صحیح مسلم — حدیث #۷۶۶۰
حدیث #۷۶۶۰
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، أَنَّ خَالِدًا الأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي، صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ حَدَّثَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ بَعَثَ إِلَى عَسْعَسِ بْنِ سَلاَمَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِكَ حَتَّى أُحَدِّثَهُمْ . فَبَعَثَ رَسُولاً إِلَيْهِمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ فَقَالَ تَحَدَّثُوا بِمَا كُنْتُمْ تَحَدَّثُونَ بِهِ . حَتَّى دَارَ الْحَدِيثُ فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ حَسَرَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُكُمْ وَلاَ أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ عَنْ نَبِيِّكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بَعْثًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَإِنَّهُمُ الْتَقَوْا فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِذَا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ وَإِنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ قَالَ وَكُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . فَقَتَلَهُ فَجَاءَ الْبَشِيرُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ حَتَّى أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ كَيْفَ صَنَعَ فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ " لِمَ قَتَلْتَهُ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهَ أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ وَقَتَلَ فُلاَنًا وَفُلاَنًا - وَسَمَّى لَهُ نَفَرًا - وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَقَتَلْتَهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ " وَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ فَجَعَلَ لاَ يَزِيدُهُ عَلَى أَنْ يَقُولَ " كَيْفَ تَصْنَعُ بِلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
اسماعیل بن ابراہیم ( ابن علیہ ) نے ابو حیان سے ، انہوں نے ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کے سامنے ( تشریف فرما ) تھے ، ایک آدمی آپﷺ کے پاس آیا اور پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’تم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ، ( قیامت کے روز ) اس سے ملاقات ( اس کے سامنے حاضری ) اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور آخری ( بار زندہ ہو کر ) اٹھنے پر ( بھی ) ایمان لے آؤ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اسلام کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’اسلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ ، لکھی ( فرض کی ) گئی نمازوں کی پابندی کرو ، فرض کی گئی زکاۃ ادا کرو ۔ اور رمضان کے روزے رکھو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! احسان کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! قیامت کب ( قائم ) ہو گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’جس سے سوال کیا گیا ہے ، وہ ا س کے بارے میں پوچھنے والے سےزیادہ آگاہ نہیں ۔ لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتائے دیتا ہوں : جب لونڈی اپنا مالک جنے گی تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے ، اور جب ننگے بدن اور ننگے پاؤں والے لوگوں کے سردار بن جائیں گے تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے ، اور جب بھیڑ بکریاں چرانے والے ، اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے تو یہ اس کی علامات میں سے ہے ۔ ( قیامت کے وقت کا علم ) ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے ‘ ‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے ، وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ارحام ( ماؤں کے پیٹوں ) میں کیا ہے ، کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا ، نہ کسی متنفس کویہ معلوم ہے کہ وہ زمین کے کس حصے میں فوت ہو گا ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ علم والا خبردار ہے ۔ ‘ ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : پھر وہ آدمی واپس چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اس آ دمی کو میرے پاس واپس لاؤ ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اسے واپس لانے کے لیے بھاک دوڑ کرنےلگے تو انہیں کچھ نظر نہ آیا ، رسول اللہ نے فرمایا : ’’یہ جبریل علیہ السلام تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے ۔ ‘ ‘
راوی
It is narrated by Safwan b. Muhriz that Jundab b. 'Abdullah al-Bajali during the stormy days of Ibn Zubair sent a message to 'As'as b. Salama
ماخذ
صحیح مسلم # ۱/۹۷
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱: ایمان