سنن ابو داؤد — حدیث #۲۰۲۳۶
حدیث #۲۰۲۳۶
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ مَا شَىْءٌ أَجِدُهُ فِي صَدْرِي قَالَ مَا هُوَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَتَكَلَّمُ بِهِ . قَالَ فَقَالَ لِي أَشَىْءٌ مِنْ شَكٍّ قَالَ وَضَحِكَ . قَالَ مَا نَجَا مِنْ ذَلِكَ أَحَدٌ - قَالَ - حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { فَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ مِمَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكَ } الآيَةَ قَالَ فَقَالَ لِي إِذَا وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ شَيْئًا فَقُلْ { هُوَ الأَوَّلُ وَالآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ }
ابوزمیل کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میرے دل میں کیسی کھٹک ہو رہی ہے؟ انہوں نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا: قسم اللہ کی! میں اس کے متعلق کچھ نہ کہوں گا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: کیا کوئی شک کی چیز ہے، یہ کہہ کر ہنسے اور بولے: اس سے تو کوئی نہیں بچا ہے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی «فإن كنت في شك مما أنزلنا إليك فاسأل الذين يقرءون الكتاب» اگر تجھے اس کلام میں شک ہے جو ہم نے تجھ پر اتارا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تم سے پہلے اتاری ہوئی کتاب ( توراۃ و انجیل ) پڑھتے ہیں ( یونس: ۹۴ ) ، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: جب تم اپنے دل میں اس قسم کا وسوسہ پاؤ تو «هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شىء عليم» وہی اول ہے اور وہی آخر وہی ظاہر ہے اور وہی باطن اور وہ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔ ( الحدید: ۳ ) ، پڑھ لیا کرو۔
راوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
ماخذ
سنن ابو داؤد # ۴۳/۵۱۱۰
درجہ
Hasan Isnaad
زمرہ
باب ۴۳: ادب