صحیح مسلم — حدیث #۸۸۱۹
حدیث #۸۸۱۹
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، الْمُعَلِّمُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لاِمْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا أُمُّ سِنَانٍ " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَكُونِي حَجَجْتِ مَعَنَا " . قَالَتْ نَاضِحَانِ كَانَا لأَبِي فُلاَنٍ - زَوْجِهَا - حَجَّ هُوَ وَابْنُهُ عَلَى أَحَدِهِمَا وَكَانَ الآخَرُ يَسْقِي عَلَيْهِ غُلاَمُنَا . قَالَ " فَعُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً . أَوْ حَجَّةً مَعِي " .
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھون نے کہا : ہم خیبر کی فتح سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ، اس ترکاری ۔ لہسن ۔ پر جا پڑے ، لوگ بھوکے تھے اورہم نے اسے خوب اچھی طرح کھایا ، پھر ہم مسجد کی طرف گئے تو رسول اللہ ﷺ نے بومحسوس کی ۔ آپ نے فرمایا : ’’جس نے اس بدبودار پودے میں سے کچھ کھایا ہے وہ مسجد میں ہمارے قر یب نہ آئے ۔ ‘ ‘ اس پر لوگ کہنے لگے : ( لہسن ) حرام ہو گیا ، حرام ہو گیا ۔ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا : ’’ اے لوگو! ایسی چیز کو حرام کرنا میرے ہاتھ میں نہیں جسے اللہ نے میرے لیے حلال کر دیا ہے لیکن یہ ایسا پودا ہے جس کی بو مجھے ناپسند ہے ۔ ‘ ‘
راوی
ابن عباس رضی اللہ عنہ
ماخذ
صحیح مسلم # ۵/۱۲۵۶
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۵: مساجد اور نماز کی جگہیں
موضوعات:
#Mother