سنن ابو داؤد — حدیث #۱۸۹۴۳

حدیث #۱۸۹۴۳
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عُقْبَةَ الْعَامِرِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ الْفُجَيْعِ الْعَامِرِيِّ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ قَالَ ‏"‏ مَا طَعَامُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ ‏.‏ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فَسَّرَهُ لِي عُقْبَةُ قَدَحٌ غُدْوَةً وَقَدَحٌ عَشِيَّةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ - وَأَبِي - الْجُوعُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَحَلَّ لَهُمُ الْمَيْتَةَ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْغَبُوقُ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ وَالصَّبُوحُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ‏.‏
فجیع عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا: مردار میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کھانا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم شام کو دودھ پیتے ہیں اور صبح کو دودھ پیتے ہیں۔ ابونعیم کہتے ہیں: عقبہ نے مجھ سے اس کی تفسیر یہ کی کہ صبح کو ایک پیالہ پیتے ہیں اور شام کو ایک پیالہ پیتے ہیں میرا کل یہی کھانا ہے قسم ہے میرے والد کی میں بھوکا رہتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت حال میں ان کے لیے مردار کو حلال کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غبوق» کے معنی دن کے آخری حصہ کے ہیں اور «صبوح» کے معنی دن کے شروع حصہ کے ہیں۔
راوی
الفاجی ابن عبداللہ العمیری رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۲۸/۳۸۱۷
درجہ
Daif Isnaad
زمرہ
باب ۲۸: کھانے
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث