُشْبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏ "‏ ثَلاَثَةٌ مِنْ أَصْلِ الإِيمَانِ ‏:‏ الْكَفُّ عَمَّنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَلاَ تُكَفِّرْهُ بِذَنْبٍ وَلاَ تُخْرِجْهُ مِنَ الإِسْلاَمِ بِعَمَلٍ، وَالْجِهَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِيَ اللَّهُ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ آخِرُ أُمَّتِي الدَّجَّالَ لاَ يُبْطِلُهُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلاَ عَدْلُ عَادِلٍ، وَالإِيمَانُ بِالأَقْدَارِ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ایمان کی اصل ہیں: ۱- جو لا الہٰ الا اللہ کہے اس ( کے قتل اور ایذاء ) سے رک جانا، اور کسی گناہ کے سبب اس کی تکفیر نہ کرنا، نہ اس کے کسی عمل سے اسلام سے اسے خارج کرنا۔ ۲- جہاد جاری رہے گا جس دن سے اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے یہاں تک کہ میری امت کا آخری شخص دجال سے لڑے گا، کسی بھی ظالم کا ظلم، یا عادل کا عدل اسے باطل نہیں کر سکتا۔ ۳- تقدیر پر ایمان لانا ۔
راوی
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۱۵/۲۵۳۲
درجہ
Daif
زمرہ
باب ۱۵: جہاد
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث