سنن ابو داؤد — حدیث #۱۹۷۴۰

حدیث #۱۹۷۴۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَخْبِرْنِي عَنْ آدَمَ، لِلسَّمَاءِ خُلِقَ أَمْ لِلأَرْضِ قَالَ لاَ بَلْ لِلأَرْضِ ‏.‏ قُلْتُ أَرَأَيْتَ لَوِ اعْتَصَمَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الشَّجَرَةِ قَالَ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْهُ بُدٌّ ‏.‏ قُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ * إِلاَّ مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ ‏}‏ قَالَ إِنَّ الشَّيَاطِينَ لاَ يَفْتِنُونَ بِضَلاَلَتِهِمْ إِلاَّ مَنْ أَوْجَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَحِيمَ ‏.‏
خالد الحذاء کہتے ہیں کہ میں نے حسن ( حسن بصری ) سے کہا: اے ابوسعید! آدم کے سلسلہ میں مجھے بتائیے کہ وہ آسمان کے لیے پیدا کئے گئے، یا زمین کے لیے؟ آپ نے کہا: نہیں، بلکہ زمین کے لیے، میں نے عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر وہ نافرمانی سے بچ جاتے اور درخت کا پھل نہ کھاتے، انہوں نے کہا: یہ ان کے بس میں نہ تھا، میں نے کہا: مجھے اللہ کے فرمان «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» شیاطین تم میں سے کسی کو اس کے راستے سے گمراہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہو ( الصافات: ۱۶۳ ) کے بارے میں بتائیے، انہوں نے کہا: شیاطین اپنی گمراہی کا شکار صرف اسی کو بنا سکتے ہیں جس پر اللہ نے جہنم واجب کر دی ہے ۔
راوی
خالد الحدہ رضی اللہ عنہ
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۴۲/۴۶۱۴
درجہ
Hasan Isnaad
زمرہ
باب ۴۲: سنت
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Paradise #Hellfire #Mother #Quran

متعلقہ احادیث