سنن ابو داؤد — حدیث #۱۸۵۰۸
حدیث #۱۸۵۰۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا صَالِحُ أَبُو عَامِرٍ، - قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَا قَالَ مُحَمَّدٌ - حَدَّثَنَا شَيْخٌ، مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - أَوْ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ قَالَ ابْنُ عِيسَى هَكَذَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، - قَالَ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ يَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلَى مَا فِي يَدَيْهِ وَلَمْ يُؤْمَرْ بِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى { وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ } وَيُبَايَعُ الْمُضْطَرُّونَ وَقَدْ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّ وَبَيْعِ الْغَرَرِ وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ .
بنو تمیم کے ایک شیخ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، یا فرمایا: عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا، جو کاٹ کھانے والا ہو گا، مالدار اپنے مال کو دانتوں سے پکڑے رہے گا ( کسی کو نہ دے گا ) حالانکہ اسے ایسا حکم نہیں دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «ولا تنسوا الفضل بينكم» اللہ کے فضل بخشش و انعام کو نہ بھولو یعنی مال کو خرچ کرو ( سورۃ البقرہ: ۲۳۸ ) مجبور و پریشاں حال اپنا مال بیچیں گے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاچار و مجبور کا مال خریدنے سے اور دھوکے کی بیع سے روکا ہے، اور پھل کے پکنے سے پہلے اسے بیچنے سے روکا ہے ۱؎۔
راوی
علی ابن ابوطالب رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۲۳/۳۳۸۲
درجہ
Daif
زمرہ
باب ۲۳: خرید و فروخت