صحیح مسلم — حدیث #۸۰۲۴
حدیث #۸۰۲۴
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً الْجَنَّةَ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلأَى . فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ - قَالَ - فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلأَى فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا أَوْ إِنَّ لَكَ عَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا - قَالَ - فَيَقُولُ أَتَسْخَرُ بِي - أَوْ أَتَضْحَكُ بِي - وَأَنْتَ الْمَلِكُ " قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ . قَالَ فَكَانَ يُقَالُ ذَاكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً .
منصور نے ابراہیم سے ، انہوں نے عبیدہ سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بے شک میں اسے جانتا ہوں جو دوزخ والوں میں سب سےآخر میں اس سے نکلے گااور جنت والوں میں سے سب سے آخر میں جنت میں جائےگا ۔ وہ ایسا آدمی ہے جوہاتھوں اور پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا آگ سے نکلے گا ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے فرمائے گا : جا جنت میں داخل ہو جاؤ ۔ وہ جنت میں آئے گا تو اسے یہ خیال دلایا جائے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے ۔ وہ واپس آکر عرض کرے گا : اے میرے رب !مجھے تو وہ بھری ہوئی ملی ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے فرمائے گا : جا جنت میں داخل ہو جا ۔ آپ نے فرمایا : وہ ( دوبارہ ) جائے گا تواسے یہی لگے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے ۔ وہ واپس آ کر ( پھر ) کہے گا : اے میرے رب ! میں نے تو اسے بھری ہوئی پایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا : جا جنت میں داخل ہو جا ۔ تیرے لیے ( وہاں ) پوری دنیا کے برابر اور اس سے دس گنا زیادہ جگہ ہے ( یا تیرے لیے دنیا سے دس گنا زیادہ جگہ ہے ) آپ نے فرمایا : وہ شخص کہے گا : کیا تو میرے ساتھ مزاح کرتا ہے ( یا میری ہنسی اڑاتا ہے ) حالانکہ تو ہی بادشاہ ہے ؟ ‘ ‘ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا آپ ہنس دیے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے ۔ عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : چنانچہ یہ کہا جاتا تھا کہ یہ شخص سب سے کم مرتبہ جنتی ہو گا ۔
ماخذ
صحیح مسلم # ۱/۴۶۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱: ایمان