سنن ابو داؤد — حدیث #۱۸۴۰۸

حدیث #۱۸۴۰۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ قُلْتُ ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَارِيَةٌ لِي صَكَكْتُهَا صَكَّةً ‏.‏ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ أَفَلاَ أُعْتِقُهَا قَالَ ‏:‏ ‏"‏ ائْتِنِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ فَجِئْتُ بِهَا قَالَ ‏:‏ ‏"‏ أَيْنَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ فِي السَّمَاءِ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ مَنْ أَنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ‏"‏ ‏.‏
معاویہ بن حکم سلمی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مارا ہے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تھپڑ کو عظیم جانا، تو میں نے عرض کیا: میں کیوں نہ اسے آزاد کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ میں اسے لے کر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان کے اوپر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر ) پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے ۔
راوی
معاویہ بن الحکم السلمی رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۲۲/۳۲۸۲
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲۲: قسم اور نذر
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Paradise #Mother

متعلقہ احادیث