سنن ابو داؤد — حدیث #۱۷۹۸۰

حدیث #۱۷۹۸۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ ‏"‏ إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أُرْسِلُ كَلْبِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِذَا سَمَّيْتَ فَكُلْ وَإِلاَّ فَلاَ تَأْكُلْ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ لِنَفْسِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ عَلَيْهِ كَلْبًا آخَرَ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَأْكُلْ لأَنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ ‏"‏ ‏.‏
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پر کے تیر کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب وہ اپنی تیزی سے پہنچے تو کھاؤ ( یعنی جب وہ تیزی سے گھس گیا ہو ) ، اور جو تیر چوڑائی میں لگا ہو تو مت کھاؤ کیونکہ وہ چوٹ کھایا ہوا ہے ۔ پھر میں نے کہا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں ( اس بارے میں کیا حکم ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب«بِسْمِ اللهِ» پڑھ کر چھوڑو تو کھاؤ، ورنہ نہ کھاؤ، اور اگر کتے نے اس میں سے کھایا ہو تو اس کو مت کھاؤ، اس لیے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہے ۔ پھر میں نے پوچھا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں کہ دوسرا کتا بھی آ کر اس کے ساتھ لگ جاتا ہے ( تب کیا کروں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مت کھاؤ، اس لیے کہ «بِسْمِ اللهِ» تم نے صرف اپنے ہی کتے پر کہا ہے ۔
راوی
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۱۷/۲۸۵۴
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۷: شکار
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother #Death

متعلقہ احادیث