سنن ابو داؤد — حدیث #۲۰۰۸۹

حدیث #۲۰۰۸۹
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رضى الله عنه ضَرَبَ ابْنًا لَهُ تَكَنَّى أَبَا عِيسَى وَأَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ تَكَنَّى بِأَبِي عِيسَى فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَمَا يَكْفِيكَ أَنْ تُكَنَّى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَنَّانِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ وَإِنَّا فِي جَلْجَلَتِنَا فَلَمْ يَزَلْ يُكْنَى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى هَلَكَ ‏.‏
اسلم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے کو مارا جس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بھی ابوعیسیٰ کنیت رکھی تھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ کنیت اختیار کرو؟ ۱؎وہ بولے: میری یہ کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی رکھی ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے گئے تھے، اور ہم تو اپنی ہی طرح کے چند لوگوں میں سے ایک ہیں ۲؎ چنانچہ وہ ہمیشہ ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارے جاتے رہے، یہاں تک کہ انتقال فرما گئے۔
راوی
عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ)
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۴۳/۴۹۶۳
درجہ
Hasan Sahih
زمرہ
باب ۴۳: ادب
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Forgiveness #Mother #Death

متعلقہ احادیث